ماں باپ کے حقوق

ماں باپ کے حقوق

Advertisement

(۱)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَال قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُہُ رَغِمَ أَنْفُہُ رَغِمَ أَنْفُہُ قِیلَ مَنْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَہُمَا أَوْ کِلَاہمَا ثُمَّ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کی ناک غبار آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو( یعنی ذلیل و رسوا ہو) کسی نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کون ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں
باپ دونوں کو یا ایک کو پڑھاپے کے وقت میں پایا پھر ( ان کی خدمت کرکے ) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف)
(۲)’’عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاہِمَۃَ أَنَّ جَاہِمَۃَ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِیرُکَ فَقَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْزَمْہَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ عِنْدَ رِجْلِہَا‘‘۔ (2)
حضرت معاویہ بن جاہمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے روایت ہے کہ ان کے والد جاہمہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے حضور سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ارشاد فرمایاکیا تیری ماں ہے ؟
عرض کیا ہاں۔ فرمایا اس کی خدمت اپنے اوپر لازم کرلے کہ جنت ماں کے قدموں کے تلے ہے ۔ (احمد، نسائی، مشکوۃ)
(۳)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مُطِیْعاً للَّہِ فِیْ وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِِ مَفْتُوْحَانِِ مِنَ الْجَنَّۃِ وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا وَمَنْ أَصْبَحَ
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جس نے اس حال میں صبح کی کہ ماں باپ کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کا فرماںبردار رہا توا س کے لیے صبح ہی کو جنت کے دوعَاصِیًا للَّہِ فِیْ وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفتُوْحَانِ مِنَ النَّارِ اِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا قَالَ رَجُلٌ وَإِنْ ظَلَمَاہُ قَالَ وَإِنْ ظَلَمَاہُ وَإِنْ ظَلَمَاہُ وَإِنْ ظَلَمَاہُ‘‘۔ (1)
دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے بارے میں خدائے تعالیٰ کا نافرمان بندہ رہا تو اس کے لیے صبح ہی کو جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیںاور ایک ہو توایک دروازہ کھلتا ہے ایک شخص نے کہا اگر چہ ماں باپ اس پر ظلم کریں حضور نے فرمایا اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں۔ (بیہقی، مشکوۃ)
(۴)’’عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلَی وَلَدِہِمَا قَالَ ہُمَا جَنَّتُکَ وَنَارُکَ‘‘۔ (2) (ابن ماجہ)
حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ؟فرمایا کہ وہ دونوں تیری جنت ودوزخ ہیں یعنی جو لوگ ان کو راضی رکھیں گے جنت پائیں گے اور جو ان کو ناراض رکھیں گے دوزخ کے مستحق ہوں گے ۔ (ابن ماجہ)
(۵)’’عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِضَی الرَّبِّ فِی رِضَی الْوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِی سَخَطِ الْوَالِدِ‘‘۔ (3)
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ پروردگار کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میںہے ۔ (ترمذی)
(۶)’’عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَہَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ قَالَ نَعَمْ یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ وَیَسُبُّ أُمَّہُ فَیَسُبُّ أُمَّہُ‘‘۔ (4)
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے ؟فرمایا ہاں (اس کی

صورت یہ ہوتی ہے کہ) یہ د وسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تووہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)
(۷)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَیْہِ أَوْ أَحَدِہِمَا فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ وَکُتِبَ بَرًّا‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی قبرپر ہر جمعہ کو زیارت کے لیے حاضر ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور وہ ماںباپ کے ساتھ اچھا برتائو کرنے والا لکھا جائے گا۔
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!