سخی اور بخیل کے بارے حکم

سخی اور بخیل کے بارے حکم

Advertisement

(۱)’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَنْ یَتَصَدَّقَ الْمَرْئُ فِی حَیَاتِہِ بِدِرْہَمٍ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِئَۃٍ عِنْدَ مَوْتِہِ‘‘۔ (1)
حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ انسان کا اپنی زندگی کے ایام میں ایک درہم صدقہ کرنا مرنے کے وقت سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ (ابوداود)
(۲)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّخِیُّ قَرِیبٌ مِنْ اللَّہِ قَرِیبٌ مِنَ الْجَنَّۃِ قَرِیبٌ مِنْ النَّاسِ بَعِیدٌ مِنَ النَّارِ وَالْبَخِیلُ بَعِیدٌ مِنَ اللَّہِ بَعِیدٌ مِنَ الْجَنَّۃِ بَعِیدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِیبٌ مِنَ النَّارِ وَلَجَاہِلٌ سَخِیٌّ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیلٍ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ سخی اللہ تعالیٰ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے اور جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی خدا کے نزدیک عبادت گزار بخیل سے کہیں بہتر ہے ۔ (ترمذی)
(۳)’’عَنْ أَبِی بَکْرِنِ الصِّدِّیقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَلَا بَخِیلٌ وَلَا مَنَّانٌ‘‘۔ (3)
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ مکار اور بخیل جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ وہ شخص جو خیرات دے کر احسان جتائے ۔ (ترمذی)
(۴)’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی
حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور

اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِی مُؤْمِنٍ اَلْبُخْلُ وَسُوئُ الْخُلُقِ‘‘۔ (1)
عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ مومن میں دو باتیں یعنی بخل اور بدخلقی جمع نہیں ہوتی۔ (ترمذی)
(۵)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ ثَلاثَۃً فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَی فَأَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَبْتَلِیَہُمْ فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ مَلَکًا فَأَتَی الْأَبْرَصَ فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ وَیَذْہَبُ عَنِّی الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَذَرُہُ وَأُعْطِیَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْإِبِلُ أَوْ قَالَ الْبَقَرُ شَکَّ إِسْحَقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُہُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ قَالَ فَأُعْطِیَ نَاقَۃً عُشَرَائَ فَقَالَ بَارَکَ اللَّہُ لَکَ فِیہَا قَالَ فَأَتَی الْأَقْرَعَ فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ و َیَذْہَبُ عَنِّی ہَذَا الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَالَ وَأُعْطِیَ شَعرًا حَسَنًا قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْبَقَرُ فَأُعْطِیَ بَقَرَۃً حَامِلًا قَالَ بَارَکَ اللَّہُ لَکَ فِیہَا قَالَ فَأَتَی الْأَعْمَی فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ أَنْ یَرُدَّ اللَّہُ إِلَیَّ بَصَرِی فَأُبْصرَ
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ایک کوڑھی دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لینا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ کو بھیجا۔ فرشتہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس آیا۔ اور پوچھا تجھے سب سے زیادہ کون سی چیز پسند ہے اس نے کہا اچھا رنگ اور خوبصورت جلد اور اس عیب کا دور ہوجانا جس کے سبب لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ سن کر فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا اور اس کا کوڑھ زائل ہوگیا اور اس کے جسم کا ر نگ نکھر گیا اور جلد خوش رنگ ہوگئی اس کے بعد فرشتہ نے کہا تجھ کو کس قسم کا مال پسند ہے ؟ اس نے اونٹ کہا یا گائے ( حدیث کے راوی حضرت اسحاق کو شک ہے کہ اس نے اونٹ کہا یا گائے ) بہرحال کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ بتلائے اور دوسرے نے گائیں۔ حضور نے فرمایا کہ اس کی خواہش کے مطابق اس کو حاملہ اونٹنیاں دی گئیں اور فرشتہ نے اس کو یہ دعا دی کہ خدا تیرے لیے ان میں

بِہِ النَّاسَ قَالَ فَمَسَحَہُ فَرَدَّ اللَّہُ إِلَیْہِ بَصَرَہُ قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْغَنَمُ فَأُعْطِیَ شَاۃً وَالِدًا فَأُنْتِجَ ہَذَانِ وَوَلَّدَ ہَذَا قَالَ فَکَانَ لِہَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ قَالَ ثُمَّ إِنَّہُ أَتَی الْأَبْرَصَ فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْکِینٌ قَدْ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی فَلَا بَلَاغَ لِی الْیَوْمَ إِلَّا بِاللَّہِ ثُمَّ بِکَ أَسْأَلُکَ بِالَّذِی أَعْطَاکَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِیرًا أَتَبَلَّغُ عَلَیْہِ فِی سَفَرِی فَقَالَ الْحُقُوقُ کَثِیرَۃٌ فَقَالَ لَہُ کَأَنِّی أَعْرِفُکَ أَلَمْ تَکُنْ أَبْرَصَ یَقْذَرُکَ النَّاسُ فَقِیرًا فَأَعْطَاکَ اللَّہُ فَقَالَ إِنَّمَا وَرِثْتُ ہَذَا الْمَالَ کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ فَقَالَ إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللَّہُ إِلَی مَا کُنْتَ قَالَ وَأَتَی الْأَقْرَعَ فِی صُورَتِہِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِہَذَا وَرَدَّ عَلَیْہِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَی ہَذَا فَقَالَ إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللَّہُ إِلَی مَا کُنْتَ قَالَ وَأَتَی الْأَعْمَی فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْکِینٌ وَابْنُ سَبِیلٍ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی فَلَا بَلَاغَ لِی الْیَوْمَ إِلَّا بِاللَّہِ ثُمَّ بِکَ أَسْأَلُکَ بِالَّذِی رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ شَاۃً أَتَبَلَّغُ بِہَا فِی سَفَرِی فَقَالَ قَدْ کُنْتُ أَعْمَی فَرَدّ
برکت عطا فرمائے ۔ حضور نے فرمایا کہ اس کے بعد فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا تجھ کو کون سی چیز زیادہ پسند ہے اس نے کہا خوبصورت بال اور اس عیب کا دور ہوجانا جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں یعنی گنجا پن۔ حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر ا اس کا گنجا پن زائل ہوگیا اور خوبصورت بال اسے عطا کیے گئے ۔ پھر فرشتہ نے اس سے پوچھاتجھ کو کون سا مال پسند ہے اس نے کہا گائیں ، چنانچہ اس کو حاملہ گائیں عطا کردی گئیں اور فرشتہ نے اس کو دعا د ی کہ خدا تیرے اس مال میں برکت دے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھاتجھ کو کون سی چیز بہت پسند ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی مجھ کو واپس کردے تاکہ میں اپنی آنکھوں سے لوگوں کو دیکھوں ۔ حضور فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور خدا نے اس کی بینائی اس کو مرحمت فرمادی پھر فرشتہ نے اس سے پوچھاکس قسم کا مال تجھ کو پسند ہے ؟ اس نے کہا بکریاں چنانچہ اس کو زیادہ بچے دینے والی بکریاں دے دی گئیں۔ پس ان تینوں کے مال میں خدا نے برکت دی ا ور کوڑھی اور گنجے کے اونٹوں اور گائیوں سے جنگل بھر گئے ۔ اور اندھے

اللَّہُ إِلَیَّ بَصَرِی فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّہِ لَا أَجْہَدُکَ الْیَوْمَ شَیْئًا أَخَذْتَہُ لِلَّہِ فَقَالَ أَمْسِکْ مَالَکَ فَإِنَّمَا ابْتُلِیتُمْ فَقَدْ رضِیَ عَنْکَ وَسخِطَ عَلَی صَاحِبَیْکَ‘‘۔ (1)
کی بکریوں کے ریوڑ وادیوںمیں نظر آنے لگے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ کوڑھی کی صورت میں اس کوڑھی کے پا س پہنچا؟۔ اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، میرا وسیلہ سفر مفقود ہے اب منزل مقصود تک پہنچنا خدا کی مہربانی اور تیری مدد سے ہوسکتا ہے ۔ پس میں تجھ سے اس کی ذات کا وسیلہ دے کر جس نے تجھ کو اچھا ر نگ اچھی جلد اور مال دیا ہے ایک اونٹ مانگتا ہوں کہ اس کے ذریعہ منزل مقصود تک پہنچ جائوں۔ کوڑھی نے اس کے جواب میں کہا میرے اوپر بہت سے حقوق ہیں ( اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں تیری کچھ مدد کرسکوں) فرشتے نے اس کے جواب میں کہا میں گویا تجھ کو پہچانتا ہوں تو وہی کوڑھی ہے جس سے لوگ نفرت کرتے تھے اور تو فقیر تھا۔ خدا نے تجھے مال دیا ۔ کوڑھی نے کہا یہ مال مجھ کونسلاً بعد نسل ٍ اپنے خاندان سے (وراثت) میں ملا ہے ۔ فرشتہ نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تجھ کو پھر ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کی صورت میں اُسی گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے جواب دیا تھا تو فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تجھ کو ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔ پھر حضور نے فرمایا کہ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مرد مسکین اور مسافر ہوں میرا سامانِ سفر جاتا رہا، بس اب منزل مقصود تک پہنچنا خدا کی عنایت سے پھر تیرے ذریعہ ممکن ہے تو میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھ کو دوبارہ بینائی بخشی ہے ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اپنا سفر پورا کرلوں۔ اندھے نے یہ سن کر کہا بے شک میں اندھا تھا خدا نے میری بینائی مجھ کو واپس بخشی پس تجھ کو جس قدر چاہیے لے جا اور جس قدر تیرا جی چاہے چھوڑ جا۔ قسم ہے خدا کی آج میں تجھ کو تکلیف نہیں دوں گا اس چیز کو واپس کرنے کی جو تو لے گا۔ فرشتے نے یہ سن کر کہا تو اپنا مال اپنے پاس رکھ تم لوگوں کا امتحان لیا گیا تھا۔ خدا تجھ سے راضی اور خوش ہوا۔ اور تیرے ساتھیوں سے خدائے تعالیٰ نار اض ہوا۔ (بخاری، مسلم)
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!