اعمال

بھائی وغیرہ کے حقوق

بھائی وغیرہ کے حقوق

(۱)’’عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقُّ کَبِیْرِ الْإِخْوَۃِ عَلَی صَغِیْرِہِمْ حَقّ الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِہِ‘‘۔ (1)
حضرت سعید بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر ۔ (بیہقی)
(۲)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَلم یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا وَیَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ‘‘۔ (2) (ترمذی)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
(۳)’’ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَوَی یَتِیْماً إِلَی طَعَامِہِ وَشَرَابِہِ أَوْجَبَ اللَّہُ لَہُ الْجَنَّۃَ ‘‘۔ (3)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کردے گا۔ (شرح السنۃ)
(۴)’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ
اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ لَا یَأْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ‘‘۔ (4) (مسلم)
والسلام نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہو۔

(۵)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُُوْلَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالَّذِیْ یَشْبَعُ وَجَارُہُ جَائِعٌ إِلَی جَنْبِہِ‘‘ ۔ (1)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم انے کہا کہ میںنے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)
(۶)’’عَنْ أَنَس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُحِبََّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ‘‘۔ (2) (بخاری، مسلم)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہ پسند نہ کرے جس کو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)
٭…٭…٭…٭

________________________________
1 – ’’شعب الإیمان‘‘ للبیہقی، کتاب ما جاء فی کراھیۃ إمساک الفضل إلخ، الحدیث: ۳۳۸۹، ج۳، ص۲۲۵، ’’مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب الأداب، الحدیث: ۴۹۹۱، ج۲، ص۲۱۶.
2 – ’’صحیح البخاری‘‘، کتاب الإیمان، باب من الإیمان أن یحب إلخ، الحدیث: ۱۳، ج۱، ص۱۶، ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن من خصال إلخ، الحدیث: ۷۲۔ (۴۵) ص۴۳.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!