Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت عبداللہ بن رَوَاحَہ رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری

حکایت نمبر363: حضرت عبداللہ بن رَوَاحَہ رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری

حضرتِ سیِّدُنا حَکَم بن عبدالسَّلام بن نعمان بن بشیر اَنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے: (جنگِ موتہ) میں جب حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دیئے گئے تو لوگو ں نے بآواز بلند حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن رَوَاحَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت لشکر کی ایک طرف موجود تھے ۔ تین دن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ بھی نہ کھایا تھا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی جسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھوک کی وجہ سے چو س رہے تھے ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَربن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر سنی تو بے تاب ہو کر ہڈی پھینک دی اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: ”اے عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !ابھی تک تیرے پاس دنیاوی شئے موجود ہے ۔” پھر بڑی بے جگری سے دشمن پر ٹو ٹ پڑے تلوار کے وار سے آپ کی انگلی کٹ گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:
تو نے صرف یہ انگلی کٹوائی ہے اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ اے نفس! شہید ہوجا ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی۔ تو نے جس چیز کی تمنا کی تجھے وہ چیز دی گئی ۔ اب اگر تو بھی ان دونوں (زید بن حَارِث اور جَعْفَر بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کی طرح شہید ہو گیا تو کامیاب ہے اور اگر تو نے تاخیر کی تو تحقیق بد بختی تیرا مقدر ہوگی ۔”

پھر اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمانے لگے:”اے نفس !تجھے کس چیز کی تمنا ہے؟ کیا فلاں کی ؟ تو سن! اسے تین طلاق۔” کیا تجھے فلاں فلاں لونڈی وغلام اور فلاں باغ سے محبت ہے؟ تو سن ! اپنی یہ سب چیزیں اللہ اوراس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے چھوڑ دے ۔ اے نفس! تجھے کیا ہوگیا کہ تو جنت کو ناپسند کررہاہے ؟ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاتا ہوں کہ تجھے اس میں ضرور جانا پڑے گا ، اب تیری مرضی چاہے خوش ہوکر جایا مجبور ہو کر ،جا! خوش ہو کر جا! بے شک تو وہاں مطمئن رہے گا،تو نہیں ہے مگر پانی کا قطرہ۔ بے شک لوگ جمع ہوگئے اور ان کی چیخ وپکار شدید ہوگئی ۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن کی صفوں میں گھس گئے ۔بالآخر لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرماگئے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!