Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرتِ فا روقِ ا عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ

حکایت نمبر474: حضرتِ فا روقِ ا عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ

حضرتِ سیِّدُنا جُمَیْع بن عُمَیْرتَیْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ارشاد فرماتے سنا:”ایک مرتبہ مالِ غنیمت سے چالیس (40)ہزاردرہم میرے حصے میں آئے، میں نے سامان خریدا اور مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں اپنے والد ِ محترم ،خلیفۂ ثانی، امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خد مت میں حاضرہوا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سامان دیکھ کرپوچھا: ”یہ کیاہے؟”میں نے عرض کی:”مجھے مالِ غنیمت سے چالیس ہزار درہم ملے یہ سامان اسی رقم سے خریدا ہے ۔” فرمایا: ”اے میرے بیٹے! اگرمجھے آگ کی طرف لے جایاجائے توکیاتم یہ سامان فدیہ میں دے کرمجھے بچا لو گے؟” میں نے کہا:”کیوں نہیں!بلکہ میں اپنا سب کچھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قربان کر دوں گا۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”میرے بیٹے !بے شک میں جھگڑے میں پھنساہواہوں، لوگوں نے یہ سمجھ کرکہ یہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی اورامیرالمؤمنین کے لاڈلے بیٹے ہیں، تمہیں سستے داموں سامان بیچ دیاہواورہوسکتاہے ایک درہم نفع لینابھی پسند نہ کیاہو۔میرے بیٹے سنو! عنقریب میں تمہیں ایسانفع دوں گاکہ کسی قریشی مرد سے ایسانفع نہ ملا ہوگا۔”
یہ کہہ کرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدَتُناصَفِیَّہ بنتِ عبیدرضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس آئے اورکہا:”اے ابوعبیدکی بیٹی !میں

تجھے قسم دیتا ہوں کہ تم اپنے گھرسے کوئی چیزنہ نکالوگی۔”انہوں نے عرض کی :”اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالکل بے فکر رہیں، میں وہی کروں گی جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمائیں گے۔”حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرما تے ہیں: ”چنددن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس معاملہ کوچھوڑے رکھا۔پھرتاجروں کوبلایاتوانہوں نے چارلاکھ4,00,000))درہم میں وہ سامان خرید لیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اَسّی ہزار(80,000) درہم مجھے دیئے اوربقیہ تین لاکھ بیس ہزار ( 3,20,000 ) درہم حضرتِ سیِّدُناسَعْدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھجوائے اورپیغام دیاکہ یہ مال ان لوگوں میں تقسیم کردیا جائے جوجہادمیں شریک ہوئے ، اگر ا ن میں سے کوئی فوت ہوگیا ہو تو اس کے وُرَثاء میں تقسیم کردیاجائے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!