اسلامواقعات

صحابی

صحابی

جو مسلمان بحالت ایمان حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ملاقات سے سرفراز ہوئے اورایمان ہی پر ان کا خاتمہ ہوا ان خوش نصیب مسلمانوں کو ”صحابی”کہتے ہیں۔ ان صحابیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ چنانچہ امام بیہقی کی روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ حج کے لیے مکہ صحابی
جو مسلمان بحالت ایمان حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ملاقات سے سرفراز ہوئے اورایمان ہی پر ان کا خاتمہ ہوا ان خوش نصیب مسلمانوں کو ”صحابی”کہتے ہیں۔ ان صحابیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ چنانچہ امام بیہقی کی روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اوربعض دوسری روایات سے پتہ چلتاہے کہ حجۃ الوداع
مکرمہ میں جمع ہوئے اوربعض دوسری روایات سے پتہ چلتاہے کہ حجۃ الوداع

اوران کی ذات پر زہر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ (1) (حجۃ اللہ ج۲،ص۸۵۸)

کرامت کی یہ وہ پچیس قسمیں ہیں اوران کی چند مثالیں ہیں جن کو حضرت علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”طبقات”میں تحریر فرمایاہے ،ورنہ اس کے علاوہ کرامات کی بہت سی قسمیں ہیں اوران کی مثالیں اس قدر زیادہ تعداد میں ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ہزاروں اوراق کا ایک ضخیم دفتر تیار ہوسکتاہے ، مگر بطور مثال جس قدر ہم نے یہاں تحریرکردیا وہ طالب حق کی تسکین روح واطمینان قلب کے لئے بہت کافی ہے۔رہ گئے بدعقیدہ منکرین تو ان کی ہدایت کے لیے دلائل تو کیا؟ دور رسالت میں ان کیلئے معجزہ”شق القمر”بھی سود مند نہیں ہوا۔مثل مشہورہے کہ ؎

پھول کی پتی سے کٹ سکتاہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزارتھی ۔(1)( واللہ تعالیٰ اعلم)

(زرقانی ج۳،ص۱۰۶ومدارج ج۲،ص۳۸۷)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!