سورۂ ناس سے متعلق چند ارشارات و مضامین

الحمد اللّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ وحبیبہ سیدنامحمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔
اما بعد سورۂ ناس سے متعلق چند ارشارات و مضامین ہدیہ ء طلبہ کئے جاتے ہیں۔ اگر غور وفکر سے ان کو دیکھیں تو غالباً اس امر کی صلاحیت پیدا ہوگی کہ تعمق نظر سے مضامین تحریر کر سکیں :
اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
قل اعوذ برباب الناسO ملک الناسO الہ الناسO من شر الوسوا س الخناسO الذی یوسوس فی صدور الناس O من الجنۃ والناس O
قُلْ
علمائے صرف نے تصریح کی ہے کہ ’’قل ‘‘ اجوف ہے اور ’’اجوف ‘‘اور اجوف اسے کہتے ہیں جس کے جوف یعنی بیچ میں حرف علت ہو ۔ یہاں یہ پریشا نی ہو تی ہے کہ ’’قل ‘‘ کے کل دوحرف ہیں پہلا قاف اور دوسرا لام ، اس میں جوف ہی نہیں تو جوف میں حرف علت کیسا ہے ؟ اگر بدؤوں سے کہا جائے کہ’’ قل‘‘ کے اندر تیسرا حرف ہے بھی ہے اور وہ حرف علت ہے تو باوجود یکہ وہ عرب ہیں مگر بادیہ کی رہنے والے ہیں اس کو ہر گز قبول نہ کریں گے اور یہی کہیں گے کہ ہم اپنے آباواجداد سے ’’قل‘‘کے دوہی حرف سنتے آئے ہیں یہ تیسرا حرف کہاں سے آگیا ؟ اگر ان کے مقابل میں صرفی دلائل قائم کئے جائیں تو وہ سب کا ایک ہی جواب دیں گے کہ قدوجدنا آبائٔ نا علیٰ آثارہم مقتدون یعنی : ہم نے اپنے آباء د و اجداد کو اسی پر پایا ہے اور ہم ان ہی کی پیروی کریں گے، پھر اگر کچھ زیادہ کہا جائے تو چونکہ بادیہ کے رہنے والے یعنی جنگلی ہیں ضرور لڑائی ہو جائے گی ۔ غرض کہ وہ کبھی نہ مانیں گے کہ ’’قل ‘‘ کے باطن میں بھی کوئی حرف ہے ۔
بات یہ ہے کہ سنتے سنتے اور دیکھتے دیکھتے آدمی کی نظر محسوسات پر ایسی جم جاتی ہے کہ باطن پر پڑ تی ہی نہیں ،اگر آدمی کی موت نہ ہو تی تو کبھی خیال نہ آتا کہ جان بھی کوئی چیز ہے ۔جب آدمی دیکھتا ہے کہ باتیں کر تے کرتے یکبارگی ایسی حالت اس پر طاری ہو گئی کہ دیکھنا ،سننا ،چلنا ، پھرنا ، بات کرنا ، موقوف ہو گیا اور اس قابل ہوگیا کہ زمین میں چھپا دیا جائے تو اس وقت یہ سب خیال ہوتا ہے کہ کوئی چیز اس میں ایسی ضرور تھی جس کے نکل جانے سے یہ سب باتیں جا تی رہیں ۔ اورجب تک وہ چیز اس میں تھی یہ کارخا نہ انسانیت کا قائم تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ظاہر ی انسانیت کا مدار ایک باطنی چیز پر تھا ۔ پھر اس باطنی چیز کا نا م کسی نے روح رکھاکسی نے جان و غیرہ ،ہر قوم کے عقلاء جن کی نظر آثار سے ترقی کر کے موثر تک پہونچی انہوں نے اس باطنی چیز تک نظر بڑاھا کر کچھ نہ کچھ اس کا نام رکھ ہی لیا ورنہ جو لوگ بہا ئم سیرت ہیں ان کو تو اس کی بھی خبر نہیں ہوتی کہ کسی چیز کے آنے سے آدمی زندہ اور اس کے جانے سے مردہ ہو جا تا ہے ، ان کو اس تشخیص کی مصیبت اٹھا نے سے کیا تعلق ان کو توجانوروں کی طرح کھانا پینا مل گیا تو عید ہوگیٔ اور نہ ملاتو اس کی تلاش کی فکر ہے ۔
غرض کہ لفظ ’’قل‘‘ کو اجوف کہنا اور اس کے اندر ایک حرف علت کا ماننا سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر جو عقلاء تھے انہوں نے دیکھا کہ ’’قل ‘‘ کے معنی ’’کہہ‘‘کہ ہیں جو امر کا صیغہ ہے اس میں بھی قاف اور لام ہے اور قال یقول قائل وغیرہ میں بھی یہی ولام ہیں مگر ان کے ساتھ کوئی دوسرے حروف بھی ہیں تو ان کی عقل نے گواہی دی کہ ’’قل ‘‘ میں بھی کوئی حرف ضرور تھا جو کسی وجہ سے حذف ہو گیا۔ اب انہوں نے غور کیا کہ قال میں (الف ) ہے اور قیل میں (ی) اورقول میں (واو)ان میں سے کونسا حرف اس میں ہوگا ؟پہلے اصل کو تلاش کرنے کی ضرورت ہوئی ،دیکھا کہ ماضی کے معنی ’’کہا ‘‘ اور اسم فاعل کے معنی ’’کہنے والا ‘‘ اور اسی طرح ہر صیغہ کے معنی میں کہنے کے معنی ہیںوہی اصل ہے یعنی قول اسی کو مصدر اور سب کا اصل قرار دیا ۔ اس وجہ سے کہ ایک ایک اعتبار سے اس کے نام بدلتے گئے وہی قول خاص وضع کے لحاظ سے ماضی ، مضارع ،امر ،نہی ،اسم فاعل ، اسم مفعول ، صفت مشبہ ، ظرف ، اسم تفضیل ،وغیرہ بنتا گیا جس سے معلوم ہوا کہ مصدر ایک ایسی چیز ہے جو کہ سب میں وائر وسائر ہے ۔ چونکہ مصدر میں واو تھا اس وجہ سے یقینی طورپر حکم لگا دیا کہ قال میں بظاہر الف ہے مگر دراصل وہ بھی واو تھا ، کسی وجہ سے وہ واواس مقام خاص میں بشکل الف نما یاں ہوا ، اور قیل میں اگر چہ(ی) ہے مگر وہ بھی واو رہی تھا جوکسی وجہ بشکل (ی ) نمایاں ہوا ۔ جاہل جہاں قال میں (الف )اور قیل میں (ی) دیکھتا ہے عالم وہاں قول کا واو خیال کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ظاہر اً کچھ بھی ہو مگر باطن میں واو ہے۔
دریافت اصل :
ہر چیز کی اصل دریافت کرنی ایک مشکل کام ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ ہوکوئی اصل تک نہیں پہونچ سکتا ۔دیکھئے عالَم کی اصل یعنی موجد مقرر کرنے میں کسیے کیسے عقلاء حیران ہیں !کوئی کہتا ہے کہ اصل کچھ بھی نہیں یہ سب یوں ہی بخت واتفاق سے کام چل رہا ہے ، کوئی کہتا ہے کہ مادہ اصل ہے جس کے انقلابات سے یہ صورتیں پیدا ہو تی جا تی ہیں ۔ مگر جن کو خداے تعالی نے ہدایت دی وہ جانتے ہیں کہ یہ سب مخلوق ہیں ، جب تک کوئی مستقل وجود نہ ہو جس میں تمام صفات کمالیہ موجود ہوں مثلاً علم قدر ت ارادہ وغیرہ کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی ۔
مصدر کو آپ جانتے ہیں کہ ظرف ہے یعنی جائے صدور افعال ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصدر یعنی ’’قول ‘‘ کے اندر کل مشتقات یعنی قال یقول وغیرہ بھرے ہوئے ہیں !بلکہ مطلب یہ کہ قول ہی سے ان تمام افعال کا صدور ہوا اور باوجود یکہ قال یقول قائل وغیرہ کے اشکال باہم ممتاز ہیں ان سب کا صدور مصدرسے ہے ، جیسے کل افعال کا صدور روح سے ہو تا ہے اگر روح نہ ہوتو چلنا ہو نہ پھرنا،نہ دیکھنا نہ سننا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کل افعال کا مصدر روح ہے یعنی جتنے افعال کی شکلیں ہمارے اعضائے ظاہری سے دیکھی جا تی ہیں (مثلاًچلنے کے وقت ہمارے جسم میں ایک ایسی ھیٔت پیدا ہو تی ہے جو بیٹھنے کے وقت نہیں ہوتی ) ان سب کا مصدر وہی روح ہے ،پھر روح بھی آخر ایک مخلوق چیز ہے جب تک مصدر نہ ہو عالم شہادت میں اس کا ظہور ممکن نہیں ، کیونکہ بغیر مصدر کے کسی چیز کا صدور وظہور نہیں ہوسکتا ۔
غرضکہ جس طرح عقلاء لفظ قل سے اس کے مصدر تک پہونچ گئے اسی طرح مخلوقات کو دیکھ کر خالق تک پہونچ گئے ۔ اور جس طرح قل کے باطنی واو کو یقنی طور پر مان لیا یہاں تک کہ اگر اس کے وجود پر قسم کھانے کو کہا جائے تو تعجب نہیں کہ عالمِ قسم کھا کر کہے کہ بے شک حرف علت یعنی واو قل میں ضرور ہے اور قل معتل ہے ۔ اسی طرح عقلمند قسم کھارکر کہے گا کہ خداے تعالیٰ جس کو ایک اعتبار سے ’’علت العلل ‘‘ بھی بھی کہہ سکتے ہیں موجود ہے گو نظروں سے غائب ہے ۔
حدیث اَ نامن نور اللّٰہ :
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ ’’قول ‘‘ سے قل کس طرح بنا؟سو پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ زمانہ ء ماضی بہ نسبت حال و استقبال کے مقدم ہے اور مصدر بھی تمام مشتقات پر مقدم ہے ، اس منا سبت سے لازمی تھا کہ فعل ماضی مصدر سے صادر اول ہو ۔ہر چند مصدر میں کوئی زمانہ نہیں بلکہ اس کو جو نسبت ماضی کے ساتھ ہے وہی حال استقبال کے ساتھ بھی ہے ،مگر اس میں شک نہیں کہ تقدم کی وجہ سے ماضی کو اس کے ساتھ نسبت ہے وہ مضارع کو نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوجو خاص نسبت خالق عزوجل کے ساتھ ہے دوسرے کونہیں ہو سکتی ،کیونکہ آپ صادر اول ہیں جو اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے انا من نور اللّٰہ وکل شیء من نور ی
الحاصل مصدر سے پہلا صادر فعل ماضی ہے جس میں کچھ زیادتی ہو کر مضارع بنا ۔ غرضکہ قال سے مضارع یقول بنا اور مضارع سے قل امر ، اس لئے امر میں بھی وہی زمانہ حیال اور استقبال ہے ۔ شاید تدقیق نظر سے یہاں پر یہ خیال کیا جائے کہ جس زمانے میں حکم کیا جا تا ہے اس وقت فعل وجود میں نہیں آسکتا بلکہ اس کے بعد مخاطب اس کام کو وجود میں لاتا ہے ،اس لئے امر میں زمانہ حال نہیں ہوسکتا ۔ سوا س کو یوں دفع کرنا چاہئے کہ یہ خارجی سبب ہے کیونکہ جب تک امر کا صیغہ ختم نہ ہو لے مخالف اتثال نہیں کرسکتا ،مگر اس کووضع میں کوئی دخل نہیں ، بسا وقت متکلم کو یہ منظور ہوتا ہے کہ فوراً وہ کام کیا جائے ، اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قصد متکلم کے لحاظ سے وہ زمانہ حال ہی سمجھا جائے گا گویا متکلم اس کو یہ کہہ رہا ہے کہ یہ کام ابھی کر ۔
غرضکہ مضارع اور امر میں مناسبت ہونے کی وجہ سے امر مضارع سے بنا یا گیا اس طورپر کہ پہلے علامات مضارع حذف کی گئی کیونکہ اب وہ امر بننے والا ہے ۔
{ضرورت ترک لواز م بشریت برائے ترقی }
اگر پہلے لوازم و خصوصیت باقی رہیں تو کوئی چیز نہیں بن سکتی ، اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کمال حاصل کرنا چاہے تو اس کولازمی ہوگا کہ اپنی سابقہ حالت کے لوازم و آثار کو دور کردے ۔مثلاًطالب علم اگر عالم بننا چاہے تو جتنے لوازم و آثار جہالت کے ہیں جیسے تضئیع اوقات ،سستی ،کاہلی ،خود پسندی وغیرہ جب تک ترک نہ کردے عالم نہیں بن سکتا ۔ جس طرح تقول کا (ت) جو لوازم مضارع سے ہے جب تک دور نہ کیا جائے وہ امر نہیں بن سکتا ۔ اسی پر ہر قسم کے ترقیات کو قیاس کر لیجئے ،مثلاً جب تک لوازم و رسوم بشریت فنا نہ ہوںمَلَکیت میں گزر ممکن نہیں ۔
الغرض ’’تقول ‘‘کا (ت) امر بنانے کے لئے حذف کیا گیا ہے اب رہ گیا قول ،مگر یہ خیال نہ کیا جائے کہ اب وہ مصدر بن گیا اس لئے کہ فرع اپنی اصل نہیں بن سکتی ،اور قطع نظر اس کے قول کا تو پڑھنا ہی ممکن نہیں کیونکہ ابتداء بسکون محال ہے ۔ اس پر کھلی دلیل یہ ہے کہ جب تک ہم عدم میں تھے ساکن تھے کسی قسم کی حرکت ہم میں نہ تھی، پھرجب حق تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ہم وجود میں آئیں تو ’’کن ‘‘ کا ارشاد ہوا جس سے ہم میں ابتداء اً کسی قسم کی حرکت پید اہوئی ،پھر پیا پے حرکات شروع ہو گئیں کہ آج ’’علقہ ‘‘ بنا کل ’’مضغہ ‘‘ وغیرہ یہاں تک کہ پورے انسان بن گئے ۔ اگر وہ ابتدائی حرکت نہ ہوتی اور سکون ہی سکون ہوتا تو ہم اس درجہ تک کبھی نہ پہونچ سکتے
الغرض ابتداء بسکون ہونے کی وجہ سے صیغہ ء امر کا وجو د ممکن نہ تھا اس لئے اس کے پہلے ایک متحرک حرف لانے کی ضرورت ہوئی ،اور وہ حرف ایسا تجویز کیا گیا عالم حروف یعنی منہ میں سب سے پہلے اس کا وجود ہو جو حلق کے انتہائی حصے سے نکلتا ہے ۔ جس طرح ابتداء بسکون محال ہونے کی وجہ سے ممکن نہ تھا کہ قول ظہور میں آئے،اسی طرح عالَم جو سکو ن عدم میں تھا بوجہ سکون ممکن نہ تھا کہ موجود ہوسکے ۔ اس لئے پہلے اسی عالَم میں سے ایک مقدس ذات کو متحرک فرمایا یعنی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور مبارک کو جس کو تمام عالم پر ایسا تقدم ہے جسیے ہمزہ کو عالم حروف پر،اگر ہمزہ قول کے پہلے نہ لا یا جا تا تو قولکا عالم حروف میں ظہور محال تھا ،اسی طرح اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نور مبارک متحرک نہ ہو تا تو عالم کا ظہور محال تھا جیسا کہ حدیث شریف لولاک لما خلقت الا فلاک سے ظاہر ہے ۔ اور جس طرح ہمزہ کی کوئی شکل نہیں جیسا کہ کتب صرف میں مصرح ہے کہ کبھی بشکل واو لکھاجا تا ہے اور کبھی بشکل یا وغیرہ ،اسی طرح مقدس نور کی کوئی شکل نہیں جیسا کہ اس حدیث شریف سے مستفادہے انا من نور اللّٰہ وکل شی ء من نوری ۔ غرضکہ اس متحرک ہمزہ نے گویا صیغہ ،امر کو وجود بخشا جس طرح اس مقدس نور نے عالم امکان کو ۔ بہر حال اب وہ لفظ اُقُول بنا، مگر چونکہ واو خود دو ضموں سے بنتا ہے اس لئے ضمہ اس پر ثقیل تھا ما قبل کو نقل کرکے دیا گیا اب وہ اقول ہوا ۔ چونکہ متکلم کو حکم کرنے کے وقت یہ جلدی ہوتی ہے کہ مخاطب اس کام کو جلد بجالائے اس جلدی کا یہ اثر ہے کہ وہ اتنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ صیغہ ء امر کے آخر میں حرکت باقی رہے کیونکہ حرکات زیر ،زبر ،پیش ،ہیں اور یہ بھی چھوٹے حروف ہیں اس لئے دو زبر کا الف اور دو پیش کاواو اور دو زیرکی یا ہوتی ہے،متکلم کا مقصود اس وقت یہی ہوتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے کلمہ مختصر ہوجائے اورآپ ساکت اور ساکن ہوکر مخاطب کو متحرک کر دے ، اس لئے آخر کلمہ کی حرکت کواور جو حروف کہ حرکت کے امتدا د سے پیدا ہو تے ہیں یعنی الف اور واو اور ی کو دور کرکے کلام کو جلد ختم کر دیتا ہے جب وضع امر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امر کے وقت متکلم کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ اتثال امر میں دیر نہ ہوتو جو عقلاء ہیں اتثالِ امر میں بہت جلد مصروف ہو جا تے ہیں ،خصوصاً ان لوگوں کے اتثال امر میں جن کے حکم کو قابل امثال سمجھتے ہیں ۔ اسی وجہ سے عملہ میں جولوگ عقلمند ہو تے ہیں وہ اپنے حاکم بالا دست کا امر ہو تے ہی فوراً اس کی تعمیل کر تے ہیں اور حکام کی نظروں میں بھی ایسے ہی لوگ باوقعت اور قا بل ترقی ہو تے ہیں ۔ جب حکام مجازی کے احکام بجالانے کا یہ حال ہو تو أحکم الحا کمین کے حکموں کی تعمیل میں کس قدر جلدی کرنی چاہئے اور جولوگ ان احکام کو عمدگی اور سرگرمی سے بجا لاتے ہیں ان کے مدارج کی ترقی کس درجہ ہوتی ہوگی ۔
الحاصل اس ضرورت سے امر کے آخر میں سکون آگیا اب اقول بنا ء دو ساکن ایک جگہ جمع ہوئے ،ایک ساکن حدف کیا گیا کیونکہ دوساکنوں کے ملنے سے کوئی کام نہیں ہوسکتا ،اگر ایک ساکن ہو اور دوسرا متحرک ہوتو متحرک کے طفیل میں ساکن بھی کچھ کرلے گا جس طرح نا بینا دیکھنے والے کے طفیل میں منزل مقصود تک پہونچ سکتا ہے ، اور اگر دونوں اندھے اور راستہ سے نا واقف ہوں تو کبھی نہیں پہو نچ سکتے ۔ آپ جانتے ہیں کہ عدم میں جتنی چیزیں ہیںخواہ و ذوات ہوں یا افعال ان کو کسی قسم کی حرکت نہیں ،سب کے سب عدم آباد میں ساکن ہیں جو خداے تعالیٰ کی پیش نظر ہیں ، جب تک ان کو قادر مطلق کن کہہ کر حرکت نہ دے کبھی حرکت ان کو نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ حق تعالیٰ جو خالق عالم ہے اس نے خبردی ہے کہ جب کسی چیز کو ہم پیدا کر نا چاہتے ہیں
تو اس کو کن کہہ دیتے ہیں اور وہ وجود میں آجا تی ہے کمال قال تعالیٰ انما قولنا لشیء اذا اردنا ہ ان نقول لہ کن فیکون اس سے ظاہر ہے کہ عدم سے وجود میں لانے کی تحریک قدرت سے ہو تی ہے ۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ بندے کی قدرت خود بالذات موجود نہیں اس لئے کہ خود بندہ ہر حال میں خالق کا محتاج ہے جیسا کہ حق تعالیٰ فر ما تا ہے انتم الفقراء الی اللّٰہ تو اس کی حرکت بغیر تحریک خالق کے کیونکر ہوسکے !!غرض بندے کی قدرت بھی ساکن ہے اور معدومات بھی ساکن ، اس لئے عقلاء ایک ساکن کو یعنی بندے کی قدرت کو حذف کر دیتے ہیں کیونکہ التقائے ساکنین سے کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی ، اور بندے کو صرف کا سب اور خدائے تعالیٰ کو خالق افعال سمجھتے ہیں ۔ غرض کہ التقائے ساکنین سے واو گرگیا اور ’’ اُقُل‘‘ ہوا ۔ چونکہ قاف متحرک ہو چکا تھا اس لئے اب ہمزہ کی ضرورت نہ رہی اور وہ حذف کر دیا گیا اور ’’قل ‘‘ باقی رہ گیا ۔
اگر چہ تقریر بظاہردل لگی سی معلوم ہو تی ہے کیونکہ صرفی مباحث میں الہیات و اخلاقی مسائل کی جوڑ لگا دی گئی ہے ،مگر اہل بصیرت جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں اسیے امور کی تعلیم دی گئی ہے ،چنانچہ اس آیت شریف سے مستفادہے فا عتبرو ا اولی الابصار دیکھئے کل عقلمندوں اور اہل بصیرت کو عبرت حاصل کرنے کا حکم ہو رہا ہے ۔ جن کی نظر اصول لغت پر ہے وہ جانتے ہیں کہ جس لفظ میں (ع ب ر ) ہو اس میں عبور اور تجاوز کے معنی ضرور ہوں گے ،دیکھئے ’’معبر‘‘ رہگزر کو کہتے ہیں جہاں آدمی ٹھر نہیں سکتا اورعبور کے معنی اس پار اتر جا نے کے ہیں ۔ اسی طرح عرب کا نام بھی ’’عرب‘‘ اس وجہ سے رکھا گیا کہ وہ ایک جگہ مقیم نہیں رہتے تھے اسی طرح کل تقالیب میں تجاوز کے معنی ہیں ۔ اب اعتبار کی حقیقت پر غور کیجئے کہ وہ کیا چیز ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں قارون ،فرعون ، ہامان ، شداد،نمرود،بنی اسرائیل وغیرہ اشخاص وقوام کے بہت سے قصے مذکور ہیں ۔ اور یہ بھی ہر عاقل جانتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی شان نہیں کہ گزشتہ لوگوں کے قصے کہا نیاں بیان کرے ،بلکہ کلام الٰہی کی شان یہ ہے کہ جو بات ہو اس میں بندوں کی ہدایت اور بہبودیِ دارین رکھی ہو ۔ اس سے یہ ماننا پڑے گا کہ جتنے قصے قرآن شریف میں مذکور ہیں سب سے مقصود یہی ہے کہ اس قسم کے کام اگر ہم کریں تو ہمارا نجام بھی وہی ہوگا جو ان کاہوا ہے ، اس سمجھ کا نام’’عبرت ‘‘ہے ۔
پس اس سے یہی ثابت ہوا کہ جو واقعہ سنا جائے اس سے عبور کر کے دوسری طرف نظر ڈالی جائے اور ایک نیا مضمون پیدا کیا جائے ، مثلاً قارون کے قصے سے یہ عبرت ہونی چاہئے کہ جو شخص مال کے ساتھ اتنی محبت رکھے اور دین کے کاموں میں اس کو صرف نہ کرے تو اس کا انجام ہلاکت اور عذاب ہے ۔ غالباً ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ تمام قرآن کے قصے پڑھتے اور بار بار واعظوں سے سنتے اور کتا بوں میں دیکھتے ہوں گے مگر حاتم طائی وغیرہ کے فرضی قصوں سے زیادہ دلچسپی اس میں ان کو نہیں ہوتی ہوگی ۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے قصے اورفرضی قصے صرف دلچسپی کے لحاظ سے سنے جا تے ہیں ۔ مثلاً اگر قارون کا قصہ بطور عبرت سنا یا جائے تو ممکن نہیں کہ اہل ایمان کو مال کے ساتھ ایسا تعلق رہے کہ دینی امور میں نہ صرف کریں ۔ اسی طرح فرعون وغیرہ کے قصوں سے اگر عبرت حاصل کی جائے تو آدمی متقی ہو جائے۔
مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں :
آنچہ در فرعون بود آں د ر تو ہست
لیک اثر درہات محبوس تو ہست
اے دریغ آں جملہ احوال تو ہست
تو براں فرعون بر خواہش بست
آنچہ گفتم جملگی احوال تست
خود نہ گفتم صد یکے زانہا د رست
گر ز تو گو یند ہ وحشت ز ایدت
وز ز دیگر آں فسانہ آیدت
حاصل یہ کہ صفات فرعون وغیرہ آدمی میں موجود ہیں آدمی کو چاہئے کہ ان سے پر ہیز کرے ،ورنہ اُنہیں سزائوں کا مستحق ہوگا جو اُن لوگوں کو دی گئی تھیں ۔
ایک بزرگ راستہ سے جا رہے تھے سنا کہ لکڑی بیچنے والا کہہ رہا ہے الخیاربعشرۃ یعنی لکڑی کھیر دس پیسہ کو !یہ سنتے ہی ان کی حالت متغیر ہو ئی اور یہاں تک نو بت پہنونچی کہ بیہوش ہو کر گر پڑے دیر کے بعد جب ہوش آیا اور لوگوں کو دیکھا کہ بیہوشی کی وجہ تلاش کر رہے ہیں فرمایا کہ جب اس شخص سے میں نے سنا کہ بآواز بلند سر بازار کہہ رہا ہے کہ خیار دس پیسہ کو تو میرے خیال میں بات جمی کہ ’’خیار‘‘ یعنی اچھے لوگوں کی جب یہ حالت ہو تو ’’شرار ‘‘کو کون پوچھے اپنے اعمال کا نقشہ میرے پیش نظر ہو گیا جس سے میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا اور بے ہوشی طاری ہو گئی ۔ دیکھئے الخیار بعشرۃ سے وہ حضرت عبور کر کے کہا ں پہونچ گئے ! حالانکہ دونوں میں سوائے لفظی مناسبت کے کوئی معنوی منا سبت نہیں ۔ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
نہ گویند از سر با زیچہ حرفے
کزاں پندے نہ گیرد صاحب ہوش
لطائف اشرفی میں لکھا ہے کہ علی کرم اللہ وجہ نے ایک روز ناقوس کی آواز سنی لوگوں سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے ؟لوگوں نے عرض کی نہیں ،فرمایا : یہ کہتاہے سبحا ن اللہ حقاً حقا ان المولی یبقیٔ ۔
یہ بات تو معلوم ہوئی کہ قول مصدر ہے اسی سے تمام صیغے بنتے ہیں ،مگر یہ نہیں معلوم ہوا کہ سبب کیا ہے ؟ بات یہ ہے کہ مصدر کے ساتھ ایک خاص نسبت متعلق ہو جا تی ہے جس سے خاص معنی پیدا ہو تے ہیں جو نام کے بدلنے کے باعث ہو تے ہے مثلاً قول کے معنی (کہنا ) ہیں اس کے ساتھ یہ نسبت لگی کہ کہنا زمانہ گزشتہ میں واقع ہوا ، اس کانام ماضی ہوا اوراس کے لئے صورت بھی ایک خاص قسم کی پیدا ہوئی یعنی قال ،غرضکہ قال وہی قولہے جس کے ساتھ نسبتِ مذکورہ ہے ۔ اور اسی قول میں جب یہ نسبت ملحوظ ہوئی کہ حال و استقبال میں اس کا وقوع ہے تو اس کا نام مضارع ہوا اور صورت یقول بنی ، کا مطلب یہ ہوا کہ یقول صرف قول ہے مگر نسبت مذکورہ کے لحاظ سے ۔ علیٰ ہذاالقیاس قائل میں بھی وہ ہی قول ہے ، جس کے ساتھ یہ نسبت ملحوظ ہے کہ قول کو کسی شخص کے ساتھ قسم کی نسبت ہے کہ قول اس میں پایا جا رہا ہے جس سے معنی من لہ القول کے صادق آتے ہیں ۔بہر حال جتنے مشتقات ہیں سب میں وہی قول دائر اور سائر ہے گو صورتیں جدا جدا ہیں ۔ اب اگر کہئے کہقول کا ظہور قال یقول وغیرہ میں ہوا اور وہ مصدر کے مظاہر ہیں تو بے موقعہ نہ ہوگا کہ آخر مصدر ہی میں وہ تمام نسبتیں ملحوظ ہیں جو یہ تمامم صو رتیں پیدا کر رہی ہیں ۔ اب اگر ان نسبتوں کودیکھئے تو نہ قول کی ذات میں دخل ہیں نہ مشتقات کی ذاتوں میں ، کیونکہ نسبت غیر مستقل چیز ہے جو متسبین کے درمیان ہوتی ہے ،حالانکہ مشتقات مستقل صیغے ہیں مگر ہوا یہ کہ نسبت غیر مستقلہ نے ان کی مستقل صورتیں بنا دیں ۔
اسی قسم کی تقریر کلیات میں بھی ہو سکتی ہے ،مثلاً حیوان فی حد ذاتہ ٖ ایک ہے اس میں کسی قسم کی کثرت نہیں ،کیونکہ معنی سے صاف ظاہر ہے کہ جب اس کا اطلاق ہوگا ایک ہی شخص پر ہوگا ،اگر دو پر اطلاق ہوتو ’’حیوانان‘‘ اور کثیر پر ہو تو ’’حیوانات ‘‘کہیں گے ۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ حیوان کے ساتھ جو فصول لگتے ہیں وہ اس کے اوصاف ہیں یا کوئی مستقل چیزیں ہیں ؟ !یہ ہر گز سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ مستقل چیزیں ہیں ، بلکہ ظاہر ہے کہ نطق مثلاً ایک صفت ہے جس طرح علم وغیرہ ، اسی طرح ہندی رومی وغیرہ بھی صفات ہیں ۔ غرضکہ کوئی صفت داخل نفس شئے نہیں ہو سکتی ‘جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ نطق وسمع و علم وغیرہ صفات ہیں تو کیا وجہ کہ نطق تو انسان کی ذات میں داخل ہو اور علم وغیرہ اس سے خارج رہیں ۔
بہر حال حیوان ایک چیز ہے اس کے ساتھ کبھی نطق کا لحاظ ہوتا ہے کبھی دوسری صفات کا ،اور جس صفت کا لحاظ ہواگا ایک نام اس پر آجائے گا ۔ مثلاً نطق کالحاظ ہوگا تو اس کوآدمی کہیںگے ۔ اور اس صفت کا مدار ایک نسبت پر ہوگا ۔ مثلاً علم ایک خاص نسبت ہے جو عالم ومعلوم کے درمیان سے ہے جس کی وجہ سے ایک کو عالم اور دوسرے کو معلوم کہتے ہیں ۔ اسی طرح حیوان اور نطق میںایک خاص نسبت ہے جس کی وجہ سے اس کو ناطق کہتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے سے جانور ،لکڑی ،پتھر بات کر تے تھے یہی نسبت ان میں پائی گئی اس لئے ان پر بھی ناطق کا اطلاق ہوا ۔ اس سے یہ
بھی معلوم ہوا کہ گو ناطق صفت ہے مگر اسی وقت تک کہ آدمی بات کر تا رہے اور جب بات کرنا موقوف کرکے کسی کی بات سننے لگا تو اس کو سامع کہیں گے ۔ علی ہذا القیاس دوسری صفات ۔ اب وقت واحد میں صرف اس لحاظ سے کہ کسی وقت اس نے بات کی تھی یا سنی تھی اس کو ناطق اور سامع کہنا مجازاً ہوگا حقیقتہً ناطق اسی وقت سمجھا جائے گا جب تک کہ بات کر رہا ہو ۔
کلام اس میں تھا کہ قول واحد شخصی ہے جو قال یقول قائل وغیرہ میں ظہور کر رہا ہے ۔ مگر یہ خیال نہ کیا جائے کہ جس طرح پانی کو زے وغیرہ میں ہو تا ہے اسی طرح قول ماضی وغیرہ میں ہے ، اس لئے کہ کوزہ مستقل چیز ہے اور پانی بھی مستقل ہے ، ایسی صورت کو حلو ل کہتے ہیں ۔ اور یہاں یہ بات نہیں ہے ، اس لئے کہ قول کی ان صورتوں میں فقط حیٔت بدل رہی ہے ، جیسا کہ ضحک کی وجہ سے انسان کی حیٔت بدل جا تی ہے جس کی وجہ سے اس کو ضاحک کہتے ہیں ،یہ نہیں ہوتا کہ انسان ضاحک میں حلول کر گیا ہے ۔
جب یہ معلوم ہوا کہ قول ہذاتہ موجود اور بلاتغیر و تبدیل سب میں دائر و سائر ہے کیونکہ یہ نہیں کہہ سکتے کہقول کا ظہور جب تک قال میں ہے یقول میں نہیں، بلکہ یقینا کہا جا تا ہے کہ ہر وقت پوریقول کا ظہور قال یقول وغیرہ کل مشتقات میں یکساں ہے تو اس موقعہ پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ الکل فی الکل یعنی قول سب مشتقات میں ہے البتہ ہرایک مظہر کی خصوصیات جدا گانہ ہے ، مثلاً قائل سب زبانوں سے آزاد ہے ،مگر ایسی ذات کا محتاج ہے جس میں قول پایا جاگ ئے ، اور قال یقول زمانوں کے ساتھ مقید ہیں ۔ علی ہذا القیاس کل مشتقات کسی نہ کسی چیز کے محتاج ہیں ۔ اورقول باوجود
یکہ کل مشتقات میں نازل ہے مگر کسی کا محتاج نہیں ۔ بخلاف ان مشتقات کے کہ وہ ہروقت اسی کے محتاج ہیں ، کیونکہ جب تک قول کا وجود ان میں نہ ہو کسی کا وجود نہیں ہوسکتا ۔

Advertisement

اعوذ
اَعُوْذُ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں ۔ پناہ جو کسی سے چاہی جا تی ہے اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسی مضر چیز اس کے پیش نظر ہو جاتی ہے جس کی مقادمت نہیں کر سکتا ، اور اپنے میں یہ قوت نہیں پاتا کہ اس کا مقابلہ کر سکے ، اس لئے کسی ایسے شخص کو تلاش کر تا ہے جو اس کا مقابلہ کر کے اس کے شر اور آفت سے بچا سکے ۔ جس چیز سے خوف ہو تا ہے اس کو معوذ منہ کہتے ہیں اوربچانے والے کو معوذ بہ ۔ اس آیت شریفہ میں معوذ منہ شیطان کا شر ہے ، اور معوذ بہ اللہ تعالیٰ ۔
اللہ تعالی نے اس سورہ میں تعلیم دی ہے کہ شیطان کے شر سے ہمارے پاس پناہ لو ، کیونکہ ہم پر ورش کر نے والے بھی ہیں اور بادشاہ بھی ہیں اور معبود بھی ۔ ان صفات کے بیان فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی وسوسہ اندازی کے مواقع یہی اوصاف ہیں ۔ پہلے ربو بیت الٰہی سے متعلق وسوسے ڈالتا ہے اور حتی الامکان یہ کوشش کرتا ہے کہ خداے تعالیٰ کی ربوبیت ذہن نشین نہ ہونے پائے ، کیونکہ آدمی بلکہ جانور کی بھی طبیعت کا یہ متقضاہے کہ اپنی پرورش کرنے والے کے ساتھ دل سے محبت رکھتا ہے اور اس کی ربوبیت کو مانتا ہے اور اس کی کسی بات کو نہیں ٹالتا ۔ دیکھ لیجئے جو لوگ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار پاتے ہیں وہ اپنے سردار کی بات پر جان تک دے دیتے ہیں ۔
شیطان کو بڑی فکر اس امر کی لگی رہتی ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ خداے تعالیٰ اصل رب اور پرورش کرنے والا ہے تو اس سے کمال درجہ کی محبت ہو جا ئے گی اورجو کچھ اس کے ارشاد ات ہیں سب مان لئے جائیں گے خصوصاً پنج وقتہ نماز ،روزے اور حج و زکاۃ وغیرہ ضروریات دین کے لوگ پابند ہوجائیں گے اور جتنی بری باتیں ہیں سب چھوڑ دیں گے جس سے فـضل الٰہی کے مستحق ہو جائیں گے ،اور اس کا مقصود جو اولاد آدم علیہ السلام کو تباہ کرنا ہے فوت ہو جائے گا ۔ اس لئے عوماً مسلمانوں کے خیال کو بھی حق تعالیٰـ کی طرف رجوع ہونے نہیں دیتا ،بلکہ جب کوئی حاجت اور ضرورت پیش ہوتی ہے اس وقت یہ سمجھا تا ہے کہ فلاں کے پاس چلو اور فلاں سے مددلو اور فلاں قسم کا کام کرو ۔ غرض کہ ایک ایسا سلسلہ قائم کر دیتا ہے کہ نبوت ہی نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پیش نظر ہو ۔ پھر اگر حاجت روائی ہوگئی تو ان کو اسباب کامیابی قررا دیتا ہے۔اور یہ سلسلہ اس کے خیال کو کچھ ایسا پابند بنا تا ہے کہ گویا پا بہ زنجیر ہو کر آدمی اسی قید خا نہ میں پڑا رہتا ہے ،اور اگر ربوبیت الٰہی کا کبھی خیال آبھی گیا تو وہ ایسا ہو تا ہے جیسے بے ضرورت بہت سارے خیال ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور ا ن کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے ارشاد ہوا کہ :جب لوگوں کی ربوبیت تمہارے پیش نظر ہو جائے اور یہ شیطان کا افسوس تم پر اثر کر جائے تو رب الناسکی پناہ میں آجا ئو اور یہ سمجھ لو کہ اصل ربوبیت مقیدہ اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت ہے ، جب ربوبیت مطلقہ کے میدان میں قدم بڑھائو گے تمہیں شیطان کے شر سے جس نے تمہیں قیدی بنا رکھا ہے پناہ مل جائے گی ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ پناہ لینے کی ضرورت ہی ہر شخص کو محسوس نہیں ہوتی !!
شیطان کی دشمنی :
کیونکہ لڑکپن سے عادت ہوگئی ہے کہ اسباب ہی پر آدمی کی نظر پڑتی ہے ،ضرورت تو ان لوگوں کو محسوس ہوتی ہے جو خدواے تعالیٰ کے کلام پرصدق دل سے ایمان لا تے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ شیطان ہمارا جانی دشمن ہے ، اس کی عدوات کا حال خداے تعالیٰ نے اپنے سچے کلام میں جا بجا بیان فر ما دیا ، کہیں ارشاد ہے ان الشیطان لکم عدومبین یعنی یقینا شیطان تمہارے لئے کھلا دشمن ہے ، اور کہیں ارشاد ہے کہ شیطان آدمی کو کافر بناکر کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں اور خدا سے ڈرتاہوںکما قال تعالیٰ کمثل الشیطان اذا قال للا نسان اکفر فلما کفر قال انی بری ء منک انی اخاف اللّٰہ رب العالمین
الحاصل جب آدمی خدا اور رسول کے ارشادات سے بے پروائی کرے جس طرح عمل کرنے کا حق ہے نہ کرے اور اپنی خواہش کے مطابق با غوائے شیطانی سارے کام کیا کرے تو شیطان کا حوصلہ بڑھ جا تا ہے اور گناہ کرا تے کراتے کفر تک نوبت پہونچا دیتا ہے ۔ کیونکہ خواہشات نفسانی کے مقابلہ میں کلام الٰہی کی وقعت ہی نہ ہوتو پھر کون سی چیز ہوگی جو کفر سے اس کو بچا سکے ؟!ممکن ہے کہ مثل اور خواہشوں کے اس کا بھی مرتکب ہوجائے ۔ بخلاف اس کے ہر بات میں خداکے رسول کے کلام پر عمل کرنے کا خیال ہوتو کفر سے بہت کچھ احتیا ط کر سکتا ہے ۔ اور اگرمعاذ اللہ شیطان کو کافر بنانے کا موقعہ مل گیا تو اس نے بازی جیت لی اور بارگاہ الٰہی سے مطرود ومردود کرکے ابدالا ٓباد کے لئے اس کو دوزخ کا مستحق بنا دیا ۔ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ شیطان آدمی سے کبھی بے فکر ولاپرواہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کو کافر نہ بنالے ۔
پناہ میں آنے کاطریقہ :
اب غور کیجئے کہ شیطان آدمی کا کیسا دشمن ہے اور کس طر ح تاک میںلگا ہوا ہے !!ایسے دشمن سے بچنے کی کس قدر ضرورت ہے ۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ اس کا تسلط دل پر ہے جس طرح چاہتا ہے برے خیالات دل میں پیدا کر تا ہے ،اگر دورہی سے کچھ کہہ دیتا تو ممکن تھا کہ اس کی بات کی طرح توجہ نہ کرتے ،مگر وہ ہمارے دل میں تک گھس جا تا ہے اور وہاں جاکر ایسی باتیں ہمارے دل میںڈالتا ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس نے کہایا ہمارے دل نے ؟ غرضکہ اس سے بچنا ہمارے اختیار سے باہر معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تک ہم خداے تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہو جائیں،ممکن نہیں کہ اس کے دام سے ہمیں رہائی ہو ۔ اسی وجہ سے تعلیم فرمائی گئی کہ شیطان کے مکروں سے اگر بچنا ہو تو ہماری پناہ میں آجائو ۔ پھر جو شخص خداکی پناہ میں آجا ئے تو ممکن نہیں کہ شیطان تو کیا تمام عالم اس کو ضرر پہونچا سکے ۔
مگر یہ یاد رہے کہ پناہ میں آجانا بھی آسان نہیں ، صرف کہہ دینا اس کے لئے کافی نہیں ہوسکتا ۔ دیکھئے آدمی کسی کی پناہ میں اسی وقت آتا ہے کہ جب اس کو یقین ہو کہ موذی ضررر سان کے مقابلہ کی طاقت اپنے میں نہیں ہے ، پھر جس کی پناہ میں وہ جاتا ہے اس کی نسبت یقین ہو تا ہے کہ وہ اس کے ضر ر سے ضروربچا ئے گا ، اور اس کے ساتھ یہ بھی ہوتا ہے جس کی پناہ میں جا تاہے اس کو لازم پکڑ تا ہے اور اس سے علحدہ نہیں ہوتا ،کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس سے علحدہ ہوجائوں گا تو ضرور دشمن غالب ہوجائے گا ۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے ،خود’’ عوذ‘‘کے لفظ سے نکلتی ہے کیونکہ عوذ کے معنی میں چمٹنا داخل ہے ،جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے أطیب اللحم عوذہ یعنی عمدہ گوشت وہ ہے جو ہڈی کو لگا ہو ا ہو ۔ چونکہ عوذ اور تعوذ کامادہ ایک ہی ہے اس سے ظاہر ہے کہ تعوذ میں بھی معنی چمٹنے اورلازم پکڑنے کے ہوں گے ۔
اونٹ آنحضرت ؐکی پناہ میں آیا :
امام منذری ؒنے ترغیب وترتیب میں ابن ماجہ سے نقل کیا ہے کہ تمیم واری ؒ کہتے ہیں کہ : ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آنحضرت ؐ کے پاس کھڑا ہوگیا ، حضرت ؐ نے فرمایا اے اونٹ بے فکر رہ!اگرتو سچاہے تو تیرا صدق تیرے کام آئے گا ،اور جھوٹا ہے تواس کا وبال تجھ پر ہے ۔ اور فرمایا مع ان اللہ قد امن عائذ نا ولیس بخائب لائذ نا یعنی : اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جو ہم سے پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے امن و امان دیتا ہے اور ہم کو پشت پناہ بنا نے والا بے نصیب نہیں ہوتا ۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ اونٹ کیا کہتا ہے ؟ فرمایا : اس کے مالک اس کو ذبح کرکے اس کا گوشت کھانا چاہتے ہیں اسی لئے اسنے بھاگ کر تمہارے نبی کی پناہ لی ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ لوگ دوڑتے ہوئے آپہونچے ، جب اونٹ نے انہیں دیکھا آنحضرت ؐ کے سر مبارک کے قریب ہو کر پناہ میں آگیا ، اور ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے اونٹ ہے تین روزسے بھاگا ہوا ہے جو اس وقت آپ کے روبرو ملا ! حضرت ؐ نے فرمایا وہ تمہاری شکایت کرتا ہے ! انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا شکایت ہے ؟ فرمایا یہ کہتا ہے کہ کئی سال تمہارے دامن میں وہ پرورش پایا ، موسم گرما میں تم اس پر سامان لادکر ان علاقوں میں جا تے تھے جہا ں گھاس ہوتی ہے ، اور موسم سرما میں گرم مقامات میں جا تے تھے جب وہ بڑھاپے کے قریب پہونچا توتم نے اس سے اولاد کی اور بہت سے اونٹ تمہارے پاس ہوگئے ، اور جب تر وتازہ اور سرسبز سال آیا تو تم نے قصد کیا کہ اس کو ذبح کر کے اس کاگوشت کھا لیں ۔ انہوںنے عرض کی کہ یہ سب درست ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت نے فرمایا یہ مملوک صالح کی جزاء نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے عرض کی اب ہم اس کو نہ بیچیں گے نہ ذبح کریں گے ۔ آنحضرت ؐ نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو ، اس نے تم سے فریادکی اورتم نے اس کی فریاد رسی نہیں کی ، مجھے اس پر رحم کرنے کا استحقاق تم سے زیادہ ہے ، خداے تعالیٰ نے رحمت کو منافقوں کے دلوں سے نکال دیااور مسلمانوں کے دلوں میں اس کو جگہ دی ہے ۔ پھر آنحضرت ؐ نے ان کو سو (۱۰۰) درہم دے کر وہ اونٹ ان سے خرید لیا،اور اس سے فرمایا : اے اونٹ چلا جا تجھے اللہ کے واسطے ہم نے آزاد کردیا ۔ دیکھئے پناہ لینے کا یہ طریقہ ہے ،جب اونٹ نے دیکھا کہ جان کی خیر نہیں اور بغیر کسی زبردست پناہ کے ،مالکوں کے ہاتھ سے نجات نہیں مل سکتی تو ایسی زبردست پہناہ میں آگیا جو دونوں عالم کا پشت پناہ ہے ۔ اور چونکہ صدق دل سے اس نے پناہ لی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے اپنی پناہ میں لے کر نجات دلوادی ۔
شیطان کے مکاید بیان کر نے کی ضرورت :
حاصل یہ ہے کہ شیطان جب تک ایسا د شمن نہ ماناجائے کہ ہم اس کے مقابلہ سے عاجز ہیں ، خدا ے تعالیٰ کی پناہ میں جانے کی ضرورت نہ سمجھی جائے گی ۔ ہمارے زمانے کے بعض واعظین حضرات پہلے تو شیطان کا نام ہی نہیں لیتے اگر لیتے ہیں تو ایسے مواقع کے ضمن میں کہ شیطان کے وہاں پر جلتے تھے ،مثلاً بزرگا ن دین کی حکایات کے ضمن میںکہ شیطان کو انہوںنے ذلیل وخوار کر دیا تھا ، اور ایسی حکایت اور واقعات بیان کئے جا تے ہیں کہ شیطان بالکل بے وقعت ہوجا تا ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ سننے والے بالکل بے خوف ہوجا تے ہیں،اور قرآن شریف میں جس قدر اس سے ڈرایا گیا ہے بے سود ہوتاہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ رحمت الٰہی وسیع ہے اور شفاعتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گنہگا ران امت کے لئے ضروری ہوگی ، مگر یہ کونکر یقین ہو کہ پہلے ہی شفاعت میں ہم ضر ور شریک ہوں گے !یہ اشتباہ ہوگیا تو ہر ایمان والے کو یہ فکر لگی رہنی چاہئے کہ معلوم نہیں کہ ہم کسی زمرہ میں ہوں گے ؟ اور حتی المقدر ظلم اور مخالفت خدا اور رسول سے وبچنا عقلاً لازمی ہوگا کیونکہ سوائے انبیاء علیہم السلام کے کوئی معصوم نہیں ۔ اور حقوق اللہ سے زیادہ ان کوحقوق الناس کا خوف ررہتا ہے کہ کہیں ہم پر کسی آدمی کا حق باقی نہ رہ جائے جس کا مواخذہ قیامت میں ہو ، کیونکہ قیامت میں جب حساب وکتاب ہوگا تو حقدار کا حق اس طرح دلایا جائے گا کہ جس پر اس کا حق ہو ، اس کی نیکیاں حقدار کو دلائی جائیں گی اور اگرنیکیاں کافی نہ ہوں تو حقدار کے گناہ اس کے اعمال میں بھر تی کئے جائیں گے ، جس سے اس کی سبکدوشی ہو ۔ اگر کتب احادیث دیکھی جائیں تو معلوم ہواگا کہ ایک ایک گناہ سے متعلق کیسے کیسے عذاب بیان فرمائے ہیں ۔
وعید کی پرواہ نہ کرنے کی قباحت
اب غور کیا جائے کہ جب آنحضرت ؐ نے ہمیشہ برے کاموںسے منع اور ان کے مرتکبوں کے لئے خاص خاص قسم کے عذا ب بیان فرمائے تو کیا نعوذ باللہ حضرت ؐ کا یہ فعل عبث ہو سکتا ہے ؟!!اگر فرض کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مجلس میں لوگوں سے فرمایا ہو کہ فلاں کام کرنے والے کو اس قسم کا عذاب ہوگا اور کوئی شخص ان لوگوں سے کہتا کہ مسلمانوں کو کچھ عذاب نہ ہوگا یہ صرف دھمکی اور ڈرانے کے لئے تے ہیں ، اور اس کی اطلاع حضرت ؐ کو ہوجا تی تو کیا حضرت ؐ اس شخص سے راضی رہتے ؟!عقل توہرگز قبول نہیں کرتی کہ جس کام کو حضرت علی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس اہتمام فرمائیں اورکوئی شخص اس کے خلاف میں گفتگو کرے وہ خلاف مرضی نہ ہو ؟! جب ہم جانتے ہیں کہ اب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے امتیوں کے کاموں کی اطلاع ہوتی ہے تو یہ تسلیم کرناپڑے گا کہ اس قسم کی گفتگو کہ گناہ کرنے سے مسلمانوں کوکچھ ضرر نہ ہوگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مرضی ضررہوتی ہے،اورعلاوہ اس کا برا اثر تمدن پرپڑتا ہے کہ مسلمان جو جی چاہے کریں ان کوسب معاف ہے !حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے مبعوث ہوئے تھے کہ دنیا میں امن وامان قائم کرکے اس کو مزرعۃ الآخرہ بنائیں ۔ اور امن وامان بغیر اصلاح تمدن کے ممکن نہیں ۔
چند احادیث وعید :
اب ہم چند حدیثیں بطور مشتے نمونہ از خر وارے ’’نقل کر تے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ خدا ورسول کو عبادات اور اصلاح تمدن میں کس قدر اہتمام ہے :
ترغیب و ترہیب میںامام منذری ؒ نے کتب صحاح وغیرہ سے مندرجہء ذیل روایات نقل کی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’شرک و کفر میں فقط نماز کا فرق ہے ‘‘یعنی اگر نماز ترک کردی جائے تو آدمی مشرک اورکافر ہوجاتا ہے ۔ بلکہ یہ بھی صاف فرما دیا کہ جوشخص قصداً نماز ترک کرے وہ کافر ہوگیا ۔
اور فرمایا کہ : چار چیزوں کو خداے تعالیٰ نے اسلام میں فرض کیا ہے :رمضان کے روزے ،حج ، زکاۃ ، نماز ، اگر کوئی شخص ان میں سے تین کو بھی ادا کرے کچھ فائدہ نہیں جب تک کہ چاروں کو بجا نہ لائے ‘‘۔
اور :’’جو شخص نماز کی محا فظت نہ کرے یعنی ہر نماز کو وقت پر ادا نہ کرے وہ قیامت کے روز قارون ،فرعون ،ہامان، اور ابی ابن خلف کے ساتھ ہوگا ‘‘۔ یعنی بجائے اس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمرہ میں اس کا حشر ہو کفارکے ساتھ اس کا حشرہوگا ۔
اور فرمایا : جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو اور وہ اس کی زکوۃ نہ دے تو قیامت کے روز اس اکی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کرکے ان سے اس کی پیشانی اور بازو اور پیٹھ کو داغ دیتے جائیں گے ، جب وہ ٹھنڈے ہونے لگیں تو پھر گرم کرتے جائیں گے ، یہ عذاب دن بھر ہوتا رہا ہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے ، اس کے بعد دوزخی ہوتو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور جنتی ہوتو جنت میں داخل کیا جائے گا ‘‘۔
اور فرمایا کہ : جو گوشت اور خون مال حرام کے کھانے سے پیدا ہو وہ جنت میں نہ جائے گا بلکہ نار جہنم کا وہ مستحق ہے ‘‘۔
اور فرمایا :جو شخص قسم کھاکر کچھ مال حاصل کرے یا کسی کاحق تلف کرے تو دوزخ اس کے لئے واجب ہوگی ‘‘ ۔
اور فرمایا :چار قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت میں نہ داخل کرے گا اورنہ اس کی کوئی نعمت اوک چکھا ئے گا :شرابی،ربا یعنی سود کھانے والا اور ماں باپ کا نافرمان ‘‘۔ اور فرمایا : کسی مسلمان کی بے عزتی کرنی ربا سے بڑھ کر گناہ ہے ‘‘۔ اور فرمایا : جس حاکم کا جور اور بے انصافی اس کے عدل پر غالب ہوا س کا مقام دوزخ ہے ‘‘۔
اور فرمایا کہ : ’’جس کو کوئی کام مسلمانوں سے متعلق تفویض کیا جائے اور وہ ان میں عدل اور انصاف نہ کرے تق تعالیٰ اس کودوزخ میںاوندھا ڈالے گا ‘‘۔
اور فرمایا کہ : رشوت دینے والا اورلینے والا اور جو رشوت پہو نچا نے میں واسطہ ہو ا ن سب پر خدا کی لعنت ہے ‘‘۔ یعنی آخرت میں رحمتِ الٰہی سے دور ہیں ۔
اور فرمایا کہ : رشوت دینے اور لینے والے دوزخ میں ڈالے جائیں گے ‘‘۔
اور فرمایا :تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟صحابہ ؓ نے عرض کی :ہم تو اسی کومفلس سمجھتے ہیں جس کے پاس روپیہ اور متاع نہ ہو ۔ فرمایا :میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں ایسی حالت میں اٹھے کہ اس کے اعمال میں نماز ،روزہ اورزکاۃ سب کچھ موجود ہیں مگر اس کی حالت دنیا میں یہ تھی کہ کسی کو گالی دی ، کسی کا مال کھایا ، کسی کو مارا ،کسی کا خون بہا یا ،وہاں سب اہل حقوق آئیںگے اورہر ایک کواس کی نیکیاں دی جائیں گی اور کل حقوق کی ادئی سے پہلے اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو اہل حقوق کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا‘‘۔ مطلب یہ کہ کوئی نیک کام اس کے کام نہ آئے گا ۔
اور فرمایا :’’جوشخص کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کی غرض سے چلے اور وہ جانتا ہوکہ وہ ظالم ہے یعنی حق پر نہیں ہے تووہ اسلام سے خارج ہوگیا ‘‘۔
اور فرمایا : ’’ بادشاہ کوایسی بات سے راضی کرے جس میں خدا ے تعالیٰ کی ناخوشی ہو وہ اللہ کے دین سے نکل گیا ‘‘۔
اور فرمایا : ’’جو شحص مسلمان کے ضرر پر ایسی گواہی دے جو اس کے لائق نہیں تو چاۂے کہ وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے ‘‘۔ مطلب یہ کہ کوئی الزام ناحق مسلمان کے ذمہ لگا نے والا گویا اپنے اختیار سے دوزخ میں جگہ لے لیتا ہے
اور فرمایا : ’’جھوٹی گواہی دینے والا میدان حشر میں قبل اس کے کہ اپنے مقام سے ہٹے حق تعالیٰ ا س کے لئے دوزخ واجب کردے گا اور وہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ‘‘۔
اور فرمایا : جو شخص کسی مقدمہ کو جانتا ہے اورگواہی کے لئے بلانے پر واقعہ کو چپھا دے اورگواہی نہ دے اس کی بھی سزا ہوگی جو جھوٹی گواہی کی سزا ہے ‘‘۔
اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب سے متعلق دس شخصوں کواپنی رحمت سے دور کردیا ہے :نچوڑنے والا ،جس نے اس کی فرمائش کی ،پینے والا ، لانے والا ، جس کے واسطے وہ لائی گئی ، ساقی ، بیچنے والا ، اس کی قیمت لینے والا ،خریدنے والا ، جس کے لئے وہ خریدی گئی ‘‘۔
اور فرمایا : شرابی کو مرنے کے بعد نہر غوطہ سے پلا یا جائے گا ،صحابہ نے عرض کی نہر غوطہ کیا چیزہے ؟ فرمایا : دوزخ میں زنا کا رعورتوں کے فرجوں سے رطو بتیں بہیں گی جس کی بدبو سے تمام دوزخیوں کو اذیت پہنچے گی ،وہ رطو بتیں شرابیوں کو پلا ئیجائیں گی۔
اور فرمایا کہ : خداے تعالیٰ پر حق ہے کہ شرابی کونہر خبال سے پلائے ،صحا بہ نے عرض کیا یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہر خبال کیا چیز ہے ؟فرمایا دوزخیوں کی پیپ وغیرہ آلائش بہنے کی جگہ ۔
اور فرمایا : زنا کرنے والوں کے چہرے آگے سے ایسے جلتے رہیں گے جیسی مشعلیں ‘‘۔اور فرمایا :زنا کرنے ولابت پرست کے جسیا ہے ‘‘۔بتوں کوپوجنے والوں کی جو سزائیں ہیں محتاج بیان نہیں ۔
اور فرمایا : لوگوں کو دھوکہ دینے والے اور احسان جتانے والے اور بخیل جنت میں داخل نہ ہوںگے ‘‘۔
اور فرمایا : بندہ حسن خلق کی وجہ سے آخرت کے بڑے درجوں اور بلند مقاموں تک پہونچتا ہے ،اور بد خلقی کی وجہ سے اس درجہ تک پہونچ جا تا ہے جودوزح میں سب سے نیچے ہے ‘‘۔ اور فرمایا : ’’بد خلقی سے بدتر کوئی گناہ نہیں ‘‘۔
اور فرمایا : دوشخص تین روز سے زیادہ ترک ملاقات کریں اور آپس میں بات چیت موقوف کریں اوراسی حالت پر مرجائیں تووہ دوزخ میں داخل ہوں گے ‘‘۔
ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم البقیع کو تشریف لے گئے جو مدینہ طیبہ میں مسلمانوںکا مقبرہ ہے ،اور ایک مقام پر کھڑے ہوگئے جہاں دوقبریں نئی بنی تھیں اور پوچھا : کیا فلاں فلاں شخصوں کوتم نے ان قبروں میں دفن کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ ! حضرت ؐ نے فرمایا :فلاں شخص بٹھلا یا گیا ہے اورخدا کی قسم اُس پر اِس قدر مار پڑی کہ اس کا ہر عضو ٹوٹ گیا اوراس کی قبر میں آگ بھر گئی ہے اوراس نے اس زور سے چیخ ماری کہ سوائے انس وجن کے سب نے سنا ۔ لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ان کا کیا گناہ تھا ؟فرمایا : ایک شخص لوگوں کی غیبت کرتا تھا ، اوردوسرا پیشاب سے اپنے آپ کو بچا تا نہ تھا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ کب تک ان پر عذاب ہوتا رہے گا؟ فرمایا اس کا حال سوائے خداکے کسی کونہیں معلوم ۔
اور فرمایا :’’ جوشخص لوگوں کوہنسا نے کی غرض سے ایسی بات کہے جو مرضیِ الٰہی کے خلاف اور باعثِ غضب ہوتو خدا ے تعالیٰ اس سے کبھی راضی نہ ہوگا جب تک اس کو دوزخ میں نہ ڈالے ‘‘۔
اور فرمایا :’’حسد نیکیوں کو ایسا کھا جا تا ہے جسے آپ گھاس کو ‘‘۔اور فرمایا :’’جو شخص سخت گو متکبر ہے وہ دوزخی ہے ‘‘۔
اور فرمایا : دوزخ میں یہ لوگ داخل ہوںگے : حاکم جو لوگوں پر مسلط ہوگیا ہو یعنی زبر دستی اور ظلم کرتا ہو ، وہ مالدار جومال سے متعلق حقوق اللہ کو ادا نہیں کرتا ،فخر کرنے والا فقیر ‘‘۔اور فرمایا : جس کے دل میں رائی برابر تکبر ہو اس کو خدا ے تعالیٰ دوزخ میں ڈالے گا ‘‘۔
اور فرمایا : ایماندار میں اور دوسری خصلتیں ہوںگی مگر خیانت اور جھوٹ نہیںہوسکتیں ‘‘۔ اور فرمایا : جھوٹ منہ کوکالا کرنے والا ہے اور چغلی باعث عذاب قبر ہے ‘‘۔ اور فرمایا :جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں ، او رجس کو عہد واقرار کی پا بندی کا پا سن نہیں اس کودین سے کوئی تعلق نہیں ‘‘۔
یہ تمام وعیدیں مسلمانوں سے متعلق ہیں کیونکہ نماز،روزہ وغیرہ فروع ہیں ،اور جب تک خدا اور اس رسول پر ایمان نہ لائے اس سے یہ احکام متعلق نہیں ہوتے ۔ اب اگر یہ خیال کیا جائے کہ کوئی مسلمان دوزخ میں نہ جائے گا خواہ کتنے ہی گنا ہ کرے تو قرآن و حدیث کی تکذیب لازم آتی ہے ۔ عقل بھی ہرگز یہ تسلیم نہیں کرتی کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کامال زبردستی لے لے اوراس کی عورت و بچوں پر قابض ہوجائے اور اقسام کی اذیتیں ان کودے اور ان کی بے حرمتی کرے ، باوجود اس کے اس عالم میں کوئی سزا اس کو نہ ہو ۔
اصلاح تمدن و معاشرہ
حکما ء نے اصلاح تمدن کے لئے تناسخ کامسئلہ نکالا کہ جوشخص برے کام کرے ،مرنے کے بعد کسی ایسے جانور کے قالب میں اس کی روح جائے گی جو نہایت ذلیل ہو ۔ ان کامقصود اس سے یہی تھا کہ آدمی اس خوف کے مارے برے کام کا مرتکب نہ ہو ، یہ ان کی تراشی ہوئی بات تھی ،مگر اس کا یہ اثر ہوا کہ کروڑہا آدمی اس خیال سے مرنے کے بعد کسی برے جنم میں نہ جائیں برے کاموں سے بچنے لگے ۔
خالق عالم نے کارخانہ ء عالم کی بنیادی ہی ایسی ڈالی کہ اگر آدمی ذرابھی اس میں غو ر وفکر کرے تو برے کاموں کو چھوڑ دے ، چناچہ دوعالم پیدا کئے :ایک دارالعمل،دوسرا دارالجزاء جہاں جنت ودوزخ ہیں ۔ دارالعمل میں جیسے کام کریں گے دارالجزاء میں ویسا ہی بدلہ ملے گا ۔ اور پیغمبروں کو بھیج کر معلوم کروایا دیا کہ اچھے کام یہ ہیں اور برے کام یہ ،اور قرآن شریف میں جگہ جگہ خبردی کہ برے کاموں کی جزاء اس عالم میں دوزخ ہے ۔ اب اگر یہ باور کرا یا جائے کہ مسلمان جو چاہیں اکریں وہ دوزخ میں نہ جائیں گے بلکہ بمصد اق اس کے
نصیب ہست بہشت ایخد ا شناس برد ٭کہ مسحتقِ کرامت گناہ گار انند
عابدوں اور زاہدوں سے بھی جنت میں اس کے مرتبے بڑھے ہوئے رہیں گے ‘تو مسلمان کا تمدن ہندوئوں کے تمدن سے بدرجہا گھٹا ہوا رہے گا ۔ کیونکہ مسلمانوں کے پیشوا یعنی واعظین نے اپنے کا موںکی جزاء وسزاء بے فر بنا دیا تو اب ان کوکیا ضرورت کہ نفس کی مخالفت کرے دنیوی نعمتوں اور عیش وعشرت سے محروم رہیں ، جب جب بھی موقعہ ملے گا نا جائز ذرائع سے لوگوں کا مال حاصل کریں گے اور شہوت و نفسانی خواہشوں کے پورے کرنے میں ذرا بھی تامل نہ کریں گے ۔ اب کہئے کہ ایسے مسلمانوں سے تمدن کو نفع پہونچے گا یا نقصان ؟! پھر غیر اقوام کے مقابلہ میں جو کہا جاتا ہے کہ ’’اسلام اعلیٰ درجہ کا حامی تمدن ہے ‘‘تو وہ ایسے مسلمانوں کوپیش کردیں کہ جن کے ناشا ئستہ افعال سے معاشرہ وتمدن خراب ہو رہا ہے تو ان کا کیا جواب ؟اگر کہا جائے کہ یہ ان کی ذاتی خرابیوں کا اثر ہے ہمارا دین ان کوایسے امور کی ہدایت نہیں کرتا ، تو وہ واعظین کو پیش کردیں گے کہ ان کی ہدایتوں کا یہ اثر ہو رہا ہے کہ لوگ بے باک ہو رہے ہیں ، ان کویقین دلا یا جائے کہ کسیے ہی کسیے برے کام کریں جنت کے اعلیٰ مقا مات کے مستحق ہیں ۔ وہ ضرور کہیں گے کہ اگر دین میں یہ بات داخل نہیں تو یہ پیشوایان دین پھر کہاںسے ایسی باتیں بیان کر تے ہیں جس سے تمدن تباہ ہو ؟!اس سے معلوم ہوا کہ معاذ اللہ ہمارا دین اسلام کامل نہیں ۔ یہ سب خرابیاں اسی وجہ سے ہیںکہ واعظین قرآن و حدیث کے کل مضامین کو پیش نظر نہیں رکھتے ۔ قرآن شریف کو جہاں دیکھئے یہی ثابت ہوگا کہ وعدہ اور وعید برابر ہو رہے ہیں،جس آیت سے امید بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ ہیں دوسری آیت سے خوف پیدا ہوتا ہے ۔ احادیث میں دیکھئے تو ان میں بھی یہی طریقہ مرعی ہے ۔
الحاصل جب تک ہمارے واعظین جو پیشوا یان قوم ہیں جس طرح آیات وا حادیث رجاء کے بیان کرتے ہیں خوف پیدا کرنے والے آیات و احادیث نہ بیان کریں تو مسلمانوں کے تمدن کی اصلاح ہر گز نہیں ہوسکتی ۔ ان حضرات کو اس آیت شریفہ میں غور کرنا چاہئے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے واتقواللہ حق تقاتہ یعنی اللہ تعالی سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔
ہر پڑہا لکھا آدمی جانتا ہے کہ اہل سنت و جماعت کا مذہب بین الخوف و الرجاء ہے نہ اس میں افراط ہے کہ گنہگا رقطعی دوزخ اور ہمیشہ دوزخ میں رہے گا جسیے کہ خوارج کہتے ہیں ۔اور نہ یہ کہ مسلمان کو گناہوں کی کچھ سزانہ ہوگی جسیا کہ مرجیہ کہتے ہیں۔ مسلمانوں کو خوف اس وجہ سے لگا رہتا ہے کہ کسی آیت و حدیث میں یہ وارد نہیںہے کہ کل امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالکلیہ دوزخ سے نجات دلایں گے اور کوئی دوزخ میں نہ جائے گا بلکہ یہ وارد ہے کہ بہت سے مسلمان بغیر اطلاع آپ ؐ کے دوزخ میںڈال دیے جائیںگے اور مدتوں اسی میںپڑے رہیں گے پھر جب آپ ؐ کو اطلاع ہوگی تو آپ دوزح پر تشریف فرما ہو کر ان کو اس میں نکال لیں گے، اب یہ کیوکر یقین ہوکہ پہلی ہی شفاعت میں ہم ضرور شریک ہوں گے ؟ جب یہ اشتباہ ثابت ہوگیا تو ہر ایمان والے کو یہ فکر لگی رہنی چاہئے کہ معلوم نہیں ہم کس زمرہ میں ہوں گے ۔
ضرورتِ ترغیب و ترہیب :
آج کل کے بعض مہذب مسلمان اس قسم کی احادیث سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ اوہام پر ستی ہے کہ جنت اور دوزخ کے خیال سے عبادت کی جائے ۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ عقلاء بالطبع اچھے کام کرتے ہیں اور برے کاموں سے احتراز کر تے ہیں تو یہ درست ہے مگر سب آدمی یکساں اور اس خیال کے نہیں ہو سکتے ،شاید ہزار میں ایک آدمی ایسا بلند خیال ہوگا ،باقی اپنی شہوات اور خواہشیںپوری کرنے میں اس کا خیال ہی نہیں کرتے کہ کو نسا کام مقتصائے عقل کے مطابق ہے اور کونسا خلاف عقل ، انہیں لوگوں سے تمدن خراب ہوتا ہے ۔ چونکہ ان لوگوں کی ہمت نفسانی خواہشوں کے پوری کرنے او رجسمانی لذات حاصل کرنے کی طرف مصروف ہے ، اس لئے ان کو وعدہ دیا گیا کہ جتنی خواہشیں تمہاری تھیں جنت میںایسے طور پر پوری ہوں گی کہ وہ تمہارے خیال میں بھی نہیں ہے بشرطیکہ جن کاموں کا حکم کیا گیا ہے وہ بجا لائیں اوربرے کاموں سے احتراز کریں ، اور اگر اس کے خلاف کروگے تو دوزخ میں ڈالے جائو گے جہاں ایسے اقسام کے عذاب ہیں کہ دنیا میں ان کا خیا ل تک نہیں آسکتا ۔
جن لوگوں کو خدا ے تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا ایمان ہے اور کلام الٰہی اور احادیث نبوی کو سچا جاتے ہیں وہ یقین کرکے اسیے کام کرتے ہیں جن سے جنت کا استحقاق پیداہوتا ہے ، اور جو یقین نہیں کرتے وہ دوزح کے مستحق ہو تے ہیں ۔ غرضکہ یہ ترغیب و تخویف اسیے ہیں لوگوں کے واسطے ہے،اور عالی فطرتوں کے لئے اس کی ضرورت نہیں ۔ دیکھئے بادشاہی ملازمین میں بعض لوگ اس فطرت کے ہوتے ہیں کہ حسب مرضی شاہی سب کاموں کو انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تقرب حاصل ہوتا ہے ،مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ،بخلاف اس کے بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کواضافہ ،ماہوار وغیرہ کے ترغیب دینے کی اور ان کی تخویف کے لئے قید خانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں اقسام کے عذاب دیے جا تے ہیں۔ اسی پر خدائی سلطنت کا خیال کیا جائے ۔
انکار جنت ودوزخ کا منشاء :
اہل تہذیب جدیدہ اگر چہ اعلیٰ درجے کی بات کہتے ہیں کہ اعمال حسنہ و سیٔہ کے لئے خوف و رجاء اس قسم کی نہ ہونی چاہئے بلکہ جوکام ہو خلوص سے خاص خداے تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے ہو ،چنانچہ اکثر اولیاء اللہ کا بھی یہی قول ہے ،مگر فرق یہ ہے کہ اولیاء اللہ جنت ودوزخ کے قائل ہیں ، بحلاف اس کے ان حضرات کا اندرونی منشا کچھ اور ہی ہے ۔ اکثر حکماء کایہی مسلک ہے کہ جنت و دوزخ کوئی چیز نہیں صرف روحانی لذائذ جو روحانیت کا تکمیل سے حاصل ہوتے ہیں ا ن کانام جنت ہے ، اور روحانی تکالیف کانام دوزخ ہے جو رحانی کماات حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔
حکماء کی غرض یہی معلوم ہوتی ہے کہ زمین ایک بڑی مستحکم چیز ہے ،جب ایک بار بن گئی تو اس کو خراب کر کے دوسرا عالم قائم کرنا ایک مشکل کام ہے ، اس لئے انہوںنے مناسب سمجھا کہ دنیا کا کارخانہ یوں ہی چلنے دینا چاہئے کہ ہمیشہ لوگ پیدا ہوتے رہیں !اور آخرت کا کارخانہ علحدہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ،صرف روح جہاں رہے وہیں اس کے لئے آسائش یا تکلیف رہے جس کو انبیاء جنت و دوزخ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ انہوںنے دیکھاکہ جب عالم کاکارخانہ ایک مدت سے جاری ہے اور کوئی ایسا شخص انہیں نہ ملا کہ اس کے روبرو تخلیق عالم ہوئی ہو ، اس لئے انہوںنے یہ خیال کیاکہ عالم قد یم ہے ، اور یہ بھی تجویز کرلی کہ وہ کبھی فنانہ ہوگا ۔ یہ صرف ان کا قیاس ہے ، اور چونکہ وہ قیاس الغائب علی الشاہد ہے اسلئے عقلاً جائز نہیں ہوسکتا، اورجتنی دلائل قائم کی گئیں ہیں ان میں کوئی دلیل ایسی نہیںجس کو عقلِ سلیم قبول کر سکے ۔کیونکہ یہ مسئلہ نظری ہے جس میں نظر و فکر کی کی ضرورت ہے ، اور یہ بات قابل تسلیم ہے کہ جب تک نظریات کی انتہاء کسی بد یہی پر نہ ہو دلیل مفید نہیں ہوسکتی ، اب یہاں کونسی چیز ایسی بد یہی نکل سکے گی جس کے ذریعہ سے ہم قدیم عالم تک پہونچ سکیں ۔
غرضکہ عقل عالَم کے قِدَم اور ابدکی راہ طے کرنی محالات سے ہے ،بخلاف اس کے جب ہم نے عقل کی رہبری سے مان لیا کہ عالم کا پیدا کرنے والاایک ہے جس نے ہماری ہدایت کے لئے نبی بھیجا اور اس پر قرآن نازل کیا اور اسی میں فرمایا کہ ہم نے اپنی قدرت سے آسمان وزمین پیدا کئے ،تو اب ہمیں اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ آسمان وزمین حادث ہیں اوران کو خداے تعالیٰ نے اپنے ارادہ سے جب چاہا بنا یا ہے ۔
حکماء نے عالم کو بڑی وقعت دے رکھی ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں جب سے خدا ہے عالم بھی اس کے ساتھ ہے ! بلکہ بعض نے توکہا کہ خدا کی بھی ضرورت نہیں عالم خود بخود پیداہوگیا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب نگاہ پڑتی ہے تو عالم ہی پرپڑتی ہے ،اور خداے تعالیٰـ کی یہ شان نہیں کہ لوگ اس کو دیکھ سکیں اور جس قدر اس کی قدر تیں ظاہر ہوتی ہیں اشیاء عالم میں ہوتی ہیں اس لئے خالق تک نظر پہونچنے کی ظاہر اً کوئی صورت نہ تھی ۔البتہ بعض حکماء جن کو اعلیٰ درجے کی عقل دی گئی تھی ان کی عقلوں نے رسائی کی اور سمجھ گئے کہ نہ عالم خود بخود بن سکتا ہے نہ اپنے میں خوبیاں اپنے آپ سے پیداکر سکتا ہے ،بلکہ پیداکرنے والا اور تمام کام چلانے والا کوئی اور ہی ہے ۔ پھر ان کوبھی بعض امور میں غلطیاں ہوئیں ، کیونکہ عقل کہاں تک چل سکے ! اس کے حد امکان میں اسی قدرہے کہ تخمین سے کام لے ، اور ظاہر ہے کہ تخمین کوئی اعتبار کے قابل چیز نہیں ۔
غرض کہ حکماء فلسفیوں نے عالم کو جس قدر وقعت دے رکھی ہے وہ صحیح نہیں ۔
کیونکہ وہ مخلوق ہے ،اور ممکن نہیں کہ مخلوق خالق سے برابری اور ہمسری کا دعویٰ کرسکے۔ اسی کو دیکھ لیجئے کہ ہم مکا ن یا اور کوئی چیز بنا تے ہیں تو باوجود یکہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس کے خالق ہیں ، کیونکہ مکان کے لئے مثلاً لکڑی ، چونا ،پتھروغیرہ اشیاء جب تک پہلے سے موجود نہ ہوں ہم کچھ نہیں کر سکتے ان سب کا خالق خداے تعالیٰ ہے، ہمارا کام صرف اس قدر ہے کہ ان اشیاء کو خاص طور پر ایک جگہ جمع کردیں ۔ جس پر مکان کا اطلاق ہو سکے ۔ اب دیکھئے کہ باوجود خالق نہ ہونے کے ان شیاء کا ہمارے روبرو کیا حال ہے جس طرح چاہتے ہیں لکڑی اور پتھر کو تراشتے ہیں او رجہاں چاہتے ہیں ان کو لگا تے ہیں ، کسی کو سرتابی کی مجال نہیں ، یہ نہیںہوسکتا کہ مثلاً ایک پتھر کو ہم بیت الخلاء میں لگانا چاہیں اوروہ انکار کرے ۔ اب دیکھئے کہ با وجود یکہ یہ اشیاء موجود اور ہمارے ہمسرہیں اس وجہ سے کہ جس طرخدا ے تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا انہیںبھی پیدا کیا ، مگر چونکہ ہم کو ان پر ایک قسم کا تسلط دیا گیا ہے وہ ہم سے سرتابی نہیں کرسکتے اور ہماری قدرت سے مکان وجود میں آجا تاہے ۔ اسی پر غور کیجئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ کسی قسم کی ہمسری نہیں ہوسکتی ، کونکہ وہ بالذات موجود ہے اوریہ معدوم ، جب خالق کسی شئے کو عدم سے وجود میں لانا چاہتاہے تو وہ شئے اس کے روبرو اس سے بھی زیادہ ذلیل اورمتقادہے جو ہمارے روبرو مکان کے اجزاء ہوتے ہیں ۔ صرف خداے تعالیٰ کا ارادہ ہونے کی دیرہے ، جہاں کسی چیز کے پیدا کرنے سے ارادہ متعلق ہوا تو پھر ممکن نہیں کہ وہ چیز وجود میں نہ آئے یا آنے میں تاخیر کرے، کیونکہ اگر کسی چیز کے بننے میں تاخیر ہوتی ہے تو وہ بنا نے والے کی وجہ سے ہوتی ہے ، بنا نے والا ذی اثر اور با قدرت ہو تو وہ چیز بہت جلد تیار ہوگی ۔ مثلاً معمولی مقدرت والاجس مکان کو ایک مہینے میں بنا سکتا ہے تو بڑی مقدر ت والا اگر چاہے تو دوتین روز میں بنا لے گا ۔
مخلوق اگر کسی چیزکوبنائے تو خواہ مخواہ دیرہوگی کیونکہ آلات واسباب فراہم کرنے میں ضرور دیر ہوتی ہے ، بخلاف اس کے اگر خالق عزوجل جب کسی چیز کو بنا نا چاہتا ہے تو وہاں پر نہ آلات کی ضرورت ہوتی ہے نہ اسباب کی ،بلکہ فقط ’’موجود ہوجا‘‘کہہ دینا کافی ہے ،چناچہ ارشاد ہے انما قو لنا لشی ء اذاارد نا ہ ان نقول لہ کن فیکون اب غور کیجئے کہ مخلوق کس قدر خالق کے روبرو ذلیل اور منقاد ہے کہ صرف ’’کن‘‘ کہہ دینے سے وجود میں آجا تی ہے ۔ جب ہر چیز کا یہی حال ہے جن کا مجوموعہ عالم ہے تو ظاہر ہے کہ عالَم خداے تعالیٰ کے روبرو نہایت ذلیل اور منقاد ہے ، اور اس کی ہستی ہی کیا خداے تعالیٰ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے ۔
غرضکہ عقلاً یہ بات ثابت ہو سکتی ہے کہ عالم کو خداے تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں ، بلکہ نہایت ذلیل حالت میں ہے ،صرف ایک لفظ کے کہنے سے وجود میں اسکتا ہے اور ایک لفظ کے کہنے سے فنا ہوسکتا ہے ۔ جب یہ بات قابل تسلیم ہے تو کہنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے جس طرح اپنے ارادہ اور اختیار سے عالم کو موجود کیا اسی طرح اس کو اپنے ارادہ اور اختیار سے فنا بھی کرسکتا ہے ، جس کی خبر قرآن شریف میں دی ہے۔ اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ زمین و آسمان ہمیشہ باقی رہیںگے اور روحانی دنیا کے لئے کوئی ٹھکانے یعنی جنت و دوزخ کی ضرورت نہیں! یہ قرآن شریف کی تکذیب کرنی ہے ۔
بِ
یہ حرف جارہے اور جس پر داخل ہوتا ہے اس کو مجرور کہتے ہیں ،’’جار ‘‘ لغت میں کھینچنے والے کو کہتے ہیں اور ’’مجرور ‘‘وہ جو کھینچا جائے ۔ جا ر مجرور کا تعلق کسی فعل سے یا صیغہ ،صفت سے ہوتا ہے ، اگر ظاہر اً کوئی فعل یا صیغہ ،صفت نہ ہوتو اس کو مقدر کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جیسے ’’زید افی الدار ‘‘ میں :ثبت، یا ثابت فی الدار سمجھا جا تا ہے۔ جب تک جار مجرور کا تعلق فعل یا صیغہ ء صفت سے نہ ہو عبارت درست نہیںہوسکتی ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت کا ایک عالَم ہی جدا اور مستقل ہے جس میں بے انتہاء افراد موجود ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں ، اس عالم کا تعلق فہم وادراک اور سامعہ سے ہے اور بواسطہ ،نقوش باصرہ سے بھی ہوسکتا ہے ،باقی دوسرے حواس کو اس عالم میں رسائی نہیں ۔ یہ عالم عبارت دراصل جلوہ گاہ عالَمِ معنیٰ ہے یعنی معنیٰ تنزل کرکے عالَمِ عبارت میں آجاتاہے ۔ پھر اس عالم میں اس کی مختلف اَشکال ہوتی ہیں،ایک شکل کو دوسری شکل سے کوئی منا سبت نہیں ہوتی
مثلاً جب آدمی چاہتا ہے کہ کوئی اسے پانی پلائے تو کسی کو مخاطب کر کے ہندی ہو تو یہ کہے گا کہ ’’مجھے پانی پلائو ‘‘ اور عرب ہوتو ’’اسقنی الماء ‘‘ اور فارسی ہوتو ’’مراآب بنوشاں ‘‘ کہے گا ،علیٰ ہذا القیاس ہر ملک کا آدمی اپنی زبان میں اسی مقصود کو ظاہر کرے گا اگر چہ بحسبِ اختلافِ اَلسنہ صدہا قسم کی عبارتیں اس مضمون کی بنائی جائیں گی ، جس کواس زبان کے جاننے والوں کے سوا کوئی دوسرا نہ جانے گا ۔ مگر دل میں سب کے ایک ہی قسم کی بات ہوگی یہاں شاید یہ خیال پیداہوگا کہ ہندی کے دل میں بھی ہندی الفاظ ہوںگے ! مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ جانور کے کے دل میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے جیساکہ آثار اور قرائن سے ثابت ہے حالانکہ اس کے دل میں کسی میں کھینچنے والے کو کہتے ہیں اور ’’مجرور ‘‘وہ جو کھینچا جائے ۔ جا ر مجرور کا تعلق کسی فعل سے یا صیغہ ،صفت سے ہوتا ہے ، اگر ظاہر اً کوئی فعل یا صیغہ ،صفت نہ ہوتو اس کو مقدر کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جیسے ’’زید افی الدار ‘‘ میں :ثبت، یا ثابت فی الدار سمجھا جا تا ہے۔ جب تک جار مجرور کا تعلق فعل یا صیغہ ء صفت سے نہ ہو عبارت درست نہیںہوسکتی ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت کا ایک عالَم ہی جدا اور مستقل ہے جس میں بے انتہاء افراد موجود ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں ، اس عالم کا تعلق فہم وادراک اور سامعہ سے ہے اور بواسطہ ،نقوش باصرہ سے بھی ہوسکتا ہے ،باقی دوسرے حواس کو اس عالم میں رسائی نہیں ۔ یہ عالم عبارت دراصل جلوہ گاہ عالَمِ معنیٰ ہے یعنی معنیٰ تنزل کرکے عالَمِ عبارت میں آجاتاہے ۔ پھر اس عالم میں اس کی مختلف اَشکال ہوتی ہیں،ایک شکل کو دوسری شکل سے کوئی منا سبت نہیں ہوتی
مثلاً جب آدمی چاہتا ہے کہ کوئی اسے پانی پلائے تو کسی کو مخاطب کر کے ہندی ہو تو یہ کہے گا کہ ’’مجھے پانی پلائو ‘‘ اور عرب ہوتو ’’اسقنی الماء ‘‘ اور فارسی ہوتو ’’مراآب بنوشاں ‘‘ کہے گا ،علیٰ ہذا القیاس ہر ملک کا آدمی اپنی زبان میں اسی مقصود کو ظاہر کرے گا اگر چہ بحسبِ اختلافِ اَلسنہ صدہا قسم کی عبارتیں اس مضمون کی بنائی جائیں گی ، جس کواس زبان کے جاننے والوں کے سوا کوئی دوسرا نہ جانے گا ۔ مگر دل میں سب کے ایک ہی قسم کی بات ہوگی یہاں شاید یہ خیال پیداہوگا کہ ہندی کے دل میں بھی ہندی الفاظ ہوںگے ! مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ جانور کے کے دل میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے جیساکہ آثار اور قرائن سے ثابت ہے حالانکہ اس کے دل میں کسی نہ اس میں حروف ہیں جن کے بنا نے میں زبان و حلق ودہان ولب کے استعمال کی ضرورت ہو اور ان کی تقدیم و تاخیر ہوسکے ، نہ صوت ہے جس میں ہوا کی طرف احتیاج ہو ۔ اس حالات تزیہی سے وہ کلام نفسی تنزل کر کے فضائے دہن میں جلوہ گر ہوتا ہے،حلق سے لے کر ہونٹوں تک اس کی دارالسلطنت ہے ، اس کے تولد کی یہ کیفیت ہے کہ زبان ایک ایک جگہ لگتی جا تی ہے اور ایک ایک حصہ اس کا وجود میں آتا جاتا ہے اور بعض حصوں کو حلق اور لب وغیرہ بنا تے ہیں ۔
کلام لفظی :
اب یہاں ایک لطف خاص قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ زبان اکثر حرکت کرتی رہتی ہے اور ان تمام مقامات پر لگتی بھی ہے مگر کوئی حرف وجود میں نہیںآتا جب تک حلق کے اندر سے ہوا خاص طور پر باہر نہ آئے جس سے آواز کا وجود ہو ۔ غرض کہ آواز جو دراصل ہوا ہے جب حلق سے باہر آتی ہے اس وقت ان تمام حرکات زبان وغیرہ سے آوازمیں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے کلام کا وجود ہوتا ہے ۔ سمجھنے کے قا بل یہ بات ہے کہ زبان تمام حرفوں کے مخارج پر لگنے اور حلق وغیرہ کے حرکت کرنے سے بھی حروف پید ا نہیں ہوتے بلکہ ہوائے خاص یعنی آواز کے وجود سے ان سب کا ظہور ہوجاتاہے۔
مثالِ اعیانِ ثابتہ :
یہ بعینہ ایسا ہے جسیے اعیان ثابتہ اپنے مقام میں یعنی عدم میں رہتے ہیں اور وجود کی معیت کے ساتھ ہی ان کا ظہور ہوجاتا ہے ۔ دیکھئے عالم حروف ایک محسوس عالم ہے جس میں ہرایک حرف دوسرے حروف سے مشخص اور ممتاز ہے ان حروف کا جو ظہور ہورہاہے وہ صرف آواز کی بدولت ہے ، اگر آواز نہ ہو اور زبان وغیرہ تمام حروف کے اعیان کو ثابت کردیں تب بھی وہ سب معدوم ہی رہیں گے ۔ اس لئے کہ عالم محسوسات میں اگر ان کا وجودہی نہ ہو ا تو کسی کو خبر بھی نہ ہوگی کہ ان کا ثبوت بھی ہے یا نہیں ۔ البتہ نفس ناطقہ نے جب زبان وغیرہ کی حرکت سے ان کو فی نفسہ ممتاز بنادیا تو وہ جانتا ہے کہ کہاں کہاں کس کاتعین ہے ، پھر جب ان کو وجود دینا منظور ہوتا ہے تو زبان وغیرہ کو حرکت دیتا ہے جو بمنزلہ کلمہ ’’کن ‘‘ کے ہے اوروہ آواز کی معیت سے وجود میں آجاتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ حروف کے اعیان ثابتہ اپنے مقام سے علحدہ نہیں ہوتے ،کیونکہ مثلاً لا م جس مقام میں بنتا ہے نہ وہ مقام منہ سے باہر آیا نہ وہ کیفیت جو زبان کے اتصال مقامی سے پیدا ہوئی ۔
وجود محسوس نہیں :
البتہ اس عین ثابت کا ظہور عالم محسوسات میں ہو جا تا ہے اور لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مثلاً لام عالم محسوسات میں پیدا ہوا گیا ، حالانکہ وہ وہیں ہے جہاں اس کا ثبوت تھا ، مگر ہوا یہ کہ آواز نے ان حروف کو عالم محسوسات میںظاہر کردیا ۔یہاں لطف خاص ہے کہ آواز اور حروف سنے جا تے ہیں اور اصل ہوا کوکوئی سنتا ہی نہیں بلکہ وہ غیر محسوس ہے حالانکہ آواز کا مدار اسی پر ہے ! کیونکہ آواز ہواے مکیفہ کا نام ہے ۔ یہی حال عالم کا ہے کہ کیفیات وجود محسوسی ہیں مگروجود محسوس نہیں ۔ ہوا کا استعمال کہ کس موقعہ پر کتنی نکالی جائے جس سے صرف خود آپ ہی یا نزدیک والا یادور والاسن سکے ایک عجیب کام ہے اس کا طریقہ کوئی حکیم بتا نہیں سکتا بلکہ الہامی ذریعہ سے خود بخود حاصل ہوجاتا ہے۔ پھر زبان کا اعجوبہ کا ریاں بھی قابل دید ہیں کہ اس سرعت کے ساتھ وہ حرف بنا تی ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی حیران ہوجاتاہے ،تیس چالیس مقامات پر فوراً گزر کر کے بات کا بنانا اسی کا کام ہے ۔ اگر چہ وہ ایک مضغہء گوشت ہے مگر نفس ناطقہ کی تحریک سے بہت آسانی سے اپنا کام انجام دیتی ہے ۔ اور نفس ناطقہ کی کاگزاری بھی اس وقت قابل دید ہے کہ ایک ایک حرف پر زبان کے عضلات واوتار وغیرہ کو کبھی کھینچ کر اورکبھی چھوڑ کر اور کبھی زبان کوپھیلا کر اور کبھی دراز کرکے اس سرعت سے کام لیتا ہے کہ عقل حیران ہوجا تی ہے ۔پھر یہ بھی نہیں کہ صرف زبان ہی کی طرف اس کی توجہ ہوبلکہ اُدھر یہ کارخانہ جاری ہے اور اِدھر مضامین سوچتا رہتا ہے کہ کس مضمون پر کس عبارت کا لباس پہنا یا جائے ۔ یا یوں کہئے کہ اُدھر کلام کے اعضاء بنا تا جا تا ہے اور اِدھر اس میں
جان پھونکتا جا تاہے ،کیونکہ الفاظ میں معنیٰ بمنز لہ جان کے ہیں ۔بہر حال یہ دونوں کا ایک ہی وقت میںنفس ناطقہ کرتا ہے ،اور اس کے ساتھ حلق سے ہوا کو بھی نکالتاہے تاکہ جو حروف منہ میں بن رہے ہیں اس میں پسٹ کر منہ سے باہر آجائیں اور جو مقصود ہے پورا کریں ۔ یہاں بھی ایک عجیب تماشا ہے کہ ہوا حلق کے باریک سوراخ سے نکلتی ہے اس کے ساتھ کلام منہ کے باہر نکلتا ہے اور نکلتے ہی اتنی ہوا پر اپنا تسلط کرلیتا ہے جو ایک وسیع میدان میں بھری ہوتی ہے ،اگر دس ہزار آدمی بھی اس میدان میں ہوں تو بھی بحسب قوت آواز وہ کلام کا نوں میں چلاجا تا ہے ، ہر چند وہ ہوا جس میں کلام رہتا ہے سب کے جسم سے لگتی ہوئی ہے مگر جسم کے کسی حصہ کو خبر نہیں ہوتی کہ اس ہوا میں کلام ہے ،اگر خبر ہوتی ہے تو صرف کان کے آخری حصہ کو حالانکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو جسم کے کسی حصہ میں نہ ہو ،اگر عصب سے سماعت کا کام متعلق ہے تووہ بھی تمام جسم میں مفرد ش ہے ۔ مگر بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام اعصاب میںسے اس عصب سے جوکان میں مفردش ہے سماعت کو متعلق فرما دیا ہے جس سے کلام کی پوری حالتوں پر اس کو اطلاع ہو جا تی ہے ، او ردوسرے کل اعضاء اس سے بے خبر ہیں کیونکہ ان کواس عالم سے تعلق ہی نہیں ۔
ادنیٰ تامل سے معلوم ہوسکتاہے کہ یہ ایک عالَم ہی مستقل ہے ‘ ابتداء اً بات دل میں پیدا ہوتی ہے پھر منہ میں آکر ایک نئی شکل قبول کرتی ہے پھر ہوا کے ذریعہ سے باہر نکلتی ہے اور ایک حد معین تک سننے والوں کے کانوں میں پہنو نچتی ہے اور وہاں سے ان کے دل میں اتر تی ہے ۔ ابتداء سے انتہا ء تک اندرونی تعلقات اور منا سبتیں باہمی کچھ ایسی ہیں کہ کہ ان کے ادراک سے عقل قاصر ہے ۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عصب یعنی پٹھا سنتا ہے یا سننے کا ذریعہ بن سکتا ہے !!بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ان کوکان بھی ہیں اور کان پٹھے بھی ہیں مگر سماعت منقود ،اور زبان بھی ہے اور حرکت بھی کرتی ہے مگر بات کے بنا نے کی صلاحیت ندا رد ۔
عقلاء نے بات کومقیدکرنے کے کا آلہ تو بنا لیا ہے مگر اب تک کوئی ایسا آلہ تیار نہ ہو سکا کہ اپنے دل کی بات اس کے ذریعہ سے بیان کریں ، حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ حلق سے ہوا نکلتی ہے اور چند کھٹکوں سے حروف تیار ہوتے ہیںاور ہوا کے ذریعہ سے وہ کان تک پہنچتے ہیں ،ہوا موجود ہے اور ربڑ کی زبان بھی بنا سکتے ہیں اور ہوا کو تموج دینے کی تدا بیر بھی معلوم ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ منہ کی شکل بنا کر اس سے بات کرلیں،اگر ایسا آلہ نکالا جائے تو گونگوں کو بہت بڑا فائدہ ہو ،ایسے کام لینے کی تدا بیر امریکہ وغیرہ میں اقسام کی کی جا ر ہی ہیں مگر اتنا سہل کام اب تک نہ ہوسکا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرف وصوت وسماعت کاعالم ہی جداہے جس کے اسرار پر اب تک کسی کو اطلاع نہیں ۔
اس عالم میں آواز بھی ایک چیز ہے جو حلق سے نکالی جا تی ہے اس کیفیت یہ ہے کہ جب چاہتے ہیں سوائے شخص قریب کے کوئی نہ سنے تو اس سکو پست کر سکتے ہیں،اور اوروں کو بھی سنا نا منظور ہو تاہے تو بلند کر تے ہیں ۔پھر اس میں بھی مدراج ہیں سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کو سنا سکتے ہیں ۔ اب آواز کو پست و بلند کر نے والوں سے پوچھا جائے کہ کس تدبیر سے آواز پست و بلند کی جاتی ہے ؟تو کوئی بتا نہ سکے گا ۔ حکما ء یہ کہہ تو دیں گے کہ عضلات وغیرہ کو خاص خاص قسم کی حرکت دی جاتی ہے ،مگر حرکت دینے کی تدبیر کوئی بتا نہ سکے گا ۔ حالانکہ جاہل جس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ حلق میں کوئی عضلہ بھی ہوتا ہے وہ بھی اپنی آواز کو پست و بلند کرتا ہے ۔ اب کہئے کہ اس کویہ تدبیر جو عمل میںلاتا ہے کس نے بتائی ؟ ! نفس نا طقہ تو کیا ، اس کے فرشتے کو بھی معلوم نہیں کہ کس تدبیر سے عضلات و اعصاب کو حرکت دیتے ہیں ، بلکہ یہ بھی خبر نہیں کہ عضلات کا وہاں وجود بھی ہے یا یو ں ہی کہا جا تا ہے ۔
اگر کہا جائے کہ طبیعت یہ کام کر تی ہے تو ہم کہیں گے کہ طبیعت نفس ناطقہ کے ما تحت کام کرتی ہے ،جب نفس ناطقہ ہی کو معلوم نہیں تو بے شعور طبیعت کو کیونکر معلوم ہوا !! عقلاء کا دستور ہے کہ جس سر رشتہ کے انتظام کے لئے عملہ مقرکر تے ہیں تو پہلے ایسے افسر اعلیٰ کو تلاش کر تے ہیں کہ اس سر رشتہ کے تمام کاموں کا ماہر ہو اور اس کے ما تحت افسران اس کم درجہ کے ہو تے ہیں ۔ جب حق تعالیٰ نے نفس نا طقہ کو اس سر رشتہ ، کا لبدِ انسانی کا فسر اعلیٰ مقرر فرمایا تو اس کا علم اس کے ما تحتوں کے علم سے زیادہ ہونا چاہئے ! حلانکہ ہم جانتے ہیں کہ نفس نا طقہ کو اس کا علم ہی نہیں ،کیونکہ ہماری جس قدر ادراکات ہیں وہ سب ہمارے نفس ناطقہ ہی کے ادراکات ہیں ،اگر ہمارا نفس ناطقہ جانتا ہے توہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں ، جب اس تدبیر کو ہم نہیں جانتے ہیں تو ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ ہمار ا نفس ناطقہ بھی نہیں جانتا ،اور جب نفس ناطقہ ہی نہیں جاناتا تو طبیعت بھی نہیں جانتی ۔ کیونکہ خود حکماء کو اعتراف ہے کہ طبعیت بے شعورمحض ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ عالم کلام کے کارخانے کو خداے تعالیٰ نے صرف اپنے ہی تصرف میں رکھا ہے جب چاہتا ہے بات کر ا دیتا ہے ،مگر چونکہ عادت ہوگئی ہے کہ ہم جب ارادہ کر تے ہیں توبات کر لیتے ہیں ، اس وجہ سے خیال تک نہیں آتاکہ خداے تعالیٰ کو بھی اس کارخانہ میں دخل ہے یا نہیں ۔ یہ ہر شخص جانتا ہے کہ آدمی جب
کسی ایسے کام کا ارادہ کر تا ہے جن میں آلات کے استعمال کی ضرورت ہوپہلے ان آلات کے استعمال کا طریقہ سیکھتا ہے ،اور جب وہ معلوم نہ ہوگا ہر گز نہیں کر سکتا ۔ بخلاف اس کے بات کر نے کا ارداہ جب تک کرتاہے توبغیر اس کے آلات یعنی عضلات وغیرہ کے استعمال کے نے کاطریقہ معلوم ہو بات کرلیتاہے۔ اب کہئے کہ کیا صرف ارداہ بات کرنے کے لئے کا فی ہو سکتاہے ؟! میر ی رائے میں عقل کی روسے تو ہر گز کافی نہیںہو سکتا ۔ کیونکہ جب معلوم ہو گیا کہ نفسِ ناطقہ اور طبیعت طریقہ ،استعمالِ آلات کو جانتے ہی نہیں ،تویہ کہنا پڑے کہ ارداہ تو ہم کرتے ہیں مگر اس کا کام وجود کسی اور کے ارداہ سے ہوتاہے یعنی خالق عالم اس فعل کو وجود میں لاتاہے ۔
اسی پر ہمارے تمام افعال کو قیاس کرلیجئے ، اسی وجہ سے اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے کہ خالق افعال اللہ تعالیٰ ہے ، اور کلام الٰہی سے بھی اس کی تصدیق ہو تی ہے جیسا کہ ارشاد ہے :واللہ خلقکم و ما تعملون ۔
الحاصل جو بات کہ دل میں پوشیدہ تھی جس کو کوئی نہیں جانتا تھا ، جب اس کو عالم شہود میں لانا منظور ہوا تو ہوا کے ساتھ وہ مخلوط کی گئی ،کیونکہ عالم محسوسات بہ نسبت عالم معنی کے کثیف ہے ۔ اب اس نے اپنے مقام سے اس قدر تنزل کیا کہ ہزار بار آدمی اس کو مشاہدہ کر نے لگے اور محسوسات میں داخل ہو گئی ۔ مگر اب بھی اس کا مشاہد ہ ایک مخصوص طور پر ہے کہ صرف کانووں کو خبر ہے ،آنکھ وغیرہ اعضاء کو کچھ خبر ہی نہیں کہ اس کا وجود بھی عالم میں ہے یا نہیں ،کیونکہ کلام کلی تجلی کانوں کے ساتھ مختص ہے ، اور کان بھی سب نہیں بلکہ وہی جن کو ان کااحساس دیا گیا ہے ۔
اب دیکھئے کہ کلام ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ،ظاہر سماعت پر اور باطن اوروں
پر ۔ مگر یہاں پر قیاس نہ کیا جائے کہ حق تعالیٰ کا ظہور و بطون بھی ایسا ہی ہے ! کیونکہ حق تعالیٰ کی ذات و صفات ایسی نہیں کہ کوئی ان کے مشابہ ہو سکے ، حق تعالیٰ فرما تا ہے
لیس کمثلہ شیئکلام ‘باطن سے تھوڑی دیر کے لئے ظہور کرکے کانوں کی راہ سے پھر باطن میں چلا جاتاہے ، اور جس طرح ابتداء میں کلام نفسی تھا اب بھی سامع کا کلام نفسی بن جاتاہے ،اور حروف و صوت سب باہر رہ جا تے ہیں ! بلکہ فنا ہوجا تے ہیں ، جس سے ثابت ہو تا ہے کہ حروف و صوت کی تدبیر صرف اسی غرض سے کی گئی تھی کہ دل کی بات دل میں پہونچ جائے ۔
ہم نے اوپر جو کہا تھا کہ کلام نفسی حروف و صوت سے منزہ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثلاً جب کسی کو کہا جاتا ہے ’’پانی پلائو ‘‘ تو اس وقت صرف یہ ہوتا ہے کہ پانی کی صورت ذہن میں آتی ہے اور ’’پلائو ‘‘ کی ،اگر چہ یہ بات بظاہر سمجھ میں نہ آئے گی کہ ’’پلائو ‘‘امر کا صیغہ ہے اس کی کیا صورت ہو گی ؟ مگر جس وقت یہ کلام کیا جا تاہے اس وقت نفس ناطقہ میں یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ پلانے کی طلب و خواہش سامع سے ہوتی ہے جس کو عبارت میں لایا جائے تو لفظ ’’پلائو ‘‘ یا ’’بنو شان ‘‘ یا ’’اسقنی ‘‘ وغیرہ بنا یا جائے گا ۔ جس طرح اشیا ئے خارجیہ کی صورتیں ذہن میں ہو تی ہیں ایسے ہی افعال وغیرہ کی صورتیں بھی ہوتی ہیں ، دیکھئے’’پلائو ‘‘ اور ’’پلایا ‘‘ کے معنیٰ ہر شخص سمجھتا ہے کہ جداجداہیں اگراس میں ہر ایک معنی علحدہ نہ ہو ںتو ان کے لئے علحدہ علحدہ الفاظ کیوں قرار دیے جا تا ہیں ۔ بہر حال ان الفاظ کے معنیٰ کا تصور ہر شخص کو ضرور حاصل ہو تا ہے،اور جب ان کی کوئی صورت ہی نہ ہو تو تصور کیونکر ہو سکے ۔ غرض کہ پانی کی اور پلائو کی صورت پہلے دہن میں آتی ہے اس طور پر کہ جملہ انشائیہ بنتاہے ، اگر مخاطب اس خطاب کو سمجھ سکتا تو حرف و صوت سے کلام بنانے کی ضرورت نہ ہوتی اور مقصود پورا ہوجا تا ۔
اگر فرض کیا جائے کہ دو صاحب کشف قلوب کسی مقام میں ہوں تو ان کو کلام لفظی بنانے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ، اندر ہی اندر دونوں کی باتیں اور مخاطبہ ہو تا جائے گا جیسا کہ اکسی بزرگ نے فرمایا :
دو کس را کہ باشد بہم جان و ہوش
حکایت کنانند و ایں ہا خموش
غرضکہ جو صورت کلام دل میں ہوتی ہے اس کو دوسرے کے ذہن میں منتقل کرنے کی غرض سے الفاظ بنائے جا تے ہیں ،گو وہ صورت کلام نفسی صورت الفاظ میں جلوہ گر ہو تی ہے و بسوا ریِ ہوا کانوں کے ذریعہ سے دوسروں کے ذہن میں جاتی ہے ۔
ُٓؑٓٓاگرکسی میں یہ قوت ہو کہ اپنے کلام نفسی کو دوسرے کا کلام بنا سکے تو اس کو حرف و صوت کی کوئی ضرورت نہیں، چناچہ کسی بزرگ کے حال میں لکھا ہے کہ وہ خود وعظ نہیں کہتے تھے مگر جب ان سے اصرار کیا گیا تو انہوں نے ایک جاہل کو منبر پر بٹھا دیا اور آپ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اس نے ایسا فصیح و بلیغ پر اثر وعظ کہا کہ لوگ حیران ہوگئے،بعد وعظ جب اس سے پوچھا گیا تو وہ ان مضامین سے بالکل نہ آشنا تھا۔
انبیاء علیہ السلام پر جو وحی آتی تھی اس کا بھی یہی حال تھا کہ بدریعہ فرشتہ ان پر کلام نفسی الٰہی کا اِلقاء ہو تا تھا ، جس کا ظہور کلام لفظی کے صورت میں عمل میں آتا، یہی وجہ ہے کہ کلام اللہ شریف کو جنابت کی حالت میں پڑھنا جائز نہیں ۔ اور اس کے بعد
صورت مکتوبی میں اس کا تنزل ہوا ، اسی وجہ سے بغیر طہارت کے اس کو ہاتھ لگانا درست نہیں ۔ اسی طرح جس صورت میں اس کا تنزل ہو واجب التعظیم ہے ۔ اسی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ فو ٹو گراف کی تختیوں او رٹیپ ریکارڈ کے فیتے وغیرہ میں جو خطوط یا نشان ہوں جن سے قرآن کی آوا ز نکلتی ہے تو ان کو بھی بغیر طہارت کے ساتھ لگانا درست نہ ہوگا ۔کیونکہ ان ہی خطوط پر آلہ سے آواز نکلنے کا مدار ہے ، جس سے ظاہر ہے کہ ان خطوط میں وہ موجود ہے ۔
کلام اس میں تھا کہ عالمِ عبارت جلوہ گا ِ عالم معنیٰ ہے ، سو اس کا حال کسی قدر معلوم ہو گیا ۔ اب یہ معلوم کرنا چاہئے کہ عبارت میں ’’جار ‘‘ کی ضرورت کیو ںہوتی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اسم ، فعل یا شبہ فعل سے مربوط نہ ہو تو جا ر آکر اس کو مربوط اور متعلق کر دیتا ہے ۔ مثلاً صلیٰ زید فی الدار میں اگر ’’فی ‘‘ نہ لا یا جائے اور صلیٰ زید الدار کہیں تو بالکل غیر مربوط ہو تا ہے ، اس لئے ’’فی ‘‘ لا یا گیا تاکہ دار کو کھینچ کر ’’صلیٰ کی طرف لے جائے اور جو اس کو اس فعل سے بالکل اجنبیت ہے اور دور کرکے خاص طورپر اس سے متعلق کردے ۔ اس عبارت کو دکھئے صلیٰ زید یوم الجمعۃ وقت الظہر سنۃ فلان قائماً مع رفقائہ بخضو ع و خشوع فی الدار باوجود یکہ ’’دار ‘‘ ’’صلیٰ‘‘ سے کتنی دور ہے اور ممکن ہے کہ مزید قیود وعبارت بڑھا کر اس سے بھی زیادہ دور کریں ،مگر جا ر اس کو اس قدر نزدیک کر دیتا ہے کہ جتنے موانع او ر حواجب ہیں ان میں سے کوئی اس کے تعلق کو قطع نہیں کر سکتا ۔
اسی طرح مرشد کامل جو جارالی اللہ ہے یعنی خداے تعالیٰ کی طرف مرید کو کشاں کشاں لے جا تاہے اور مرید اُس طرف کھنچ جا تا ہے جس پر لفظ ’’مجرور‘‘ پور ے طور پر صادق آتا ہے اور مرید کو ایسی قربت حاصل ہو تی ہے کہ درمیانی اسباب و وسائط اس کی نظروں سے ساقط ہو جا تے ہیں ،اور با وجود بعد کے تعلق قلبی اس کا ایسا ہو تا ہے کہ معنی نزدیک ہو جا تا ہے ۔ضروری او ر پہلا کام مرشد کا یہ ہوتاہے کہ افعال الٰہیہ و صفات الٰہیہ سے اس کو متعلق اور مربوط کر دے تاکہ جملہ افعال و حرکات و سکنات عالم کو افعال الٰہی سمجھے ۔ارشاد ہے ان اللہ یمسک السموات والارض ان تزولاولئن زالتا ان امسکہما من احد من بعدہ ‘‘ خدا ے تعالیٰ ہی نے زمین او رآسمان کو گرنے سے روک رکھا ہے ،اور اگر وہ گر پڑیں تو خداکے سوا ان کو کون روک سکتا ہے ‘‘ ۔یہ تو سکنات سے متعلق فعل الٰہی ہے ،اور حرکات کا تعلق اس سے ظاہر ہے کہ لا تتحرک ذرۃ الا باذن اللہ مقصود یہ ہے کہ مرید جملہ حرکات و سکنات کو خدا ے تعالیٰ کے افعال یا آثار افعال سمجھے ۔ جب یہ امر مرید کے نصب العین ہو او ر اس کا مشاہدہ ہوے لگے تو دل جمعی ہو جائے گی اور وہ پریشانی جو ہم لوگوں کو ہوتی ہے کہ فلاں شخص ہمارادشمن ہے مباد اکہیں ضرور نہ پہنچا دے ! جس سے بجنے کی تدابیر میں وقت ضائع ہو تا ہے او ر اس میں خداے تعالیٰ سے جو بے تعلقی ہو تی ہے اور اقسام کی مصیبتیں اور پریشان فکریں لاحق ہوتی ہیں وہ سب دور ہو جا ئیں گی اور با طمینان خاطر یا دالٰہی میں مشغول ہو گا ۔ اسی طرح دوستوں کو راضی کرنے اور ان کی آئو بھگت میں باقتصا ئے بشریت جووقت صرف ہوتا ہے او ر تعلق قلبی ان سے منافع حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے حق تعالیٰ سے بے تعلقی ہو جا تی ہے و ہ دفع ہو جا تی ہے ، اس وقت نافع وضار وہ حق تعالیٰ ہی کو سمجھنا ہے اگر خوف ہے تو اسی سے ہے اور امید ہے تو اسی سے ۔ اسی طرح جتنے کام دنیامیں ہو تے ہیں سب کا دارمدار اسی پر اور سب کا خالق اسی کو سمجھتا ہے ، جس سے ’’یک در گیر محکم گیر ‘‘ کا مضمون اس پر صادق آجاتاہے ، اسی کو ’’توحید افعالی ‘‘ کہتے ہیں ۔
غرضکہ پیر مرید کو کھینچ کر توحید کی طرف لے جاتاہے ،مگر اس کو اوائل میں بڑی بڑی سختیاں جھیلتی پڑتی ہیں ، کیونکہ لڑکپن سے مشاہدہ ہو رہا ہے کہ دوست نفع پہونچا تا ہے اور دشمن ضرر ،اور نافع وضار چیزیں ممتاز ہیں جن کا ہر وقت یکساں اثر ہوتا ہے ۔مثلاً زہر کو جو کئی کھائے اس کو ضرر ہو گا خواہ کچھ بھی اعتقا د رکھے ، اسی طرح پانی سے ضرر تشنگی رفع ہو تی ہے ۔طبیعت اس دوامی مشاہدہ کی عادی ہو گئی ہے کہ ہر اثر کو اس چیز کی طرف منسوب کرے جس کا بحسب تجربہ و مشاہدہ اثر ثابت ہوتاہے ۔
اب اس طبعی امر کو چھوڑکر ہر بات اللہ تعالیٰ کو موثر سمجھنا کوئی معمولی بات نہیں،یوں تو ہر عامی شخص بھی یہی کہہ دیتا ہے کہ خداہی سب کچھ کرتا ہے اور یہ خدا کے کام ہیں ،مگر کہنے کہنے میں فرق ہے، ایک کہنا وہ ہے کہ اس کا تعلق صرف زبان سے ہو تاہے جہاں دل لگی میں اور باتیں ہوتی ہیں ان میں ایسی باتیں بھی کہہ دی جا تی ہیں ،اور ایک کہنا یہ ہے کہ اس کے آثار نمایاں ہو تے ہیں اور یہ اس وقت ہو تا ہے کہ ہر فعل میں بے تکلف مشاہد ہ ٔ توحید افعالی رہے یہاں تک کہ اس پر آثار مرتب ہو نے لگیں ، اور یہ کوئی محال بات نہیں ، کیونکہ خداے تعالیٰ کسی کی محنت کورائیگاں نہیں فرماتا اور ارشاد ہے والذین جاھدو فینا لنھدینہم سبلنا یعنی ’’جولوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کر تے ہیں او ر مشقت اٹھاتے ہیں ان کو ہم اپنے راستے دکھا دیتے ہیں ۔ ہر چندآخر میں یہ بات پیدا ہو تی ہے ،مگر وہ طفیل پیر ہی کا ہے جو اس درجہ تک پہونچا دیتا ہے ۔الحاصل پیر ’’جار‘‘ہوا اور مرید ’’مجرور ‘‘ اور ان دونوں کا تعلق فعل الٰہی سے ہے ۔
سلطنتِ اسماء حسنیٰ :
اور کبھی جار مجرورکا تعلق صیغہ ،صفت سے ہوتاہے جیسے سمیع ،بصیر،قادر وغیرہ ۔یہ تعلق اس طرح ہو تا ہے کہ تمام عالم میں اسمائے حسنیٰ کی سلطنت ہے مثلاً ’’رب ‘‘ کی سلطنت اس طرح ہے کہ کوئی شئے ربوبیت الہیہ سے خارج نہیںہو سکتی کما قال تعالیٰ رب العالمین ،اسی طرح ’’رحمن ‘‘ کی عام سلطنت ہے جیسا کہ ارشاد ہے الرحمن علی العرش الستویٰ چونکہ عرش تمام عالم پر محیط ہے رحمن بھی محیط ہے ، جہاں کسی کو نفع یا ضرر پہونچے وہاں نافع یا ضار کی سلطنت ہو گی ، ہدایت اور ضلالت میں ہاوی اور مضل کی سلطنت ہوگی جب تک ہادی کی سلطنت کسی پر رہے ممکن نہیں کہ کوئی اس کوگمراہ کرسکے ۔ علیٰ ہذا القیاس جو نافع کی سلطنت میں ہو ممکن نہیں کہ کوئی اس کو ضرر پہنچاسکے۔جب پیر مرید کو صیغہ ،صفت سے متعلق کرتا ہے تو بحسب تقریر بالا اس کا تعلق صفات الٰہیہ سے ہو تا ہے اور توحید صفاتی اس پر منکشف ہو تی ہے ۔ اس طورپر کہ جس کسی میں کسی اسی صفت کا ظہور ہو جو متعلق بذات اِلٰہی ہے جسیے سمیع ،بصیر ، وغیرہ تو اسی کو صفت الٰہیہ کا مظہر سمجھتا ہے غرض کہ پیر جا ر ہے اور مرید مجرور ۔ یہ دونوں فعل الٰہی یا صیغہ ،صفت سے یعنی اسمائے الٰہیہ سے متعلق ہو تے ہیں جس سے توحید افعالی او رتوحید صفاتی نصب العین رہتی ہے ۔
توحید ذاتی :
اس کے بعد توحید ذاتی ہے مگر عموماً اس سے تعلق ہونامشکل ہے ، کیونکہ ذاتِ الٰہی کوعالَم سے کوئی تعلق نہیں ، چناچہ ارشاد ہے ان اللہ غنی عن العالمین ۔ اور قطع نظراس کے اس کاثبوت یو ں ہو سکتا ہے کہ عالم کا ذرہ ذرہ خداے تعالیٰ کا محتاج ہے ، مگر اس کو دیکھنا چاہئے کہ وہ احتیاج کیسی ہے ؟ پہلے پہل ہر چیز خداے تعالیٰ کی طرف اس وجہ سے محتاج ہے کہ اس کو وجود میں لائے ۔ ادنیٰ تامل سے ظاہر ہو سکتاہے کہ یہ احتیاج نفس ذات کی طرف نہیں بلکہ خالق کی طرف سے جو اسم الٰہی ہے جس میں صفت خالقیت معتبر ہے ۔ علی ہذا القیاس ہر شئے اپنی بقاء میں محتاج ہے سویہ احتیاج بھی نفس ذات کی طرف نہیں بلکہ حافظ کی طرف ہے جو صیغہ ،صفت سے ۔علیٰ ہذا القیاس کل احتیاجیں صفات یا افعال سے متعلق ہیں ۔ اسی وجہ سے جار مجرور کا تعلق فعل سے ہوتا ہے یا شبہ فعل سے ، یعنی فعل الٰہی سے یا صفت الٰہیہ سے ۔
ربّ
یہ لفظ مضاف ہے ۔ اس کا اصل ’’ربب‘‘ تھا دوحرف ایک جنس کے جمع ہوئے ،پہلے کو ساکن کرکے دوسرے میں ادغام کیا گیا ’’رب‘‘ ہوا ۔یعنی پہلا با ،دوسرے میں چھپ گیا ۔ شانِ ربوبیت خالق کا مقتضیٰ یہی تھاکہ خود ظاہر نہ ہو اور مربوب یعنی جس کی پرورش مقصود ہے اس کوظاہر کر دے ۔
دیکھئے جب کسی کو رزق دیا جاتاہے تو اس کے آثار چہرہ سے نمایاں ہو تے ہیں، اور تمام قوتیں اور جسم گواہی دیتاہے کہ روزی مل گئی ،مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے دی ؟ یوں تو خدا اور رسول کے ارشاد سے معلوم ہو گیا کہ رزق دینے والا وہی خداے تعالیٰ ہے مگر وجدانی طورپر یہ بات معلوم نہیں ہوتی ،اسی وجہ سے جب نگاہ پڑتی ہے توا پنے ہی پر پڑتی ہے کہ ہم نے اپنے قوت بازو سے رزق حاصل کیا یا کسی غلہ سے حاصل ہوا یاکسی آدمی نے دے دیا ۔ غرض کہ خداے تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کو اس طرح چھپا یاکہ کسی کو معلوم ہی نہ ہو ،جس طرح لفظ رب میں پہلا ’’ب‘‘ چھپا ہواہے اس کی صورت محسوس ہے نہ علامات یہاں تک کہ اس کا نقطہ بھی نظر نہیںآتا اور نمایاں ہے سووہی ایک دوسرا ’’ب‘‘ ہے ۔مگر لفظ رب اشارتاً کہہ رہا ہے کہ اگر ہائے اول نہ ہوتا تو یہ قوت او ر شدت جو مدغم فیہ میں محسوس ہے وجود ہی میں نہ آتی ہر چند پہلا ’’ب‘‘ بالکل چھپا ہوا ہے مگر جو عقلاء ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ درباطن اسی کی حرکت معنوی کا ظہور ہے،جس طرح تمام عالم کی حرکت او رقوت گواہی دے رہی ہے کہ بغیر رب العالمین کی ربوبیت کے مجال نہیں کہ کوئی حرکت کر سکے ۔
لغت میں رب کے معنی مالک، مدبر ، مربی ، ولی اور نعمت دینے والے کے ہیں۔مثلاً ’’رب المال ‘‘ مالک مال کو کہتے ہیں ،اور فیسقی ربہ خمرا ًمیں رب کے معنی سردار کے ہیں ،اور حدیث شریف میں اللہم رب ھذ ہ الدعوۃ التامۃ میں رب کے معنی زیادہ کرنے والے اور اتمام کرنے والے کے ہیں ،اور ایک قراء ت میں یہ آیت شریفہ پڑھی گئی ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی یعنی قیامت کے روز روح کو حکم ہوگا کہ ’’اپنے صاحب یعنی قالب کی طرف رضامندی کے ساتھ رجوع کر اور میرے بندہ میں داخل ہوکر میری جنت میں چلی جا ‘‘،یہاں رب کے معنی صاحب کے ہیں ۔
قبیلہ ثقیف نے ایک بڑے پتھر کا بت بنا لیا تھا جس کانام ’’لات‘‘ تھا اور اس کو الربۃ بھی کہتے تھے ۔ اسی طرح نجران میں مدحج اور بنی الحارث نے ایک گھر کعبہ کے مقابلے میں بنایا تھا اس کو وہ ’’دارربہ ‘‘ کہتے تھے ،یہاںربہ کے معنی بڑے اور ضخیم کے ہیں ،یہ گھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے توڑا گیا ۔
اور’’ ربوبیت ‘‘ اور ’’ربابت‘‘ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی پرورش ۔اور ربابت کے معنی مملکت کے بھی ہیں نسبت کے وقت ’’ربوبی ‘‘ کہتے ہیں ، چناچہ کہا جا تاہے ’’علم ربوبی ‘‘ ۔اور جب مبالغہ مقصود ہوتاہے تو الف و نون زیادہ کرکے ’’ربانی ‘‘کہتے ہیں ،اور ’’ربانی ‘‘ عابد اور عارف باللہ شخص کو کہتے ہیں ۔
انسان سے متعلق ربوبیت :
یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ خداے تعالیٰ ’’ربّ العالَمین‘‘ہے یعنی تمام عالَموں کا پرورش کرنے والا ہے ۔مگر یہ نہیں معلوم کہ کُل عوالم کتنے ہیں؟اور ان کے پرورش کے طریقے کیسے ہیں ؟باوجود یکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آفتاب وغیرہ نجوم روزانہ اپنے کاموں میں مشغول ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ان کی پرورش خاص طورپر نہ ہو وہ کام نہیں کرسکتے ،مگر یہ نہیں معلوم ہوسکتا کہ ان پرورش خاص طورپر نہ ہو وہ کام نہیں کرسکتے،مگر یہ نہیں معلوم ہوسکتا کہ ان کی پرورش کس طریقے سے ہوتی ہے ؟کیونکہ پرورش کے طریقے مخلف ہیں ۔ چناچہ جب ہم اپنے نزدیک کی چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر نوع کی پرورش کا طریقہ ہی جداپاتے ہیں ؟مثلاً نباتات کی پرورش صرف مٹی اورپانی سے ہے اور حیوانات کی پرورش نباتات اور پانی وغیرہ سے اور انسان کی پرورش کا طریقہ ہی جداہے ۔چونکہ انسان کی پرورش کا ذکر اس مقام میں آگیا اس لئے اجمالی طورپر اس کا کچھ ذکر کیا جا تاہے :
یہ بات معلوم ہے کہ آدمی کی زندگی کا مدار چار خلطوں پر ہے : بلغم ، خون ،صفرا اور سوداء ۔ان سب میں خون نہایت لطیف چیز ہے ۔چناچہ بعض حکیموں کے نزدیک تو خون ہی آدمی کی جان ہے ۔ او راکثر کاقول ہے کہ خون سے روح حیوانی بنتی ہے ۔بہر حال خون مادۂ حیات ہے مگر اس میں کسی قسم کا فساد آجاتاہے تو وہ ہی سم قاتل بن جا تا ہے ۔عورتوں کی طبیعت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ کل خون اس کا جز و بدن نہیں ہوتا بلکہ ہر مہینے کسی قدر معمول میں خارج ہو جاتاہے ،اگر وہ خارج نہ ہوتو اقسام کے امراض پیدا ہو تے ہیں جو باعث ہلاکت ہو تے ہیں ۔ اب دیکھئے کہ یہی خون جس کا دفع ہونا ضروری تھا حمل ہوتے ہی وہ جمع ہو نے لگتاہے اور غالباً بچے کے جسم کا تغذیہ اسی سے ہوتا ہے ،اب اُس میں جان بھر جاتی ہے تو وہی خون ناف ذریعہ سے اس کے جسم میں سرایت کرکے اس کاجزو بدن بنتاہے ،اگر یہی خون ماں کے اعضاء میں سرایت کرنے لگے تو نوبت بہلاکت پہونچ جائے ۔اور بچہ باوجود یکہ نہایت نازک اور ضعیف القویٰ ہے مگر اسی مادہ ٔسمی کو نوش جان کرکے اس زاویہ ،تیرہ و تار میں اپنے پروردگار کا شکر جان ودل سے بجا لاتا ہے ۔اگر اس مقام میں اس کے ربرو بریا نی ومز عفر رکھا جائے تو ہرگز اس کی طرف رخ نہ کرے گا بلکہ وہ اس کے حق میں سم قاتلہے،جس سے معلوم ہواکہ بچے کی غذاء ماں کے حق میں سم قاتل ہے اور ماں کی غذاء بچے کے حق میں سم قاتل ہے ۔ایک مدت معنیہ تک کھانا ،پانی ، دوا ، غذاء ،جو کچھ کہئے وہی ایک شئے ہے جو اس کی ماں کے حق میں زہر ہلال سے کم نہیں ۔چونکہ وہ ایک ایسے مقام میںہے کہ جہاں نہ نباتات کا وجود ہے نہ حیوانات وغیرہ کااور نہ اپنے قوت بازو سے کسب معاش کر سکتا ہے اس لئے ربوبیت الٰہی نے اس کے لئے یہ تدبیر کی کہ بغیر ہاتھ پائوں اور منہ ہلانے کے ناف کے ذریعہ سے خود بخود اس کو غذاء پہنچتی رہے جس کی نہ اس کو خبر ہے نہ اس کے ماں باپ کو ۔جب ہمیں یقینی طورپر معلوم ہوگیا کہ ربوبیت کسی خاص طریقہ کی پابندی نہیں، مقام تنگ و تاریک میں جہاں انسان کی وسترس نہ ہو وہاں روزی فراہم کردے زہر سے غذاء کاکام اور ناف سے منہ کا کام لے تو بڑی ہٹ دھر می کی بات ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت انہیں امور میں منحصر اور محدود کر دی جائے جو عادت میں جا ری ہیں ۔
یہاں ایک لطیف بات قابل توجہ ہے ، وہ یہ کہ احادیث سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اِس عالم میں تشریف فرماہوئے تو آپ کا نال کٹا ہو تھا ،اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی غذا ایام حمل میں وہ نہ تھی جو ہر فرد بشر کی ہوا کرتی ہے یعنی خون حیض ،کیونکہ اس کے پہونچا نے کا ذریعہ ہی مقطع کر دیا گیا تھا،اگر چہ اس مقام میں وہ خون نہ شرعاً نجس ہے نہ عقلاً عالم تخیل میں تو اس سے کراہت ضرور ہوتی ہے ، اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے حبیب علیہ والصلاۃ والسلام کے حق میں یہ بھی گوارا نہیں فرمایا اور وقت با سعادت یہ بات سب پر منکشف کر ادی گئی کہ اُس عالم میںآپ کی غداء بھی کچھ اور تھی پھر اِس عالم میں بھی اصلی غذاء آپ کی کچھ اور ہی تھی جس کا حال خود اپنی زبان فیض ترجمان سے فرما تے ہیں کہ أبیت عند ربی فیطعمنی ویسقینی یعنی : میں رات کو اپنے پروردگار کے یہاں رہتا ہوں وہ مجھے کھلاتااو ر پلاتا ہے ‘‘ ۔ ظاہر بین اس طعام و شراب کی حقیقت کیا جا نیں ! اگر فقط لاعلمی ہو تو مضائقہ نہیں کیو نکہ آدمی بہت ساری چیزوں کو نہیں جانتا جس کا سب کو اعتراض ہے ، مگر قابل افسوس یہ بات ہے کہ بعض لوگ اپنی لا علمی کو اس بات پر دلیل بنا تے ہیں کہ اس کی کچھ اصل ہی نہیں ! ان سے یہ پوچھا جائے کہ ہم ہی تھے کہ ایک سمی مادے کو مدتوں ہضم کر تے رہے اور اب نہیں کرسکتے ، ہم میں کون سی چیز کم ہوگئی جس سے اس کے ہضم کر نے کی قوت باقی نہ رہی ؟ ! ہمارے اصلی اعضاء جو اس وقت ضعیف تھے اب قوی ہوگئے ،تماقوتوں میں کمال پیداہوگیا ،اس سے تو یہ لازم آتاہے کہ قوت ہاضمہ اچھی طرح اس کو ہضم کر سکے ؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس کی کوئی ایسی وجہ نہ بتلا سکیں
گے جو تشفی بخش ہو ۔ پھر جب اس غیر معمولی غذاء کو مان گئے تو دیگر غیرمعمولی غذائوں کو ماننے میں کیا نقصان ہوگا ؟ !
الغرض ایک مدت ربوبیت کا ظہور اس طرح ہوتا رہا جس کا حال ابھی بیان کیا گیا ۔ اس کے بعد جب ہم اس نہاں خانہ ،بطون سے جلوہ گاہ ظہور میں برآمد ہوئے تو شان ربوبیت دوسرا رنگ لائی ، وہی خون جو ہمارے اس مسکن میں ابری کی طرح ہمیں سیراب کرتا تھا اب نیچے سے اوپر کی جانب چڑہا یا گیا اور ان حوضوں میں پہونچا جو مدتوں سے سوکھے پڑے تھے ،وہاں اس نے ایسی صورت بدلی کہ پہلی صورت کا نام و نشاں تک باقی نہ رہا ،اس کاقوام نہایت لطیف اور رنگ نہایت براق ،ذائقہ نہایت شیریں اورنہایت خوشگوار ہوگیا ،اور ان حوضوں میں فوارے لگا دئے گئے ، یہ سامان
ربوبیت ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی کر دیا گیا ۔مگر اب وہ عالم کہاں جس میں بغیر مانگے اور بغیر ہاتھ پائوں ہلائے کے رزق خود ہمارے پاس آتا بلکہ خود بخود ہمارے جسم میں چلاجاتا تھا ؟ !اب تو ہوا ہی پلٹ گئی او ر بغیر کوشش کئے اس کا ہم تک پہونچنا دشوار ہوگیا ، دیکھا کہ وہ نہ ہم تک آتاہے نہ ہم اس تک جا سکتے ہیں ،اپنی بے بسی پر بے اختیار رو دیا ۔ع لمؤ لفہ :
زمانے تک رہا رونا عدم کے چھوٹ جانے پر
فرد ہوتا گیا پھر رنج و غم آہستہ آہستہ
اِدھر شان ربوبیت نے ماں میں شفقت پیداکردی کیسی ہی حالت میں ہورونے کی آواز پر اس کے کان لگے ہوئے ہیں ، جہاں بچہ رویا بے قررا ہو کر خوان نعمت لے کر دوڑی ،اب زحمت ہے تواس قدرہے کہ اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر اپنی غذاء حاصل کرلیں ۔ یہ طریقہ اس زمانہ تک رہا کہ ثقیل غذاء کو بذریعہ آلات یعنی دانت سے پیس کر نہیں کھاسکتے تھے ،اس کے بعد جب دانت دیے گئے تو اب ربوبیت کا طریقہ دوسر امقرر کیا گیا ،اورہر قسم کی ثقیل اور کثیف غدائیں کھانے لگے ۔ یہ تو ایک عام بات تھی ،اگر تفصیلی نظر ڈالی جائے تو ہر عضو کی ربوبیت اور پرورشی کا طریقہ ہی علحدہ ہے ۔
دیکھئے اس ایک غداء سے جو کھائی جا تی ہے مختلف مقاموں میں مختلف چیزیں پیدا ہو تی ہیں ۔سب میں نہایت نرم گوشت ،ہڈی نہایت سخت مثل پتھر کے ،پٹھے ایسے مضبوط کہ جس جن کا ٹوٹنا مشکل ،جس عضو کی طبیعت دیکھئے جدا ، کوئی نہایت گرم ہے تو کوئی نہایت سرد ،کسی کارنگ سرخ ،کسی کا سفید وسیاہ وغیرہ ۔غرض کہ اس چھوٹے سے جسم میں اتنے کارخانے قائم ہوئے جو تمام عالم میں ہیں ، اور ہر ایک کا رزق اسی ایک غذاء سے حاصل ہوتاہے اور سب اپنا اپنا رزق حاصل کرکے رب العالمین کی شکر گزاری میں مشغول رہتے ہیں ۔ جس طرح ہمیں خبر نہیں ہوتی کہ ہر ایک کارزق کس طرح پہونچا ان کا شکر کرنے کاحال بھی نہیں معلوم نہیں ہوسکتا ۔ ان کے رزق پہونچانے میںاگر ہمارے فعل کو دحل ہے تواس قدرہے کہ ہم اس کواپنی قوت سے حلق کے نیچے اتار دیتے ہیں پھر نہیں معلوم کہ اس اندھیری کوٹھری میں کیا کیاہوتاہے ؟! دراصل حلق سے نیچے پہونچانا بھی ہمارے اختیار میں نہیں وہ بھی ربوبیت ہی سے تعلق رکھتا ہے ،دیکھئے اگر ایک پٹھے میں بھی فرق آجائے تو منہ کا کھلنا دشوارہے ۔غرض کہ ربوبیت الٰہی کے کرشمے بے حد بے حساب ہیں ،عالم توایک بڑی چیز ہے صرف ہم اپنے آپ ہی کو دیکھیں توعمر تما م ہوجائے اور اس کا علم ہنوز ناتمام رہے ۔
آدمی کا ذاتی مقتضیٰ ہے کہ جس شحص سے اپنی پرورش متعلق ہو تی ہے اس کا نہایت ممنون احسان ہو کر سرگرمی سے اس کی خدمت و اطاعت میں مشغول ہو تا ہے ،دیکھئے ایک مہینے کے بعد جو شحص ماہوار دیتاہے اس کی خدمت و اطاعت روزانہ ایک مہینے تک کرنی مشکل نہیں ہوتی ،ذاتی کاروبار چھوڑ کر آدمی خوشی سے اس کے کاروبار میں مشغول ہوتاہے اور اس کاخیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم اس پر کوئی احسان کر رہے ہیں بلکہ اسی کا احسان مانتے ہیں جس نے نوکر رکھا ،چناچہ حضرت شیح سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
مِنت مِنہ کہ خدمت سلطان ہمی کنی
منت شناس از د کہ بخدمت بداشتت
پھر اگر غور کیا جائے تو نوکری وغیرہ ملنی بھی ربوبیت ہی کا اثر ہے اس لئے ابھی معلوم ہواکہ ربوبیت ہر وقت با قتضا ئے حال بدلتی گئی ،جب وہ زمانہ آگیا کہ اپنی قوت با زو پر گھمنڈ اور لوگوں کے دینے لینے پر بھروسہ ہے تو اس وقت کا اقتضاء یہی تھاکہ خواہ اطاعت کر و یا نہ کرو اور خالقیت کا اعتراف کرو یا نہ کرو ربوبیت اور پرورشی میں فرق نہیں آسکتا ،کیونکہ جس مدت تک اِس عالم میں رکھنا ہے اُس وقت تک روزی دینے کی ضرورت ہے ،جس طرح ساطین قیدیوں کو بھی روٹی دیتے ہیں ، گو کیسا ہی سخت مجرم اور باغی ہو ۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ سلاطین نے دار الجزاء قید خانہ کو بنا یا ہے اس لئے وہ روزی دینے میں بھی سزا کا لحاظ رکھتے ہیں بعض کم مقدار اور ادنیٰ درجہ کی غذا دیتے ہیں۔
اور حق تعالیٰ نے چونکہ دالمکانات اورجزاء اور سزا دوسرے عالم میں رکھے ہیں اس لئے ان کی روزی پر یہاں کچھ اثر نہیں ڈالا گیا بلکہ مجرموں کوبے جرموں سے زیادہ اور عمدہ غذائیں اور آسائشیں یہا ں دی جا تی ہیں ، کیونکہ اس کو رحمت گوارا نہیں کرسکتی کہ ایک مجرم کی سزا اس عالم میں بھی ہو اور اس عالم میں بھی ،چناچہ حدیث شریف میں وارد ہے الدنیا جنۃ الکافروین اور حق تعالیٰ فرما تا ہے نملی لھم ان کید متین یعنی ہم ان کو مہلت دیتے ہیں ۔ چونکہ لوگوں کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لئے ان کی نظر اس پر پرتی ہی نہیں کہ جب سے ہم ماں کے رحم میں آئے تو تب سے اب تک ہر آن و ہر لحظہ کیسی کیسی پر ورشیاں ہوئیں ہیں ! اسی وجہ سے رزاق حقیقی سے ان کوکوئی تعلق نہیں ہوتا ،اور اسی کو آقا اور رازق سمجھتے ہیں جو کوئی کچھ دے دیتا ہے۔بخلاف ان کے جن کی عقلیں سلیم ہو تی ہیں ان کی نظرہر ایک موقعہ کی ربو بیت پر پڑتی ہے اور سمجھ جا تے ہیں کہ اس موقعہ میں بھی ربوبیت کا ظہور خاص طور پر ہو رہا ہے اس لئے وہ تمام وسائط میں ربوبیت الٰہی کو مدنظر رکھتے ہیں ،ہر وقت شکر الٰہی بجا لاتے ہیں ، اور چونکہ ان وسائط کی شکر گزاری کا بھی حکم ہے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ یعنی لوگوںکی شکر گزاری بھی ضروری ہے اس لئے محض اتثا ل امر کے لحاظ سے اپنے محسن کے بھی شکر گزار رہتے ہیں ۔اور حق تعالیٰ فرماتا ہے وقل رب ارحمہما کما ربیانی صغیراً یعنی :’’اے میرے رب جس طرح میرے ماں باپ نے مجھے پرورش کی تو ان پر رحم کر ‘‘ ۔ دیکھئے اس آیت شریفہ میں تعلیم ہے کہ ماں باپ کی ربوبیت بھی مانی جائے او رخالق کی ربوبیت بھی ، کیونکہ لفظ ’’ربیانی ‘‘ سے ان کی ربوبیت اور ’’ربی‘‘سے خالق کی ربوبیت ثابت ہے،کیونکہ اصل ربوبیت خالق عزول کی ہے اس لئے اس کی شکر گزاری اور عبادت فرض ہے ،حق تعالیٰ فرما تا ہے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاامو فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اولٰئک اصحاب الجنۃ خالدین فیہا جزء اً بما کانو ایعملون یعنی ’’جن لوگوں نے کہاکہ اللہ ہمارارب ہے اور پھر اس پر استقامت کی تونہ ان کو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہو گے ،وہی لوگ جنت والے ہیں ،جوہمیشہ اُس میں رہیں گے ، یہ نتیجہ ان اعمال کا ہے جو وہ کرتے تھے ‘‘۔ اس سے ظاہر ہے کہ صرف خدا کو رب کہہ دینا کافی نہیں بلکہ اس پر استقامت بھی ضروری ہے ،اور جب تک وہ مشاہدہ اور ایسے اعمال صادر نہ ہوں جوشکر گزاری پر دلیل ہیں استقامت صادق نہیں آسکتی ۔ اسی وجہ سے اس آیت شریفہ میں جنت جزائے اعمال قرار دی گئی ہے جو شکر گزار ی پر دال ہے ۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے ان الذین قالو ا ربنا اللہ ثم استقامو تتنزل علیہم الملائکۃ ان لا تخافو ا ولا تحزنو ا وأبشرو ابالجنۃ التی کنتم توعدون O نحن اولیائو کم فی الحیوٰ ۃ الدنیا وفی الآخرۃ ولکم فیہا ما تشتہی انفسکم ولکم فیہا ما تدعون Oتنزلاً من غفو ر رحیم Oیعنی ’’جن لوگوںنے کہاکہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے نازل ہوگے اور یہ کہیں گے کہ اب نہ تم ڈرو او رنہ غمگین ہو اور خوش ہو جائو اس جنت سے جس کا تم وعدہ دیے جا تے تھے ،ہم تمہارے دوست ہیں دنیا اور آخرت میں ،اب اس میں تمہارے لئے وہ چیزیں ہیں جن کی خواہش تمہا رے نفس کریں اور اس میں تمہارے لئے مہمانی ہے بخشنے والے اور رحم کرنے والے کی جانب سے ‘‘۔ ان آیات شریفہ میں ان لوگوں کے مدارج بیان کئے گئے ہیں جو ’’ ربنا اللہ ‘‘ کہہ کر اس پر استقامت کرتے ہیں ۔ دیکھئے کس درجہ کا تقریب حاصل ہے کہ قیامت میں جب غضب الٰہی جوش میں ہوگا اور ہر طرف سے نفسی نفسی کی صدائیں بلند ہو ں گی ،ان حضرات کے پاس فرشتے آئیں گے اور انہیں کہیں گے کہ : تمہیں آج کچھ خوف نہیں اور ہر گز غمگین نہ ہو تمہاری سب خواہش پوری ہوں گی او رخداکے مہمان ہوں گے ۔
یو ں تو اللہ تعالیٰ کو رب کہنے والے سب مسلمان بلکہ کفار بھی ہیں ،مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کسی مسلمان کو قیامت میں کچھ غم او رخوف نہ ہوگا ؟ ہر گز نہیں کیونکہ اس روز خوف وغم ہونا نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ،صرف اہل استقامت کے حق میں لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون وارد ہے کہ ایسے خوف و غم کے روز وہ بے خوف وبے غم رہیں گے ۔ جب خوف و غم نہ ہونا اولیاء اللہ کاخاصہ ٹھیر اور ربنا اللہ کہہ کر استقامت کرنے والوں کو بھی خوف و غم نہ ہوگا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرات اولیاء اللہ ہی ہیں ،ا س صورت میں یہ کہنا پڑے گا کہ ا ن کاربنا اللہ کہنا معمولی طورپر نہیں بلکہ ان کومشاہدہ ٔ ربوبیت ہمیشہ رہتا ہے ۔ پھر ان میں دوفریق ہیں ایک وہ کہ وسائط کی ربوبیت میں خالق کی ربوبیت کا مشاہدہ کر تے ہیں ،اور ایک وہ کہ خالق ہی کی ربوبیت ان کے پیش نظر رہتی ہے اور وسائط ان کے نظروں سے بالکل ساقط ہو جا تے ہیں ۔ اس کی مثال سمجھنی چاہئے کہ کسی میدان میں شمع رکھی ہو اور صبح صادق طلوع کرے تو ابتداء میں توشمع کی روشنی نمایاں رہے گی مگر جو ں جوں صبح کی روشنی بڑھتی جا ئے گی شمع کی روشنی دھیمی ہو تی جائے گی یہاں تک کہ جب آفتاب طلوع ہو جائے اس وقت شمع کی روشنی بالکل محسوس نہ ہوگی ۔ اسی طرح جوں جوں ربوبیت الہیہ کا مشاہدہ بڑھتاجا تا ہے وسائط کی ربوبیت مضمحل ہو تی جا تی ہے ،اور جب مشاہدہ کمال درجہ کو پہونچ جا ئے تو کسی کی ربوبیت کا خیال بھی نہ آئے گا ،اورجس طرح روز میثاق ألست بربکم کے جواب میں خالص ربوبیت الہیہ کا مشاہدہ تھا ، ان حضرات کو ہر وقت وہی مشاہدہ رہتا ہے ۔ پھر ان میں بھی دوقسم کے لوگ ہوںگے بعض سمجھتے ہوں گے کہ ربوبیت کے وسائط مضمحل ہیں مگر فی الواقع موجود ہیں ۔ اور بعضو ں کا یہ خیال ہوگا کہ ربوبیت کے وسائط برائے نام ہیں ،جیسے ہاتھ سے کسی کامار تے ہیں تو مار ہاتھ کی طرف منسوب کی جاتی ہے حالانکہ مارنے والا دراصل نفس ناطقہ ہے ۔
بہر حال ربنا اللہ کہنے والی ایک جماعت مسلمانوں میں ایسی ہونا چاہئے کہ عملاً یہ ثابت کر دکھائے کہ ان کے نزدیک اللہ کے سوا ے کوئی پرورش کر نے والا ہے ہی نہیں ۔ چناچہ بزرگا ن دین کے اقوال و احوال سے ظاہر ہے کہ نہ انہوں نے کسی سے کچھ مانگا نہ اور کوئی تدبیر کی ،بلکہ توکل پر ان کی گزارا ن رہی ۔ یہ ان کا ذاتی خیال نہیں بلکہ تعلیم الٰہی بھی اس قسم کی انھیں ہوئی ،کیونکہ مدار مدارج عالیہ کا ربنا اللہ کہنے پر رکھا گیا ہے ۔ اہل مذاق جانتے ہیں کہ ربنا اللہ سے توحید ربوبیت مقصود ہے ،ورنہ اللہ ربنا ہوتا ،اسی وجہ سے رب الناس ارشادہوا جس سے ظاہر ہے کہ کل آدمیوں کی پرورش اسی سے متعلق ہے ۔
ا ل (الف لام )
الف وہ حرف ہے جس کو عالم حروف یعنی حروف تہجی میں صدارت حاصل ہے،جتنے حروف ہیں سواے ہمزہ کے سب کے نام کی ابتداء میں تلفظ اسی حرف کا ہوتا ہے جس کانا ہے ،جیسے ’’لام ‘‘ کہ اس کے شروع میں (ل)ہے بخلاف ’’الف ‘‘ کے اس کے نام کی ابتداء میں (ا)نہیں بلکہ ہمزہ ہے ۔ جس سے ظاہر ہے کہ جس طرح تمام عالم حروف میں اسم ذات مسمیٰ پر دلیل ہے الف میں وہ بات نہیں ،جیسے اسم الٰہی ذات الٰہی پر دلیل نہیں ہے ۔اگر لفظ ’’اللہ ‘‘ عجم میں نا واقفوں کے روبرو کہا جا ئے تو کسی کا
خیال اس کے مسمیٰ کی طر ف منتقل نہ ہوگا ۔ چونکہ ہمزہ نے الف کے نام سے خاص تعلق پیدا کیا اس وجہ سے اس میں بھی خاصیت پیدا ہوگئی کہ ہمزہ کا نام بھی اپنے مسمی پر دلیل نہیں ۔
ذاتِ الف جب نہاں خانہء بطور سے دارا لسلطنت عالَم حروف یعنی دہن میں جلوہ گر ہوتاہے تو زبان ،لب،حلق جن کو مخارج سے حروف کے ناکالنے میں دخل ہے وہ کل مخارج حروف سے بے تعلق اور علحدہ ہو جا تے ہیں تاکہ کہیں کوئی حرف نکل نہ پڑے ۔غرضکہ جس وقت الف برآمد ہو تا ہے کل اعیان ثابتہ حروف کے زاویہ ،خمول میں رہتے ہیں اور الف ان سب کے مقامات پر مسلط ہو تا ہے اس وقت جدھر دیکھئے الف ہی ہے ۔
اہل اعتبار سمجھ سکتے ہیں کہ الف کو جو اس قدر تسلط حاصل ہے وہ بدولت سکون ہے ۔ اسی وجہ سے جو خاص بندگان الٰہی ہیں وہ اپنے خالق کے روبرو ایسے بے حس و حرکت ہو تے ہیں کہ کسی بات میں دم نہیں مارتے ،نہ ان کو اپنے نفع سے غرض ہو تی ہے نہ نقصان سے کام ،وہ ایسے ہو جا تے ہیں جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ۔ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کن کمالمیت فی ید الغسال ۔جب سکون اس کا اس حد تک پہونچ جا تا ہے تو ان کو عالم میں تصرف دیا جا تا ہے ۔
الف مکتوبی کو باوجود اس کے کہ عالم حروف میں صدارت حاصل ہے ،مگر اس کوکسی کے ساتھ پیو ستگی نہیں ۔ دیکھئے وہ کسی کے ساتھ نہیں ملتا ،یہ بات اور ہے کہ کوئی اوپر سے اگر اس کے ساتھ مل جائے مگر وہ اپنی طرف سے کسی سے نہ ملے گا ۔ یہی حالت اہل تجرد کی ہو تی ہے کہ ان کواپنی ذات سے کسی کے ساتھ دل بستگی نہیں ہوتی،اگر بامر الٰہی کسی کوان کے ساتھ تعلق ہو جا تے تووہ اس کو گوارا کر لیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ للہی تعلق اور محبت اہل اللہ کے ساتھ ان کو ہوتی ہے ۔اہل تجرد کو الف کے ساتھ نہایت خصوصیت ہو تی ہے ،چناچہ کسی بزرگ نے فرمایا ہے :
نیست بر لوحِ دلم الفِ قامت یار
چہ کنم حرفِ دگر یاد ندا د اوستادم
الف مکتوبی کو ایک اور خصوصیت اور فضیلت حاصل ہے کہ جس طرح عالم حروف میںاس کوصدارت حاصل ہے عالم اعداد میں بھی اس کو صدارت حاصل ہے ۔ اس کا مدلول جو ایک ہے ہر چند عالم اعداد کی ابتداء اسی سے ہے مگر سلسلہ ء اعداد میں وہ شریک نہیں ، کیونکہ عدد بنانا اس کا کام ہے ، اور ظاہر ہے کہ جو چیز بنائی جائے بنانے والا اس سے خارج ہوگا ۔
دیکھئے ایک (ا)جب تک اپنی وحدت ذاتی پر ہے اس میں کسی قسم کا تعددنہیں،پھر جب اس ایک کے ساتھ دوسرا ایک ملا دو (۲)ہو ئے ،اس دو کو بنانے والا وہی ایک ہے جو ایک پر زیادہ ہونے سے دوبن گئے ۔ پھر دو پر وہی ایک زیادہ ہوا تین (۳)ہو گئے ، اس تین کوبھی اسی ایک نے بنایا ۔ علیٰ ہذا القیاس ہر عدد کے وجود میںایک کو دخل ہے ،کیونکہ اگر ایک اس سے ہٹ جائے تو وہ فنا ہو جائے گا ۔ یہ امر مسلم ہے اعداد ایک ایسا عالم ہے کہ اس کی انتہاء ہی نہیں کیونکہ عددکا سلسلہ غیر تنہاہی ہے اور ہر ایک عدد اپنے تشخص و ذات میں مستقل اور دوسرے سے ممتاز ہے ،اگر کوئی چار کو پانچ کہے تو دیوانہ سمجھا جا ئے گا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ عالم اعداد میں غیر تنہا ہی اشخاص ہیں اور وہ ’’ایک ‘‘سب کے ساتھ ہے مگر کسی کا عین نہیں بلکہ سب کو وجود دینے والا ہے۔اب دس ’’ایک ‘‘ کے تجرد کو دیکھئے کہ باوجود سب کے ساتھ ہونے کے کوئی عدد یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایک میں ہوں ۔ پھر لطف خاص یہ ہے کہ جد ھر دیکھئے ایک ہی ہے اور اسی کا ظہور ہے ۔
جو عددوں کو جو آپس میں ضرب دیا جا تا ہے جس سے کثرت پیدا ہوتی ہے اس میں بھی یہی راز ہے کہ ’’ایک ‘‘ جتنے منازل و مراتب طے کر تا ہے ان کا مجموعہ حاصل ضرب ہو تا ہے ،مثلاً ۴ کو ۵ ضرب دیں تو ۴ مضروب اور ۵ مضروب فیہ ہوں گے ۔ اگر اصلی شکل ہر لکھیں تو یو ں لکھے جا ئیں گے ۱۱۱۱۱x۱۱۱۱ ۱۱۱۱۱x۱۱۱۱ اور ان کے ضرب دینے کامطلب یہ ہوگا کہ ان چاروں میں سے ایک کو ان پانچوں پر لگا ئیں گے اس طرح پہلا ایک ان پانچوں پر لگا یا جا ئے ئگا تو ۵ حاصل ہوں گے جو اس کے ہر ایک کے ساتھ متعلق ہونے کی گنتی ہے ،اسی طرح جب دوسرا لگا یا جائے گا تو اور ۵ حاصل ہوںگے،یہا ںتک کہ چاروں کو لگانے سے ۵ کے چا ر مجموعہ حاصل ہوں گے جو بیس ہو تے ہیں ۔ہر چند ظاہر اً چاروں میں سے ہر ایک پانچ کے مجموعہ میں چلا اور پانچ منازل طئے کئے مگر جب غور سے دیکھاجائے تو چاروں میں ہر ایک کی حقیقت ایک ہی ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک نے بیس منازل طئے کئے ۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ چار جو ایک عددی ہے بحیثیت مجموعی مضروب نہیں بلکہ مضروب اس میں سے ایک ہی ایک ہے ،کیونکہ ضرب کرنے سے مقصود نہیں کہ چار کو پانچ پر ماریں تو وہ ٹوٹ کر ان کے بیس ٹکڑے ہو ں گے بلکہ مثال مذکور میں ۴x۵ چار کی ہر ایک اکائی کو پانچ کی ہر ایک اکائی کے ساتھ ملا یا جائے یعنی ضرب دیا جائے تو ہر اکائی کے ضرب میں کچھ بھی نہ بڑھا ،کیونکہ ایک کو ایک میں ضرب دینے سے ایک ہی حاصل ہوتا ہے ،مگریہ کہنا صحیح ہوگا کہ پانچ اکائیاں حاصل ہو ئیں ۔ علی ہذا القیاس چار بار ضرب دینے سے بیس اکائیاں حاصل ہو ںگی اور بیس کی ہیٔت مجموعی پیدا ہوگی ۔اب غور کیجئے کہ عالم عددمیں کثرت کو دیکھئے تو کچھ انتہاء ہی نہیں اور وحدت کو دیکھئے تو ہر طرف ایک ہی ایک ہے ، کہیں اس کے ذاتی تشخص ہی فرق نہیں ۔
جولوگ بالغ النظر ہیں ان کی نظر عالم میں بھی اسی ایک پرجا پڑتی ہے جو تمام عالم اور ہر شئے کو بنانا والا ہے ،اسی کی بدولت ان کو تقرب الٰہی حاصل ہو تا ہے ۔ کیوں نہ ہو جب ہمیشہ ا ن کو کثرت عالم میں خیال اسی ذات و حدہ لا شریک لہ کا ہوتو اس سے زیادہ اور کیا تقرب ہو سکتا ہے ۔وہ ہر چیز کو دیکھتے ہیں مگر التقات اور توجہ ان کی صرف اسی ذات پاک کی طرف ہو تی ہے جیسا کہ اس مثال سے واضح ہے :کوئی عمدہ کسی فن کی خوشخط کتاب کسی مجلس میں پیش ہو جہاں عالم ،خوشنویس ،تاجر وغیرہ موجود ہوں اس کوسب دیکھیں گے مگر ہر ایک کی نظر جدا ہوگی ۔ مثلاً عالم ماہر فن کی نظر اس کتاب کے مضمون کی طرف ہوگی ،اور خوشنویس کی نظر خط پر ،اور تاجر کی نظر قیمت پر۔حالانکہ ایک ہی چیز کو متعد لوگ دیکھ رہے ہیں مگر ہر ایک کی نظر جس امر پر ہے دوسرا اس سے غافل ہے ۔اگر ماہر فن سے پوچھا جائے کہ اس کے خط میں کوئی سقم تھا یا اعلیٰ درجے کے باقا عدہ تھا ؟تو کچھ بتا نہ سکے گا ۔اسی طرح خوشنویس سے پوچھا جائے کہ اس کتاب کا کیا مضمون تھا ؟تو کچھ نہ بتا سکے گا ۔اسی طرح اہل اللہ کی نظر ہر چیز میں علی حسب مراتب خداے تعالیٰ کی صنعت اور صفات وغیرہ پر پڑتی ہے جس سے وہ ہمیشہ مشاہدہ صفات الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں ۔
الحاصل اعداد کے سلسلہ میں ہر ایک درجہ عدد کا ممتاز ہے ،مثلاً دو(۲)بہ نسبت نسبت تین (۳)کے ممتازہے کوئی دو کو تین نہیں کہہ سکتا ۔اور لاوزم بھی ہر ایک درجے کے جدا گانہ ہیں مثلاً دو زوج ہے اور تین فرد ہے ۔ اور مربع دو کا چار ہوگا اور تین کا نو ہوگا ۔ اسی طرح جذر وغیرہ میں بحسب تعین خاص امتیاز ہوگا ۔ جس سے ظاہر ہے کہ کوئی عدد دوسرے کاعین نہیں باوجود یکہ ہر مرتبہ میں ظہور اسی ایک کا ہے،گویا جتنے مراتب ہیں اسی ایک کے تعینات خاصہ ہیں ،جیسے وجود مطلق ایک ہے اور وجودات خاصہ جو مطلق کے تعینات ہیں اگر ان کے خاص خاص تعینات سے قطع نظرکر لیا جائے تو وہی وجود مطلق رہ جا ئے گا ۔کیونکہ مقید مطلق کا مظہر ہو تا ہے اور مقید کا ایک عین ثابت ہو تا ہے جس کو وجود نہیں کہہ سکتے ،اسی طرح ہر عدد کا ایک عین ثابت بھی ہوگا جس کو عددنہیں کہہ سکتے ۔
بالغ النظر ۲کو دو اکائیاں سمجھے گا اور ہر ایک معدود کو مستقل ایک کہے گا ،اور یہ خیال نہ کرے گا کہ (۲)مستقل عددہے تو ہر ایک ایک کا آدھا ہے ،بلکہ یہ خیال کر ے گا کہ محسوس ایک ایک ہے اور اس کو دو کہنا اعتبار ی ہے ۔ علی ہذا القیاس کا مراتب اعداد کا یہی حال سمجھا جائے ۔
اب دیکھئے غیر تنہا ئی سلسلہ میں جدھر دیکھئے حقیقتاً ایک ہی ایک ہے اور جتنے اعداد ہیں سب اعتبار ی ہیں ۔الف (ا)کو عالَم حروف میںجو صدارت ہے وہاں وہ کسی سے نہیں ملتا کیونکہ وہ عالم اشکال ہے ،اور عالَم اعداد میں بھی صدارت اسی کو ہے،مگر سب کے ساتھ اسے الفت ہے کیونکہ وہ کل اعداد کا بنا نے والا ہے ،اور ظاہر ہے کہ بنانے والے کو اپنے مصنوعات سے الفت ہوا کر تی ہے ۔
کوئی چیز فی نفسم بری نہیں :
دیکھئے عالم کی چیز خواہ اچھی ہو یا بری اس کے ساتھ جب تک مشیت ،ارادہ اور قدرت متعلق نہ ہو وجود میں نہیں آسکتی ۔ اس درجہ میں کسی چیز کو بری نہیں کہہ سکتے کیونکہ جس طرح صفات موصوفہ اچھی چیز کے ساتھ متعلق ہو تے ہیں بری کے ساتھ بھی متعلق ہو تے ہیں ،احسبن کل شیء خلقہ ثم ہدی ۔ الحاصل نفس تخلیق میں برائی کا کوئی شائبہ نہیں بلکہ حسن و قبح اضافی امور ہیں ،ایک ہی چیز کسی کے حق میں اُس کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے توکسی اور کے حق میں بری ۔
اہل تناسخ جو کہتے ہیں کہ آدمی اچھے کام کرے تو اس کی روح برہمن اور گائے کے جسم میں جئے گی ،اور برے کا م کر ے تو برے جانورں کے جسد میں ،یہاں یہ لیں دیکھنا چاہئے کہ اچھا یا برا کس اعتبار سے کہا جائے ؟ اگر کتیّ کو براکہیں تو وہ ہمارے حق میں برا ہے ’’کتے ‘‘ اس کو برا نہیں سمجھتے ۔ علی ہذا القیاس جس جانور کو دیکھئے وہ اپنی حالت میں مست ہے کبھی اس کو خیال بھی نہ آتا ہوگا کہ میں آدمی یا دوسرا کوئی جانور بن جائوں ۔ دیکھئے جانور آدمی کے نزدیک آنا بھی گوارا نہیں کرتے جب تک ان کو بہلا یا یا پھسلایا او رچمکا ر انہ جائے یا ان کی خوشامد نہ کی جائے اور ان کی تمام حوائج پوری نہ کی جائیں ۔پھر برہمن جو بحسب اصولِ تناسخ ’’ترقی یافتہ جانور ‘‘ ہیں ان کو خبر بھی نہیں کہ قبل ازیں وہ کس قسم کے جانور تھے؟!
جواب اہل تناسخ :
بہت سے براہمن اپنے سے کم درجہ لوگوں کے پاس بطور باورچیوں کے نوکر ہوتے ہیں اورحالت افلاس میں رہتے ہیں ،وہ اپنے دل میں ضرور کہتے ہوںگے کہ ایسی ترقی سے تو جانور ہی رہنا بھلا تھا نہ نوکری کی فکر ہوتی نہ جو روبچوں کو پانے کی مصیبت ۔اس سے ظاہر ہے کہ حکماء نے تناسخ کی بنیاد جس غرض سے ڈالی تھی کہ لوگ برے کاموں سے احتراز کریں اس خیال سے کہ اگر برے کام کریں گے تو برے جنم گے، وہ اس قابل نہیں کہ کوئی عقلمند اس کاقائل ہوسکے ۔
غرض کہ موجود ہونے کے اعتبار سے کوئی چیز بری نہیں ہوسکتی کیونکہ شر محض عدم ہے ،اورنفس وجود خیر محض ہے ۔البتہ صفات و حالات کے اعتبار سے برائی آتی ہے ،مگر وہ بھی عام نہیں ہوتی بلکہ بعض کی نسبت وہ چیز بری ہوتی ہے اور بعض کی نسبت اچھی،مثلاً نجاست انسان کے حق میں بری ہے اور اسی کو خنزیر وغیرہ اسی رغبت سے کھاتے ہیں کہ جیسے انسان حلوائے بے دودھ کو کھا تا ہے ،ایک ہی چیز کسی کے حق میں زہر ہے اور کسی کے حق میں تریاق اس سے معلوم ہو اکہ کوئی موجود چیز شر محض اور ہر طرح سے بری نہیں ہوسکتی ورنہ خالق عزوجل اسے پیدا ہی نہ فرماتا ۔
غرض کہ ایک (۱)جو اعداد نانے والا ہے جس طرح اس کوکل اعداد کے ساتھ الفت و معیت ہے اسی طرح خالق عالم کو اپنی مصنوعات کے ساتھ بحیثیت خالقیت محبت اور تعلق خاص اور معیت ہے ، اسی وجہ سے ربوبیت الٰہی عام ہے خواہ مومن ہو یا کافر سب کورزق دیتا ہے ۔
گزشتہ صفحات کی تقریر میں معلوم ہوا تھا ک الف (۱) بالذّاب تما م عالم حروف پر محیط ہے اور اس عالم کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کو اس اعتبار سے تعلق خاص اس کے ساتھ نہ ہو ،مگر اس کو لام (ل) سے جو خصوصیت ہے وہ کسی کو نہیں ،کیونکہ اس کے دل میں الف ہے جس طرح الف کے دل میں لام ہے ۔ دل خصوصیت کے لحاظ سے جب الف و لام ملتے ہیں تواقسام کے لطائف و ظرائف پید ا ہوتے ہیں ،مثلاً ’’لا‘‘ میں لام با وجود یکہ مقدم ہے مگر کتابت میں الف ہی مقدم ہے اس کی وجہ بجز اس کے اور کیا ہو کہ گویا لام نے کمال محبت سے الف کی عظمت کو پیش نظر رکھ کر اپنی صدارت اس کو
دیدی اور یہ مقتضیٰ دلی محبت کا ہے ،بخلاف اس کے آج کل دیکھا جاتاہے کہ دوستوں میں کیسی ہی خصوصیت باہمی ہو مگر جب بھی کوئی بات خلاف مرضی ہوئی کہ لام کاف بکنے لگے ۔ الف لا م کی اس ترکیب سے گویا ایک مقراض تیار ہوئی جس سے اہل ایمان ما سویٰ کے اللہ کے تعلقا ت کو قطع کر دیتے ہیں اور لا الہ اللہ میں ایسے مستغرق ہو جا تے ہیں کہ ما سویٰ اللہ کی باکل نفی ہو جا تی ہے ۔ ع لمؤلفہ
اگر خواہی پیوند باکبر یا
بمقراض ’’لا‘‘ قطع کن ما سویٰ
الف ،لام کے ساتھ جب ملتا ہے تو ان دونوں کے ملنے سے عجیب عجیب حالات پیدا ہو تے ہیں،کبھی تو اسم جنس پر دخل ہو کر اس کو ایک معین شخص بنا دیتے ہیں،کبھی تو افراد و اشخاص سے کوئی تعلق نہیں صرف جنس یا ماہیت کے معنیٰ میں اس کوخاص کر دیتے ہیں ،اور کبھی تمام افراد کے معنیٰ اس میں پیداکر دیتے ہیں ،جیسا کہ علم معانی میں مصرح ہے ۔ ان کی یہ قوت تصرف زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ جب دو شخصوں میں اتحاد قلبی ہو تو وہ بہت کچھ تصرفات کرسکتے ہیں :
دو دل یک شوند بشکنند کوہ را
پرا گندگی آرد انبوہ را
دیکھئے مسلمانوں کی جب یہ حالت تھی کہ ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ محبت تھی ان کا بڑھتا قدم کبھی پیچھے نہ ہٹا ،اور جب سے یہ صفت جاتی رہی پیچھے ہٹتا قدم آگے نہ بڑھا ۔
غرض کہ الف لام کے اتحاد قلبی سے اگر کوئی سبق حاصل کرے تو فلاح دارین حاصل کرسکتا ہے ۔لام کو الف کے ساتھ جو اتحاد قلبی ہے اس کایہ اثر ہواکہ باوجود یکہ حروف تہجی میں لام الف سے بہت دور واقع ہے لیکن اس کی محبت قلبی نے الف کے ساتھ اس کوملا دیا اور ان دونوں سے وہ کارِنما یاں وقوع میں آئے کہ تمام حروف تہجی اگرملیں تو بھی اس قسم کا ایک کام نہیں کر سکتے ۔
اسی پر قیاں کیجئے کہ جس بندہ کے دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت قلبی ہو اور ہمیشہ اس کا خیال ان سے وابستہ رہے تو اس کے فیوض و برکات اعلیٰ درجے کے ہو ں گے ۔ اسی وجہ سے جب بندہ ترقی کر تا ہے تو حق تعالیٰ اس سے وہ کام لیتا ہے جو خاصہء جناب کبریا ہے یعنی خوراق عادات اس سے صادر ہونے لگتے ہیں ۔
ناس
ناس جمع ہے ، اور اس کاواحد’’ انسان ‘‘ہے، انسان کی اصل ’’انسیان ‘‘ بروزن اِفعِلان تھی ،اور بعض کے نزدیک فِعلِیان ہے ،چونکہ اصل میں ’’ی‘‘ تھی اسی وجہ سے انسان کی تصغیر با لا تفاق ’’اُنسیان ‘‘ ہے ۔عرب اسم کی تصغیر کیا کر تے ہیں جس کے معنی چھوٹے کے ہو تے ہیں مثلاً ’’رجل ‘‘ کی تصغیر ’’رُجَیل ‘‘ ہے جس کے معنی مرد کے ہیں ۔ یہ قاعدہ صرف میں مسلّم ہے کہ تصغیر کے وقت مخدوفہ حروف اصلی لوٹ آتے ہیں چنانچہ ارض کی تصغیر اُریضۃ ہے جس میں تائے مخذوفہ تصغیر کے وقت لا یا گیا ۔ یہاں یہ بات خیال میں آتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی تصغیر یا تحقیر کرے تو اس کی دل شکنی ہو تی ہے، اس لئے کے صلہ میں یہ فیضان ہوتاہے کہ اس کے نقص کو دفع کر کے اس کی تکمیل کی جا تی ہے ، جس طرح تصغیر کے وقت کلمہ کی تکمیل ہو تی ہے ۔
دیکھئے انسان اصل میں ’’انسیان ‘‘ تھا جب کثرت سے لوگ اس کا ذکر کرنے لگے اور شہرۂ آفاق ہوا تو اس میں یہ تعلی پید ا ہو ئی کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ ہر طرف ہمارے چرچے ہوتے رہتے ہیں ،بس یہی اس کے نقص کا باعث ہوا ،یعنی کثرت استعمال کی وجہ سے ایک جزو یعنی (ی)دور کرکے ’’انسان ‘‘ بنا دیا گیا ۔ پھر جب اس کی تصغیر و تحقیر ہوئی اور تکبر ٹوٹا تواس کی تکمیل کردی گئی ،اور جو نقص تکبر کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اس تصغیر کی وجہ سے دور ہو گیا ۔اسی وجہ سے اولیاء اللہ جس قدر اپنی ذاتی ذلت ہو اس سے خوش ہوتے ہیں ۔
چناچہ حضرت ابراہیم ادہم علیہ الرحمہ کے حا ل میں لکھا ہے کہ آپ فرما تے ہیں کہ : ایک بار میرا گزر کسی مجمع پر ہوا ،چند اوباش وہاں دل لگی کر رہے تھے مجھے دیکھتے ہیں ایک شخص ان میں سے میری داڑھی پکڑ کر اِدھر اُدھر گھمانے لگا ،چونکہ مجھ پر اس وقت فاقہ کی حالت تھی جب وہ داڑھی کو جھٹکا دیتا تو میں گر جاتا پھر وہ مجھے اٹھاتا ،ا ور اس پر تمام مجمع کے لوگ قہقہے لگا تے ،آپ فرما تے ہیں : جیسی مجھ پر اس تحقیر وتذلیل سے خوشی ہوئی کبھی نہیں ہوتی تھی ۔ اصل وجہ ا س کی یہی ہے کہ آدمی کے نفس میں ایک قسم کا عُجب تکبّر ہو تا ہے ،اس کو اپنی تحقیر ہرگز گوارانہیں ہوتی ، جب ان حضرات کی تحقیر ہوتی ہے تووہ سمجھتے ہیں کہ اب نفس کا کفر ٹوٹا اور یہی ان کی تکمیل کا باعث ہو تا ہے ۔اورت حدیث شریف میں جو وارد ہے کہ حق تعالیٰ فر ما تا ہے عند منکسر ۃ القولب یہ بھی اس کی طرف اشارہ ہے ،ا س لئے کہ تصغیر و تحقیر میں ضرور انکسار قلب ہوتا ہے
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان کو ’’انسان ‘‘ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس نے روز اَلَسْت جو عہد کیا تھا وہ بھول گیا ۔ اس صورت میں اس کا مادہ ’’نسی ‘‘ ہوگا اور انسیان اصل بروزن افعلان ہوا ۔
اور انسان کے معنی تیزی کے بھی ہیں ،چناچہ’’ انسان السیف ‘‘یعنی تیزی شمشیر اور ’’انسان الھم ‘‘ بمعنی تیزی تیر ہے ۔ چونکہ بعض انسانوں میں بھی تیزی بلا کی ہوتی ہے اس لئے انسان نام رکھا گیا ،اور قرآن شریف میں ہے وکان الانسان اکثر شیء جد لاً یعنی انسا ن سب سے زیادہ جھگڑا لو ہے ۔
اور انسا ن ’’اُنس ‘‘ سے بھی ماخوذ ہو سکتا ہے ،اس صورت میںانسا ن بروزن فعلان ہوگا ، چونکہ انسا ن میں صفت اُنس بھی ہوتی ہے جو اعلیٰ درجے کی صفت ہے اس لئے اس کا یہ لقب ٹھہر ا ۔
غرض کہ انسان مذاق معقولیت پر اگر چہ نوع ہے مگر درحقیقت ان صفات کے لحاظ سے ان میں متعد انواع ہیں : کوئی عہد فراموش ،کوئی تیز طبع جھگڑالو ، کوئی اُنست والا ۔ اس لحاظ سے یہ لفظ کلی متواطی نہ ہوناچاہئے بلکہ مشترک ہونا چاہئے ،کیونکہ ہر ایک کی حقیقت جداہے ۔حق تعالیٰ ہمیں و ہ انسان بنائے جس کو اپنے مالک حقیقی کے ساتھ انس ہو وما تو فیقنا الاباللہ ۔
ملک
مَلِک بادشاہ کو کہتے ہیں جس کا تصرف اورحکم نافذہو ،اور لوگ اپنے امن وآشائش میں اس کے محتاج ہوں ۔ ہر چند ’’مَلِک ‘‘ اور ’’مالِک ‘‘دونوں کا اشتقاق میم ،لام،کاف سے ہے ۔ مگر مَلِک مُلْک والے یعنی بادشاہ کو کہیں گے اور مالک مِلک والے کو ،مَلِک میں جو خصوصیات ہیں وہ مالِک میں نہیں ، کیونکہ مَلِک کی اضافت صرف عقلاء کی طرف ہو تی ہے اور مالک کی اضافت غیر ذوی العقول کی طرف بھی ،
چناچہ مالک الدواب یعنی جانوروں کامالک کہتے ہیں او رملک الدواب نہیں کہتے ،بلکہ مَلِک الناسِ کہیں گے ۔
نفس ناطقہ کی سلطنت :
حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس صفت کا اظہار فرمائے اس لئے تمد ن کی بنیاد ڈالی گئی ، جس سے ہر ملک کے لئے ایک بادشاہ کی ضرورت ہوئی ۔چونکہ ہر فرد بشر میں بھی ایک مستقل سلطنت قائم ہے ا س لئے اس سلطنت کا بھی ایک بادشاہ مقرر فرما یا جس کانام ’’نفس ناطقہ ‘‘ ہے ،اور اس کے لئے دو زیر مقررکئے ایک وزیر خارجیہ دوسرا وزیر دخلیہ ،وزیر خارجیہ عقل ہے جس کا مقام ِاجلاس دماغ ہے ۔
حس مشترک جس کو یونانی میں ’’نبطا سیا ‘‘ یعنی لوح نفس کہتے ہیں ،گویا یہ بارگاہ سلطانی ہے یہاں دول خارجیہ کے اخبار و کیفیات پیش ہوا کرتی ہیں ، دول خارجیہ سے مراد دوسرے اشخاص و اشیاء ہیں ۔ کیونکہ ہر فرد انسان وغیرہ میںایک خاص سلطنت ہے جس کا حال بیان کیا جا تا ہے ۔
’’باصرہ ‘‘کاکام ہے کہ دول خارجیہ کے نقشے اور فوٹو پیش کردیا کرے تاکہ سلطنت کو صدمہ پہو نچانے والی چیزوں سے حفاظت اور مفید چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر کی جائے ۔ دیکھئے جب بصارت عرض کرتی ہے کہ کوئی درندہ یا گزندہ وغیرہ حملہ کرنے کو ہے تو اس سے حفاظت کا سامان کیا جا تا ہے ۔ اور مفید سلطنت کوئی چیز ہو مثلاً عمدہ غذاء وغیرہ کے متعلق عرض کر دے تو اس کو سلطنت میں پہونچا نے کی تدبیر کی جاتی ہے ،یہ گویا عرض بیگی یا ایڈی کانگ ہے ۔
ڈاکخانے کی خدمت ’’سامعہ ‘‘ سے متعلق ہے جو دور دور کے خبریں پیش کرتا رہتاہے ،مثلاً فلاںمقام میں طوفان وغیرہ امراض ہیں جو مضر سلطنت ہیں ، اور فلاں مقام میں مفید سلطنت چیزیں ملتی ہیں ۔
حس مشترک میں باصرہ جتنے فوٹو پیش کر تا ہے ان سب کا محافظِ دفتر خیال ہے جس کو ’’مصورہ ‘‘ کہتے ہیں ،یہ اس غرض سے محفوظ رکھے جا تے ہیں کہ وقتا ً فوقتا ً ان سے ضرورتیں متعلق ہو تی رہتی ہیں ، اگر یہ دفتر درہم و برہم ہو جائے تو ریاست میں اندھیرا ہوجائے ۔
سرحدی واقعہ نگار ’’لامسہ ‘‘ ہے ، اس لئے کہ آدمی کا پوست سرحدِ کالبد انسانی ہے اور اس میں قوتِ لامسہ ،رکھی گئی ہے ۔ جب اس سرحد میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا مثلاً کانٹا چبھ گیا یا کسی گزندے نے کانٹا فوراً بذریعہء تار برقی بارگاہِ حسِ میں اس نے خبر کر دی ۔
پولٹیکل امور ’’واھمہ ‘‘سے متعلق ہیں اس کا کام یہ ہے کہ باصرہ جن صورتوں کو پیش کرتا ہے ان میں وہ غور وفکر کرکے معانی پیدا کر تا ہے ،مثلاً یہ کہ شیر اور گھوڑے میں معنوی فرق کس قسم کا ہے ؟چنانچہ شیر سے عداوت اور ضرر رسانی کے معنی نکالنا ہے اور گھوڑے سے نفع رسانی کے ۔ اس کی کار گز اری کی مسلیں جو تیار ہو تی ہیں اس کی مخالفت ’’حافظہ ‘‘ کر تا ہے جس کا نام ’’متذکرہ ‘‘ بھی ہے جب کبھی باصرہ مکرر کوئی صورت پیش کرتا ہے جس کی ضرر رسانی اور عداوت مثلاً وہم نے تشخیص کی تھی ’’ متخلیہ ‘‘ اس کا پہلا فوٹو جو خیال میں رکھا تھا نکالتا ہے ، اس وقت حافظہ نے اس صورت سے اگر عداوت کے معنی استخراج کئے تھے وہ پیش کر دیتا ہے جس سے عقل حکم کرتی ہے کہ اس شخص سے حفاظت کی جائے ،اور اگر دوستی کا مضمون حافظہ نے پیش کیا تو مجلسِ وزارات سے اس کے ساتھ ملنے اور محبت رکھنے کا حکم نافذ ہو تا ہے ۔
انتظام کلی ’’متخلیہ ‘‘سے متعلق ہے جس کو ’’متفکر ‘‘ بھی کہتے ہیں ،وہ اور متعلقہ ک وترتیب دے کر نتیجہ نکالتا ہے ،مثلاً جب کسی زہر یلے جانور کی صورت باصرہ پیش کرے اور واہمہ اس کاموذی ہونا ثابت کردے تو متخلیہ یہ راے پیش کر تا ہے کہ یہ موذی ہے اور جو موذی ہواس کو مارنا چا ہئے ۔چونکہ مقاصد مختلف ہوتے ہیں اس لئے کبھی متخلیہ کو خزانہ ء خیال کی صورتوں میں گھٹا نے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے ،مثلاً سانپ کی صورت کی تفصیل کرے فقط اس کا دانت لے لیتا ہے اور یہ حکم لگا دیتا ہے کہ وہی مہلک ہے اور مہلک دورکر دیا جاتا ئے تو پھر اس سے ضرر رسانی کا اندیشہ نہیں ، اور زیادتی کی مثال یہ ہے جیسے کہ حضرت شیخ سعدیؒ فرما تے ہیں :
گربہء مسکین ا گر پر داشتے
تخم کنجشک ا ز جہاں برداشتے
یہاں بلی کی صورت میں پر لگا دئے اور پر درا بلی بنائی گئی ۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ باصرہ کسی کا فوٹو پیش کرتا ہے اور وہم اس کی حرکات و سکنات سے محبت کے معنیٰ استخراج کر تا ہے اس وقت متخلیہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کبھی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں ؟چناچہ خیال میں جو صورتیں جمع ہیں ان میں تلاش کر تا ہے کہ اس وقت اس کے افعال کس قسم کے تھے ؟کیونکہ افعال کا خزانہ بھی حافظہ ہی ہے اگر حافظہ نے ان کوتلف نہ کردیا ہوتووہ پیش نظر ہو جاتے ہیں ،اور اگر اسی صورت سے وہم نے محبت کے معنیٰ نکالے تھے توفی الجملہ متخلیہ کو اطمینان ہو تا ہے ورنہ اس سے احتیاط کر نے کی ضرورت بتلاتا ہے ، چناچہ کسی کاشعر ہے :
بر تواضع ہائے دشمن تکیہ کردن ابلہیست
پائے بوسِ سیل از پا افگند دیوار را
باصرہ وغیرہ کی خبر رسانی کے بعد متخلیہ کی تحقیق میں جب یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی موذی سلطنت کو ضرر پہنا نے پر آمادہ ہے تو اس وقت محکمہء دفاع و حرب پر جس کا افسر قوت غضبیہ ہے حکم جا ری کر تا ہے کہ انتظام کیا جائے ،وہ شجاعت کو جو خاص دشمن کی سرکوبی کے لئے مقرر ہے حکم دیتا ہے ،وہ پہلے تخویف کی غرض سے آنکھوں او رچہرہ کوہیبت ناک اور آواز کودہشت انگیز بناکر اس کے مقابلے میں پیش کر تا ہے ، اور ارادے اور قدرت کو حکم دیتا ہے کہ فوراً قواے محرکہ کو حکم دیں کہ اوتار و عضلات وغیرہ کو اعضاء پر مسلط کرے دشمن پر ان کا حملہ کر ادیں ،چناچہ وہ مقابلہ کرکے دشمن پر فتح پا تے ہیں ۔اور کبھی جبن جس سے صیغہ ،مصالح اندیشی اور بقائے امن متعلق ہے یہ راے پیش کر تا ہے کہ اس وقت بھاگ جانا مناسب ہے ،اور بمجرد منظوری جس طریقے سے غصہ فوج کو دشمن کے مقابلے میں لایا تھا اسی طریقے سے بھاگنے کا کام اس سے لیتا ہے ۔
یہ چند امور جو بیان کئے گئے وہ وزارت خارجیہ سے متعلق تھے ۔ ان کے سوا اور بہت سے کام اس صیغے سے متعلق ہیں ۔
اب وزارت داخلیہ کابھی تھوڑا سا حال سماعت فر مالیجئے :نفس ناطقہ کا دوسرا وزیر’’ قوت شہو یہ ‘‘ہے جس سے اس سلطنت کے اندرونی کا م متعلق ہیں اس سلطنت میں بہت سے اضلاع و تعلقات ہیں مثلاً معدہ ، جگر ،دل ، دماغ ، گوشت ،پوست ، عضلات ، گردے ،ہڈی ، اور جھلیاں وغیرہ ۔ہر ایک کی طبعیت خاص قسم کی ہے ، اور وہا ںکا وہی مقامی افسر او ر تعلقدار ہے ،کسی ضلع میں کوئی مخالفت پیدا ہو جائے تو وہ وہاں سے اس کو دفع کر دیتا ہے ،مثلاً معدے میں کوئی ایسی چیز آجائے جو مضر ہو تو مقامی افسر یعنی طبعیت فوراً قے یا اسہال کے ذریعہ سے اس کو نکال دیتی ہے ۔صیغہ کو تو الی بھی اسی سے متعلق ہے ۔ اور جس چیز کی ضرورت ہو تی ہے وہ شہوت یعنی خواہش کے روبرو پیش کر تی ہے اور وہ اس کا انتظام کر دیتی ہے ،مثلاً پانی کی ضرورت ہو تو اس کی خواہش یعنی پیاس نفس ناطقہ کے حکم سے پانی وہاں پہونچا دیتی ہے ۔علی ہذا القیاس غذا اور مقویات اور ادویہ وغیرہ حسب ضرورت ہر مقام میں پہونچاتی رہتی ہیں ۔ ۔
اس سلطنت میں بہت سے محکمے قائم ہیں جن میں سے چند یہاں لکھے جا تے ہیں :
محکمہ تفتیش : اس کا کام یہ ہے کہ کسی مفسد کو اندر قدم نہ رکھنے دے ۔ اس کے افسر ذائقہ اور شامہ ہیں ، یہ جانچ پڑتال کرکے اُن ہی کو اجازت دیتے ہیں جو سلطنت کے حق میں مفید ہو ں ۔صیغہء طبابت بھی ان ہی سے متعلق ہے کہ مفید اشیاء کو اندر روانہ کریں۔ لیکن قوت عاقلہ کا حکم ہوتو اپنے خلاف مرضی اشیاء کو اندر روانہ کر یں ۔لیکن قوت عاقلہ کا حکم ہوتو اپنے خلاف مرضی اشیاء مثلاً دوائے تلخ اورکریہہ کو بھی جانے دیتے ہیں ۔
محکمہ افزائش وتوقیر : نامیہ سے متعلق ہے ، جو ضرورت سے زیادہ غذاء فرہم کر تا ہے۔
محکمہء فراہمی اشیاء ما یحتاج : جاذبہ سے متعلق ہے ، جس طرح ایام قحط میں ایک مستقل عہد ہ دار رعایا کی غذاء فراہم کرنے کے لئے مقرر کیا جا تا ہے اس سلطنت میں جا ذبہ مقرر ہے ،چونکہ برس کے بارہ مہینے اس سلطنت میں قحط رہتا ہے اس لئے ہر ضلع میں یہاں خاص طورپر کا جاذبہ مقرر ہے جو ادھر ادھر سے غذا فراہم کر تا رہتا ہے۔چونکہ غذاء کی آمد و شد نلکیوں کے ذریعہ سے ہے اس لحاظ سے سررشتہ ء ریلوے سے بھی اس کا تعلق ہے ،جس طرح کہ سررشتہ ء آب رسانی سے بھی ہے اوران کا افسر جاذبہ ہو گا ۔جب جاذبہ ہر ایک کی روزی فراہم کر دیتا ہے تو قوت غاذیہ جو قسمت ارازق پر مامور ہے ہرایک کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے لحاظ سے روزی تقسیم کر تی ہے ۔محکمہء آب رسانی بھی اسی سے متعلق ہے کیونکہ جب تک غذاسیال نہ ہو ہر عضو میں جانہیں سکتی اس لئے پانی کی ضرورت ہے ۔قوت ماسکہ خزانہ دار ہے جو ہر ضلع و مقام میں آمدنی کی حفاظت کر تی ہے ۔
تعمیراتِ عامہ : ہاضمہ سے متعلق ہے اس لئے کہ جو مقامات بوسیدہ اور تحلیل ہو جا تے ہیں ہاضمہ وقتاً فوقتا ً بدل ما یتحلل پہونچا کر تعمیر و ترمیم کر دیتا ہے اسی وجہ سے ہر عضو کا ہاضمہ جداہے ۔ صیغہء کمیسٹری بھی اسی سے متعلق ہے چونکہ غذامیں دوقسم کے اجزاء ہو تے ہیں بعضوں میں جزو بدن ہونے کی صلاحیت ہے اور بعضوں میں نہیں ،ہاضمہ غذاء کی تحلیل کر تا ہے ۔ابتداء اً یہ کمیسٹری معدہ میں ہوتی ہے ،کیلوں کے لطیف اور عمدہ اجزاء علیحدہ کر کے جگر کی طرف بھیجتا ہے اور کثیف اجزاء بذریعہء قوتِ دافعہ آنتو ں کی راہ سے نکال دیے جا تے ہیں ۔ پھر جگر میں عمل تحلیل ہو تا ہے لطیف اجزاء بلغم ،خون ، صفرا ء اور سود ء بنتے ہیں اور پھر خون کو گردوں میں صاف کر کے زہر یلا فضلہ مثانہ کی راہ سے نکال دیا جا تا ہے ،پھر ان میں سے جو خون دل میں جا تا ہے وہاں لطیف اجزاء روح حیوانی بنتے ہیں اور فضلات ناک ،کان ، آنکھوں اور مسامات کی راہ سے نکال دیے جاتے ہیں ۔
اور جو خون اعضاء میں جا تا ہے وہاں قابل اجزاء اعضاء کے بننے میں صرف کئے جا تے ہیں اور باقی سے منی ،ناخن اور بال وغیرہ بنتے ہیں ۔
محکمہء صفائی : قوت دافعہ سے متعلق ہے جو ہر مقام کی نالیوں اور موریوں وغیرہ کے میل کچیل اور فضلات دفع کر کے پاک وصاف کر دیتی ہے ۔
محکمہء افزائش نسل : کے افسر مولدہ اور مصورہ ہیں ۔
ان کے سوااور بہت سے محکمے اس سلطنت میں قائم ہیں ‘جو بیان کئے گئے ان کو ’’مشتے نمونہ از خزوارے ‘‘ سمجھنا چاہئے۔
اگر تفصیلی نظر ڈالی جائے تو ایک وسیع سلطنت پیش نظر ہو جا ئے گی ۔ دیکھئے فلسفہ جدیدہ با وجود اس کے کہ انسان کے حصے علحدہ علحدہ کر کے ہر حصہ کے معلومات میں روز افزوں ترقیاں کر رہا ہے مگر خود اس کے اعتراف سے ثابت ہے کہ ہنوز روز اول ہے ۔
غرضکہ اس وسیع سلطنت کا بادشاہ نفس ناطقہ ہے ،اور کیسی کیسی متصاد اقوام اس میں سکونت پذیر ہیں ۔ مثلاً آب،آتش ،باد، خاک ، شجاعت ،حلم ،تکبر ، تواضع ،حسد ،خیرخواہی ، محبت ،عداوت ، رقیق ، غلیظ ، سخت ، نرم ،سرد ، جاذبہ ، دافعہ وغیرہ ۔مگر کوئی کسی پر تعدی نہیں کر سکتا ۔ سب اس بادشاہ کے مطیع او رفرماں بردار اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں ۔
چونکہ انسان تمام مخلوقات اشرف واقع ہوا ہے اسی لئے ایسے اسباب حق تعالیٰ نے قائم کئے کہ خواہ اس کو تمدن قائم کرنے کی ضرورت ہوئی ، اور ہرملک والے اس بات پر مجبور ہوئے کہ اپنے ہی ہم جنس بادشاہ کی اطاعت کریں، اورا س کو ایسے ذرائع دے گئے کہ سب رعایا و بر ایا اس کے محتاج ہو ں۔چونکہ آدمی کی نظرصورت پر پڑتی ہے اور بذریعہ واھمہ اس کے اوصاف معلوم کر تا ہے اس لئے جو شخص بادشاہ کو دیکھتا ہے وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کا بادشاہ ہے اور کسی کامحتاج نہیں ، اور جولوگ کامل العقل ہیںوہ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ حقیقی کوئی اور ہی ہے ،کیونکہ یہ بادشاہ ظاہر ی بات بات میں اپنے خالق کا محتاج ہے ۔ جس طرح انہوں نے اپنے مملکت ذاتی میںاپنے نفس ناطقہ کو بن دیکھے بادشاہ مان لیا ، اسی طرح خالق عزوجل کوبھی ملک الناس مان لیا ۔اور جس طرح اپنے اعضاء وقویٰ کی حرکات کے نسبت یقین کرلیا کہ بغیر ارادہ نفس ناطقہ کے کوئی ان سے حرکت صادر نہیں ہو سکتی اسی طرح عقل سے یقین کر لیا کہ عالم میں کوئی حرکت بغیر ارادۂ بادشاہ حقیقی کے صادر نہیں ہوسکتی لا تتحرک ذرۃ الا باذن اللہ ۔ یہ ہیں معنی ملک الناس کے ۔
نفس ناطقہ کی سلطنت اور بادشاہوں کی سلطنت میں ہے یہ فرق ضرور ہے کہ ان کے حکم کے نافذ ہونے میں بڑی بڑی دقتیں پیش آتی ہیں ،یہاں تک کہ رعب میں قائم رکھنے کے لئے عدول حکمی کرنے والوں کو پھا نسی تک دینے کی ضرورت ہو تی ہے،اس پر بھی کوئی حکم ان کا اس سرعت سے نافذ نہیں ہوسکتا جیسے نفس ناطقہ کا حکم نافذ ہو تاہے ۔دیکھئے کہ جب کوئی موذی ی اور مفسد سلطنت کی اطلاع باصرہ دیتاہے تو پہلے متعلقہ دفتروں میںتلاش ہو تی ہے کہ اس قسم کے مفسدہ پر واز کی عرض و معروض کبھی ہوئی تھی یا نہیں ،اگر نہیں ہوئی تھی تو واھمہ فوراً جانچ عرض کر دیتاہے کہ مفسد ہے یا نہیں؟ اور مسلیں برآمد ہوں تو متخلیہ فوراً قطعی رائے پیش کر دیتا ہے کہ وہ مثلاً قابل قتل ہے ،اور یہ مسل بھی ان مسلوں کے ساتھ دفتر میں رکھی جا تی ہے ،پھر فوجی افسروں کوحکم نافذ ہوتا ہے چناچہ وہ قتل کیاجا تا ہے ۔
دیکھئے اتنے کام اس سرعت سے ہو تے ہیں کہ ادھر بچھو مثلاً دکھائی پڑا اور ادھر اس پر جوتا پڑا !ابتدائی کا روائی سے نفاذ حکم بلکہ تعمیل حکم یعنی قتل تک ایک سکنڈ کا بھی عرصہ بھی نہیں گزرتا ۔ اسی طرح کسی تعجب خیز بات پر نفس مطلع ہو تا ہے تو اندرونی ایک ایسی کیفیت پیداہوتی ہے جس کا بیان نہیں ہوسکتا اور اس کے ساتھ ہی عضلات وغیرہ اپنے اپنے کامو ںپر مستعد ہوجا تے ہیں ، ادھر تنفس میں ایک غیر معمولی جوش پیدا ہو تا ہے یہاں تک کہ آواز بلند ہوتی ہے اور جلد جلد حرکت کر نے لگتی ہے ،اِدھر اوتار وغیرہ مقامی عملہ ہو نٹوں پر مسلط ہو کر ان کو دانتوں پر سے ہٹا دیتاہے ،چہرہ پر ایسی چیزیں فراہم کر دی جا تی ہیں جو آثار بشاشت ہیں جن سے دیکھنے والوں پر بھی خوشی کے آثار نمایاں ہو تے ہیں اور باہمی انست پیدا ہوتی ہے ۔اور اگر باطن میں غم وغصہ آجائے کاگزاران مقامی آثار بشاشت سے چہرہ کو فوراً پاک وصاف کر کے آنکھوں میں ایک قسم کا انقلاب پیداکر دیتے ہیں یہاں تک کہ کبھی آنسوجاری ہو جاتے ہیں جو کمال غم کی علامت ہے اس قسم کے اور بہت سے حرکات اعضا سے صادر کرا تے ہیں ،بلکہ بساوقت ایسی حرکات صادر کر دیتے ہیں جن سے حیثیت عرفیہ کا ازالہ ہو جا تا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ انقلاب بے سبب نہیںہوتا ،مثلاً نفس میں تعجب کے وقت کوئی کیفیت ضرور پیدا ہوتی ہے ۔مگر یہ نہیں معلوم کہ تعجب ہے کیا چیز ،ہم دیکھتے ہیں کہ کمال درجے کی خوشی سے بھی آدمی ہنستا ہے یہاں تک کہ بعضے شادی مرگ کا شکا ر ہوجا تے ہیں کہ ہنستے ہنستے مرجا تے ہیں جیساکہ مشہور ہے ۔اور گد گد یاں کرنے سے بھی آدمی ہنستا ہے ،اور کبھی کسی کی دل شکنی او ررنج اور مصیبت پر بھی ہنستا ہے ، جیساکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ایک بارنماز جماعت سے ہو رہی تھی جس کے امام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے ایک نابینا کمال شوق سے جماعت میں شریک ہونے کو آرہے تھے اتفاقاً گڑھے میں گرپڑے اس پر بعض بے اختیار ہنس پڑے جس کی سزار میں آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :تم لوگوں کی نماز بھی ٹوٹی اور وضو بھی ٹوٹا۔ دیکھئے یہ نابینا بزرگ کس شوق و ذوق سے جماعت میں شریک ہونے کو آرہے ہوں گے اور جوں صف کے قریب ہوتے ہوںگے کس قدر ان کوخوشی ہو تی ہوگی اور شکر کرتے ہوںگے کہ الحمداللہ محنت چیز ہوگئی اب کوئی دم میں اس جماعت سراپا رحمت میں شریک ہوجا تے ہیں جس کے امام خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،تقریب الٰہی کے دوازے کھلے ہوئے ہیں ،رحمت اور صلاۃ وسلام حق تعالیٰ کی طرف سے اس جماعت پر یہم نازل ہو رہے ہیں ،فرشتے ہر طرف صف باندھے ہوئے دعاگو ئی میں مشغول ہیں حق تعالیٰ خاص طورپر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس جماعت کی طرف متوجہ ہے اور ہر شخص کو معراج حاصل ہے جس سے اظہار راز و نیاز کا پورا موقعہ مل رہا ہے ایسے وقت جب وہ بزرگ نا بینا گرکر اس دولت سے محروم ہو گئے ہوں گے تو ان کے حسرت بھرے دل کا کیا حال ہوا ہوگا !اگر آٹھ آٹھ پہرآنسو اس پر بہا ئیں تو سزاوراہے ۔ یہ تو ان کی حالت تھی ،ادھر اتقیاء کی جماعت جن کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی ان پر اس گر نے اور محرومی کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ بے اختیار ہنس پڑے !اصحابہ کا اس وقت ہنسنامعلوم نہیں کس مصلحت سے تھا ، اور خداجانے اس وقت کس قسم کے معارف ان کے دلوں پر متجلی تھے جن سے فرحت وبشا شت ہوئی اور بے اختیا ر ہنس پڑے ۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ ہنسی ہنسی میں رو دیتے ہیں اور روتے روتے ہنس دیتے ہیں ۔اسرار خالقیت کا انکشاف ہر کس وناکس پر نہیں ہو سکتا ۔ ع :
بگوشِ گل چہ سخن گفتہ ای کہ خندان است
بہ عندلیب چہ فرمودہ ای کہ گریان است
ہر چند اُن حضرات کی ہنسی کو ہم اپنی ہنسی پر قیاس نہیں کرسکتے ،کیونکہ
کار پاکاں را قیاس از خود دیگر
مگر چونکہ حکمِ شریعت عام ہوتا ہے اس میں خصوصیت باطنی کا لحاظ نہیں ہوتا ا س لئے اس سزا میں وہ حضرات بھی شامل کر دئے گئے ۔دیکھئے صاف ارشاد ہے من تشبہ بقوم فہو منہم یعنی جوشخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ ان میں سے ہے ،یعنی اس کے باطن کا لحاظ نہیں ۔الحاصل ضحک اور غضب وغیرہ سے یہ ثابت ہے کہ نفس ناطقہ ج وحکم کرتا ہے اس کی تعمیل ایسی فوراً ہو تی ہے کہ حکم او رتعمیل میں گویا زمانہ فاصل ہی نہیں ۔
اب دیکھنا چاہئے کہ نفس ناطقہ کی حکومت اس کی سلطنت میں اس درجہ کیوںنافذ ہے کہ اس سے سرتابی کوئی نہیں کرسکتا ،اور سلا طین کی حکومت میں یہ بات نہیں ؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ نفس ناطقہ کو خاص قسم کا تعلق اس کی سلطنت سے دیا گیا ہے چنانچہ اس کی مفارقت سے تمام سلطنت درہم وبرہم ہو جا تی ہے ،یعنی جسم فنا ہو جا تاہے،اور یہ تعلق سلاطین کوملک کے ساتھ نہیں ۔
اب غور کیجئے کہ اس عطائی اور عارضی تعلق سے نفس کو یہ بات حاصل ہے کہ اس کا کوئی حکم اس کے ملک میں رد نہیں ہوسکتا ،تو خالق عالم جس کے ساتھ تمام عالم کو ایسا ذاتی تعلق ہے کہ ہر آن وہ اس کا محتاج بنا ہوا ہے ……۔صحابہ کے مذکورہ واقعات کو دکھئے کہ ان پر جب نفس ناطقہ کے پیادے مسلط ہوئے اور وہ انقلاب پیدا کر دیا جو ابھی مذکورہوا توان پر کس قدر شاق گزار ہوگا !اور اس کے رفع کرنے میں کیا کچھ کوششیں نہ کی ہوں گی !مگر کچھ نہ چلی انجام کا رنفس ناطقہ ہی کا حکم چل گیا اور قہقہہ کی آواز کو باہرنکال کو چھوڑ ا یہاں تک کہ ہنسی کا پورا نقشہ قائم کر دیا ۔ معلوم نہیں اس وقت ہنسا نے والی قوت کیوں مسلط ہوگئی تھی ؟!اگر کسی کا نقصان اور دک شکنی ہنسی کے اسباب میںہے تو چاہئے کہ اپنا پیارا لڑکا اور واجب التعظیم بزرگ گریں تو بھی ہنسی آنی چاہئے!حالانکہ نہیں آتی ۔ احمقی کے حرکات دیکھنے سے بھی ہنسی آتی ہے ،مگر اپنے کسی معزز دوست سے دیکھے جائیں تو بجا ئے ہنسی کے رنج ہوتا ہے اور شرم آتی ہے ۔
غرضکہ تعجب جو باعثِ ضحک ہے اس کو معین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے خصو صاً اس وجہ سے کہ جس بات پر ایک شخص ہنستا ہے دوسرانہیں ہنستا ،بلکہ ہم ہی جس بات پر ایک وقت ہنستے ہیں دوسرے وقت نہیں ہنستے ۔جس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ کسی شے کوہنسانے اور رلانے میں دخل نہیںبلکہ وہ خداہی کا کام ہے جب چاہتا ہے ہنساتا ہے اور جب چاہتا ہے رلاتا ہے ،چناچہ ارشاد ہے قولہ تعالیٰ ہو الذی اضحک و أ بکی ! یعنی وہی خدا ہنسا تا ہے او رلاتا ہے ۔جب ہنسا نا چاہتا ہے تو نفس میں ایسی کیفیت پیدا کر دیتاہے کہ آدمی ہنس دے ،اورجب رلا نا چاہتا ہے تو کوئی بات ایسی پیدا کر دیتا ہے کہ آدمی بے اختیار رو دے ۔یہاں تک کہ ہنسنے کے قابل بات میں بھی کبھی رلا دینے کی خاصیت دی جا تی ہے ۔عقل سے اس کا واقعی سبب ہر گز نہیں معلوم ہوتا جس سے تصدیق آیت موصوفہ کی ہوسکے کہ خدا ے تعالی ہی ہنسا تا ہے اور رلاتاہے اور بظاہر جو اسباب قائم ہوتے ہیں ان کا مسبب وہی ہے ۔
اس قسم کے امور اکثر ناطقہ کی ساخت ہی میں داخل ہو تے ہیں ۔چناچہ تاریخ حکمائے یونان میں لکھا ہے کہ دیمو قراطیس جو بڑا نامی حکیم وفلسفی گزارا ہے وہ بہت ہنستا تھا یہاں تک کہ جس طرح خوشی کی حالت میں ہنستا غم کی حالت میں بھی ہنستا تھا ،اس کے خیر خواہوں نے دیکھا کہ یہ بالکل غیرمعمولی بات ہے ،اس کو جنون پر محمول کیا اور شہر بدیرہ جس میںوہ رہتا تھا وہاں کے لوگوں نے اس کے علاج کے لئے حکیم بقراط کو بلایا چناچہ وہ جنون کی دوائیں ہمرہ لایا پہلے اس نے دودھ پیش کیا دیمو قرا طیس نے غور سے اس دودھ کو دیکھ کر کہا : یہ ایسی بکری کا دودھ ہے جس کا رنگ سیاہ ہے اور وہ باکرہ بھی ہے !فی الواقع اس کی بات صحیح نکلی، بقراط اس کی فرا ست سے متعجب ہوا اور کئی روز وہاں رہ کر مسائل حکمیہ کی تحقیق کی اوراس کی غیر معمولی حکمت سے متعجب ہوکر کہا کہ : اس شہر کے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کے جنون کا علاج کیا جائے نہ کہ یہ حکیم ۔
غرض کہ فاعل مختارنے جس کو جیسا چاہا پیدا کیا ،کسی کو کثیر الضحک کسی کو کثیر البکار ۔پھر جس کو جب چاہتا ہے ہنسا تا ہے ۔ اسی کی مصلحت وہی جانے اس کا حکم عالم میں کیونکر ردہو سکے ۔ اسی وجہ سے انبیاء علیھم السلام دعاء کیا کر تے تھے کہ الٰہی قوم کو ہدایت دے اور راہ راست پرلا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ کفار کے دل خدا ہی ہاتھ میں ہیں ،اور حکم ایمان جب ان کے ذریعہ سے کفرا کو پہونچتا ہے وہ ایسا ہے جیسے نفس ناطقہ کا حکم اعضاء پر بذریعہ ء کلام و زبان پہونچے کہ حرکت کرو !اگر صبح سے شام تک ہاتھ کو حرکت کرنے کے لئے زبان سے کہا جائے تو ممکن نہیں حرکت کر سکے جب تک کہ نفس ناطقہ کا اندرونی حکم ا س کونہ پہونچے ۔اسی طرح خداے تعالیٰ کا امر تکو ینی جو باطن میں صادرہوتا ہے وہ ہرگز نہیں ہوسکتا ۔
ًًٓٓ اب رہی بات کہ بغیر امر تکو ینی کے مقصود حاصل نہیں ہوتا تو انبیاء کی ضرورت ہی کیا؟ اس سوال کا حق کسی کونہیں ،خالق مختار ہے جو چاہے کرے بندے کا کام اطاعت ہے، اگروہ ہوسکے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ آثار کچھ اچھے ہیں اور امید بخشا ئش ہے ، ورنہ آثار ٹھیک نہیں جب قیامت میں آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت خداکی حجت قائم ہوجا ئے گی کیونکہ وہ ملک الناس ہے اپنی سلطنت میں جوچا ہے کرے اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا ۔
دیکھئے نفسن ناطقہ داڑھی کو بلکہ کسی مصلحت سے ہاتھ پائوں کو کٹوادیتا ہے اورکوئی پوچھ نہیں سکتا کہ میرا کیا قصور تھا ۔ اسی طرح خداے تعالیٰ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا، جس طرح اس کی مصلحت مقتضی ہوتی ہے عمل میں لا تا ہے ۔
اِلٰہ
اِلٰہ کے معنی معبود کے ہیں مگر اس کے ماخذ میں اختلاف ہے ۔ بعضوں کا قول ہے کہ ولہ سے ماخوذ ہے اور ولہ اس حرکت کو کہتے ہیں کہ آدمی کسی مصیبت اور آفت کے وقت گھبرا کر اپنے مربی اور حامی کی طرف رجوع کر تا ہے جیسا کہ کہا جا تا ہے ولہ الطفل الی امہ یعنی بچہ گھبرا کر اپنے ماں کی طرف لپکا ۔ اس صورت میں الہ کی اصل وللہ ہوئی ۔ اور جس طرح ’’وشا ح ‘‘ میں وائو الف سے بدلا گیا یہاں بھی بدلا گیا اور معنی یہ ہوئے کہ :الہ وہ ذات ہے کہ جس کی طرف کل آفتوں میں لوگ گھبرا کر رجوع کریں
اور بعض کہتے ہیں کہ الہ اپنے اصل پر ہے جس کا وزن فعال ،اور معنی مفعول ہے ،جیسے اِمام اس شخص کو کہتے ہیں جس کی اقتداء کی جائے ،’’الو ہت ‘‘اور ’’الوہیت‘‘کے معنی عبادت کے ہیں ، اس صورت میں اِلٰہ بمعنی معبود ہوا ۔ہرچند کہ بہت سے لوگ خداے تعالیٰ کے سوا غیروں کی بھی عبا دت کر تے ہیں اور گھبراہٹ کے وقت اوروں کی طرف بھی متوجہ ہو تے ہیں مگر خداے تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب آدمیوں کے الہ ہم ہیں تو اس سے سمجھا جا تا ہے کہ یہ با عتبار واقع وحقیقت کے ارشاد ہے،کیونکہ عالم میں کوئی ایسا نہیں جو معبود یاہر حال میں پناہ دینے والا بن سکے ،جس کو دیکھئے خود محتاج ہے ،چناچہ ارشاد ہے اللہ الغنی وانتم الفقراء ۔ پھر اگر کسی کی پناہ لینے والا اپنے اعتقاد کی نظر سے گنہگا ر ہوگا مگر دراصل وہ اللہ ہی کی پناہ میں ہوتا ہے،اس لئے کہ جب تک حق تعالیٰ نے اس کو اس عالم میں باقی رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے تو اس وقت تک تمام آفات مہلکہ سے بچا نا ایک لازمی امر ہے
اللہ تعالیٰ کی پناہ :
اگر بالفرض خداے تعالیٰ اس کو پناہ نہ دے اور اس کا دشمن اس کو ہلاک کر دے تو خلاف مشیت و تقدیر ہوگا ، اس صورت میں الہ الناس ہونا ہر طرح خداے تعالیٰ ہی کو مسلّم ہوا گو کسی دوسرے سے پناہ لے البتہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے کی پناہ لے اور حمایت میں جائے اور اس کو مستقل سمجھے تو بحسب خیال کا فر یا گنہگار ہوگا ۔ اور دوسرے کی پناہ یا حمایت کو اللہ ہی کی پناہ اور حمایت سمجھے تو اس عقیدہ کی وجہ سے کوئی الزام اس پر عائد نہیںہوسکتا ،کیونکہ یہاں توحید الوہیت مقصود ہے ،جیسے رب الناس میں توحید ربوبیت مقصود تھی ۔ اس طرح جس کی عبادت کی جا تی ہے دراصل وہ خداہی کی عبادت ہوگی ،کیونکہ سواے اللہ تعالیٰ کے اورکوئی معبود ہوہی نہیںسکتا ۔ مگر جس نے اپنی دانست میں غیر اللہ کوقابل عبادت سمجھا اور الہ الناس جو نص قطعی ہے اس کی مخالفت کی تو ضرور مستحق عذاب ہوگا ۔
الوھیت :
اس صورت میں الوہیت ایک ہی ذات میں منحصر ہوگی اور لااِلٰہ غیرک کے معنی صادق آگئے ،یعنی کوئی الہ بحیثیت الوہیت غیر نہیں ، کیونکہ سواے اللہ تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہیں ہوسکتی ۔ البتہ باعتبار ذات کے غیر ہے کیونکہ وہ خالق قدیم ہے اور یہ مخلوق حادث دونوں کیونکر ایک ہو سکیں ۔ہر چند ہر عابد اللہ ہی کی عبادت کر تا ہے مگر مشرکوں کے خیال میں یہ نہیں ہوتاکہ ہم اللہ کی عبادت کر تے ہیں ۔حق تعالیٰ فرما تاہے ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون یعنی میںنے جن وانس کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں ۔ اور اسی وجہ سے مشرک اوروہ لوگ جو اس عالم میں خدا کی عبادت نہیں کر تے دوسرے عالم میں دوزخ میں ڈالے جائیںگے ،کیونکہ قید خانہ کی خاصیت ہے کہ وہاں اللہ یا دآتا ہے چنانچہ مولانا روم فر ما تے ہیں :
جملہ رنداں چونکہ در زندں روند
متقی و زاہد و حق خواں شوند
چونکہ اصل عبادت یاد الٰہی ہے ،وہ دوزخ میں بھی ہوا کرے گی اور اللہ کو وہاں بھی بصدق دل خوب پکا ریں گے ،اورجو لوگ اِس عالم میں عبادت کر چکے وہ اُس عالم میں عبادت سے معاف کئے جائیں گے ،کیونکہ جنت دار تکلیف نہیں ہے ۔حق تعالیٰ ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ اِس عالم میں عبادت کی تکلیف اٹھاکر اُس عالم میں فارغ البال ہو جائیں ۔
شر
شر ،ضد خیر ہے ۔اس آیت شریفہ میں شیطان وسوسہ اندازہ کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم ہے ۔ اس سے ظاہر ہ کہ پناہ مانگنے کے قابل شیطان کا شر ہے نہ شیطان ،کیونکہ فی نفسہ اس سے ہمیں کوئی تعلق نہیں، اگر ہمیں ہو شر نہ پہنچا ئے تو مثل اور اشیائے عالم کے وہ بھی ایک شئے ہوگا جس سے نہ بھلائی کی امید نہ برائی کا خوف ۔
اس میں شک نہیں کہ کسی کو شر یا خیر پہونچا نا کسی کی قدرت میں نہیں ‘جب تک خداے تعالیٰ نہ چاہے کوئی شر پہونچا سکتا ہے نہ خیر ۔دیکھئے آدمی کے کس قدر دشمن ہیں! پہلے سب سے بڑا دشمن اسی کا نفس ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ؐ ہے أعدیٰ عدو ک نفسک التی بین جنبیک ۔کیونکہ تمام شرو فساد کا مبداء نفس ہی ہے ،ا س لئے کہ جتنی نفسانی خواہش ہیں سب اسی میں ہیں ،اگر ان خواہشوں کو آدمی پوری کرناچاہے تو خسر الدنیا والآخرۃ ہوجائے ،مثلاً خواہش نفسانی کے جوش کے وقت کسی خوبصورت عورت سے ملوث ہوجا تے تو ظاہر ہے کہ دنیا ہی میں کیسی کیسی مصیبتیں بگھتنی پڑیں گی اور آخرت میں کیا حشر ہوگا ؟! علی ہذا القیاس کل نفسانی خواہشوں کا بھی یہی حال ہے ۔قید خانے جتنے بھرے ہوئے آپ دیکھتے ہو سب نفس ہی کے کرتوت سے ہیں، جس کو آپ پریشان یا مصیبت زدہ پائو گے اسکا اصلی سبب نفس ہی کی کا رسازی ہو گی ۔ غرضکہ سب سے بڑا دشمن ہماری ہی ذات میں سے جس سے ہم بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ہماری اہل و اولاد جن کو ہم سب سے زیادہ دوست سمجھتے اور عزیز رکھتے ہیں وہ ہمارے دشمن ہیں ، حق تعالیٰ فرما تا ہے انّ من ازواجکم و أولادکم عدواً لکم فاحذرو ہم یعنی تمہاری بعض ازواج او راولادتمہاری دشمن ہے ۔اس کے بعد اہل قرابت ہیں ،چناچہ کسی بزرگ کاقول ہے الا قارب کا العقار ب ان کے بعد دوسرے لوگ علیٰ حسبِ مرتب ہیں العم الغم ،اللخ الوخ ۔
یہ تو ہم جنسو ں کا حال تھا ،اس کے بعد جنات و شیا طین بھی ہمارے دشمن ہیںجن کو ہم نہیں دیکھتے اوروہ ہمیشہ ہمارے گردوپیش رہتے ہیں اور ہم پر مسلط ہو سکتے ہیں ۔پھر حیوانات میں اگر دیکھتے ہیں تو بے انتہاء موذی جانور ہیں جن کا شمار نہیں ۔ ان کے سوا بیماریاں بھی بے انتہا ء ہیں، اگر شفا خانوں میں چند روز جاکر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کیسی کیسی آفتوں میںلوگ مبتلا ہیں ان سب بیماریوں کے اسباب وہی اخلاط ہیں جو ہم میں موجود ہیں ان کی کمی وزیادتی اور انحراف ان ہی غذائوں سے ہوتا ہے جو ہم ہر روز کھا تے ہیں ۔
غرض ان تمام اسباب شر پر نظر ڈالی جائے توہر وقت کسی نہ کسی مصیبت اور آفت میں مبتلاہونا ضروری معلو م ہوتاہے ۔کیونکہ بے انتہا دشمنوں میںسے اگر ایک دوبھی ہر روز مسلط ہو تے رہیں تو ممکن نہیں کہ آدمی آسائش سے بسر کر سکے ۔مگر جب تک حق تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کوئی کچھ نہیں کرسکتا ۔
اسباب :
الحاصل خیر وشر کا پہونچانا خاص اللہ تعالیٰ کاکام ہے،اسی وجہ سے جن حضرات کو اس امر کا مشاہدہ رہتا ہے وہ وسائط کو نطروں سے ساقط کر دیتے ہیں اورکسی چیز کی برائی اور بھلائی پر ان کی نظر نہیں پڑتی ،ہمیشہ ان کو صفات الٰہیہ میں استغراق رہتا ہے ،ان کی نظرو ں میں سانپ اور لکڑی یکساں ہیں ، دونوں کو اس بات میں برابر سمجھتے ہیں کہ بغیر مشیت و ارادۂ الٰہی کے وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔ اگرچہ اس صفات کے حضرات بہت اعلیٰ درجے کے ہیں اور ہمیشہ ان کو قرب الٰہی حاصل ہے ،مگر ان سے بڑھے ہوئے وہ عارفین ہیں کہ جس طرح خداے تعالیٰ نے عالم میں اسباب مقرر کئے ہیں ان کو وہ عارفین ہیں جس طرح خداے تعالیٰ نے عالم میں اسباب مقررکئے ہیں ان کو وہ بیکا ر نہیں سمجھتے ،مضرچیز کو مضر اور مفید کو مفید جانتے ہیں ،خداے تعالیٰ نے جس کی طرف برائی منسوب کی اس کو بربر سمجھتے ہیں اور اس سے احتراز کر تے ہیں ،مگرمؤثر اور فاعل مطلق حق تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں ،وہ اسباب کے قائل ہیں مگر ان کو مستقل نہیں سمجھتے ۔یوں توہر مسلمان کا دعویٰ ہے کہ یہی میرا عقیدہ ہے ،مگر غور کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو کہ یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے !ہمیشہ دیکھنے اور سننے اور تجربوں سے اسباب کی اس قدر تا ثیر ذہن میں متمکن ہے کہ مسبب تعالیٰ شانہ کا خیال بھی نہیں آتا ، اور اگر کہنے سننے سے آبھی گیا تو وہ دیر پا نہیں۔عاقل وہی ہے کہ اس خیال کو پختہ کرے اور اعتقاداً اور عملاً فرمان الٰہی بجالائے جس کا نتیجہ اس طرح برآمد ہوگا جیساکہ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ فر ما تے ہیں :
تو ہم گردن از حکم داور پیچ
کہ گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ
اور تمام دشمنوں پر اس کا غلبہ حاصل ہوگا ۔
یہ ہر شخص جانتا ہے کہ کہنے سننے کا برا اثر ہو تاہے ۔جب عارضی سننے کا یہ اثر ہو تو ابتدائے نشو ونماسے جو باتیں ہر وقت سنی جا تی ہیں اور صرف سنناہی نہیں بلکہ ذاتی مشاہدے بھی اس کے ساتھ ہو ں تو ان کاکس قدر اثر ہونا چاہئے ؟! دیکھئے کہ قبل اس کے کہ آدمی ہوش سنبھا لے دیکھتا ہے کہ ماں کی آغوش ترتیب میں پرورش پارہا ہے ،نہ کوئی اس حالت میں اس کا مونس ہے نہ مددگار اس وقت اس کا یہی خیال ہو تاہے کہ تمام عالم میں اگر کوئی اپنا مربی اور پرورش کرنے والا ہے تو وہی ایک ماں ہے اس سے آگے اس کی نظر نہیں بڑھ سکتی ، جب اس کو کوئی حاجت ہوتی ہے تو ماں ہی طرف رجوع کر تاہے ،غرضکہ اس وقت اس کی ماں اس کے حق میں ہر مرض کی دوا ہے ،پھر جب ہوش سنبھا لتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ماں بات بات میں باپ کی محتاج ہے جب تک وہ کچھ نہ دے کچھ نہیں کرسکتی ، اس وقت باپ کی وقعت اس کی نظروں میں پیداہوتی ہے ،اور جوں جوں باپ کی طرف سے اس کی پرورشی کے سامان ہو تے جا تے ہیں اورا س کا ادراک بڑھتا جا تاہے سمجھتا ہے کہ اپنی پرورشی کا مدر با پ پر ہے اس وجہ سے اس سے محبت پیداہوتی ہے ،اس وقت جس قدر اس کی نظروں میں باپ کی وقعت ہو تی ہے کسی دوسرے کی نہیں ہوتی اور باپ سے بہتر کسی کونہیں سمجھتا ،اس کے بعد جب شعور آتاہے اور دیکھتا ہے کہ اپنا باپ اور سب کنبے والے بلکہ سب شہر او رملک کے لوگ بادشاہ کے محتاج اور فرماں بردار ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے ملک میں تصرف کر تا ہے اور اہل ملک کے خوف و رجاء اسی سے متعلق ہیں تو بادشاہ کی عظمت و وقعت ایسی ذہن نشین ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کی نہیں ہوتی ،پھر جس قدر عقل کا مل ہوتی جا تی ہے بادشاہ کی اطاعت وفرماں بربادی کو ضروری سمجھتا ہے ۔غرضکہ مخلوق ہی کی طرف ہر وقت نظر اس کی لگی رہتی ہے جس سے خداے تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا اس کو موقعہ ہی نہیں ملتا ۔ اگر چیکہ اس عرصہ میں واعظوں اور اساتذہ سے سنتا ہے کہ تمام عالم کا خالق خداے تعالیٰ ہے ،اور دیکھتا بھی ہے کہ ہر قوم اور ملت کے لوگ اپنے اپنے طریقوں پر خدا کی عبادت کر تے ہیں ،او ر عقل سے بھی معلوم کر سکتا ہے کہ زمین اور آسمان وغیرہ کا پیدا کرنا کسی آدمی کاکام نہیں اس لئے اس کا کوئی خالق ضرور ہے جو سب کی حا جتوں کی اشیاء کو غیب سے فراہم کرتا ہے ،مگر چونکہ خداے تعالیٰ اور اس کے تصرفات مخفی طور پر ہیں اور ابتدائے پیدائش سے جب اِس کی نظرپڑی تو لوگوں ہی کے تصرفات اور حاجت روا ئیوں ہی پر پڑی اس لئے اس کایہ خیال پختہ نہیں ہوتا کہ عالَم میں کل تصرفات خداے تعالیٰ ہی کے جاری ہیں ۔ اگر چہ یہ ممکن تھا کہ جب حق تعالیٰ کو خالق عالم سمجھا اور ہرقوم کے لوگوں کواس کی عبادت کر تے پایا تو جس طرح بادشاہ کی وقعت سب سے زیادہ اس کے ذہن نشیں ہوئی تھی حق تعالیٰ کی وقعت اس سے زیادہ ہو تی ،مگر شیطان اس کووہاں جمنے نہیں دیتا ، اس وجہ سے کہ عزازیل کوپہلے ظاہراً تقرب الٰہی حاصل تھا ۔
جب آدم علیہ السلام کو خلعت خلافت عطاء ہوئی اور تمام ملائک سے ان کی تعظیم و توقیر اور سجدے کرا ئے گئے اس کو بھی سجدے کا حکم ہوا مگر کثرت عبادت کے گھمنڈ پر انکا ر کیا اور تقرب الٰہی سے دور پھینکا گیا جس کی وجہ سے اس کا نام شیطان ٹھہرا ،کیونکہ شیطان کے معنی لغت میںدور کے ہیں ۔ غرضکہ اس وقت سے آدم علیہ السلام کا جانی دشمن ہوگیا اور ان کی وجہ سے ان کی اولاد کا بھی دشمن ہو ا ،چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ان الشیطان لکم عدو مبین پہلے وہ آدم علیہ السلام کے سرہوا یہاں تک کہ ان کوجنت سے زمین پر لاکر چھوڑا ۔ ان کے بعد ان کی اولاد کو خدا کی راہ سے بھٹکا نے کا بیڑا اٹھا یا اور قسم کھالی کہ گویہ خلیفہ زادے ہیں مگر ان کوبھی خداے کے راستہ سے ایسا بھٹکا دوں گا کہ اس راستہ میں قدم نہ رکھنے پائیں ،چنانچہ حق تعالیٰ نے اُس کا قول نقل فرمایا ہے فبعزتک لاغو ینہم اجمیعن اور دل میں یہ بات ٹھان لی کہ جس طرح ہوسکے دشمن او راس کے خاندان کو اگر تباہ نہ کردوں تو میں جن نہیں ! اور عرض کیاکہ مجھ ستم رسیدہ پر اتنا فضل فرما کہ جب تک ان کی اولاد روئے زمین پر رہے مجھے بھی رہنے کی اجازت ہوتا کہ میں بھی اپنی سوزش دل کو ٹھنڈی کروں ۔چونکہ خداے تعالیٰ رب العالمین ہے سب کی سنتا ہے خصوصاً شکستہ دلوں کی ، اس بارگاہ میں بہت کچھ چل جا تی ہے ،ارشاد ہواکہ ہم نے مہلت منظور کی ۔ اس کے بعد درخواست کی کہ ان کے گرفتار کرنے کو چند دام بھی عنایت ہو ںتو موجب کرم ہے جیسا کہ مولانا ئے روم فرما تے ہیں :
گفت ابلیس لعین د اوار ر ا
دام زفتے خواہم ایں اشکار را
زر د سیم وگلہء اسپش نمو د
کہ بدیں ثانی خلائق ر ا ر بود
گفت شا باش و نشد زیں شا دکام
لیک افزوں بایدم زیں دام دام
پس زرو گوہر زِ معدن ہاے خوش
کر د آں پس ماندہ را حق پیش کش
گیر ایں دام دگر را اے لعیں
گوید افزوں و ہ مرا نعم المعیں
چرب شیرین و شرابات ثمیں
دادش و صد جامہ و ابریشمیں

گفت یا رب بیش ازیں خواہم مدد
تا بہ بندم شان بحبلٍ مِن مَسد
غرض ا س قسم کے بہت سے اسباب ضلالت دے گئے جس کی تصدیق اس آیت شریفہ سے ہوتی ہے قولہ تعالیٰ کلاً نمد ہؤ لاء وہؤلاء من عطاء ربک و ماکان عطاء ربک محظور اً یعنی : ہم ہر ایک کو مدد دیتے ہیں اور اِن کو بھی اوراُن کو بھی اور تمہارے رب کی عطا سے کوئی محروم نہیں ‘‘۔
مکاید شیطان :
اور ارشاد ہوا کہ جس طرح تجھ سے ہو سکے اپنی ذات سے اور اپنے لشکر کی مدد سے اطمینان کے ساتھ اپنے دل کے حوصلے پورے کر ، کماقال تعالیٰ وأ جلب علیہم بخیلک ورجلک بلکہ ان کے دلو ں پر بھی تجھے تصرب عنایت کر تے ہیں ،تو ان کی نظریں بچا کر اندر ہی اندر مخالفا نہ مشور ے دیا کر ‘ مگر یہ یا درکھنا کہ جو خاص ہمارے بندے ہیں ان پر تیرا غلبہ ہر گز نہ ہوسکے گا ۔عرضکہ خداسے پروانگی مل گئی۔اب کیا تھا نہایت بے باکی اور اطمینان سے ایل مستقل سلطنت اپنی قائم کرلی، اور ان ذرائع کی تلاش میںمصروف ہوا جن سے لوگ اللہ سے دور ہو کر لقب’’شیطان ‘‘ کے مستحق ہوں۔
دیکھا کہ ہر شخص بقائے شخصی اور بقائے نوعی کا دلداداہ ہے اور یہی چاہتا ہے کہ آپ اور اپنی نوع باقی رہے ، بس یہیں اس نے اپنا ٹکھانہ جمایا اور ہر ایک کویہ مشورہ دینے لگا کہ : تہماری پردرش بھی ماں باپ سے متعلق تھی ، اس کے بعد دوسرے اسباب وذرائع سے متعلق ہوئی ،جن کوتم خوب جانتے ہو او رتمہارے ذاتی تجربے ہیں،اور بقائے نوعی سلاطین سے متعلق ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو تمدن درہم اور برہم ہو جائے اور درندے اور درندہ خولوگ تمہیں پھاڑ کھائیں اور بعض اولڈ فیشن کے (یا بنیاد پرست ) لوگ جو خداکا خیال کر تے ہیں سو اول تو خدا کو کس نے دیکھا اور اگر ہوبھی تو خدا جانے کہاں ہے ، نیو فیشن والوں (اور ترقی پسندوں ) کی عقل کا مقتضیٰ تو یہ نہیں کہ ایسے موہوم خیالات پر آدمی بھروسہ کرے اور اپنے ذاتی تجربوں پر اعتماد نہ کرے ہر بات میں اللہ کو پکا رے اور اس کی عبادت میں اپنا وقت ضائع کرے !!۔
ہر چند اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے کے لئے انبیاء کو بھیجا کہ اپنے بھائیوں اولاد آدم علیہ السلام کو شیطان کے مکر و فریب پر مطلع کرکے خداے تعالیٰ سے ان کو قریب کردیں ۔ انہوں نے بہتیر ا سمجھا یا کہ : بھا ئیو !خدا ے تعالیٰ ہی رب العالمین اور سب کا پرورش کرنے والا ہے ،اور وہی تمام جہاں کا بادشاہ ہے اور بادشاہ بھی کیسا ’’مالک الملک یؤ تی الملک من یشاء ‘‘یعنی جس کو چاہے بادشاہ بنادے ۔ظاہراً انہوں نے بہت کچھ سمجھا یا مگر ان کی کچھ نہ چلی کیونکہ شیطان اندر ہی اندر دلوں میں یہ وسوسے ڈالتا جاتاہے کہ دیکھو اگر تم ان لوگوں کی بات مان لو گے او ردنیا کے کا روبار چھوڑ کر خداکی طرف متوجہ ہوجائوگے تو سردست تمہیں فقر وفاقہ کی مصیبت بھگتنی پڑے گی،چناچہ حق تعالیٰ فرما تا ہے الشیطان بعدکم الفقراس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان فقر سے متعلق وسوے ڈالتا ہے او رگویا وعدہ کر تا ہے کہ جہاں تم نے انبیاء کی سنی فقیری تم پر آگئی!اور بادشاہ اور تمہارے آقا جب تمہیں دیکھیں گے کہ تم خدا کی طرف متوجہ ہوتو یہی کہیں گے کہ یہ ہمارے کام کے نہیں اور کوئی عہدہ نہیں نہ ملے گا ۔ غرضکہ ان کو پیٹ کے دھندوں اور جا ہ طلبی میں ایسا مصروف کر دیتا ہے کہ خدا کا خیال بھی کبھی نہ آنے پائے ۔
پیغمبروں نے ہزار طرح سے سمجھا یا اور خدا کا کلام پڑھ پڑھ کر سنا یا تب بھی ان ’’وسو سوں ‘‘ کے مقابلے میں کچھ اثر نہ ہوا ۔ وسوسے جو فی الحقیقت شیطان ان کو مشورے دیتا ہے ان کے سامنے وہ ایسے متذلل اور فرماں بردار ہو جا تے ہیں کہ شیطان کے اِن احکام سے درا بھی سر تا بی نہیں کر سکتے، یہی معنی عبودیت کے ہیں ۔ اہل انصاف سمجھ سکتے ہیں کہ جوشخص خدا کی نہ مان کر شیطان کی مانے تو کیا وہ ’’عبد اللہ ‘‘ سمجھا جائے گا ؟ بر خلاف ان کے جو خاص اللہ کے بندے ہیں ان پر شیطان کا افسوں نہیں چل سکتا ،وہ جانتے ہیں کہ خدا ہی پرورش کرنے والا ہے ،اگر غذاء کی وجہ سے طاقت آتی ہے تو اس میں طاقت دینے والا بھی خداہی ہے ،اور اگر کوئی پرورش کر تا ہے تو اس کو متوجہ کے نے والا بھی خدا ہے ، اور اگر بادشاہ کی طرف سے تمدن قائم ہے تو وہ ظلی طورپر حاکم ہے اصل مالک الملک وہی خدا ے تعالیٰ ہے ۔ غرضکہ و ہ وسا وس شیطانی پر ’’لا حول ‘‘ پڑھ کر ان کو دور کر دیتے ہیں وہ خدا ہی کو معبود او ر قابل اطاعت سمجھتے ہیں ،خدا کے مقابلے میں شیطان کی طاعت کو کفر جانتے ہیں ، ہر حال میں ان کی توجہ خداہی کی طرف ہو تی ہے او ر ہروقت تقرب الٰہی ان کوحاصل رہتا ہے ،اور شیطان جتنا ان کو اس بارگاہ سے دور کرنا چاہتا ہے وہ نزدیک ہو تے جا تے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ ؟ یہی ہے کہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ خداے تعالیٰ ہی سب آدمیوں کا بلکہ کل عالم کا رب اورمالک ہے ۔یہی مستحکم اعتقاد ان کا ایک محکم قلعہ ہے جس کے اندر جانے کا راستہ ہی شیطان کو نہیں مل سکتا ۔
یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ من شر الوسواس الخناس ارشاد ہوا ، یعنی وسوسہ انداز خناس کے شرسے پناہ مانگو ! یہ نہیں ارشاد ہوا کہ اس کے وسوسہ کے شر سے پناہ مانگو ۔ اس سے ظاہر ہے کہ سوائے وسوسہ اندازی کے اور بھی اس کے شر ہیں ،
اس لئے اس کی کل شرارتوں سے پناہ مانگنی چاہئے، مثلاً ایک شرارت اس کی یہ ہے کہ کسی دوسرے کو درغلا کر کوئی حرکت اس سے ایسی صادر کرا دیتا ہے کہ خواہ مخواہ آدمی کو غصہ آجائے ،اور غصہ کی حالت میں ایسے کام اس سے کر وادیتا ہے کہ دنیا وہ آخرت میں ذلت اور خرابی کے باعث ہو تے ہیں ۔چناچہ اکثر دیکھا جا تاہے کہ احباب کے مجمعوں میں کمالِ خوشی سے باہم گفت و شنید ہو رہی ہو تی ہے ،ہنسی ہنسی میں کوئی نہ کوئی صاحبِ کمال صفائی سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ مخاطب کو نا گوارا ہو مگر اہل مجمع اس سے لطف اٹھا تے ہیں ،اس بات کا اثر یہاں تک ہوتا ہے کہ سب وشتم بلکہ قتال و جدال تک نوبت پہونچ جا تی ہے ۔ دراصل یہ شرارت اسی وسوسہ اندازکی ہے کہ دوستی کے پیرایہ میں دوسرے سے وہ بات کہلوائی اور ادھر غصہ کی حالت میں اپنا کام کر گیا ۔ غالباً یہی وجہ ہوگی جو صحیح حدیث میں وارد ہے جس کو منذری ؒ نے کتاب الترغیب والترہیب میں نقل کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا یبلغ العبد صریح الایمان حتی یدع المزا ح والکذاب یعنی : خالص ایمان تک آدمی نہیں پہونچ سکتا جب تک کہ مزاح یعنی ٹھٹہ دل لگی اور جھوٹ کو نہ چھوڑدے ‘‘۔
الوسواس
اس لفظ کے معنی ’’وسوسہ انداز ‘‘ کے لئے جا تے ہیں ۔دراصل ’’وسواس ‘‘ بالفتح اسم ہے اور بالکسر مصدر ،’’وسوسہ ‘‘ خفی آواز کو کہتے ہیں جو ہوا کی سنی جاتی ہے ،اور زیور کی آواز کو بھی کہتے ہیں ،ہر چند وسوسہ دل میں ہو تا ہے جہاں کسی قسم کی آواز کا وجود نہیں ۔
مگر چونکہ وسوسہ میں باتیں ہوا کر تی ہیں اور باتوں کا تعلق آواز سے ہے اس لئے دل کی باتوں پر وسوسہ کیا اطلاق کیا گیا ہے جس کے معنی خفی آواز کے ہیں ۔ اور وسوسے چونکہ پلٹ پلٹ کر دل میں آتے جا تے ہیں اس لئے لفظ وسواس میں بھی تکرار ہوئی تاکہ تکرار لفظی تکرارا معنوی پر دلالت کرے ۔
اکثر استعما اس لفظ کابری باتوں میں ہوتا ہے جو دل میں آتی ہیں ،چناچہ ’’وسوسہ ء شیطانی ‘‘ کہا جا تا ہے ۔چونکہ شیطان ہمیشہ وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور کوئی دم ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ وسوسہ نہ ڈالے یا اس کی فکر میں نہ ہو اس وجہ سے اس پر وسواس کا اطلاق فرمایا گیا ،جیسے زید عدل کہا جا تا ہے ، یعنی وسوسے ڈالتے ڈالتے وہ ہمہ تن وسوسہ ہی بن گیا ۔چونکہ شیا طین کی تخلیق اسی لئے ہے کہ اسباب شقاوت وضلالت قائم کیا کریں ،اسی لئے وہ کبھی اس کام سے تھکتے نہیں ،جس طرح فرشتوں کی تخلیق عبادت کے لئے ہے جس کے کرنے سے وہ تھکتے نہیں ،جیساکہ قرآن شریف سے ثابت ہے ۔
تصرف شیطانی در نفس
اب کہیئے کہ وسوسہ انداز جو پیچھے پڑگیا اور سوائے اِس کے اُس کو کوئی دوسرا کام ہی نہیں تو اس کے شر سے بچنا کیسا مشکل کام ہے !! نفس میں جتنی صفات رکھی گئی ہیں مثلاً شجاعت ، جبن ، بخل ، صبر ، بے صبری ، حیا ، بے حیائی ،قناعت ، حرص ،تکبر، تواضع، رحم، جور و جفا وغیرہ ان سب کے استعمال کے طریقے ایسے بتلا تاہے کہ ذمیمہ تو ذمیمہ اخلاق حمیدہ بھی ذمیمہ ہو جا تے ہیں ۔مثلاً صفت سخاوت کسی میں ہوتوایسے مصرف پیش کردیتا ہے کہ مال تلف ہوجائے اور بجائے نام آوری کے بدنامی اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل ہو ،مثلاً عیاشی وغیرہ ۔ اور اگر اسیے کاموں سے نفرت ہوتو خیال نام آوری اور ریاء سمعہ ،عُجب وغیرہ پیش کردیتا ہے جس سے سوائے اتلاف مال کے آخرت میں کچھ فائدہ نہ ہو ۔
چونکہ نفس میں قواے شہوانیہ وغضبہ موجود ہیں اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اپنی کل خواہشیں پوری کرے ، اور جتنی خواہشیں ہیں سب کو پوری کرنے کی اجازت بھی حق تعالیٰ نے دی ہے ۔ مثلاً عورت کی خواہش ہوتو نکاح کی اجازت ہے ،اسی طرح خواہشوں کا حال ہے ۔مگر شیطان جو آدمی کا دشمن ہے وہ نہیں چاہتا کہ حلال طریقہ سے خواہشیں پوری ہوں جس کی وجہ سے آدمی مستحق ثواب ہی ہوجائے ،بلکہ وہ مشورت دیتا ہے کہ ناجائز طریقہ سے پوری کی جائیں تاکہ بجائے اسکے مستحق ثواب ہونافرمانی کے جرم میں مستحق عذاب بنادے ۔
شیطان جس طرح بت پرستی پر لگا تا ہے ہوا پر ستی پر بھیی لگا تا ہے جو بت پر ستی سے بھی بدتر ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما تحت ظلل سماء من الٰہ یعبد من دون اللہ اعظم عند اللہ من ہوًیٰ متبع ( کذافی کنز العمال ) یعنی فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ :آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جس معبود باطل کی بھی عبادت ہوتی ہے ان میں ہواے متبع سے بدتر کوئی نہیں ۔ ’’ہوائے متبع ‘‘ کا مطلب ہے کہ خدا اور رسول کے حکم کے خلاف بھی کوئی خواہش ہو تو آدمی اس خواہش کا متبع رہے او رحکم شرعی کا کچھ خیال نہ کرے ۔ ہوا پرستی کے بت پرستی سے بدتر ہونے کی یہ وجہ ہے کہ بت پرستی بھی ہوا پرسی ہی کا ایک شعبہ ہے۔جب حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ہوا پرستی بت پرستی سے بھی بدترہے تو مسلمانوں کو اپنی خواہشوں کے پورا کرنے میں کس قدر احتیاط کرنے کی ضرورت ہے !!غرضکہ شیطان بذریعہ ،ہواے نفسانی آدمی کو تباہ کرکے اپنی خواہشیں پور ی کرتا ہے ۔اگر وساوس شیطانی نہ ہو ںتو آدمی نہ دنیا کی پریشانی میں پڑے نہ آخرت میں مصیبت بھگتے ۔
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ شیطان ہمارا جانی دشمن ہے جیساکہ خداے تعالیٰ
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کی عداوت اور اس کی مکاریاں ظاہر کرکے مسلمانوں کو ہدایت فرمادی ہے کہ اس سے احتراز کرو اور اس کہنا مانو ۔ اور اس کے کہنے کا طریقہ بھی معلوم کرا دیا کہ دل میں جو بیہودہ خیالات آتے ہیں وہ وساوس شیطانی ہیں۔ تو اب آدمی کو لازم ہے کہ علم کے ذریعہ سے معلوم کرے ۔
کنز العمال میں یہ حدیث وارد ہے عن الاشعت بین قیس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أشکر کم عند اللہ اشکرکم للناس یعنی :فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے : بڑا شکر گزار اللہ کا تم میں وہی شخص ہے جو لوگو ں کا شکر زیادہ کرے ‘‘۔ مطلب یہ کہ اپنے محسن کا شکر کرنا گویا خدا ے تعالیٰ کا شکر کرنا ہے ۔اگر محسن کا شکر زیادہ کروگے تو زیادہ شکر باری تعالیٰ کاہوجائے گا ، کیونکہ محسن صرف واسطہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا ے تعالیٰ کی نعمت پہونچی ہے ،اگر وسائط بالکلیہ ساقط کر دیے جائیں تو خداے تعالیٰ نے جوعالم اسباب میں مصلحتیں ،رکھی ہیں وہ فوت ہو جائیں گی اور ان کافوت ہونا خدا ے تعالیٰ کو منظور نہیں ، اسی وجہ سے حدیث شریف میں وارد ہے کمانی کنزالعمال : عن ابن عباس قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أنعم اخیہ نعمۃ فلم یشکر ہا فدعا علیہ یستجیب لہ ۔یعنی جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کوئی نعمت عطاء کرے اوروہ اس کا شکر یہ ادا نہ کرے او رمحسن اس کی نا شکری کی وجہ سے اس کے حق میں بد دعاء کرے تو خدا ے تعالیٰ اس کی بد کو قبول فر ما لیتا ہے ‘‘ ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ احسان کا شکر نہ کرنا محسن کے دل کو دُکھا نا ہے ، اس دل آزاری کی سزا یہ مقرر ہوئی کہ وہ جوکچھ بارگاہ کبریا ئی میں اس کی نسبت عرض کرے گا وہ قبول ہوجا ئے گی ۔اس سے ظاہر ہے کہ چند انعام و عطاء حق تعالیٰ کی جانب سے ہے مگر جن وسائط و ذرائع سے وہ نعمت حاصل ہو تی ہے وہ بھی قابل اعتبا رہیں ۔
اگر وسائط نہ ہوں تو انتظام درہم برہم ہو جائے گا ،جس کا جی چاہے گا کسی پر ظلم کرکے کہہ دے گا کہ میں نے کیا کیا وہ تو خدا ے تعالیٰ کا فعل تھا ۔ اور ہر شخص بحسب اقتضائے شہوات نفسا نیہ گناہوں کا مرتکب ہو کر کہے گا کہ میں بری الذمہ ہو ںجو چاہا خدانے کیا ۔ یہ درست ہے کہ بغیر مشیت الٰہی کوئی کام نہیں ہوتا ،مگر برا کام کر نے کے وقت آدمی کا مقصود صرف یہی ہو تا ہے کہ اپنی خواہش پوری کرے جس سے تلذذخلاف امر الٰہی نفس کو حاصل ہو ۔ اس مقصود کو پوار کرنے کے بعد اگر یہ چا ہے کہ خدا ے تعالیٰ پر الزام لگا کر آپ بر الذمہ ہو جائے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ براکام تم نے کیا اس میں فعل الٰہی کو کیا دخل ؟ تو اس کایہی جواب دے گا کہ یہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے !تو ہم کہیں گے کہ جس طرح قرآن شریف سے وہ ثابت ہے یہ بھی ثابت ہے !تو ہم کہیں گے کہ جس طرح قرآن شریف سے وہ ثابت ہے یہ بھی ثابت ہے کہ برے کامو ں سے خدا ے تعالیٰ نے منع فر مایا ہے اور اس کی سزا مقرر فرمائی ہے۔اگر قرآ ن شریف اس قابل ہے کہ اس پرایمان لایا جائے تواس کے کل احکام پر ایمان لانا چاہئے ،اس کے کیا معنی کہ اپنے مطلب کی آیتوں پر ایمان لاکر استد لال میں پیش کریں اور جن کا اثر نفسانی خو ا ہشوں پر پڑتا ہے ان کو نظر انداز کر دیں !!اس سے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ سواے آیات مشیت الٰہی کے دوسری آیات پر ایمان ہی نہیں۔جو شخص بعض آیات پر ایمان لائے اور بعض آیات پر ایمان نہ لائے تو اس بارے میں حق تعالیٰ فرما تاہے أفتؤ منون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذٰلک منکم الا خزی فی الحیوٰۃ الدنیا ویوم القیامۃ یردون الی أشد العذاب یعنی : ’’کیا تم بعض آیات پر ایمان لاتے ہو اور بعض پر کو نہیں مانتے !تو ایسے لوگوں کی جزاء یہی ہے کہ دنیا میں رسواہوں اور آخرت میں سخت عذاب میں ڈالے جائیں ‘‘۔
الحاصل ایمان کا مقتضیٰ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جوکچھ فرمایا ہے سب پر ایمان لائیں ،اور یہ نہ کہیں کہ یہ بات فلاں آیات کے خلاف ہے !بلکہ ایسے مواقع پر یہ خیال کریں کہ ہربات خداے تعالیٰ کی قابل تسلیم ہے ۔اگر اس کی حقیقت ہمیں معلوم نہ ہو تو ہمیں اس کی تحقیق ضرورت نہیں ہمارا کام بقدر استطاعت عمل کرنا ہے ،چنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے المؤ من کا لجمل الانف حیثما انقید انقاد (اوکما قال صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی :’’مسلمان کی مثل اس اونٹ کی سی ہے جس کے نکیل لگی ہوئی ہو اس کا حال یہی ہے کہ جدھر کھینچیں ادھر مطیع ومنقاد وفر مان بردار ہورکر چلا جا تاہے ‘‘۔اگر یہ بات حاصل نہ ہوتو سمجھا جائے گا کہ وہ سرکش ہے،پھر خداے تعالیٰ کے مقابلے میں کس کی سرکشی چل سکتی ہے ؟ الغرض مسئلہ ء تقدیر و مشیت پیش کرکے گنا ہوں پر جرأت کرنا مسلمان کا کام نہیں ۔
مروی ہے کہ شیطان نے بارگاہ کبریانی میں عرض کی کہ مجھ سے جو معصیت ہوئی وہ بحسب تقدیر تھی تو پھر یہ لعنت کیوں کی گئی ؟ارشاد ہواکہ تو نے جس وقت نافرمانی کی کیا جانتا تھا کہ وہ تقدیر میں ہے ؟ کہا نہیں !ارشاد ہوا کہ اسی کی سزا ہے جو تو ملعون ہوا ۔ فی الحقیقت جس وقت اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اس وقت حسد اور تکبر اس پر اس قدر غالب تھا کہ تقدیر کا خیال بھی اس کو نہ آیا ہوگا ، ورنہ صاف کہہ دیتا کہ الٰہی تونے میری تقدیر میں مخالفت لکھی ہے اس لئے میں سجدہ نہیں کرتا،بلکہ بجائے اس کے اس نے یہ کہا کہ میں ہرگز سجدہ نہ کروںگا کیونکہ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا جو لطیف ہے اور ان کومٹی سے جو کثیف ہے اور لطیف کا کثیف کے روبرو سر جھکا نا عقلاً خلاف وضع ہے ۔غرضکہ اپنی وضعدار ی اس وقت اس کے پیش نظر تھی ۔
اسی طرح ہر گناہ کے وقت ایک خیال متمکن رہتا ہے جس کی وجہ سے آدمی مرتکب گنا ہو جا تاہے ،اور بعد گناہ اگر تقدیر او رمشیت وغیرہ کے مسئلہ میں استدلال کرے تو وہی جواب ہوگا جو شیطان کو دیا گیا تھا ۔
خوفِ الٰہی :
حق تعالیٰ فر ما تاہے کہ انما یخشیٰ اللہ من عبادہ العلماء یعنی خداے تعالیٰ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علماء ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جہلاء کو خداے تعالیٰ کا کچھ خوف نہیں ۔ اس آیت شریفہ کی تصدیق کے بعد یہ یقین ہو تا ہے کہ جو لوگ تمامی درسی کتا بیں پڑھ کر علماء مشہور ہو تے ہیں اگر ان کوخوف خد نہ ہوتو ان کو’’علماء ‘‘ کہنا بے موقعہ ہوگا ،کیونکہ کتابیں پڑھنا اور بات ہے اور ’’علم ‘‘ کچھ اور ہی چیز ہے ۔
یورپ میں اکثر یہود ونصاریٰ علوم عربیہ میں ماہر ہو تے ہیں جس کی وجہ سے فاضل کہلاتے ہیں مگر دین اسلام کی روسے ان کوعلماء نہیں کہہ سکتے ۔ اسی طرح اہل اسلام بھی اگر تحصیل کرلیں اور ان خوف خدانہ ہوتو اس آیت شریفہ کی روسے ان کوعالم کہنا درست نہ ہوگا ۔ دراصل علم اس کیفیت قلبیہ کانام ہے جو ظن سے متجاوز ہوکر حد یقین میں داخل ہو گئی ہو ۔
اب یہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ دین میں کونسی چیزوں کا علم معتبر ہے اور اس علم کا معلوم کیا ہے ؟کیونکہ عالم میں بے انتہاء چیزیں ایسی ہیں جس کاعلم دین اسلام کے لحاظ سے ضروری نہیں ۔ تمام آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کے احکام واخبار کا علم ضروری ہے ،یعنی جس طرح خداے تعالیٰ نے خبر دی ہے اس کا یقین کرلے اور کیفیت یقین حاصل ہو تو وہ علم ہوگا ۔
جب آدمی اس بات کو جا ن لے گا کہ خداے تعالیٰ کے صفات میں قہاریت بھی ایک صفت ہے اور اسی کا یہ اثر ہے کہ حق تعالیٰ نے برے کاموں سے منع فرمایا ،اور جولوگ ان کے مرتکب ہوں ان کے لئے دوسرے عالم میں بڑا قید خانہ تیا رکیا جس میں ہرقسم کی اذیتیں ہیں ، تو اس علم کے بعد اس سے گنا ہ اول تو صادر ہی نہ ہوگا ،اور ہوگا تو وہ توبہ کر لے گا غرضکہ اس علم کے بعد اس کو خوف الٰہی ضرور ہوگا ، اور جس کو یہ علم ہی نہ ہوتو اس کو خوف بھی نہ ہوگا ۔ الحاصل جس کسی کو صفت قہاریت اور اس کے آثار کا علم ہوگا ممکن نہیں کہ وہ بے خوف ہو ۔ البتہ مدارج علم متفاوت ہو تے ہیں، اس لئے خوف کے مدارج بھی متفا وات ہوں گے ،جس کو کمال درجہ کا علم و یقین ہوگا اس کو خوف بھی اسی درجہ کا ہوگا ۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فر ما تے ہیں أنا أ خشاکم اللہ یعنی میں تم سب سے زیادہ خداے تعالیٰ سے خوف و خشیت رکھتا ہوں ۔
شفاء قاضی عیاض میں یہ روایت ہے کہ عبد اللہ بن سخیر رضـی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس قت آپ نماز اداء فر ما رہے تھے ،آپ کے سینہء مبارک سے ایسی آواز سنائی دیتی تھی کہ جیسے دیگ کے جوش کی آواز ہوتی ہے ۔مطلب یہ کہ آپ خشیت الٰہی سے گریہ کو ضبط فر ما تے تھے مگر اندرونی اثر اس کا ظاہر ہوہی جاتاتھا ۔
شفاء میں ترمذی سے یہ روایت نقل کی ہے : عن ابی ذر قال قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : واللہ لو تعلمو ن ماأعلم لضحکتم قلیلاً و لبکیتم کثیراًو ما تلذ ذتم بالنساء علیٰ الفروش ولخرجتم الی الصعدات تجارون الی اللہ ، لو ددت انی شجرۃ تعضد یعنی ابو ذر کہتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : ’’جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جانتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے اور بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے اور خدا کی طرف فریاد وفغاں کر تے ہوئے راستو کی طرف نکل جاتے ،مجھے آرزو آتی ہے کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جو جڑسے اکھا ڑ دیا جاتا ‘‘ ۔چونکہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نہایت ارفع ہے اس لئے آخری جملہ یعنی لوددت انی شجرۃ تعضد کو محدثین نے ابو ذرؓ کا کلام قرارا دیا ہے ، ممکن ہے کہ فی الواقع یہی بات ہومگر ظاہراً بلحاظ سیاق حدیث شریف ہی کا جزو معلوم ہو تا ہے ،کیونکہ کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس سے معلوم ہو کہ وہ ابو ذرؓ کا کلام ہے ،اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاکلام ہوتو بھی چنداں بعید نہیں اس لئے کہ حالتِ خوف جب دل پر طاری ہو تی ہے تو بیخوانہ ایسی باتیں نکل جا تی ہیں،اوراس میں کوئی کسر شان بھی نہیں ۔ کیونکہ جب دوسری قسم کی کیفیت طاری ہوتی ہے تواس وقت اسی کے اقتضاء کے موافق کلام صادر ہو تے ہیں ۔
اہل تصوف جن پر بحسب مقامات حالات طاری ہو تے رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جب کسی مقام سے متعلق کوئی حالت طاری ہوتی ہے اس وقت کیسی بے احتیاطی
ہوجا تی ہے ،یہی بے اختیاری اس حالت کے مناسب کلام پر مجبور کر تی ہے ۔دوسری احادیث کثرت سے وارد ہیں جس سے حضرت ؐ کی اصلی شان کا پتہ چلتا ہے کہ نہ وہ کسی نبی کو حاصل ہے نہ کسی فرشتہ کو ۔ اور اس حدیث میں گو ظاہر بینو ںکی نظر میں کسر شان معلوم ہو تی ہے مگر اس میں بھی حضرتؐ کی رفعت شان معلوم ہو تی ہے ،کیونکہ مقام خوف بھی ایک اعلیٰ درجہ کا مقام ہے اور اس کا انتہا ئی درجہ عدم ہے جس کی طرف آپ ؐ نے اشارہ فرمایا ہے ۔ بہر حال مقام خوف کے آثار ولوازم اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ اور اسی پرمنحصر نہیں ہر مقام کی بات جدا ہوتی ہے ۔
جنگ بدر میں جب کفار کثرت سے باساز و سامان جنگ میں صف آرا ہو ئے اور صحابہ تھوڑے اور بے سامانی کی حالت میں ،یہ دیکھ کر اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک حالت طاری تھی بار بار عرض کر تے تھے کہ : الٰہی اگر ان مسلمانوں پر مشرک غالب ہوں جائیں اور اس چھوٹی جماعت اہل ایمان کو تو ہلاک کر دے گا تو روئے زمین پر تیری عبادت موقوف ہو جا ئے گی ،یا اللہ مجھے رسوا مت فرمانا !اللہ مجھ سے جو تونے وعدہ فر مایا ہے وہ پورا کر ! حضرت قبلہ کی طرف متوجہ ہر کر ہاتھ اٹھاکر بار بار اس قسم کی دعائیں فر ما تے تھے یہا ںتک کہ چادر مبارک دوش مبارک پر سے گر گئی،ابو بکر ؓ نے چادر دوش مبارک پر اڑھا کر کہا یا رسول اللہ بس کیجئے امید ہے کہ قریب میں حق تعالیٰ اپنا وعدہ پور ا فرما ئے گا ۔کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ صدیق اکبر ؓ کاایمان آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین سے بڑھا ہوا تھا اور معاذ اللہ آنحضرتؐ کو یقین نہ تھا جس کی وجہ سے اس قسم کی دعائیں کرنے کی ضرورت ہوئی ؟ ہر گز نہیں ! کجا یقین صدیق اکبر ؓ اور کجا یقینِ سید المرسلین و باعثِ ایجاد کون ومکان ! مگر بات یہ ہے کہ بڑوں کی بات بھی بڑ ہوتی ہے ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت مشاہدۂ ذات کبریا ئی تھا جو تمام عالم سے غنی ہے کما قال تعالیٰ واللہ غنی عن العالمین وہاں مسلمان توکیا اسارا عالم تباہ ہو جائے تو کچھ پرواہ نہیں ، اسی ذات پاک کا نام ہادی بھی ہے اور مضل بھی ۔ اسی مقام میں ارشاد ہے کہ اگر سارا عالم جنت میں چلا جائے تو کچھ پرواہ نہیں اور دوزخ میں جائے توبھی کچھ پرواہ نہیں ۔ بہر حال بارگاہ ربانی میں نہ جمال کو ترحیح ہے نہ جلال کو ،چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر شان جمالی تھے اس وجہ سے آپ کو کمال درجہ کی تشویش تھی کہ کہیں شان جلالی کا ظہور نہ ہوجائے اور یہ تشویش یہاں تک بڑھی کہ گویا بیخودی کی حالت طاری کر دی ۔
سیرۃ نبویہ میں شیح دھلان ؒ نے علماء کا قول نقل کیا ہے کہ صدیق اکبر ؓ مقام رجاء میں تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقام خوف میں ۔ بہر حال جس حالت کاپورا وجود ہوتا ہے دوسرا کل خیالات مضمحل ہو جا تے ہیں ،حق تعالیٰ فر ما تاہے حتی اذا استیاس الرسل وظنو انہم قد کذبو ا جا ء ہم نصرنا یعنی :’’ یہاں تک (ڈھیل دی تھی ) کہ رسول بھی ناامید ہو چلے تھے اور خیال کر نے لگے تھے کہ ان سے غلط وعدے کئے گئے تھے تب ان کے پاس ہماری مد دپہنچی ‘‘ ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ انبیاء کو جو یقین اپنی نبوت کا اور وعدہ ہائے الٰہی کے پورے ہونے کا ہوتا ہے وہ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی وجہ سے زائل ہو سکے ،مگر جب امداد ہی میں بہت تاخیر ہوئی اور یہاں تک نوبت پہونچی کہ شدہ شدہ یاس کی حالت طاری ہوگئی تو اس وقت بمقتضائے بشریت یہ خیال پیداہو کہ وعدہائے امداد جھوٹے تو نہ تھے جو کسی واسطہ نے اپنی جانب سے کہہ دیا ؟!
حالت یاس کا مقتضی یہی ہے کہ ایسے خیالات پیداہوں ،کیونکہ جو حالت آدمی پر غالب ہو تی ہے اس کے آثار کا ظہور میں آنا ضروری ہے ۔ دیکھئے کسی قسم کی حالت کا جب غلبہ ہوجا تاہے تو آدمی خودکشی کر لیتا ہے حالانکہ مقتضائے فطرت انسانی ہے کہ اپنی جان بچانے کے کی تدبیر یں کرے !مگر غلبہء حال اس مقتضائے فطرت پر بھی غالب آجا تاہے ۔شرع شریف نے بھی اس حالت کی رعایت رکھی ہے ،چنانچہ حالت اضطرار میں مردار کھانا درست ہوجا تا ہے ،مگر اسی حدتک کہ جس سے وہ حالت رفع ہو ، اسی وجہ چند لقموں کے بعد جب وہ حال باقی نہ رہے تو مرد ار جو ضرورتاً حلال ہو گیا تھا پھر مردار ہو جائے گا ۔یہیں سے قیاس ہو سکتا ہے کہ بزگان دین پر جب سماع وغیرہ میں سچی حالت وجد طاری ہو تی ہے تو بعض کلمات و حرکات ان سے ایسے صادر ہوتے ہیں جوشرعاً وعقلاً ناجائز ہو تے ہیں ؟مگر چونکہ وہ سچی حالت ہوتی ہے اس لئے وہ معذور سمجھے جا تے ہیں ۔
الحاصل جب اسباب کسی حالت کے جمع ہ وجائیں تو وہ حالت و کیفیت ضرور پیدا ہو جا ئے گی ،مثلاً خبر متواخر اور قرائن سے ثابت ہو جائے کہ فلاں مقام میں شیر ہے اور شیرکا مقابلہ بھی ہوجا ئے تو حالتِ خوف ضرور طاری ہو گی ، ہاں یہ بات اور ہے کہ جو انمر دشخص ہو اور اس کو اپنے اسلحہ اور قوت ارادی پر اعتماد ہو کہ شیر کو مارلوں گا تو اس کا خوف نہ ہوگا ، اور جب یہ خیال ہو گا کہ اس کے مقابلہ میں سر بر نہ ہو سکے گا تو ضرور خوف کرے گا ۔ اب کہئے کہ کون ایسا ہوسکتا ہے کہ اپنی ذاتی قوت اور طاقت پراس کو اس درجہ گھمنڈ ہو کہ خداے تعالیٰ کے مقابلہ میں سربر ہوسکے ؟ اور اسی وجہ سے تمام انبیاء اوراولیاء جب خدائے تعالیٰ کی صفت قہاریت پر نظر ڈالتے ہیں تو بے اختیاران پر حالتِ خوف طاری ہو جا تی ہے ،مگر کیونکہ ان کاایمان اس پر کامل ہو تا ہے اور پھر جب صفات کمالیہ ان کے پیش نظر ہو جا تی ہیں تو رجاء کی کیفیت ان پر طاری ہو تی ہے
اسی وجہ سے علماء نے تصریح کی ہے کہ الا یمان بین الخوف والرجاء ۔ دراصل کلام الٰہی بھی اس کی تعلیم فرما تا ہے چنانچہ ارشاد ہے انہ لا ییا س من روح اللہ الا القوم الکافرون یعنی خداے تعالیٰ کے رحمت سے ناامید ہو نے والے سوائے کافروں کے اورکوئی نہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ خداے تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا ضروری ہے ۔اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے فلا یأمن مکر اللہ الا القوم الخاسرون یعنی خداے تعالیٰ کے مکر سے بے فکر ہو جانے والے نقصان اٹھا نے والوں کے سوا اور کوئی نہیں ۔جس سے ظاہر ہے کہ مکر الٰہی سے خوف رکھنا ضروری ہے۔کنزالعمال میں روایت ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من زعم فی الجنۃ فہو فی النار یعنی جو شحص کہے کہ میں جنتی ہو ں تو سمجھ جائوکہ وہ دوزخی ہے ۔ وجہ اس کی یہ معلوم ہو تی ہے کہ اس کا ایمان آیت شریف فلا یامن مکر اللہ پر نہیں ہے ، اور جس کا ایمان پورے قرآن شریف پر نہ ہو اس کا دوزخی ہونا نص قرآنی سے ثابت ہے ، چنانچہ ارشاد ہے أفتؤ منون ببعض الکتاب و تکفر ون ببعض فما جزاء من یفعل ذٰلک منکم الا خزی فی الحیوٰ ۃ الدنیا ویوم القیٰمۃ یردون الی اشد العذاب یعنی کچھ آیتوں پرایمان لا تے اور کچھ پرنہیں ایمان لا تے ، ایسے لوگوں کی جزاء یہی ہے کہ دنیا میں رسوا ہوں اورقیامت میںسخت عذاب میں ڈالے جائیں ۔
اب اگر اس پر بھی کوئی کسی قسم کا خیال پیش نظر رکھ کر یہ سمجھ بیٹھے کہ میں جنتی ہوں جس کا لازمہ یہ ہے کہ خداے تعالیٰ نے جن کاموں کے کرنے کاحکم فرمایا ہے وہ نہ کرے گا او رجن کاموں کے کرنے سے منع فرمایا ہے وہ کیا کرے گا تواس پر یہ آیت صادق آجائے گی أفمن اتخذ الہہ ہو ہ و اضلہ اللہ علیٰ علم جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کو معبود بنا لیا اور خداے تعالیٰ نے با وجود اس کے علم کے اس کو گمراہ کر دیا ۔خواہش کو معبود بنا نے کی یہی صورت ہے کہ خدا ے تعالیٰ کے ارشاد پر عمل نہ کرکے اپنی خواہش کی پیروی کر تا ہے ،پھر ایسے شخص کا ٹھکانہ حسب اصول عقلیہ وشرعیہ دوزخ ہی نہ ہو تو کیا ہو ۔
غرض کہ جس طرح خواہش نفسا نی میں اپنا تصرف کر تا ہے ،اسی طرح تمام اخلاق حمیدہ ذمیمہ میں اسی قسم کے تصرفات کر تاہے ،جس کا حال کتب اخلاق میں مصرح ہے ۔’’ اِحیا ء العلوم ‘‘کی کتاب الغرور یا اس کا ترجمہ ’’مذاق العارفین‘‘دیکھا جائے تو معلوم ہو کہ کیسے کیسے شیطان کے دھوکے ہیں جن میں وسوسوں کے ذریعہ سے کامیاب ہو تا ہے ۔اسی طرح جسمانی لذتوں سے متعلق وسوسے ڈالتا ہے اور آنکھ ،کان،ناک ، منہ ، ہاتھ ، پائوں وغیرہ سے برے کام کر واکر چھوڑ تا ہے ۔اگر اس بیان کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی کتاب ہو جائے گی ، مگر بمصداق العاقل تکفیۃ الاشارۃ کے یہ اجمال بھی کافی ہو سکتا ہے ، بشرطیکہ ہر ایک امر میں غور وفکر سے کام لیا جائے ۔ غرضکہ وساوس شیطانی بے انتہاء ہیں ،بغیراللہ کی پناہ کے ممکن نہیں کہ آدمی اس کے شر سے بچ سکے ۔
لذت گنا ہ :
جو لوگ پناہِ الٰہی میں پورے طورسے آکر شیطان کی وسوسہ اندازی اور مکر تز ویر بمقتضا ئے بشریت گناہ کے مرتکب ہو بھی جا تے ہیں تو ان کو گناہ کچھ ضروری نہیں دیتا،کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ گناہ سے جو لذت حاصل ہوئی وہ ایک نعمت الٰہی تھی جس کی
تخلیق میں سوائے خداے تعالیٰ کے کسی کو دخل نہیں ۔ اگر بجائے لذت کے اس میں مصیبت ہوتی تو ممکن نہیں کہ اس کا ارتکاب ہو سکتا ۔ مثلا ً دیکھئے کیسے ہی لذیذ کھانے مہیا ہو ں اگر منہ میں چھالے پڑجا ئیں تو بجائے لذت کے ان کو کھانے میں اذیت ہوتی ہے ۔علیٰ ہذ االقیاس ہر ایک عضو جس میں حسّ کو لذت کا احساس ہوتا ہے اس میں کوئی اافت آجائے تو جس کام سے التذاذ ہو تا ہے وہی کام اس کے حق میں عذاب ہوجا تا ہے ۔غرض کہ لذت دینا خداے تعالیٰ کا کام ہے ۔
اعلیٰ درجہ کا لشکر :
صحیح حدیث میں وارد ہے کہ حق تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ : اے موسیٰ تم میرا ایسا شکر کرو جیسا کہ شکر کرنے کا حق ہے !انہوں نے عرض کی : یا اللہ کس کو یہ طاقت ہے کہ ایسا شکر ادا کر سکے ؟ ارشاد ہوا : اے موسیٰ جب تم سمجھ لوگے کہ نعمت میری طرف سے ہے تو یہی اعلیٰ درجہ کا شکر ہو جائے گا ۔
خلق افعال وا رتکاب افعال میں فرق :
اگر چہ جائز نہیں کہ گناہ کر کے آدمی اللہ تعالیٰ کا شکر کرے ۔ مگر یہ اعتقاد رکھنا بھی لازمی تھا کہ جتنے افعال بندے سے صادر ہو تے ہیں سب کا خالق خداے تعالیٰ ہے ۔بخلاف اس کے اگر یہ اعتقاد کرے کہ شیطان اس فعل کا خالق ہے اس وجہ سے کہ یہ شیطانی فعل تھا تو یہ اعتقاد حد کفر کو پہنونچ جائے گا ۔ پھر اس اعتقاد کے موافق جب اس فعل میں خدا ے تعالیٰ کے خالق ہو نے کا خیال کیا جائے تو بحسب شرع شریف اس پر کوئی الزام عائد نہیں ہو سکتا ،بشرطیکہ اس کے ساتھ یہ اعتقاد بھی ہو کہ اس فعل سے خدا ے تعالیٰ منع فرمایا ہے اور اس کا مرتکب مستحق عقاب ہے۔ کیونکہ خلق افعال اور ارتکاب افعال میں بین فرق ہے ،اُس کا تعلق خداے تعالیٰ سے ہے اور اِس کا تعلق بندے سے ۔اس کا حسن اس وجہ سے ہے کہ وہ فعل خاص خداے تعالیٰ کا پید ا کیا ہوا ہے ، او ر قبح اس وجہ سے کہ خدا ے تعالیٰ نے اس کے ارتکاب سے منع فر مایا ہے
بری چیز کی تخلیق بری نہیں :
خداے تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا خواہ وہ اچھی سمجھی جائے یا بری ،اس کا پیدا کرنا برا نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس چیز کو خدا ے تعالیٰ نے پیدا کیا وہ بری نہیں ہو سکتی کیونکہ برائی اور بھلائی باعتبار آثار و لوازم کے ہوا کر تی ہے ،نفس شئے کواس سے کوئی تعلق نہیں، اس لئے کہ یہ امور اس کی ذات سے خارج ہیں ۔مثلاً دیکھئے کہ آگ خداے تعالیٰ کی مخلوق ہے،اس کو نہ بری کہنے کی ضـرورت ہے نہ اچھی کہنے کی بلکہ صرف وہ آگ ہے ،اس کے بعد اگر وہ کسی کو جلادے تو وہ ضرور کہے گا کہ کیا ہی بری چیز ہے ، اور اگر کھانا پکادے تو اعلیٰ درجے کی نعمت سمجھے گا ۔اسی پر تمام چیزوں کو قیاس کر لیجئے ۔سانپ اس وجہ سے برا سمجھا جا تا ہے کہ آدمی اس کے زہر سے ہلاک ہو جا تاہے ،اور کہا جا تا ہے کہ اگر جذامی کو ڈس لے تو اس کو صحت ہو جا تی ہے ،اس صورت میں جذامی اس کا عاشق ہو گا اور تلاش کر کے اس سے ملنا چاہے گا ۔اس سے ظاہر ہے کہ کوئی شیز فی حدِ ذاتہ ٖ بری نہیں ،بلکہ موجود ہونے کی حیثیت سے اچھی ہے ، اگر کوئی بری چیز ہے تو عدم ہے ۔
یہ اشیاء کا حال تھا ،اسی طرح افعال کا حال بھی ہے کہ موجود ہو نے کی حیثیت سے کل افعال اچھے ہیں ،او رنیز اس وجہ سے کہ خاص خداے تعالیٰ کے پیدا کئے ہو ئے ہیں ،جس کی حکمت کا یہ مقتضیٰ نہیں ہو سکتا کہ دیدہ ودانستہ بری چیز کو پیدا کرے ۔غرض کہ فعل بھی فی نفسہ ایک موجود چیز ہے ،جس کی برائی یا بھلائی با عتبار آثار ولوازم کے ہوگی ۔ جتنے برے کام ہیں چونکہ ان کے لوازم برے ہیں اس وجہ سے وہ برے ہیں ، ورنہ ان کو برے کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بسااوقات اچھے کام بھی کسی وجہ سے برے کام ہو جا تے ہیں اور برے کام اچھے ، مثلاً کثرت عبادت سے بہتر کوئی چیز نہیں مگر ریاء وغیرہ کی وجہ سے وہ بری ہو جا تی ہیں :
کلید درِ دوزخ است آں نماز
کہ از بہر مرد م گزاری دراز
لیجئے نماز جو باعث دخول جنت ہے وہ دوزخ کی کنجی ہو ئی جارہی ہے !!
حضرت عمرؓ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے نکلے تھے تب ان کا اس ارادے سے راہ طے کرنا کیسا فعل تھا ؟ نبی کے قتل سے بدتر کوئی فعل نہیں ہوسکتا ،مگر جب اس فعل کے ذریعہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچ کر مشرف باسلام ہو ئے تو ایسے فعل کو جو ابد الآباد تک فضیلت کا باعث ہوا اگر تمام اعمال حسنہ سے اچھا کہا جائے تو بے موقعہ نہ ہوگا !دیکھئے یہ ایک ہی فعل ہے یعنی چل کر رہ طے کر نا ایک اعتبار بدترین افعال تھا ،اور ایک اعتبارسے بہترین افعال ہوا ۔غرضکہ نفس فعل نہ برا ہے نہ اچھا ،بلکہ وجود کے اس کو اچھا بھی کہہ سکتے ہیں ۔جب یہ معلوم ہو گیا کہ افعال میں برائی او ربھالائی بحسب اعتبار ہے تو اس اعتبارسے کہ آدمی کو جس فعل میں تلذذ ہواسے نعمت کہنے میں کوئی تامل نہیں ، یہ صحیح ہے کہ شرعاً ممنوع ہو نے کی وجہ سے اس کا نتیجہ برا ہوگا ،ا س اعتبارسے اس کو براکہنا بھی ضروری ہے ،مگر ارتکاب کے وقت اس میں و ہ برائی موجود نہیں جو آئندہ جزاء کے وقت ہونے والی ہے ، اس لحاظ سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ فعل تو تلذ ذکر کی وجہ سے نعمت تھا مگر اس کی جزاء بری ہے جس سے اذیت حاصل ہوگی ۔جس کا مطلب یہی ہوا کہ فعل فی نفسہ اچھا بلکہ ایک نعمت تھا جو مستو جب شکر ہے مدارج میں خلط نہ کیا جائے تو نفس فعل قابل شکر ہے اور اس کی جزاء قابل اجتناب ۔
جولوگ پناہِ اِلٰہی میں آجا تے ہیں اگر ان سے کوئی گنا ہ صادر ہوجاتا ہے تو اس لحاظ سے کہ نعمت ہے شکر الٰہی دل سے بجالاتے ہیں ،اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی اقراراکر تے ہیں کہ بے شک ہم سے گنا ہ صادر ہوا جس کا انجام برا ہے اور اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں
سیدالا ستغفار کے معنیٰ :
چنانچہ یہی بات سید الاستغفار سے ظاہر ہے جس کے یہ الفاظ صحیح احادیث میں وارد ہیں اللہم انت ربی الا اِلٰہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وابن عبدک وابن امتک نا صیتی بیدک وانا علیٰ عہدک ووعدک ما استطعت دعوذ بک من شر ما صنعت ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاعفرلی ذنوبی فانہ لایغفرالذنوب الا انت یعنی : ’’یا اللہ تو میرا رب ہے کوئی معبود برحق تیرے سو انہیں ،تونے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندہ کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں ، اور تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں جہاں تک مجھ سے ہوسکتا ہے ، جو براکام میںنے کیا اس کے شر سے میں تیر ی پناہ میں آتا ہوں اور میں اقرار کر تاہوں کہ مجھ پر تیری نعمت ہے ،او راپنے گناہ کا بھی اقرار کر تا ہوں تو خدا یا میرے گنا ہ بخشدے کیونکہ تیرے سواکوئی گناہوں کو نہیں بخشتا ‘‘۔
دیکھئے نعمت اکا اقرار کرنا اعلیٰ درجہ کا شکر ہے ،جیساکہ حدیث شریف سے ابھی
معلوم ہوا ، اور اس موقعہ پر سوا س تلذ ذ گناہ کے اور کونسی نعمت تھی ! پھر اس کے ساتھ ہی گناہ کا اقرارا بھی ہوگیا ، اور اس کے شر سے پناہ مانگی گئی ۔ یہ بات معلوم ہے کہ آدمی کا نفس ہمیشہ اپنی خواہشوں کو پوری کرنے کی فکر میں میں لگا رہتا ہے ،خواہ جائز طریقہ سے ہو یا ناجائز ،او رشیطان ناجائز طریقوں سے پور ی کرنے کی تدبیر یں بتا تا ہے،جب اس قسم کی بات آدمی کو معلوم ہو جاتی ہے تو شیطان کو گناہوں پر جرأ ت دلانے کا موقعہ مل جا تا ہے کہ جب وہ خداے تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے تو نہایت شکر گزاری سے اس کو حاصل کرنا چاہئے !اس قسم کے دھوکہ کہ میں وہی شخص آجاتاہے جس کا ایمان ضعیف ہو یا برائے نام مسلمانو ںمیں شریک ہے ،کامل الایمان ایسے وسوسوں پر ’’لاحول ‘‘ پڑھتا ہے کیونکہ وہ یقینا جانتا ہے کہ خدا ے تعالیٰ گناہوں سے ناراض ہو تا ہے اور ان کی سزا ئیں مقررکی ہیں ، اسی وجہ سے اگر گناہ اتفاقاً صادر ہو جائے تو نہایت عجز والحاج سے بارگاہ کبریانی میں عرض کر تا ہے کہ الٰہی میں اقرار کر تا ہوں کہ گنا ہ مجھ سے صادر ہو گیا اب تیرے سواکوئی اس کے وبخشنے والانہیں اس کے شر سے میں تیری پناہ میں آتا ہو ں میرے گناہ کو بخشدے ۔اگر ایسانہ کرے تو گناہوں کا سلسلہ قائم ہو جا تاہے اور دل سیاہ اور زنگ آلود ہو جا تا ہے ۔
چنانچہ کنز العمال میں روایت ہے کہ فرما یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : بندہ جب کوئی گناہ کر تا ہے توا س کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑ جا تا ہے ،اگر گناہ کو اس نے چھوڑ دیا اور استغفار اور توبہ کی تو دل کی صیقل ہو جا تی ہے ،اور اگر پھر کیا تووہ دھبہ بڑھ جا تا ہے اوراس کے دل کو گھیر لیتا ہے ،اسی کا نام ’’ران ‘‘ ہے جس کو خداے تعالیٰ نے ذکر فر مایا ہے کلا بل ران علیٰ قلوبھم ماکانو یکسبون ۔
الخناس
الخناس :ہٹنے اور چھپنے والا
احادیث میں وارد ہے کہ شیطان اپنی چونچ (سونڈھ)آدمی کے دل پر رکھ کر وسوسے ڈالتا ہے ،اورجب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لتاہے تو وہ ہٹ جا تا ہے ۔
اس سے ظاہر ہے کہ جس دل میں یا د الٰہی ہو شیطان کا اس پر تسلط نہیں ہوسکتا۔اسی وجہ سے اولیاء اللہ گناہوں سے محفوظ ہیں ، اور انبیاء معصوم ،کیونکہ ان حضرات کے دل میں ہر وقت یادالٰہی رہتی ہے یہاں تک کہ دنیوی کاموں میں بھی ان کو غفلت نہیں ہوتی ۔چنانچہ ہم نے مقاصد الاسلام کے کسی حصہ میں اس کو بتفصیل بیان کیا ہے کہ ہر کام میں ایک خاص قسم کاذکرکیا کر تے ہیں ۔حدیث شریف میں وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ : ’’ لوگ ڈرتے رہو اور شیطان سے بچو ،کیونکہ وہ تم کو آزما تا ہے کہ تم میں کون شخص عمل میں اچھا ہے ‘‘۔مقصود اس سے یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا ہے کہ ان عبادی لیس لک علیہم سلطان یعنی میرے خاص بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوسکتا ۔جب وہ وسوسے ڈالنے کا موقعہ نہیں پاتا یا وسوسہ ڈالتا ہے مگر اس کی کچھ چلتی نہیں تو سمجھ جا تاہے کہ یہ انہیں لوگوںمیں سے ہیں جن پر اپنا تسلط نہیں ،اس وقت دوسری تدایبر میں مصروف ہو تا ہے
چنانچہ حضرت غوث الثقلینؒ کے حال میں لکھا ہے کہ آپ نے اوائل میں بڑے بڑے مجاہدے فرمائے ،ایک رات ذکر الٰہی میں مشغول تھے کہ یکبار گی آسمان پر روشی نمایاں ہو ئی جس سے آفاق روشن ہو گئے آپ متحیر ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے ، غیب سے آواز آئی کہ اے عبد القادر تم نے بہت عبادت کی اس کے معاوضہ میں ہم تمہیں یہ بدلہ دیتے ہیں کہ جن چیزوں کو اوروں پر حرام کیا تم پر حلال کر دیا !یہ سنتے ہی آپ نے لاحول پڑھی اس کے ساتھ ہی وہ روشنی مبدل بہ تاریکی ہو گئی او رآواز ائی کہ اے عبد القادر میںنے بہت سے لوگوں کو جو اس درجہ پر پہونچے تھے گمرا ہ کر دیا مگر آپ علم کی وجہ سے بچ گئے ۔ یہ ایک بیرونی تدبیر تھی ۔ غرضکہ شیطان بیرونی اور اندرونی تدایبرہمیشہ کر تا اور موقعہ بے موقعہ آزما تاہے ۔او رآخری آزمائش اس کی موت کے قریب ہو تی ہے جس میں پورا کافر بنا نے کی فکر کر تا ہے ،چنانچہ حق تعالیٰ فرما تا ہے کہ اذقال الشیطان للا انسان اکفر فلا کفر قال انی بری ئٌ منک انی اخاف اللہ رب العالمین یعنی : جب کہتا ہے شیطان انسان کو کہ کافر ہو جا !اگر وہ کافر ہوگیا تو کہتا ہے میں تجھ سے بری ہوں میں خداے تعالیٰ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔
’’آکام المرجان فی احکام الجان ‘‘ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ جب مسلمان شیطان کے فتنوں سے بچ کر حالت ایمانی پر مرتا ہے تو شیطان کو نہایت غم ہو تا ہے او اس طرح روتا ہے کہ کوئی گھر والوں کے مرنے پر بھی نہیں روتا ۔ اسی میں لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل ؒنے موت کے قریب ’’لا بعد لابعد ‘‘ کہا جب انہیں افاقہ ہوا تو ان کے فرزند صالح نے پوچھا کہ آپ نے’’ لا بعد لا بعد‘‘ جو فرمایا ہو کیا بات تھی ؟فرما یا کہ شیطان نے میرے سر کے پاس آکر مجھ سے کہا کہ اے احمد میں کچھ پوچھتا ہوں فتویٰ دیجئے !میں نے ’’لابعد لا بعد ‘‘ کہا یعنی اس وقت نہیں ،بعد دیکھا جائے گا ۔ معلوم نہیں کہ کس قسم کا سوال اس نے سونچ رکھا تھا جس سے ایسے جلیل القدر امام کے ایمان کوسلب کرنے کی فکر تھی۔
اور اسی میں ابو دائود کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے ’’وأعوذ بک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت ‘‘یعنی :’’یا اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے قریب شیطان مجھے مخبوط بنادے ‘‘۔ اگر چہ کہ یہ دعاء امت کی تعلیم کے واسطے تھی ، مگراس سے صاف ظاہر ہے کہ شیطان موت کے قریب اپنا پورا زور لگا تا ہے ۔
اور اسی کتاب میں صالح بن احمد بن حنبل سے ایک روایت منقول ہے کہ جب فرشتے مسلمان کی روح آسمان پر لے جا تے ہیں تو وہاں کے فرشتے تعجب کر کے کہتے ہیں کہ اس شخص نے شیطان کے ہاتھ سے کس طرح نجات پائی؟! ابن جوزیؒ نے تعجب کی وجہ لکھی ہے کہ :شیطان کے فتنے کثرت سے ہیں اور دل کے پاس اس کا مقام ہے ،اور وہ ایسی ہی چیزوں کی طرف لے جاتا ہے جو آدمی کی خواہش کے مطابق ہوں ، اور نفسانی خواہشیں ایسی بلا کی ہیں کہ ہاروت و ماروت جو فرشتے تھے جب خواہشیں انہیں دی گئیں تو وہ اپنے کو بچانہ سکے ، تو انسان کس طرح اپنے آپ کو مکر شیطان سے بچا سکتا ہے اور ان امور کے لحاظ سے فرشتے تعجب کر تے ہیں کہ جس طرح اس نے اپنے آپ کو شیطان سے بچایا ہوگا ۔ اب غور کیجئے کہ ایمان دار کو شیطان کے فتنوں سے کس قدر ڈرنا اور ہمیشہ پناہ مانگنا چاہئے ۔
نفس وسوسہ کوئی بری چیز نہیں
یہاں یہ بھی معلوم کر نے کی ضرورت ہے کہ شیطان کی صرف وسوسہ اندازی سے کوئی نقصان نہیں ، اس لئے کہ وہ شیطان کا فعل ہے اس کی جزاء وہی بھگتے گا ۔ صرف اس وسوسے کے دل میں پیدا ہونے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دل بھی نجس یا خراب ہو گیا ،کیونکہ ابھی معلوم ہوا کہ کوئی چیز اپنی ذات سے بری نہیں ۔ اگر فرض کیا جائے کہ عمر بھر برابر وسوسہ دل میں رہے اور آدمی اس کو اچھا یا برا نہ سمجھے تو اس سے کوئی نقصان نہیں، ہا ں اگر اس برے وسوسے کو اچھا سمجھے تو یہ سمجھنا جو اس کا فعل ہے قابل مؤاخذہ ہو گا اور برا سمجھے تو وہ قابل تحسین ہوگا ۔ چنانچہ صحابہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی کہ بعض وقت برے خطرات د ل میں آ تے ہیں جن کا بیان ناگورا ہو تا ہے ؟فرمایا کیا تم ان کو برے سمجھتے ہو؟عرض کیا کہ جی ہاں ! فرمایایہی تو ایمان ہے ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اگر ایمان نہ ہوتا تو اس کو برا کیوں سمجھتا؟ بے ایمان تو برے خطروں کو پرورش کر کے ان سے کام لیتا ہے ۔
غرضکہ نفسِ خطرہ اور وسوسہ برا نہیں اس وقت تک کہ برے وسوسے کو اچھا نہ سمجھے ،یا اس پر عمل نہ کرے ۔جب وسوسہء شیطانی دل میں پیدا ہو اور آدمی یہ خیال کرے کہ ا س کا خالق خداے تعالیٰ ہے اس میں میرے فعل کو کوئی دخل نہیں کیونکہ ہر اختیاری کام میں پہلے اس کا علم اور ارادہ ضرور ہواکرتا ہے ،اور اس خطرے کے وقت نہ اس کا علم اور ادارک تھا نہ اس کی جانب ارادہ مبذل ہوا ،جس سے ظاہر ہے کہ ہمارے فعل کو اس میں کوئی دخل نہیں ! تو یہی باعث تقرب الٰہی ہوگا ۔ کیونکہ جب تک اس خیال میں وہ مصروف ہے خدا ے تعالیٰ کا ذکر اور مشاہدہ ٔصفات الٰہیہ ہے اور بمصداق حدیث شریف انا جلیس من ذکر نی حق تعالیٰ کے ساتھ اس کو مجا لست حاصل ہے ۔ اور بمصداق آیت شریف فاذکرونی اذکرکم وہ اس درجہ پر فائز ہے کہ خداے تعالیٰ ا س کا ذکر فرما رہا ہے ۔دیکھئے وہ وسوسہ شیطانی کس قدر باعث تقرب الٰہی ہوگیا !مگر یہ بات ہر شخص کو حاصل ہونا مشکل ہے ۔ ہم لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ جہاں شیطان نے وسوسہ ڈال کر برے کام کی طرف توجہ دلائی اس کام کی طرف متوجہ ہوگئے اور نفس ناطقہ کو اپنی خواہش پوری کرنے کی فکر ہوگئی ،اگر کوئی مانع نہ ہوتو اس کو پوری کر بھی لیا ۔مثلاً جس طرح دیوانو ں کا حال ہو تاہے کہ جب ان کے دل میں کسی کو مارنے کا وسوسہ اور خیال آجا تاہے تو بلا تامل مار بیٹھتے ہیں ،بخلاف عقلاء کے کہ وہ اس خیال میں غور و تامل کر تے ہیں ۔ پھر جس قدر عقل زیادہ ہوگی غور و فکر زیادہ ہوگی ،اعلیٰ درجے کا عاقل و ہ سمجھا جائے گا جو اس امر پر غور کرے کہ ایسا خیال کیوں پیدا ہوا ؟ اور اس کا منشا کیا ہے ؟اور اس کے موافق عمل کیا جائے تو اس سے کس قسم کی خرابیاں پیدا ہوں گی
غرض کہ جو جو عقلاء ہیںوہ سب سے پہلے یہ خیال کر تے ہیں کہ اس خیال کا پیدا کرنے والا کو ن ہے ؟ جب ان کو ایمانی طریقہ سے معلوم ہو تا ہے کہ سوائے خداے تعالیٰ کے کوئی اس کا خالق نہیں تو اس کے نتائج پر غور کر تے ہیں کہ آیا وہ فعل جس سے وسوسہ متعلق ہے باعثِ خوشنودی الٰہی ہے یا باعث غضب ؟ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ باعثِ خوشنودی الٰہی ہے تو فوراً اس وسوسہ کے مطابق کا م کر لیتے ہیں اور اس وسوسہ کو اس حدیث کے موافق اچھا سمجھتے ہیں جو تفسیر در منثور میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کر تے تھے اللہم اعمر قلبی من وسواس ذکرک و اطر د عنی وسواس الشیطان یعنی : ’’یا اللہ میرے دل کو تیرے ذکر کے وسواس سے آباد رکھ ،اور شیطان کے وسواس مجھ سے دور کر ‘‘۔ اوراگر یہ معلوم ہو کہ وہ سوسہ باعث غضب الٰہی ہے تو خشیت اور خشوع ان پر طاری ہو تے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صفت اضلال کا ظہور ہو رہا ہے اور واسطہ اس میں شیطان ہے ،کیونکہ ہدایت کرنا اور گمراہ کرنا دونوں خداے تعالیٰ ہی کے کام ہیں ،چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ : نہ مجھے ہدایت میں دخل ہے نہ شیطان کو گمراہی میں ۔ یعنی دونوں خدا ہی کے کام ہیں ، چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے یضل من یشاء و یھدی من یشا ء یعنی جس کو وہ چاہتا ہے گمراہ کر تا ہے اور جس کی چہا تا ہے ہدایت کر تاہے ،اور ارشاد ہے ومن یضل فلا ہادی لہ ۔ جب یہ خیال متمکن ہو تا ہے کہ اب خداے تعالیٰ گمراہ کرنا چا ہتا ہے تو کمال عجزو انکسار سے وہ دعائیں اورعرض و معروض شروع کرتے ہیں جس کی تعلیم حق تعالیٰ نے دی ہے مثلاًربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب یعنی : اے رب ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال بعداس کے کہ تونے ہمیں ہدایت کرکے اسلام کی سیدھی راہ دکھلا دی ہے ۔ اس کے سوا اور دعائیں جن کی تعلیم دی گئی ہے کمال تضرع وزاری سے کرنے لگتے ہیں جس سے رحمتِ الٰہی جوش میں آکر اسی وسوسہ کو بے اثر کر دیتی ہے،اور شیطان حسر ت بھری نگا ہوں سے دیکھتا رہتا ہے کہ کرنا کیا چا ہا تھا اور ہوگیا کیا۔ اور اگر بمقتضائے بشریت گناہ صادر ہو گیا توان کو حزن و ندامت ہو تی ہے اور توبہ کر تے ہیں ،یعنی خداے تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تے ہیں کہ الٰہی گناہ صادر تو ہوگیا اور اس کی سزا کا مستحق بھی ہوں مگر اپنے فضل سے تو معاف فر مادے تو تیر ی عام رحمت سے کچھ بعیدنہیں تو غفارہے، ستارہے ۔
کنز العمال میں یہ روایت ہے کہ فرما یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : بندہ گناہ کر تا ہے پھر جب وہ گناہ اسے یاد آئے اور اس فعل پر غم ہوتو خداے تعالیٰ اس کے دل کو دیھکتا ہے اس کی حالت غم کو دیکھ کر وہ گنا ہ معاف فر ما دیتا ہے
والذین اذافعلو افا حشۃ ا وظلمو ا انفسہم ذکرو االلہ فستغفرو لذنوبہم ۔ولم یصروا علیٰ ما فعلو ا وہم نا دمون غرضکہ صدق دل سے وہ خداے تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کر کے گناہ کو معاف کر وا لیتا ہے اور وہ اس شخص کے مثل ہو جا تا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث شریف میں وارد ہے التائب من الذنب کمن الاذنب لہ ۔
توبہ :
ترغیب و ترہیب میں بخاری ؒ اور مسلم ؒ وغیرہ سے منذری ؒ نے نقل کیا ہے کہ فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی بندہ توبہ کر تاہے تو خداے تعالیٰ کو اس مسافر سے بھی زیادہ خوشی ہو تی ہے جو اپنا کھانا پانی وغیرہ حوائج اونٹ پر رکھ کر جا رہا تھا کسی جنگل میں اونٹ سے اتر کر سورہا جب بیدار ہو اتو دیکھا کہ اونٹ غائب ہے اس کی تلاش میں نکلا اور بہت پریشان اِدھر اُدھر پھرا مگر کہیںاس کا پتہ نہ پایا جب دھوپ سخت ہو ئی اور بھوک اور پیاس غلب ہوئی اور موت آنکھیں میں پھر گئی تو کہا چلو اسی مقام پر جاکر مر جائیں جہاں سے اونٹ چلا گیا اور اس مقام میں آکر سو رہا جب آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہے کہ اونٹ کھڑا ہے اور توشہ پانی وغیرہ محفو ظ ہے یہ دیکھ کر مارے خوشی کے کہنے لگا یا اللہ تو میرابندہ اور میں تیرا رب ہوں ! کمال خوشی میں یہ بھی نہ معلوم ہوا کہ کیا کہہ رہا ہے ۔ اب غور کیجئے کہ اس حالت مایوسی میں کس قدر خوشی ہو نی چاہئے اس کا صحیح اندازہ آرام سے گھر میں بیٹھنے والے نہیں کر سکتے ۔ مگر اتنا تو معلوم ہو تاہے کہ اس سے زیادہ خوشی کا کوئی درجہ نہ ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ جب کوئی بندہ توبہ کر تا ہے تو حق تعالیٰ کو اس بھی زیا دہ ہو تی ہے جو شخص مذکورہ کو ہوئی،یہ شان الرحم الراحمین ہے کہ تو بہ کا نفع تو بندہ کو ہو اور ابدالآ باد بے انتہا ء نعمتوں میں خوش رہے اور خوشی خداے تعالیٰ کو ہو ۔
اسی کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے جو کنز العمال میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا لو لم تذ نبو الذہب اللہ بکم ۔الخ،جس کا ترجمہ یہ کہ : ’’اگر تم گناہ نہ کر تے تو خدا ے تعالیٰ تم کو فناء کر کے ایک ایسی قوم پیدا کرتا جو گناہ کر تی اور خداے تعالیٰ سے مغفرت ما نگتی اور وہ اس کو بحش دیتا‘‘۔ اس سے مقصود یہ نہیں کہ آدمی گناہ کیا کرے ، بلکہ بات یہ ہے کہ صحابہؓ سے جب کبھی گناہ سرزد ہو تا تھا تو مارے خوف کے زندگی ان پر وبال ہو جا تی تھی ،اس کی تصدیق ما عز کے واقعہ سے ہوتی ہے جو کتب احادیث میں مذکورہے کہ ان سے زنا وقوع میں آیا ،ساتھ ہی وہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے زنا کیا مجھ پر حد جاری فر مائیے !حضرت ؐ نے بہت کچھ اغماض فرمایا اور ٹالا مگر وہ نہ مانے چنانچہ رجم کا حکم دیا گیا ،جس سے وہ شہید ہوگئے ۔جب صحابہ کو گناہ سے اس درجہ خوف تھا کہ زندگی ان پر وبال ہو جا تی تھی تو ان کی تسکین کے لئے ارشاد ہواکہ: اگر تم گناہ نہ کرتے تو خداے تعالیٰ ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کر تی اور توبہ کرتی۔ مقصود یہ کہ اگر گنا ہو جا ئے تو توبہ کرلینا چاہئے اور رحمت خداوندی سے ہر گز مایوس نہ ہو نا چاہئے ۔
الحاصل حدیث مذکورسے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ خدا ے تعالیٰ کو یہ امر نہایت مرغوب ہے کہ گناہ گا رتو بہ کرے اور وہ اس کو بخشدے ۔چونکہ حق تعالیٰ ارحم الرحمین ہے اور صفت رحمت اس میں بڑھی ہوئی ہے ،اورمغفرت رحمت کا ایک شعبہ ہے اس لئے توبہ کو نہایت دوست رکھتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ان اللہ یحب التوابین تاکہ توبہ کے بعد مغفرت فرمادے ،اور توبہ بغیر گناہ کے نہیں ہو سکتی تھی اس لئے یہ اہتمام ہو اکہ ایک بھٹکا نے و بہکانے والا پیدا کیا گیا ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے جو کنزالعمال میں مذکورہے کہ :’’اگر خداے تعالیٰ کو یہ منظور ہو تا کہ کوئی اس کی معصیت نہ کرے تو ابلیس کو نہ پیدا کرتا ‘‘ ۔اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ولو شاء لہد اکم اجمعین ۔
جب توبہ سے خداے تعالیٰ کو نہایت خوشی ہو تی ہے تو ہر مسلمان کو شاہئے کہ توبہ کرے ۔ کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے لوگو توبہ کرو ،خدا کی قسم میں ہر روز سوبار توبہ کیا کرتا ہوں ‘‘۔ اس میں شبہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توبہ کی کوئی ضرورت نہ تھی ،کیونکہ آپ سے گناہ صادر ہی نہیں ہوا ،مگر باوجود اس کے آپ توبہ کر تے تھے ،اس وجہ سے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین یعنی نیک لوگوں کے حسنات مقربین کے گناہ ہیں ۔کیونکہ مقربین کی شان کے گنا ہ بھی ایسے ہو تے ہیں کہ اگر ہمیں وہ نصیب ہو جائیں تو ہماری نجات ہو جائے ۔
بہر حال آنحضرتؐ کا توبہ کرنا ثابت ہے ۔تو اب مشا ئخین اور پیروں کو کس قدر توبہ کی ضرورت ہو گی !ایہاں تو علا نیہ وہ گناہ ہیں جس کو ظاہر شریعت نے گناہ قرار دیا ہے ۔یوں تو ہر بندہ کا فرض ہے کہ اپنے خالق کو خوش کرے ،مگر جن لوگوں کو محبت الٰہی کا دعویٰ ہے اور زمرۂ اہل اسلام میں اسی خصوصیت سے سربرآوردہ سمجھے جا تے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کی تعظیم و توقیر کر تے ہیں وہ بہ نسبت مردین کے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ گناہوں سے توبہ کرکے اپنے محبوب کو خوش کریں ۔ اگر یہی حضرات ایسے کاموں میں مبتلاہوں جن کو خدا ے تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ قرار دیا اور صاف ارشادہوا کہ اسیے کام کرنے والوں سے خدا ے تعالیٰ نا خوش ہے توکہئے کہ کس قدر بے موقعہ ہو گا ۔ اور مریدین کو بھی لازم ہے کہ سلوک کی راہ میں آنے سے قبل
خدا ے تعالیٰ ک وخوش کریں ۔ چنانچہ قوت القلوب وغیرہ کتب تصوف میں لکھا ہے کہ پیر کو چاہئے کہ مرید کو سب سے پہلے توبہ کرنے کا حکم دے ۔
مگر یہ بات یاد رہے کہ ’’توبہ توبہ ‘‘ یا اتوب الی اللہ کہہ دینا کا فی نہیں ،بلکہ بزرگان دین کے نزدیک یہ خود گناہ ہے ،جیسا کہ قوت القلوب جو حضرات صوفیہ کے نزدیک معتبرکتاب ہے اور بزرگان دین نے اس کے مطالعہ کی تاکید فرما یا کر تے تھے اس میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ :جب استعفراللہ زبان سے کہتاہوں اوردل میں ندامت نہیں ہوتی اس اسبات سے استغفار کر تاہوں اور خداے تعالیٰ سے مغفرت مانگتا ہوں ۔او رلکھا ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ :زبان سے استغفار کرنا بغیر اس کے دل میں ندامت ہو جھوٹوں کی توبہ ہے ۔اور رابعہ بصریہ ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ : ہمارا استغفار کرنا خوذ دوسر ے استغفار کا محتاج ہے ،اسی طرح توبہ اس کی محتاج ہے کہ اس سے توبہ کی جائے ۔
حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ غنیتہ الطالبین میں لکھتے ہیں کہ :توبہ ہر شخص کے لئے فرض عین ہے کوئی بشر اس سے مستغنی نہیں ،کیونکہ وہ جوراح اوراعضاء کی معصیتوں سے بچ نہیں سکتا اور اگر اس سے بچ بھی گیا تو دل کے گنا ہوں کے ارادہ سے بچ نہیں سکتا ،اوراگر اس سے بھی بچ گیا تو شیطان جو دل میں مختلف خطرے ڈالتا ہے جن کی وجہ سے ذکر الٰہی سے غافل ہوجا ئے بچ نہیں سکتا ،اور اگراس سے بھی بچ جائے تو غفلت اور علم صفات و افعال الٰہی کے حاصل کرنے میں قصور اور کوتاہی کرنے سے بچ نہیں سکتا ۔ یہ تمام مؤ منین کے احوال اور مقامات ہیں ، جن کے لئے طاعات اور گناہ اور حدود اور شروط مقررہیں ، حفاظت ان کی اطاعت ہے اور ان کا چھوڑ دینا اور ان سے عفلت کرنا گناہ ہے ۔ بہر حال ہر شخص کو ہر حالت میں توبہ کی ضرورت ہے ،مگر مقامات جدا جدا ہیں ۔ عوام کی توبہ گناہوں سے ہوگی ،اور خواص کی توبہ غفلت سے ،اور خاص الخاص کی توبہ ما سویٰ اللہ کے طرف مائل ہونے سے ۔
اور فرمایا کہ : توبہ ایسی ہو نی چاہئے کہ پھر معصیت کی جانب پلٹنے کا خیال کرے نہ اور کسی گناہ کا خیال کرے ، بلکہ گناہو ں کا خالص اللہ کے لئے چھوڑ دے تاکہ خاتمہ اچھا ہو ۔
اور فرمایا کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : ایماندار اپنے گناہ کو مثل پہاڑ کے سمجھتا ہے جو اس کے سرپر معلق ہو ، وہ ڈرتا ہے کہ یہ پہاڑ کہیں مجھ پر گرنہ جائے ،او رمنا فق گناہ کو ایسا سمجھتا ہے جیسے مکھی ناک پر بیٹھی اوراس کو اڑا دیا ۔
اب غورکیجئے کہ جب حضرت پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گناہوں سے اس قدر خوف دلا تے ہیں اور توبہ کی شدید ضرورت بیان فرما تے ہیں تو ہم مریدوں کو اس کا کس قدر اہتمام کرنا چا ہئے ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من لا یستغفر لا یغفر اللہ لہ ،ومن لا یتوب لایتوب اللہ علیہ یعنی :’’جو شخص خدا ے تعالیٰ سے مغفرت نہ ما نگے خدا ے نہیں بخشتا ،اور جو شخص توبہ نہ کرے خدا اس کی طرف توجہ بہ رحمت نہیں کرتا ‘‘۔یہ روایت کنزالعمال میں ہے ۔
بہرحال جنتے بزرگان دین ہیں سب نے اپنے مریدو ں کو یہی تعلیم تلقین و وصیت کی ہے کہ گناہوں سے توبہ کیا کریں ۔کیوں نہ ہوحق تعالیٰ کا ارشاد ہے فتوبو االی اللہ جمیعاً ایھا المؤمنون لعلکم تفلحون یعنی اے ایمان والوتم سب کے سب توبہ کرو اور اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلا ح پائو ۔ اور ارشاد ہے توبو الی اللہ توبۃ ًنصوحا عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیئا تکم یعنی :اے مسلمانوں خالص توبہ کرو خدا ے تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ۔
یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ اذکار و اشغال نوافل میں داخل ہیں،اور گناہوں سے توبہ کر نا فرض ہے ،کیونکہ بار بار خدا ے تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے ۔اور ظاہر ہے فرض کو چھوڑ کر نوافل کا اداء کرنا مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ نوافل کو ترک کرنے سے مؤاخذہ نہیں ، اور فرض کو ترک کرنے پر سوال اور مؤاخذہ ہوگا ۔
فوائد الفؤادی کی مجلس ہفتم ؍ماہ رجب ۷۱۵؁ ہجری میں لکھا ہے کہ حضرت محبوب الٰہی سید نظام الدین قدس سرہ نے فرمایا کہ توبہ تین قسم پر ہے :حال ،ماضی ،مستقبل ۔حال یہ ہے کہ جو گناہ کیا ہے اس سے نادم او رپشیمان ہو ۔ ماضی وہ ہے کہ مخالفوں کو خوش کرے اگر کسی سے د س درہم غصب کیا ہو اور اس سے توبہ کرنے کے خیال سے ’’توبہ توبہ ‘‘کہے تو یہ توبہ ،توبہ نہ ہوگی ۔ توبہ وہ ہے کہ درہم اس کو واپس کر کے اس کو خوش کرے ، او اگر وہ کسی کو بد کہا ہو اس کی معذرت کرکے اس کو خوش کرے اور اگروہ شخص مرگیا ہو تو جتنے بار اس کی برائی کی ہے اس کی تعریف کرے ۔ اور اگر شراب سے توبہ کرنا چاہئے تو عمدہ شربت اور ٹھنڈاپانی کثرت سے پائے ۔مقصود یہ ہے کہ توبہ کے وقت معذرت ہر معصیت کی اسی کے مناسب ہو نی چاہئے ۔توبہ کی تیسری قسم جو مستقبل ہے وہ یہ ہے کہ نیت کرے کہ آئندہ اس قسم کا گناہ نہ کروں گا ۔
اس کے بعد فرمایا کہ : میں جب شیخ الاسلام فرید الحق والدّین قدس سرہ العزیز کی خدمت میں بعیت کی غرض سے حاضر ہوا تو بار بار فرمایا کہ :اپنے خصموں کو راضی کرنا چاہئے !جب اس میں بہت غلو فرما یا تو مجھے یا دآگیا کہ میرے ذمہ بیس جیتل واجب الاداء ہیں اور ایک شخص سے میں نے کتاب عاریت لی تھی وہ گم ہو گئی ،میں سمجھ گیا کہ حضرت کثف سے یہ بیان فر ما رہے ہیں ، میں نے دل میں یہ عہد کر لیا کہ جب دہلی جائوں گا تو ان کو خوش کر دوں گا ، جب اجود ھن سے دہلی آیا اس وقت میری معیشت بہت کم تھی ، کبھی پانچ چیتل میرے پاس جمع ہوئے اور کبھی زیادہ ایک باردس چیتل جمع ہوگئے تواس بزاز کے مکان پر گیا جس سے کپڑا لیا تھا جن کی قیمت بیس چیتل میرے ذمہ تھی اور اس سے کہا کہ بیس چیتل تمہارے میرے ذمہ ہیں مجھے ایک ہی دفعہ میں میسر نہ آئے یہ دس چیتل جو لا یاہوں ان کو لے لو اور باقی بھی انشاء اللہ دے دوں گا !جب اس نے یہ بات سنی تو کہا کہ :ہاں تم مسلمان کے پاس سے آتے ہو ! اور وہ لے لیا او رکہا کہ باقی دس چیتل تمہیں معاف کردیا ۔ اس کے بعد میں اس شخص کے پا س میں گیا جس سے کتاب لی تھی اس سے کہا کہ جو کتاب آپ سے میںنے لی تھی وہ گم گئی اب کہیں سے اس کی نقل لے کر آپ کو پہونچا دوں گا ! اس نے یہ سن کر کہا کہ : ہاںجہاں سے تم آئے ہو اس کا ثمرہ یہی ہونا چاہئے !اس کے بعد کہا کہ میں نے وہ کتاب آپ کو بخش دی ۔
توبہ اور بیعت :
اور فوائد الفؤاد کی مجلس ۲۱؍ ذیقعدہ ۷۱۸ ؁ہجری میں مذکورہے کہ جو شخص شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے اور بیعت کر تا ہے تو وہ خداے تعالیٰ کے ساتھ عہد وپیمان ہے ،چاہئے کہ اس پر ثابت رہے ،اور اگر اس سے پریشانی ہو تی ہے تو اپنی حالت پر ہی رہے شیخ کا ہاتھ پکڑ نے کی کیا ضرورت ۔ اس کے بعد فرمایا کہ : میںجب شیخ الاسلام فرید الحق والدّین قدس سرہ العزیز کی خدمت میں پہونچا اور بیعت سے مشرف ہو اتو واپسی کے وقت راستہ میں مجھے شدت سے پیاس لگی ،ہوا نہایت گرم تھی ،اور پانی دور تھا ،اسی حالت میں چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص نظر آیا جس کو میں پہچانتا تھا !اس کے پاس جاکر کہا کہ میں پیا سا ہوں کیا یہاں پانی مل سکتا ہے ،اس نے تپاک سے مل کر کہا اس برتن کو لیجئے اورپانی پی لیجئے !میں نے دیکھا کہ اس میں شراب یا بھنگ ہے میں نے اس کے پینے سے انکار کیا ،اس نے کہا اس مقام میں دور دور تک کہیں پانی نہیں ہے اور آگے بھی نہیں اگر یہ تم نہ پیو گے تو ہلاک ہوجا ئو گے !میں نے کہا خیر یہی ہوگا کہ میں مرجائوں گا جوکچھ ہونا ہے ہو رہے گا مگر میں یہ نہیں پی سکتا اس لئے کہ میں نے شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے اور اقرار کیا ہے کہ یہ ہرگز نہ ہوگا ! یہ کہہ کر وہاں سے چلا ، اور تھوڑی دور پر مجھے پانی مل گیا ۔
اس کے بعد فرمایاکہ : خواجہ حمید سوالی جب خواجہ معین الحق والدّین چشتی قدس سرہ العزیز سے بیعت کرکے اپنے گھر آئے تو قدیم دوست آشنا جمع ہوئے اور کہا کہ چلئے ذوق حاصل کریں !خواجہ حمید نے کہا کہ میںنے اپنا ازار بند ایسا مضبوط باندھا ہے کہ قیامت میں بھی حوران بہشت پر نہ کھو لوں گا ۔
اور اسی کی مجلس ۲۰؍ جمادی الاولی ٰ میں لکھا ہے کہ : حضرت محبوب الٰہی نے فرمایا کہ : ایک مطربہ ’’قمر ‘‘ نام نہایت جسن و جمال میں شہرۂ آفاق تھی ، آخر عمر میں شیخ شہاب الدین سہروردی کے ہاتھ پر بیعت کرکے زیارت کعبہ کے لئے گئی ، جب واپسی میں ہمدان کو پہنچی تو والی ہمدان نے اس کی خبر سن کر اس کو بلوایا ، اس نے کہا کہ میں اس کام سے توبہ کر چکی ہوں ! والی نے اس کاعذر قبول نہ کیا ،آخروہ عورت عاجز ہوکر شیخ یوسف ہمدانی کی خدمت میںگئی اور واقعہ بیان کیا ،شیخ نے فرمایا آج رات کو میں تمہارے معاملہ میں مشغول ہوں گا اور کل جواب دوں گا ! صبح ہی وہ عورت شیخ کی خدمت میں پھر حاضر ہو ئی شیخ نے فرمایا کہ : ابھی تمہارے خانہء تقدیر میں ایک معصیت باقی ہے ! عورت عاجز ہوگئی اور ملازمین اسے بادشاہ کے پا س لے گئے اور ایک چنگ لا کر اس کو دیا اس نے چنگ کو درست کرکے گانا بجانا شروع کیا ،چند اشعار پڑھے تھے کہ سب پر حالت طاری ہوئی اور بادشاہ ہمدان نے سب سے پہلے توبہ کی۔اب غور کیجئے کہ بیعت کا کس قدر اوثر ہو تاتھا کہ مرجانا قبول مگر خلاف شرع بھنگ وغیرہ پینا ناگوار ۔اسی وجہ سے ان حضرات کی بیعت پر ثمرات مرتب ہوا کرتے تھے ۔ حضرت محبوب الٰہی قدس سرہ تو مقام محبوبیت پر فائز ہونے والے تھے بلکہ ازلی محبوب تھے ہی ان کی ہمت اگر بلند تھی تو چند ان تعجب کی بات نہیں ،ا س کسبی کا حال آپ نے دیکھ لیا کہ بیعت کے بعد پھر گنا ہ کا کبھی ارادہ نہ کیا ،اس علوے ہمت اور بیعت پر قائم رہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر گناہ کیا بھی تو اس گنا ہ کے طفیل میںبادشاہ اور اس کے مصاحبین کو تو بہ کراکے چھوڑا ۔
نفحات الانس میں مولانا عبدالرحمن جامی ؒ نے حضرت خواجہ بہائو الدین نقشبندی کے حال میں لکھا ہے کہ آپ نے مرید ین کو فرمایا کہ : اپنے نفس کو متہم بنا رکھو،جو شخص بعنا یت الٰہی اپنے نفس کی بدی کو پہچانے اور اس کے مکر و کید کوجانے اس پر یہ کام یعنی نفس کو متہم سمجھنا آسان ہے !سا لکان طریقت ایسے بہت گزرے ہیںکہ دوسرے کے گناہ کو اپنے ذمہ لے کر اس کا بار اٹھا یا کر تے تھے ۔ اور فرمایا کہ ہمار طریقہ متابعت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوط پکڑ نا اور صحابہ کے آثار کا اقتدا ء کرنا ہے،اسی طریقے میں تھوڑے عمل سے زیادہ فتوح ہوتی ہیں ۔
ہمارے زمانے کے بعض حضرات صاف کہتے ہیں کہ ہمیں نماز روزہ وغیرہ عبادات کی ضرورت نہیں ،ہم نے ترک وجود کر دیا ہے ۔اور اس پر اس شعر سے استدلال کر تے ہیں :
نماز عاشقاں ترکِ و جود است
نماز زاہد اں سجدہ سجود است
اور مریدین بھی اپنے پیر کے مسلک پر مرفوع القلم ہونے کا دعویٰ کر تے ہیں !! اگر فی الحقیقت مرفوع القلم ہیں یعنی عقل و ادراک جاتا رہا ہے اور اچھے برے میں تمیز با قی نہیں رہی جس طرح کہ مجذ وبوں کا حال ہو تا ہے تو اس کا مرفوع القلم ہونا درست ہے، اور اگریہ حالت نہیں ہے بلکہ وہ اپنے دعوے پر دلائل وغیرہ قائم کر تے ہیں ،تووہ عند اللہ مرفوع القلم نہیں ہو سکتے ۔ دیکھئے حضرت حسین بن منصور حلاج ؒ باجودیکہ ’’اناالحق‘‘ کہتے تھے اور ان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں چنانچہ آخر کار بفتواے جنید بغدادی ؒ وغیرہ اکابر صوفیہ وعلماء اسی قول کی وجہ سے وہ دار پر چڑھا ئے گئے ، مگر عبادت کو انہوں نے کبھی ترک نہ کیا ۔نفحات الانس میں لکھا ہے کہ : با وجود دعواے ’’اناالحق ‘‘ کے ہر شبانہ روز وہ ہزار رکعت نماز پڑھا کر تے تھے ،چنانچہ جس صبح وہ قتل ہوئے اس رات میں پپانچ سو رکعت نماز انہوں نے پڑھی تھی۔
تنبیہ المغترین میں امام شعرانی ؒ نے لکھا ہے کہ : صوفیہ کے اخلاق میں سے کثرت توبہ و استغفار بھی ہے ،کیونکہ وہ اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ اپنے افعال گناہ سے سالم نہیں رہ سکتے ،کم سے کم خشوع اور مرا قبہ میں نقص ہو ہی جا تا ہے ۔سلف صالح اسی طریقہ پر تھے ۔ ہمارے زمانے میں بعض صوفیہ اس کے خلاف میں ہیں یہاں تک کہ بعض صوفیہ سے یہ کہتے سنا ہے کہ :ہم وہ قوم ہیں کہ بحمد اللہ ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔ میں نے کہا : کیونکر ؟ کہا : اس وجہ سے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی فاعل ہے نہ کہ ہم میںنے کہا : جب توہم پر توبہ اور استغفار و اجب ہے کیونکہ تم نے جمیع ارکان شریعت کو منہدم اور حدود شرعیہ کو باطل کردیا ، قسم ہے اللہ کی اگر مجھے حکومت حاصل ہو تی تو تم جیسے لوگوں کی گرد نیں مارتا ،کیونکہ کل انبیاء اور جمیع اکابر دین جا نتے تھے کہ اللہ ہی خالق افعال ہے اور باوجود اس کے کوتا ہیوں پر اتنا روتے تھے کہ ان کے آنسوئوں سے گھانس اگتی تھی ،اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیںکہ کیا تمہا ری بیماری اور دوا کی خبر نہ دوں تمہا ری بیماری گناہ ہے اور دوا استغفار ۔ انتہیٰ ملخصاً۔دیکھئے امام شعرانی ؒ اولیاء اللہ میں سے ہیں اور تمام صوفیہ سلف کے حال کی خبر دے رہے ہیں کہ سب کثرت سے استغفار اور توبہ کیا کرتے تھے ! تو ہم لوگوں کو گناہ سے احترازکرنے اور اس سے توبہ واستغفار کر نے کی کس قدر ضرورت ہے ۔
جامی ؒ نے نفحات الانس میں شیخ ابو الحسن شاذلیؒ کے حال میں لکھا ہے ان کا بیان ہے کہ : میں نے غار میں قیام کیا اور وصول الی اللہ طلب کرکے دل میں کہتا تھا کہ کل فتح ہوجائے گی !یکا یک ایک شخص آیا ، میںنے پوچھا تم کون ہو ؟ کہا عبد الملک ،میں سمجھ گیا وہ اولیاء اللہ سے ہیں ،میں نے کہا آپ کا کیا حال ہے ؟ کہا : آپ کا کیا حا ل ؟ آپ کا کیا حال ؟ آپ کا کیا حال ؟ اس شخص کا کیا حا ل ہو گا جو کہتا ہے کہ کل فتح ہو جائے اور پرسوں فتح ہو جائے ،نہ ولایت ہے نہ فلاح ،اے شخص خداے تعایٰ کی عبادت خاص خداے تعالیٰ کے لئے کیوں نہیں کرتا ؟ میں اس وقت سمجھ گیا کہ یہ بزرگ خاص تعلیم کے لئے بھیجے گئے ہیں میںنے اسی وقت توبہ کی اور استغفار کیا ۔ اس کے بعد فتح یا ب بھی ہو گیا ۔ دیکھئے ان حضرات کو ولی خطرات اور خیالات پر توبہ کرنے کی ضرورت ہو تی ہے ، بر خلاف اس کے کھلے کھلے گناہ جن کے خلاف مرضیٰ الٰہی ہونے میں ذرا بھی شک نہیں ہوسکتا ان گناہوں سے توبہ نہ کی جائے تو کہئے کہ فتح یابی جو پیری مرید ی سے مقصود ہے کیونکر ہو سکے ۔
’’اخبار الاخیار ‘‘ میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ نے حضرت خواجہ ء بزرگ معین الدین چشتی قدس سرہ العزیز کے حال میں آپ کا ارشاد نقل کیا ہے :’’شقادت کی علامت یہ ہے کہ آدمی معصیت کرے اور امید رکھے کہ میں مقبول ہوںگا ‘‘۔ یہ ارشاد خاص اہل طریقت سے متعلق معلوم ہو تا ہے ،کیونکہ مقبولیت کی گفتگو اسی طبقہ میں ہو تی ہے ،او رہونا بھی چاہئے ،اس لئے کہ یہ حضرات دنیا کے کام دھندے چھوڑ کر خدا ے تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تے ہیں یعنی ذکر و شغل وغیرہ میں اکثر اوقات مشغول رہتے ہیں ،اس کے بعد ضـرور یہ امید پیدا ہو تی ہے کہ اپنی محنت وجاں فشانی رائگاں نہ جائے گی اور ہم مقبول بارگاہ کبریانی ہوں گے ۔ ان حضرات کو حضرت خواجۂ بزرگ ؒ فر ما تے ہیں کہ : یہ علامت شقادت ہے ،مقبول تووہی لوگ ہو تے ہیں جو کوئی کام خلاف مرضیٰ الٰہی نہیں کرتے اور اگر بمقتضائے بشریت کر لیا تو اس کی معذرت اور توبہ کرتے ہیں،بخلاف اس کے خلاف مرضی الٰہی کام بھی کریں اور امید رکھیں کہ ہم مقبول الٰہی ہیں ! اس قسم کا خیال پیدا ہونا ضرور شقادت کی علامت ہے ۔ او ریہ بھی ارشاد حضرت کا نقل کیا ہے کہ : از منزل گاہ قربت نزدیک نشود مگر بفرماں برادری در نماز ،زیر اکہ معراج مومن ہمیں نماز است ۔ دیکھئے قرآن شریف میں اَقیمو االصلوۃ یعنی ’’نماز کو قائم کرو ‘‘ کتنی جگہ ورادہے ؟او راحادیث میں کس قدر اس کا اہتمام ہے ،یہاں تک کہ نماز کو قداً ترک کر نے والے کو آنحضرت ؐ نے کافر تک فرمادیا ۔
غرض کہ فرمانبرداری نماز ضروریات دین سے ہے ،اسی وجہ سے خواجہء بزرگ قدس سرہ نے صاف فرمایا کہ بغیر نماز کے تقرب الٰہی حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اب اگر تاویل کر کے کوئی نماز ہی دوسری قرارا دی جائے تو فرقہء با طینہ اور صوفیہ میں فرق ہی کیا ہوا ؟ انہوں نے بھی ایسے ہی تا ویلیں کرکے تمام عبادات کو ساقط اور زنا وغیرہ کو مباح کر دیا تھا ۔
اخبار الاخبار میں شیخ نصیر الدین محمود ؒ خلیفہء محبوب الٰہی قدس سرہ کے حال میں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا : من چہ لا ئقم کہ شیخی کنم ؟امر وز خود ایں کار بازی بچکاں شد!بعد ازاں بیت ثنائی خواند :
مسلماناں مسلماناں مسلمانی مسلمانی ٭ ازیں آئین بے دینا پشیمانی پشیمانی
دیکھئے اِس زمانے کی مشائخی کو آ پ نے بچوں کا کھیل قراردیا وہ اسی قسم کی مشائخی ہوگی کہ ضروریات دین سے جس کو کوئی تعلق نہ ہو ۔
اورآپؐ کا قول اس میں نقل کیا ہے کہ : بیعت کے وقت جو سر کے بال تراشے جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آدمی نے طریقت میں قدم رکھا تو گویا اس نے اس راہ میں اپنا سر کٹا دیا اور سربریدہ سے کوئی کام وجود میں نہیں آسکتا تو چاہئے کہ موئے سر تراشیدہ سے بھی کوئی نا مشروع کام وجود میں نہ آئے ۔دیکھئے طریقت میں اس امر کی کس قدر ضرورت ہے کہ خلاف شرع کام ترک کرنے کے لئے بیعت سے پہلے گویا ایسا اقرار لیا جا تا تھا ۔
الذی یُوَسْوِسُ
الذی موصول او راس کے بعد کا جملہ صلہ ہے ،موصول اور صلہ میں ربط تام ہو تا ہے ،اسی وجہ سے موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر مفرد ہوتا ہے کیونکہ صلہ میں موصول کا حال ہو تا ہے ۔موصول ہر چند ذات معین پر دلالت نہیں کرتا مگر صلہ کے ساتھ مل کر معرفہ ہو جا تا ہے ،اس لئے کہ جوحالت اس کی صلہ میں بیان کی جا تی ہے اس کو مخاطب جانتا ہے جس سے اس کی تعیین ہو جا تی ہے ،مثلاً الذی ضریک فی الدار یعنی جس نے تجھے مارا ہے وہ گھر میں ہے ،چونکہ مارنے والا مخاطب کو معلوم ہے اس لئے اس کی تعیین ذہن مخاطب میں ہوگئی ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے حق تعالیٰ کی ذات ،کہ کو ئی اس کو پہچان نہیں سکتا کیونکہ وہاں تک نہ عقل کی رسائی ممکن ہے نہ فہم و و خیال کی ،اس وجہ سے کہ عقل ان ہی چیزوں کا ادراک کر سکتی ہے جو ازقسم محسوسات ہوں جیساکہ ہم نے ’’کتاب العقل ‘‘ میں اس سے متعلق بسوط بحث کی ہے ، اور خداے تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں کہ اس کاداراک حواس سے ہو سکے یا عقل ووہم سے ۔
غرضکہ ذات الٰہی کی معرفت محال ہے ،ممکن نہیں کہ سوائے خداے تعالیٰ کے کسی کو اس کا ادراک ہو سکے ۔البتہ اس قدر ادراک ہو سکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ :خدا ے تعالیٰ موجود ہے ،اور خالق عالم ہے ، اور سنتا ہے ،دیکھتا ہے ، اور جتنے صفات کمالیہ ہیں سب کے ساتھ متصف ہے ۔ مقصو دیہ کہ ذات کے ساتھ صفات کا لحاظ ہو نے سے اس کی معرفت حاصل ہو تی ہے : جیسے موصول کے ساتھ صلہ ملنے سے ،اسی سے ما عرفنا ک حق معرفتک وارد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ : الٰہی ہم نے تجھ کو پہچا نا مگر جس طرح پہچاننے کا حق ہے وہ معرفت حاصل نہیں۔موصول کی معرفت صلہ کے ملنے سے حاصل ہو تی ہے اور موصول میں وحدث آجا تی ہے وہی بات یہاں بھی ہے ۔
مراقبہ :
پھر معرفت کے مدارج مختلف ہو تے ہیں ،جس قدر توجہ اور صفائی ذہن زیادہ ہو معرفت زیادہ ہوگی ۔ اس زیادتی معرفت کے واسطے اولیاء اللہ اور مرشد ین کامل مراقبہ کی تعلیم کیاکر تے ہیں ۔جس کے معنی نگہبانی کر نے کے ہیں ،ذات کے ساتھ ایک ایک صفت کا مدتوں مراقبہ کر ا تے ہیں ،تاکہ اس صفت سے متعلق لوازم و آثار پورے طورپر ذہن میں راسخ اور متمکن ہو جائیں ۔ جس قدر مدت میں مراقبہ ہوا س میںمشاہدہ ضرور ہو گا ،کیونکہ مشاہدہ کے معنی حضور کے ہیں ۔یہ مشاہدہ گو ذات حق کا ہوگا مگرکسی صفت ِخاصہ کے ساتھ ،کیونکہ ذات بحت کا مشاہدہ قطعاً غیر متصور ہے ، اس لئے کہ ذات کا جب ادراک ہی نہیں تو مشہور کیونکر ہو سکے !!اسی وجہ سے حدیث شریف میں وارد ہے کہ لا تتفکروا فی ذات اللہ ۔
یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب آدمی مدتوں کسی ایک چیز کا مراقبہ کرے یعنی ہمہ تن اس کی طرف مشغول ہو اور کسی دوسری چیز کا خیال تک نہ آنے دے تو اس سے متعلق کیسی کیسی نزاکتوں اور دقائق کا وجود اس کو حاصل ہو گا ۔دیکھئے حکماء و فلاسفہ مسائل حکمیہ میں جو موشگافیاں کیا کر تے تھے اس کا منشا یہی مراقبہ ہو ا رکرتا تھا ،وہ پہلے خلوت اختیار کر تے تھے ،چنانچہ افلاطون کا حال مشہو رہے کہ کہیں سے ایک شکستہ خم اس کو مل گیا تھا اسی میں وہ رات بسرکرتا اور دن کو تنہا ئی میں ،غرضکہ دن رات مسائل حِکمیہ کے مراقبہ میں مشغول رہتا جس کی وجہ سے اس کی ایک غیر معمولی حالت ہو گئی تھی ،چنانچہ تفسیر نیشا پوری میں اس کے متعلق جا لینوس کا قول نقل کیا ہے کہ ھو انسان تالہ او الہ نانس ۔یہی حال تقریباً حکماء کا تھا کہ تنہائی میں ایک ایک مسئلہ میں مدتوں غور اور فکر کر تے یہاںتک اس کے مالہ اور ما علیہ کا علم بقدر حاقتِ بشری حاصل کر لیا کر تے تھے ۔
اب غور کیجئے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ مراقبہ اور مشاہدہ ٔ الٰہی میں رہتے ہیں ان پر ذات و صفات الٰہیہ سے متعلق کیسے کیسے مسائل غاصفہ منکشف ہو تے ہوں گے !اور ان کا یہ مجاہدہ کس درجہ بار آور ہو تا ہوگا !حق تعالیٰ فرما تاہے والذین جاہد وا فینا لنہدینہم سبلنا یعنی ہماری راہ میں مجاہد ہ کریں تو ضرورہم ان کو اپنے راستے بتا دیں گے ۔جب خداے تعالیٰ ان کو اپنے تک وصول وتقرب کی راہیں بتانے کا ذمہ درا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ گمراہ ہو سکیں ۔
مگر یاد رہے کہ ہر مجاہد ہ باعث تقریب نہیں ہو سکتا ،اس میں بڑی شرط یہ ہے کہ خاص خداے تعالیٰ کی خوشنودی اور فرمانبرداری پیش نظر ہو ، اگر مجاہدہ اور ذکر وشغل میں کوئی دوسرا امر پیش نظر ہو مثلاً کثف یا کرامات یا یہ امر کہ ہم مقتدیٰ کہلائیں اور لوگ ہماری قدر و تعظیم و توقیر کریں یا دست غیب حاصل ہو یا اور کوئی ایسی چیزیں جن کی خواہش نفس کو ہو تی ہے مجاہدہ میں ملحوظ ہوںتو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان کو موقعہ مل گیا۔اسی وجہ سے پہلے وہ ذہن نشین کر دیتا ہے کہ :شریعت عام لوگوں کے واسطے ہے اور خاص لوگوں کا درجہ بہت بلند ہے ان کو شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں !!پہلے ہی قدم میں صوفی صاحب کو خاص لوگوں میں شریک کرکے مرفوع القلم بنا دیتا ہے اب ان کو کون روکے ؟نہ خداے کے روکے رکیں نہ رسول کے ،کیونکہ قرآن و حدیث سے تو تعلق رہا ہی نہیں ، اب وہی حالت پیدا ہوگئی جو ایمان لانے سے پہلے تھی ،اس لئے جس طرح ایمان لانے والے کو ایمان سے پہلے بے قیدی تھی اس قسم کے مرفوع القلم ہونے سے بھی وہی بے قیدی ہوجائے گی ،غرضکہ دونوں حالتوں میں عقلاً کوئی فرق نہیں،اس صورت میں شیطان جس طرح چاہے گا کام کر واکے چھوڑے گا ۔ اسی وجہ سے اکابر اولیاء اللہ نے شریعت کی پابندی کو ضروری لکھا ہے ۔چنانچہ اکابرِ طُرق کے قوال اس باب میں جو مروی ہیں اوپر لکھے جا چکے ہیں ۔
موصول وصلہ میں ایک بات یہ بھی ہے کہ صلہ کا اثر موصول پرپڑتا ہے ،دیکھئے کہ جب الذی کہا جائے تو اس سے متعلق نہ عداوت ہو تی ہے نہ محبت وغیرہ بلکہ اس کا مفہوم صرف ایک چیز ہوتی ہے جس سے نہ عداوت متعلق ہے نہ محبت ۔پھر جب اس کے صلہ میں ضربک یا اس کے مثل کوئی افعال ذکر کئے جائیں تو مفہوم موصول سے عداوت دل میں پیدا ہو گی ،او راگر مثل اعطاک کوئی صلہ ذکر کیا جائے تو اس سے محبت پیدا ہوگی ۔اس سے ظاہر ہے کہ صلہ کا اثر موصول پر پڑتا ہے ۔
نفس نا طقہ یاروح انسانی کی حالت بمنزلہء موصول کے ہے کہ اس کے ساتھ افعال کا اتصال لازمی ہے ،جس طرح صلہ کا اتصال موصول کے ساتھ لازمی ہے۔کیونکہ جو صفات نفس ناطقہ میں رکھی گئی ہے جیسے سخاوت ،بخل ، شجاعت وغیرہ ان سے متعلق افعال کا ظہور ضروری ہے ورنہ صفات کا وجود بیکار ہوگا ۔اور افعال کے صدور کے وقت نفس کو ان افعال کا ادراک ضرور ہوتا ہے ،او رہرفعل کے موجود کرنے کا ارادہ کرکے اپنی قوت کو صرف کرتا ہے ، اور جن جن اعضاء سے وہ کام متعلق ہو تا ہے ان کو حرکت دیتا ہے ،اس کے بعد لذت کا احساس بھی اسی کو ہو تا ہے جو وجود فعل سے متعلق ہے ، خواہ وہ لذت جسمانی ہو یا نہ ہو ۔
افعال کانفس پر اثر :
غرضکہ ابتدائے حدوث خطرۂ فعل سے لیکر وقوعِ فعل تک نفس کے ساتھ فعل متعلق رہتا ہے ،اس کے بعدجب خیال آتا ہے نفس کو اس کے ساتھ تعلق رہتا ہے،اسی وجہ سے نفس میں اس کا اثر ہوتا ہے اور وہ اثر باقی رہ جاتا ہے ،اگر وہ اچھا کلام موافق مرضی الٰہی ہے تونفس میں اچھا اثر ہو تا ہے ،اور براکام ہو تو برا ثر ۔ان ہی آثار سے اچھے اور برے نفوس باہم ممتاز ہو تے ہیں ۔ جن لوگوں کو کثف ہو تا ہے ان کی نظر نفوس کے حسن و قبح پر پڑتی ہے ،اسی وجہ سے اچھے لوگوں کی وہ تعظیم و توقیر کر تے ہیں اور معمولی لوگوں کی طرف توجہ نہیںکرتے۔
نفس ناطقہ میں افعال کے اثر کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے غضو نت وغیرہ ہوا میں اثر کرتی ہے ،او رہوا کو جو انسان کی روح کو تاز گی او رفرحت بخشتی ہے ان اشیائے خارجیہ کی وجہ سے جانگز اور مہلک بنا دیتی ہے ،جس کا حال کتب طبیہ میں مصرح ہے۔اسی طرح برے افعال روح میںاثر کرکے اس کو گندہ اور مہلک بنا دیتے ہیں،جس کی صحبت میں جوشخص جائے وہ ہلاک ہوجائے ۔جب روح گناہوں کی اثر سے زنگ آلودہ ہو جا تی ہے تو خدا ے تعالیٰ نے اس کی صیقل توبہ مقرر فرمائی ہے جس سے گناہ بالکل نیست و نابود ہو جاتے ہیں ،جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔
گناہ میں دو جہتیں ہیں :
یہاں یہ بات بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ گناہ میں دو جہتیں ہو تی ہیں : ایک’’ معصیت ‘‘یعنی نا فرمانی کہ خداے تعالیٰ نے کسی کام کے کرنے کا حکم فرمایا ہو مثلاً نماز ،روزہ ، حج ،زکوۃ ،صبر ، شکر وغیرہ اور وہ نہ کریں یا کسی کام سے منع فرمایا ہے جسیے شراب پینے ، حرام کھانے اور زنا و ظلم وغیرہ کرنے سے منع فرمایا ہے ،ایسے کام کریں ۔یہ دونوں صورتیں یعنی مامو ر کام کا نہ کرنا اور ممنوع کاکرنا معصیت ہیں ۔
اور دوسر ی جہت ’’حق ‘‘کی ہے ،مثلاً عبادت حق اللہ ہے او رزکاۃ میں مال سے حق الٰہی متعلق ہو جا تا ہے ۔اور کسی کامال ناجائز طریقہ سے لینے میں معصیت یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اس سے منع فر مایا ،او رچونکہ وہ مال کسی شخص کا ہے بندہ کا حق اس سے متعلق ہے ۔علیٰ ہذا القیاس ’’حقُ اللہ ‘‘یا ’’حق الناس ‘‘ گناہوں کے کرنے میں ضرور متاثر ہو تا ہے ۔
توبہ سے ’’حق العباد ‘‘ معاف نہیں ہوتا
توبہ کرنے سے جو چیز معاف ہو تی ہے وہ معصیت ہے کیونکہ نافرمانی کے بعد جب آدمی معذرت کرکے فرماں برداری کرنے کا اقرار کرتا ہے تو سابقہ نافرمانی قابل معافی سمجھی جا تی ہے ۔ مگر جو حق ذمہ پر ثابت ہو گیا وہ معاف نہیں ہوتا ۔ اگر کسی شخص نے نماز یں قضاء کی ہوں اس کے بعد توبہ کرکے نماز پڑھنا شروع کرے تو جن ایام کی نماز یں نہیں پڑپھیں ان کی قضاء کر نا ضروری ہے ۔اسی وجہ سے اگر نمازیں یا روزے بغیرہ کسی کے ذمہ باقی رہ گئے ہوںاوران کی اس نے قضاء نہیں کی تو بعد وصیت اسکے بدلہ میں مال دینے کی ضرورت ہو تی ہے ۔ اور مثلاً اگرکسی نے رشوت سے توبہ کی تو معصیت معاف ہو جائے گی مگر جو مال لیا تھا وہ واپس کرنے کی ضرورت ہے ورنہ قیامت میں اس کا معا وضہ دلا یا جائے گا ۔ غرضکہ توبہ سے صرف معصیت کی معافی ہو سکتی ہے حقوق سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ حق تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے حقوق معاف کردے اور قادر ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کو بھی معاف کر وادے،مگر یہ قاعدہ نہیں ہو سکتا اوریہ نہیں کہہ سکتے کہ جس پر جو کچھ حقوق ہیں عموماً سب کو حق تعالیٰ معاف کر دے گا اور کروادے گا ،اگر ایسا ہو تو تمام مصالح تمد ن دہم وبرہم ہو جائیں گے ۔عقل ہرگز جائز نہیں رکھتی کہ ظالم اور مظلوم دونوں حق تعالیٰ کے نزدیک برابر اور قابل ترحم ہو ں !! رہا یہ کہ قرآن شریف میں ہے قل یا عبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسہم لا تقنطو ا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعاً انہ ہو الغفورالرحیم یعنی ’’اے محمد ؐ !کہہ دو کہ اے گناہ گا رو اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو اللہ سب گنا ہوں کو بخشتا ہے وہ غفور و رحیم ہے ‘‘۔ سویہ ارشاد اس وقت ہوا تھا کہ بعض لوگوں نے اسلام لانے میں یہ عذر کیا تھا کہ ہم نے بڑے بڑے گناہ کئے اب اسلام لانے سے کیا فائدہ ؟ان کو جواب دیا گیا کہ خداے تعالیٰ سب گناہوں کو بخش سکتا ہے ۔چنانچہ اس آیت کے بعد ہی یہ آیت ہے و انیبو االی ربکم وأسلمو الہ جس کا مطلب یہ ہے کہ خداے تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائو اورا سلام لا ئو قبل اس کے کہ تم پرعذاب ناز ل ہو ۔
غرضکہ قرآن و حدیث سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوسکتا کہ حقوق اللہ اور حقوق عباد کا بالکل مؤ اخدا ہ نہ ہوگا ،بلکہ ہزار ہا آیات و احادیث و آثار سے مؤاخذہ ثابت ہے،اس لئے مقتضائے عقل یہی ہے کہ آدمی اسی عالم میں مؤ اخدوں سے حتی الامکان براء ت حاصل کر لے ۔
فی صدو رالناس
’’صدر ‘‘سینہ کو کہتے ہیں ، سینہ وہ مقام ہے جس میں دل رکھا گیا ہے ، گویا سینہ دل کا مکان ہے ۔ شیطان وسوسہ اندازی بھی اسی گھر میں رہتا ہے ،اور وقتاً فوقتا ً برے مشورہ دیتا جا تا ہے ، یہی وساوس شیطانی ہیں ۔
ہر چیز کی اصل اور حقیقت :
سینہ کی حقیقت جو ظاہراً معلوم ہو تی ہے وہ یہ ہے کہ چند ہڈیوں اور گوشت وغیرہ سے مرکب ہے ،مگر دراصل اس کی حقیقت کچھ اور ہی ہے ،جس طرح انسان کا حال کہ دیکھنے کو وہ ہڈیوں اور گوشت پوست سے مرکب ہے اور اس میں اور بندہ وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ،مگر حقیقتِ انسان کو دیکھا جائے تو وہ کچھ اور ہی چیز ہے جس کا ادراک ممکن
جسم انسانی ،انسان کا غلاف ہے :
یہ جسم جس کو دیکھنے والے انساننہیں ، کیونکہ وہ ایسی لطیف چیز ہے جس سے حواس بالکل بے خبر ہیں ۔
کہتے ہیں وہ انسان کا قدرتی غلاف یا لباس ہے ، جس کے ٹوٹنے پھوٹنے سڑنے گلنے سے انسان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، بلکہ اپنی حالت پر محفوظ رہتا ہے ۔ مقاصد الاسلام کے حصہء دوم میں ہم نے یہ امر بدلائل ثابت کیا ہے کہ مسمر یز والے اس امر کا مشاہدہ کر ا دیتے ہیں کہ جسم انسانی اپنے مقام پرپڑا رہتا ہے او رانسان ہزار ہا کوس جاکر وہاں کی خبریں چند دقیقوں میں لا تا ہے ۔
سماع موتیٰ :
حکمت جدیدہ تصدیق اسی امر کی کر رہی ہے جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو (۱۳۰۰) سال پیشتردی تھی ۔ دیکھئے تمام کتب احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ غزوۂ بد رمیں جب کفار کو ہزیمت ہو ئی اور ا ن کے مقتولوں کی لاشیں پھول سڑگئیں آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ان لاشوں کو کنویں میں ڈال دوادو چنانچہ سب ڈال دی گئیں ۔ اس رات آنحضرت صلی اللہ علی وسلم نے ان مقتولوں کا پکا ر کر فرمایا :’’اے کنویں والو !اے عتبہ ،اے شیبہ ،اے امیہ ، اے ابوجہل !کیا تمہارے رب نے جو وعدہ فرمایا تھا اس کو تم نے حق پایا ؟ میں نے تو وہ وعدہ حق تعالیٰ نے جو مجھ سے کیا تھا حق پایا ‘‘۔ صحابہ ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا آپ ایسی قو م کو پکار تے ہو جس کی لاشیں سڑگئیں ؟آپ نے فرمایا :’’ میں ان سے کہہ رہا ہوں اس کو وہ لوگ ایسا سن رہے ہیں کہ تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے لیکن وہ میرا جواب نہیں دے سکتے‘‘۔ چنانچہ حسان بن ثابتؓ نے اس موقعہ پر ایک قصیدہ لکھا جس کے دوشعر یہ ہیں : ینا دیہم رسول اللہ لما قذ فنا ہم کبا کب فی القلیب
ألم تجدو ا کلامی کان حقاً و امر اللہ یا خذ بالقلوب
دیکھئے صحابہ نے یہی خیال کیا تھا کہ سڑی ہوئی لاشوں کو پکار کر ان سے باتیں کرنی بالکل خلاف عقل ہے ! مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اشاراۃً بیان فرمادی کہ آدمی جسم کا نام نہیں جسم بمنزلہ غلاف ہے ،اصل آدمی جو سننے والا ہے اس میں کوئی تغیر نہیں جیسے وہ زندگی میں سنتے تھے اب بھی سنتے ہیںصحابہ اور قوی الایمان تو مان گئے،مگرخلاف عقل ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اس میں تاویلیں کیں ۔
قبر میں مردہ اٹھا کر اس سے سوال :
چنانچہ ’’سماع موتیٰ‘‘ کا مسئلہ اب تک معرکہ آرا بنا ہوا ہے ،سائنس نے آکر اس کا تصفیہ کر دیا ، اب اس میں کسی کا چون و چرا کی گنجائش نہ رہی ۔ اس سے اس مسئلہ کا بھی تصفیہ ہو گیا جو احادیث میں وارد ہے کہ دفن کے بعد فرشتے مردے سے سوال کر تے ہیں کہ :تیرا رب کون ہے ؟ اور تیرا دین کیا ہے ؟ اور اِن کو یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کیا سمجھتا تھا ؟اگر ایمان دار ہوتوان کے جواب دیتا ہے اور ابے ایمان جواب نہیں دے سکتا ۔اس پر بھی اقسام کے اعتراضات ہو تے تھے کہ مردے سے سوال کیسا؟چونکہ معتر ضوںنے غلاف انسان کو انسان سمجھ رکھا تھا ، او راب ثابت ہو گیا کہ انسان کچھ اور ہی چیزہے جس میں سوال و جواب کی اس حالت میں بھی صلاحیت ہے،اس کے بعد اہل انصاف تو ہرگز جاہلانہ خیال نہیں کرسکتے کہ انسان اسی غلاف کا نام ہے جو کا لبد ا نسانی ہے ۔
اسی طرح سینہ اور دل کی حقیقت بھی ضرور کوئی دوسری چیز ہے ۔اسی کو خیال کر لیجئے کہ اگر دل اسی گوشت کی بوٹی کانام ہوجو ہرجانور میں ہے تو علوم حِکمیہ اور غامض مسائل جو حکماء او رعلماء کے دلوں میں جوش زن ہو تے ہیں جن کے عمدہ آثار وقتاً فوقتاً عالم میں ظہور پا تے ہیں تو وہ بوٹی دل کی جانوروں میں بھی ہے پھرکسی جانور سے ان کاظہور کیوں نہیں ہوتا ؟!میری دانست میں کوئی عاقل یہ باور نہ کر ے گا کہ یہ لطیف غامض مسائل اس گوشت کی بوٹی میں رہتے ہیں ۔یہاں بھی یہی کہنا پڑے گا کہ یہ مضغہء صنو بری دل کا غلاف ہے اور دل ایک لطیفہ ء ربانی ہے ،کسی بزرگ کا قول ہے :
اگر یک قطرۂ دل بر شگافی ٭ بروں آید از و صد بحرصافی
اسی طرح صد ر کی بھی حقیقت دوسری ہے صرف ہڈیوں کا نام نہیں ہے ، گو اس حقیقت کا یہی مقام ہو گا ،اس لئے کہ حق تعالیٰ فرما تا ہے فمن یر د اللہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کلانما یصعد فی السماء یعنی’’جس کی ہدایت کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر تا ہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ،اورجس کو گمراہ کرنے کا ارداہ کر تا ہے تو اس کے سینہ کو نہایت تنگ کر دیتا ہے گویا کہ وہ آسمان میں چڑھ رہا ہے ‘‘۔
یہ امر ظاہر ہے کہ اسلام لا تے وقت سینہ کے ہڈیاں پھیل نہیں جاتیں اور نہ کفر کی حالت میں ہڈیاں سخت ہو تی ہیں ، بلکہ کشادہ اور تنگ ہو نے والا ہی سینہ دوسرا ہے۔یہ ایک وجدانی امر ہے کہ ایمان والوں کے دل میں ایک وسعت پیدا ہو جا تی ہے ،اور جو بات بات میں انقباض ہو ا کر تا ہے کہ اگر ہم اپنا دین چھو ڑدیں گے تولوگ کیا کہیں گے اور خلاف عقل باتیںماننا لوگوں کی طعن و تشنیع کا باعث ہوگا کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر ان کو عقل ہو تی تو یہ لوگ خلاف عقل باتوں کو نہ مانتے ،اور یہ دلیل سفاہت اورحماقت کی ہے چانچہ کفار اسی وجہ سے مسلمانوں کو سفہاء کہتے تھے ۔اس کے سوا بڑا انقباض اس وجہ سے ہوتا ہے کہ تمام کنبہ کے لوگ اور احباب دشمن ہ وجائیں گے ۔ غرضکہ اس قسم کے جتنے اسباب تنگدلی اور انقباض کے ہوتے ہیں سب دفع ہو جا تے ہیں اور سینہ میں وسعت پیدہو تی ہے اور سب کو قبول کر لیتا ہے ۔اور شرح صدر کے بعد جوکام ان سے لیا جا تا ہے نہایت خوشی اور کشادہ دلی سے کر تے ہیں ،اگر مال دینے کو کہا جا ئے تونہایت ممنو نیت سے اتثال امر کرتے ہیں ،چنانچہ صحابہ کے حالات سے ظاہر ہے کہ صرف چندہ کے لئے ارشاد نبوی ہوا تھا بعض حضرات نے اپنا نصف مال حساب کر کے حاضر کر دیا اور بعض پورا کا پورا ۔اگر جان دینے کو کہا جائے تو اس کو سعادت سمجھتے ہیں ،چنانچہ صحابہ کے حالات سے ظاہر ہے کہ جان بازی کے شوق میں ہر ایک چاہتا تھا کہ دوسرے سے بڑھا رہوں یہاں تک کہ ان کو روکنے کی ضرورت ہوتا تھی ۔جب مال اور جان دینے میں تنگدلی نہ ہوتو دوسرے اسلامی کاموں میں کیونکر ہو سکتی ہے ؟ یہ برکت شرح صدر کی ہے جن کو ہدایت کرنا منظور الٰہی ہو تا ہے ان کا سینہ کشادہ کر دیا جا تا ہے ۔
بخلاف اس کے جن کو گمراہ کرنا منظور ہو تا ہے اسلامی کاموں میں ان کا سینہ تنگ کر دیا جاتا ہے ۔جان اور مال دینا تو بڑی چیز ہے پانچ وقت کی نماز پڑھنی مشکل ہوتی ہے ۔سوروپیہ ایک سال رہیں تو ان میں سے ڈھائی روپیہ زکاۃ کے غریب قرابت دار اور مساکین کو دینا سخت دشوار ہو تا ہے ،حالانکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ اس سے زیادہ روپیہ خیرا ت ہی صرف کر دیتے ہیں مگر زکاۃ کے نام سے دینے میں ان کو تنگدلی ہو تی ہے ۔ اب کہئے ومن یر ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً اس موقعہ میں صادق آتا ہے یا نہیں ۔ یہ تو عوام الناس کا حال تھا ،اس آخری زمانے کے بعض خاص خاص لوگ بھی اسی دائرہ میں نظر آئیں گے ۔
مشکاۃ شریف میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ :ایک بار ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہو ئے تھے کہ ایک شخص آیا جس کا لباس نہایت سفید اور بال نہایت سیاہ تھے سفر کا کوئی اثر اس پر نہ تھا ،اورہم میں سے کوئی شخص اسے پہچانتا بھی نہ تھا ،حضرت ؐ کے زانو سے زانو سے ملاکر بیٹھ گیا اور دونوں زانوپر ہا تھ رکھ کر کہا :اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے خبر دیجئے کہ اسلام کیا چیز ہے ؟حضرت ؐ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دوکہ کوئی معبود سوائے اللہ کے نہیں ،اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ، اور نما ز پڑھو ،اور زکوۃ دو، اور رمضان کے روزے رکھو،اور طاقت ہو تو حج کرو ‘‘۔ کہا : آپ سچ کہتے ہیں ! ہمیں تعجب ہوا کہ سوال بھی کرتا ہے اور خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے !پھر کہا کہ :یہ بتائے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ حضرت ؐ نے فرمایا :’’یہ خدا ے تعالیٰ کی ذات اور ملائکہ اور اس کی کتابوں اور پیغمبروں کا یقین کرنا ،اور خیر وشر اللہ ہی کے طرف سے سمجھنا ‘‘۔ کہا آپ سچ کہتے ہیں !پھر کہا :یہ بتائے کہ احسان کیا چیز ہے ؟فرمایا : ’’اس طرح عبادت کروکہ گویا اللہ کو تم دیکھ رہے ہو ،اور گر تم نہیں دیکھتے تووہ تو دیکھ رہا ہے ‘‘۔ کہا آپ سچ کہتے ہیں ! پھر اس نے قیامت کے حالات دریافت کئے ۔ جب و ہ شخص چلا گیا تو حضرت نے پوچھا : اے عمرؓ تم جانتے ہو کہ یہ کون تھے ؟میں نے کہا اللہ ورسول دانا تر ہیں !فرمایا :وہ جبرئیل تھے تمہیں دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے ۔
ّٓاس حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ’’اسلام ‘‘احکام ظاہر ی بجا لانے کا نام ہے ،اور احکام ظاہر ی بجا لانے میں جس کادل تنگ ہو تو آیت مذکورہ سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس کی ہدایت مقصود نہیں ،کیونکہ صاف ارشاد ہے فمن یر د اللہ ان یہدیشرح صدرہ للا سلام ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً ۔
’’ایمان ‘‘ و ’’ احسان ‘‘ میں ’’اسلام ‘‘کی ضرورت :
اب اس کے بعد کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہم درجہء احسان میں ہیں اس لئے عبادت ظاہری کی ہمیں ضرورت نہیں ۔ کیونکہ جب نص قطعی سے ثابت ہے کہ جس پر عبادت ظاہر ی آسان نہ ہوتو یہ سمجھا جائے گا کہ خدا ے تعالیٰ اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ، اور جس کو خدائے تعالیٰ گمراہ کرنا چاہے ممکن نہیں کہ اس کو ہدایت او رتقرب الٰہی حاصل ہوسکے ۔ الحاصل جو عبادت مفروضہ سے محروم ہے وہ درجہء احسان سے بالکلیہ محروم ہے۔ جبرئیل علیہ السلام جو تعلیم امت کے لئے بارگاہ الٰہی سے مامور ہوکر آئے تھے ان کی پہلی تعلیم اسلام سے متلعق تھی ، جس کے معنی گردن نہادن اور فرماں برداری کے ہیں ،اس کے بعد ایمان کی تعلیم مقصود تھی، اس کے بعد احسا ن کی تعلیم ۔
اس سے ظاہر ہے کہ دین میں ابتدائی درجہ اسلام ہے اور انتہائی درجہ احسان کا ہے ۔ ابتدائی درجہ کا وجوددوسرے دونوں درجوں میں ضروریات سے ہے ،کیونکہ ایمان کے درجہ میں اگر آدمی بطور خود کسی بات پر ایمان لائے تو اس کو بجائے ایمان دار کے بے ایمان کہنا چاہئے ۔ایمان کے درجہ میں اسی قسم کا ایمان ہو نا چاہئے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے یعنی اس ایمان کے وقت آیات و احادیث کی فرماں برداری کی ضرورت ہے ۔مثلاً خداے تعالیٰ کی ان صفات پر ایمان لائے جو شریعت سے ثابت ہیں ، اگر اس میں تصرف کرے اور یہ کہے کہ فلاں صفت میں یہ قباحت لازم آتی ہے اس لئے اس باب میں فرماں برداری نہیں کرسکتا ،تو ایسا ایمان جس کو اسلام سے تعلق نہیں وہ ایمان نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح احسان کے درجہ میںجو ارشادہے واعبدربک اگر اسلام نہ ہو یعنی یہ کہے کہ فلاں عبادت جس کاحکم خدا و ررسول نے دیا ہے میں نہ کروں گا اور اس میں مجھے فرمانبرداری کی ضرورت نہیں تواس کو درجہ احسان سے تعلق نہیں ۔ غرضکہ اسلام یعنی فرمانبرداری خداورسول دین کے تمامی مدارج میں ضروریا ت سے ہے ،اسی وجہ سے ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے فمن یرد اللہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للا سلام ۔
الجِنَّتہ
’’جنّ ‘‘ کاوجود ہر ملت و مذہب میں ثابت ہے ۔چنانچہ دائرۃ المعارف میں معلم بطر س بستانی نے لکھا ہے کہ :جتنے مذاہب انبیاء کی تصدیق کر تے ہیں وہ سب جن کے وجود کو مانتے ہیں ، اور قدمائے فلاسفہ اور اصحاب رو حانیات بھی ان کے وجود کے قائل ہیں ۔ ان کی پیدائش کی نسبت حق تعالیٰ فرماتا ہے والجان خلقنا ہ من قبل من نا ر السموم یعنی جن کو ہم نے انسان سے پہلے سموم کی آگ سے پیدا کیا۔سموم اس گرم ہوا کوکہتے ہیں جو آدمی کے جسم میں سرایت کر تی ہے ۔تفسیر کبیر میںلکھا ہے کہ سموم میں آگ ہو تی ہے ،اس کو سموم کہنے کی یہ وجہ ہے بسبب کمال لطافت کے آدمی کے مسامات میں گھستی ہے ۔اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کاقول نقل کیا ہے کہ یہ سموم جو بہا کر تی ہے وہ ستر حصو ں میں سے ایک حصہ اُس سموم کا ہے جس میں جن پیدا ہوئے ہیں ۔الحاصل سموم میں جو آگ پوشیدہ ہو تی ہے اس سے حق تعالیٰ نے جن کو بنایا ۔
توضیح اس کی اس طرح کی جاسکتی ہے کہ خاص آگ جہاں مشتعل ہوتی ہے وہاں ایک خاص حد تک آگ محسوس ہوتی ہے جس کو زبانہ ء آتش کہتے ہیں ،اور اس میں جلانے کی صفت بھی محسوس ہو تی ہے ،کپڑا وغیرہ اس پر رکھا جائے تو جل کر خاک سیاہ ہوجا تا ہے۔ اس حد کے بعد اس آگ کا استحالہ ہوا کی طرف ہو جا تا ہے یعنی وہ ہوا بن
جا تی ہے ، مگر ایک حد تک اس ہوامیں گرمی ضروررہتی ہے ،اسی حد میں جس قدر گرمی محسوس ہے وہ آگ کی گرمی ہے ،یہی گرم ہوا جب بہہ کر آدمی کے مسامات میں گھس جاتی ہے توہلاک کر دیتی ہے ،یہ مہلک گرمی آگ کی ہے ،کیونکہ جو حرارت کیفیتِ ہوا ہے وہ مہلک نہیں بلکہ مفرح اور روح کو تازہ کرنے والی ہے ۔
اس سے ثابت ہو تا ہے کہ سموم میں آگ ہو تی ہے اور اسی آگ سے جنّ پیدا کئے گئے ،جس طرح مٹی سے انسان پیدا کئے گئے ۔ظاہر یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ انسان مٹی سے کیونکر پیدا ہوا ،کیونکہ ظاہراً اس کی تخلیق اُس پانی کے اندر موجود اجزاء سے معلوم ہو تی ہے جو انسان سے خارج ہو تا ہے ،مگر چونکہ انسان کے حالات ہمیشہ ہمارے پش نظر ہیں اس لئے غور وفکر کرنے سے معلوم ہو گیا کہ دراصل انسان کی تخلیق خاک سے ہے ،جس کا حال ہم نے مقاصدالاسلام کے حصہء ہفتم میں لکھا ہے ۔
باوجود اس علم کے کیفیت تخلیق میں عقل حیران ہو تی ہے کہ مٹی کے استحالات جو ہو تے گئے وہ کیونکر ہوئے ؟ یہ بات اور ہے کہ عادت ہونے کی وجہ سے حیرانی نہیں ہوتی ، مگر خاک کا نبات ،اور نبات کا اَخلاط ،اور اَخلاط کا نطقہ اور پھر علقہ اور مضغہ بن جانا عقل کی راہ سے ہر گز سمجھ میں نہیں آسکتا کہ یہ قلب ماہیت کیونکر ہوتی گئی ؟خاک پرکس نے جبر کیا کہ اپنی صورت نوعیہ کو چھوڑ کر نباتی صورت اختیار کرے اور وہ خاصیتیں اور تاثیر ات اس میں آجائیں جو خاک میںنہ تھے ؟!اور جسم نباتی و حیوانی پر ایسی کونسی چیز مسلط ہوئی جس نے ان کی صورت نوعیہ کو دور کرکے خلطی صورت پہنا دی؟!اب اگر کہیں کہ صورت نباتی خلط میں موجود ہے تو ہدایت کے خلاف ہے ،کیونکہ اخلاط میں اس قسم کا جسم ہے نہ رنگ نہ بوہے نہ مزہ وغیرہ ،اور اگر کہیں کہ صورت نباتی فنا ہوگئی تو وہ خاصیتیں اور تاثیر ات جو اس میںنہیں تھیں کہاں سے آگئیں ؟! کیونکہ کل لوازم و آثار صورت نوعیہ سے متعلق ہیں ، مثلاً دماغ کی قوت کے لئے جو دوائیں دی جاتی ہیں جب تک وہ دماغ میں نہ جائیں تاثیر ممکن نہیں ،اور دماغ میں جانے والی اس کی غذاء بلغم وغیرہ ہے جس کی صورت نوعیہ ان ادویہ کی صور نوعیہ سے بالکل جدا اور ممتاز ہے ۔
بہر حال اس سلسلہ کے انقلابات اور استحالات کو اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو ضرور عقل حیران ہو تی ہے ،اورجب تک اس کے قائل نہ ہوں کہ خالق عالم نے جس طرح خاک کواپنی قدر ت کا ملہ سے پیدا فرمایا اسی طرح صورت نوعیہ کو دور کرکے صورت ثا نیہ اس کو دی ،علیٰ ہذا القیاس یکے بعد دیگر انقلابات ہوتے گئے ،یہاں تک کہ آخر میں صورت انسانی کی خلعت فا خرہ اس کو پہنائی گی ۔ اسی پر قیاس کرلیجئے کہ ہرچیز کی تخلیق میں ابتداء کچھ ہوتی ہے اور انتہاء کچھ ، یہ ضروری نہیں کہ جو صورت ابتدائی ہو اس کے پورے لوازم وآثار باقی رہیں ۔دیکھئے انسان خاک سے پیدا ہوا اور خاک سے سوائے جسمیت کے اس کوکوئی مشابہت نہیں ۔ اسی طرح جن نار سموم سے پیدا ہوئے اور اس سے ان کو کوئی مشا بہت نہیں ۔
ان امور پر غورنہ کرکے اقسام کے اعتراض کئے جاتے ہیں مثلاً کہا جا تا ہے کہ :نار ایک لطیف چیز ہے اگر جن اس سے پیدا ہوئے ہوں توان کی قوت سے متعلق جو حکایات مشہور ہیں اور یہ خیال کیا جا تاہے کہ آدمی سے زیادہ وزن اٹھا سکتے ہیں درست نہ ہوگا ،کیونکہ جس کی جسامت زیادہ ہوگی اس کی جسمانی قوت بھی زیادہ ہوگی ۔ یہ سب ’’قیاس الغائب علی الشاہد ‘‘ہے جو بالکل صحیح نہیں ۔ جس چیز کی تخلیق خداے تعالیٰ
فرماتا ہے وہ نرالی ہوتی ہے ۔ دیکھئے افلاک کے نسبت حکماء نے تصریح کی ہے کہ نہ وہ گرم ہیںنہ سردنہ ثقیل نہ خفیف ۔اب کہئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کوئی چیز خفیف بھی نہ ہو اور ثقیل بھی نہ ہو!آگ ہر چیز کو جلاتی ہے مگر ابرک کو نہیں جلاسکتی سونے چاندی اور فولاد کو سیال بنا تی ہے مگر انڈے کی زردی اور سفید ی کو جو سیال ہے منجمد کر دیتی ہے !!
غرضکہ ہر ایک چیز میں حق تعالیٰ نے ایک قسم کی صلاحیت دی ہے اور اس کے لوازم و آثار مقر ر فر ما ئے ہیں جن کاصدورضروریات سے ہے ۔ اسی طرح جن کو بھی نار سموم سے پیدا کرکے ان کے لوازم و آثار مقرر کر دئیے ،مثلاً ہر شکل میںمتشکل ہونا،نظروں سے عوماً غائب رہنا اور کبھی بعض بعض لوگوں کو نظر آجا نا،تھوڑے وقت میں مسافت بعید ہ کو طے کرنا ،انسان کے جسم میں حلول کرنا وغیرہ ۔ہم نے مقاصد الاسلام کے دوسرے حصہ میں کتب حکمت جدیدہ سے جن کا وجود بفضلہ تعالیٰ ثابت کر دکھا یا ہے ۔اگر وہ تقریر دیکھ لی جائے تو اہل انصاف کو غالباً جن کے وجود میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے گا ۔
سرقہء جسم انسانی :
علامہ فرید وجدی نے کنزالعلوم و اللغتہ میں لکھا ہے کہ : یہ امر مکرر تجربات اور تحقیقات سے یورپ میں مسلم ہو چکا ہے کہ رو حیں (جن) بلائے جا تے ہیں اوروہ بالکل آدمی کی شکل میں ظاہر ہو تے ہیں ،چنانچہ ان میں گوشت خون ہڈی وغیرہ بھی موجود رہتے ہیں ،اورجب ان سے دریافت کیا گیا کہ یہ اشیاء تم میں کہاں سے آگئے تو انہوں نے خبر دی کہ یہ سب عاریتی ہیں اس شخص سے لیتے ہیں جو ہمیں بلا تا ہے۔چنانچہ بلانے والے کا وزن کیا گیا تو فی الواقع اس کا نصف وزن کم تھا ،اور ان کے جانے کے بعد جب تولا گیا تو ان کا اصلی وزن پورا ہوگیا ۔دیکھئے ان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی کہ آدمی ہڈی اورگوشت وغیرہ چرا لیں او راس کو خبر نہ ہونے پا ئے !! یہ بات نہ آدمی کو دی گئی نہ کسی جانور کو ۔ اب کہاں ہے وہ قاعدہ جو ہزار اطباء کے تجربوں اور اقوال سے ثابت تھا کہ اذیت کا باعث تفرق اتصال ہے !یہاں تو سرسے پائوں تک ہر ہر ہڈی گوشت وغیرہ میں تفرق اتصال ہوگیا !اور وہ بھی کیسا کہ صرف تفرق ہی نیہں بلکہ ہر ایک چیز آدھی آدھی ہو کر جسم سے باہر نکل گئی او رپوست صحیح و سالم رہا اور خبر بھی نہ ہوئی کہ کوئی چیز اپنے جسم سے خارج ہوئی یا نہیں ! کیونکہ گوشت او رپوست اپنی حالت سابقہ پر ہے ، اگر ہڈی باہر نکل جا تی تو گوشت او ر پوست ضرور پھٹتا جس سے ایک دوسرا تفرق اتصال ہو کر اذیت پر اذیت ہو تی !! اب کہئے کہ اس قسم کی چوری کیا کوئی انسان یا حیوان کر سکتا ہے ؟!
یہ طریقہ خاص جن ہی سے متعلق ہے اس قسم کے صد ہا عجائبات ان سے ظہور میں آتے ہیں ۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب کبھی کوئی نیا تجربہ کیا جاتا ہے تو نئی نئی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جن سے عقل حیران ہو جا تی ہے ۔
یہاں یہ امر خاص توجہ کے لائق ہے کہ جس انسان سے ہڈی گوشت وغیرہ چرایا گیا اس کا وجدان گواہی دیتا ہے کہ جس قدر جسم چوری سے پہلے اپنے پاس تھا اب بھی ہے کوئی جزواس میں سے کسی دوسرے کے جسم میں نہیں گیا اور حس بھی گواہی دیتی ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی فرق نہیں ،اور عقل بھی گواہی دیتی ہے کہ کوئی جزو اندرسے باہر چلا نہیں گیا ،ور نہ حس کا امان جا تا رہے گا جس سے لازم آئے گا کہ کوئی دلیل ثابت ہونے پائے ،کیونکہ جب تک نظریا ت کی انتہاء بدیہیات پر نہ ہو وہ ثابت نہیں ہوسکتے ۔پھر جب حواس ہی کا اعتبار نہ رہے اور یہ مسلّم ہوجائے کہ وہ اپنے کاموں میں غلطی کرتے ہیں مثلاًآدھا جسم کوئی آنکھوں کے سامنے سے چرا لے گیا اور ان کوخبر بھی نہ ہوئی !حالانکہ سوئی کے چبھنے سے ایک بال برابر جسم میںتفرق اتصال ہو جا تا ہے تو سرسے پائوں تک بیقراری ہو تی ہے بمصداق شعر :
جو عضو ے بدرد آورد روز گار ٭ دگر عضو ہا را نماند قرار
جب سرسے پائوں تک ہر ایک عضو میں تفرق اتصال ہوجائے اور قوت احساسی کو خبر تک نہ ہو تو کہئے کہ اب کس چیز پر بھروسہ ہوسکے ؟ ! عقل اس قابل نہ تھی کہ اس پر بھروسہ کیا جائے کیونکہ نظر و فکر ہمیشہ غلطیاں ہوا کرتی ہیں ،اسی وجہ سے کوئی عقل مسئلہ ایسا نہیں جس میں عقلاء کا اختلاف نہ ہو ۔ صرف حوا س اعتبار کے قابل سمجھے جا تے تھے جب ان کا بھی یہ حال ہوتو اب کس چیز کے اعتماد پر کوئی بات ثابت ہو سکے۔غرضکہ یہاں وجدان ،جس عقل کی گواہی سے پورا جسم اپنے مقام میں رہنا ثابت ہے اور آدھے جسم کا غائب ہوجا نا بھی مشاہدہ سے ثابت ہو گیا ،تواب عقل سے پوچھا جائے ان دونوں صورتوں میں کونسی صورت اختیار کی جائے گی ؟ جو کوئی اختیار کی جائے اس کے مقابلہ میں دوسری صورت موجود ہے جو اعتبار میں اس سے کم نہیں ۔
دائر ۃ المعارف میں فاضل فرید وجدی نے لکھا ہے کہ : یہ مسئلہ امر یکہ میں ۱۸۴۶ ؁ء میں اور یورپ میں شائع ہو نے لگا تو ہر طرف چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ،مادّییٖن کے الحاد و زند قہ کا مدرا اس ہٹ دھر می پر تھا کہ اگر جن موجود ہیں یا ارواح بعد موت باقی رہتی ہیں تو بتائی جائیں ؟اور اہل مذہب بتا نہیں سکتے تھے ، او راب یہ دعویٰ سے کہا جا رہا ہے اور دعوتیں دی جا رہی ہیں کہ جن کو وجودِجنات و ارواح میں شک ہوتو اگر دیکھ لیں !تو اب اہل مذہب کے مقابلے میں ما دّییٖن حیرا ن و مضطرب ہیں اور کبھی زچ ہوکر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور سخت و سست کہنے لگتے ہیں ،یہاں تک کہ ماپیٹ بلکہ جدال و قتال کی تک نوبت پہنونچ جا تی ہے ،مگر تابہ کے ؟آخر اہل انصاف مسلسل اور بار بار کے مشاہدات سے قائل ہو تے جا تے ہیں ۔چنانچہ اس وقت لاکھوں علمائے یورپ نے مان لیا کہ ارواح و جن کے وجود میں اب کوئی کلام نہیں ہوسکتا ۔ او رن کے احوال و افعال میں عقل بالکلیہ حیران ہے ۔جس کا جسم چرا یا جائے وہ سمجھتا ہے کہ میرا جسم میرے پاس موجود ہے اور حالانکہ اس کا جسم اس جن کے پاس ہے اور دونوں جگہ کام دے رہا ہے !!
اولیاء اللہ کا بیک وقت واحد کئی جگہ موجود رہنا :
جب یہ مشاہدہ سے ثابت ہوگیا اور لاکھو ں عقلاء نے اس کو تسلیم کر لیا ،تو ان وقائع کے انکار کی کوئی وجہ نہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ اولیاء اللہ وقت واحد میں کئی جگہ جا سکتے ہیں ۔امام سیوطی ؒ نے ’’القول المنجلی فی تطور الولی ‘‘میں لکھا ہے کہ : ایک مسئلہ میرے پاس پیش ہوا کہ ایک مجلس میں کسی نے کہا :آج رات شیخ عبد القادر طجطوطی ؒ میرے یہاں تشریف لائے تھے اور رات بھر وہیں رہے ! دوسر ے نے کہا کہتے ہو وہ تو رات بھرمیرے یہاں تھے اس نے کہا غلط کہتے ہو ! غرض کہ طرفین سے گفتگو بڑھی او ریہاں تک نوبت پہنچی کہ دونوں نے قسم کھا ئی کہ اگر وہ بزرگ گزشتہ رات میرے یہاں نہ تھے تو میری بیوی پر طلاق !اور فیصلہ اس پر ٹھہر ا کہ ٰخود ان ہی حضرت سے پوچھا لیا جائے کہ آپ گزشتہ رات کہاں تھے ؟جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر چار شخص بھی دعویٰ کریں کہ میں ان کے پاس تھا تووہ صحیح ہے !علماء میں گفتگو شروع ہوئی کہ کس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی ؟امام سیوطی ؒ نے یہ فیصلہ دیا کہ کسی
پر طلاق نہیں ہوئی ؟کیونکہ ایک شخص وقت واحد میں کئی مقامات میں کرامت سے رہ سکتا ہے ۔
اس کے بعد اسی میں لکھا ہے کہ تاج الدین سبکی ؒ نے طبقات الشافعیۃ الکبریٰ میں ابو العباس ؒ کے حال میں لکھا ہے کہ وہ صاحب کرامات تھے ،ان کے شاگرد عبدالغفار اپنی مصنفہ کتاب ’’وحید التوحید ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جمعہ کے روز ہم شیخ کی خدمت میں حدیث پڑھ رہے تھے اور ان کی با توں پرہمیں لذت حاصل ہو رہی تھی،ایک لڑکا وضو کرنے لگا شیخ نے کہا : اے مبارک کہا ںجائو گے ؟ کہا مسجد کو ! فرمایا :قسم ہے میں نے نماز پڑھ لی !لڑکا جب مسجد کو گیا تو لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے باہرنکل رہے تھے، عبدالغفار کہتے ہیں کہ میں نے بھی نکل کر لوگوں سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ شیخ ابوالعباس مسجد میں ہیں اور لوگ ان پر سلام کر رہے ہیں !یہ سن کر میں نے شیخ کے پاس آکر حال دریافت کیا ؟فرمایا کہ : مجھے قوت ِتبدّلِ صورت دی گئی ہے ۔
اور لکھا ہے کہ صفی الدین بن ابی المنصور نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ شیخ مفرج کا عجیب واقعہ یہاں گزرا کہ ایک شخص نے حج سے آکر اپنے احباب میں ذکر کیا کہ شیخ مفرج کو میں نے عرفات میں دیکھا، دوسرے نے کہاکہ وہ تو دمائین سے کہیں نہیں گئے !دونوںمیں گفتگو یہاں تک بڑھی کہ ایک نے قسم کھا ئی اور کہا اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو میری عورت پر طلاق ۔دونوں نے شیخ کے پا س جاکر کہا کہ ہم دونوں نے اس معاملہ میں طلاق کی قسم کھا ئی ہے ؟ فرما یا کسی کی عورت پر طلاق نہیں پڑی،میںنے پوچھا کہ جب ایک شخص سچا ہے تو دوسرے کی عورت پر ضرور طلاق پڑنی چاہئے ؟اس وقت مجلس میں بہت سے علماء حاضر تھے شیخ نے فرمایاکہ اس مسئلہ میں تم
لوگ گفتگو کرو !ہر ایک نے اپنی اپنی رائے بیا ن کی مگر تشفی نہ ہوئی ،آخر میں مجھ سے فرما یا کہ تم وضاحت سے بیان کرو ! میں نے کہا کہ جب کسی کی ولایت متحقق ہو جا تی ہے تو وہ ہر صورت کے ساتھ متشکل ہو سکتا ہے اور اپنی روحانیت کی وجہ سے متعد د جہات میں وقت واحد میں جا سکتا ہے ،اور یہ سب کام اس کے اردہ سے ظہور میں آتے ہیں ، اس وجہ سے جو صورت کہ عرفات میں دیکھی گئی حق تھی ،اورجو صورت کہ دمائین میں دیکھی گئی وہ بھی حق تھی ۔ شیخ نے فرمایا یہی بات صحیح ہے ۔
اور امام یافعی ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ اس قسم کی بات بعید نہیں ہے فقہا ء نے تصریح کی ہے کہ کعبہء معظمہ کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ بعض اولیاء اللہ کے طواف کے لئے گیا ، حالانکہ اس وقت وہ مقام سے منتقل نہیں ہوا تھا ۔ اور لکھا ہے کہ شیخ خلیل مالکی جو امام سمجھے جا تے تھے اور جلالت شان ان کی مسلم ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ایک جماعت سے منقول ہے کہ یہ دیکھا گیا کہ کعبۃ اللہ نے بعض اولیاء اللہ کا طواف کیا ہے
اورلکھا ہے کہ بعض بزرگوں سے ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ لوگ جو ہوا پر اڑنے کی بڑی بات سمجھتے ہیں وہ کوئی بڑی بات نہیں ؟البتہ بڑی بات یہ ہے کہ ایک شخص مشرق میں اور ادوسرا شخص معرب میں اور دنوں کو باہمی ملاقات کی خواہش ہواور دونوں ایک جگہ جمع ہو ں اور ملاقات کرکے واپس آجائیں اور لوگ ان کو اپنے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے دیکھیں ۔یعنی اپنے مقاموں میں بھی موجود رہیں اور دوسری جگہ بھی جائیں ۔
اور لکھا ہے کہ امام یافعی ؒ نے روض الریا حین میں ذکر کیا ہے کہ ایک شخص حج سے فارغ ہو کر جب گھر آیا تو باتو ں باتوں میں اپنے بھائی سے کہا کہ اس سال سہل ابن عبدا للہ تستریؒ بھی حج میں شریک تھے اور عرفات کے موقف میں میں نے انہیں دیکھا !بھائی نے کہا وہ تو یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تا ریخ اپنی رباط میں تھے جو تستر کے دروازہ پر ہے! اس نے کہا میںنے ان کو عرفات میں ضرور دیکھا ہے اگر یہ خلاف واقعہ ہے تو میری عورت پر طلاق ! دونوں شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا ؟شیخ نے تصدیق کرکے کہا ان امور کی دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ، اور قسم کھانے والے سے فرمایا کہ تمہاری عورت پر طلاق نہیں ہوئی ،مگر کسی سے یہ حال بیان نہ کرنا ۔
اور لکھا ہے کہ شیخ خلیل مالکی ؒ نے بھی اپنی کتاب میں شیخ عبد اللہ متوفی کا بھی ایک ایسا ہی واقعہ ذکر کیا ہے ۔اورلکھا ہے کہ شیخ ابو العباس موسی ٰ ؒ کے حال میں لکھتے ہیں کہ کسی شخص نے آپ کو جمعہ کے روز بعدنماز جمعہ اپنے گھر بلا یا آپ نے قبول کیا ،اس کے بعد یکے بعد دیگر پانچ شخصوں نے جمعہ کے بعد اپنے گھر آنے کو کہا آپ نے سب کو اچھا کہا ،جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے مکان میں تشریف لا کر فقراء کے ساتھ حسب عادت تشریف رکھی اور کہیں نہ گئے ، اس کے بعد پانچو ں نے آکر تشریف فرمائی کا شکریہ اداء کیا ۔
اور لکھا ہے کہ شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ کے شاگردوں میں سے ایک شخص حج کو گیا ،جب واپس آیا تو شیخ کا حال دریافت کیا ؟ لوگوں نے کہا خیریت سے ہیں ! پھر کہا وہ بھی اس سال حج میں شریک تھے چنانچہ میں نے شیح کو مطاف او رمسعیٰ و عرفات وغیرہ مقامات میں دیکھا ۔لوگوں نے کہا وہ تو یہاں سے کہیں نہیں گئے ؟!وہ شخص شیح کی ملاقات کو گیا شیخ نے اثنا ئے کلام میں پوچھا کہ سفر میں کن کن بزرگوں کو تم نے دیکھا ؟کہا حضرت میں نے تو آپ کو بھی دیکھا ہے !شیح نے تبسم فرمایا ۔
اورلکھاہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے قضیب البان موصلیؒ کا حال دریافت کیا گیا ؟ فرمایا وہ ولی مقرب و صاحبِ حال و قدمِ صدق ہیں ۔ کسی نے کہا ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ انہو ںنے نماز پڑھی ہو !فرمایا وہ وہاں نماز پڑھتے ہیں کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ،ہیں میں انہیں دیکھتا ہوں کہ موصل میں یا او رکسی شہر میں نماز پڑھتے ہیں تو وہ باب کعبہ پر سجدہ کر تے ہیں ۔ ابوالحسن قرشی کہتے ہیں کہ میں بار قضیت البان ؒ کی ملاقات کو گیا دیکھا ان کا جسم اس قدر بڑا ہے کہ تمام گھر ان سے بھر گیا ،میں یہ دیکھ کر ڈر گیا ،پھر جب دوبارہ گیا تو دیکھا کہ وہ اپنی اصلی حالت پر ہیں ۔
او رلکھا ہے کہ شیخ برہان الدین ؒ انباسی نے اپنی کتاب ’’ تلخیص الکواکب المنیرۃ ‘‘میں لکھاہے کہ جب شیخ ابو العباسؒ مکہ معظمہ کو گئے تو حرم شریف میں شیخ ابوالحجاج اقصری ؒ سے ملاقات ہوئی اور اولیاء اللہ کا ذکر خیر دیر تک ہو تا رہا ، ابوالحجاج ؒ نے کہا کیا طواف کعبہ کی خواہش ہے ؟ابو العباس ؒ نے کہا کہ خداے تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اُس کا گھر اُن کا طواف کرتا ہے ! ابوالحجاج نے جو نظر اٹھاکر دیکھا تو فی الواقع بیت اللہ ان دونوں کے اطراف طواف کر رہا ہے ۔ انبا سی ؒ نے لکھا ہے کہ یہ کوئی انکار کے قابل بات نہیں ،اس کی نظریں اخبار صالحین میں بہت سی ملتی ہیں ۔
اور لکھا ہے کہ ابن قیم ؒ ’’کتاب الروح ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :روح کی وہ شان ہے جو بدن کو حاصل نہیں ، چنانچہ رفیق اعلیٰ میں رہتی ہے اوراسی حالت میں بدن کے ساتھ بھی اس کو اتصال ہو تا ہے ،اس طورپر کہ جب اس پر سلام کیا جائے تو جواب سلام دیتی ہے۔
جب یہ بات مسلم ہوئی کہ کرامت سے ایک شخص متعد ومقامات میں رہ سکتا ہے تو اس سے ایک بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا ، وہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ ایک ایک جنتی کو اتنے باغ دیے جائیں گے جو زمین و آسمان کے برابر ہوں۔مطلب یہ کہ تمام رو ئے زمین کی سلطنت کے مساوی ہر شخص کو وہاں سلطنت دی جا ئے گی ۔اور یہ ظاہر ہے کہ آدھی بلکہ پائو زمین بھی سرسبز نہیں ہے اور اس میں باغ تو شاید لاکھوں حصہ بھی نہ ہوں گے ، بخلاف جنت کے کہ اس کی شان میں حق تعالیٰ فرما یا ہے و جنات أ لفا فاً یعنی کثیر اشجا ر والی جنتیں ۔پھر صرف باغات ہی نہیں بلکہ عیش و عشرت کے جملہ سامان موقعہ موقعہ پر مہیا اور موتیوں وغیرہ کے محل او ران میں حو و غلمان وغیرہ موجود ہو ںگے ۔ غرضـکہ ایک شخص کے واسطے ایک اتنا بڑا ملک جس کی شان میں حق تعالیٰ وملکاً کبیراً فرما تا ہے معین فرما یا گیا، اگر تھوڑی تھوڑی دیر ایک ایک خط اورمکان میں سیر و تفرج ہو تو تمام ملک کی گشت کرنے کے لئے ایک مدت دراز درکا ہے ۔پھر جس چیز کو دیکھئے دلچسپ و دل فریب اور قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی مقام یا کوئی چیز پسند آجا تی ہے تواس کے چھوڑ نے کو دل نہیں چاہتا :
کرشمہ دامن ِدل می کشد کہ جا اینجا ست
اس لحاظ سے تو ہر مقام او رہرچیز ہی پاس اقامت کر نے پر مجبور کر ے گی ،اور تمام سلطنت کی اشیاء کا وجود اس شخص کے حق میں بیکار ہو گا ، حالانکہ وہاں کی کل اشیاء خاص اسی کے انتقاع کے لئے ہیں ۔ مگر جب ہمیں معلوم ہوا کہ کرامت سے ایک آدمی اِس عالَم میں متعد مقامات میں بوقتِ واحد رہ سکتا ہے تو جنت تو خاص ’’دار الکرا مت ‘‘ہے وہاں جس قدر کرامات اور اقتدارات مسلمانوں کو دیے جائیں گے ان کا شمار ہی نہیں۔ اس صورت میں یہ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہر مقام میں جتنی اپنی ذات سے رہ سکے گا اورکوئی چیز اس کے حق میں بیکا ر ثابت نہ ہوگی ۔
پل صراط کا باریک اور ایک وادی ہونا :
یہاں ایک اور مسئلہ حل ہوگیا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ پل صراط بعض کے واسطے بال سے باریک ہوگا ،اور بعض کے حق میں کشادہ میدان ۔ کیونکہ یہ ثابت ہو گیا کہ ایک معین چیز وقت واحد میں کئی مقامات میں ہو سکتی ہے ،پھر کیا تعجب کہ ایک مقام میں نہایت باریک ہو اور دوسرے مقام میں نہایت وسیع ،اور دونوں کو بوحدت شخصی ایک ہوں ۔
جب جن کا جود مشاہدہ سے ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے احوال نزالے ہیں انسانوں پر ان کا قیاس نہیں ہو سکتا ، تو اب ان مشاہدات سے انکا ر کی کوئی ضرورت نہ رہی جو متواتر ثابت ہیں کہ وہ کبھی نظر آتے ہیں اور ان کا مختلف صورتیں بدلنا محسوس ہو تا ہے ،مثلاً کتے یا بلی کی صورت میں دکھا ئی دیتے ہیں ،پھر ساتھ ہی مہیب و قد آور آدمی بن گئے ۔جب کوئی اپنے چشم دید واقعات اس قسم کے بیان کر تا تو کہا جا تا تھا یہ سب خیالی اور وہمی صورتیں ہیں جن کی خارج میںکوئی اصل نہیں!حالانکہ ان امور کی اصلیت اب ثابت ہو چکی ہے ۔
اب بھی شاید بعض لوگوں کے سمجھ میں یہ نہ آئے گا کہ اگر وہ ایسے اجسام ہیں جو دکھا ئی نہیں دیتے تو پھر ان کا دکھنا کیسا ؟ اور آشکال کے بدلنے میں بڑے بڑے اِشکال پیدا ہو تے ہیں ،مگر غور کیا جائے تو اس کا سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ۔ حق تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا اس کے اوصاف و احول خاص خاص قسم کے معین کئے جو ہمیشہ ایک طورپر دیکھے جا تے ہیں ،اس وجہ سے جب اس چیز کا خیال آئے گا تو وہی احوال واوصاف پیش نظر ہو جائیں گے ۔
عادت اور خرق عادت :
دیکھئے اگر کوئی مسلمان ہمیشہ داڑھی منڈھوا تا ہو تو جب کسی کو اس کا خیال آئے گا اس کے چہرہ کے ساتھ داڑھی کبھی خیال میں نہ آئے گی ،اور اگر بتکلف اس کا خیال کیا جا ئے تووہ ایسے ہوگا جیسے کسی عورت کے چہرہ کے ساتھ داڑھی کا خیال کیا جائے۔ اگرچہ دونوں کی داڑھیوں میں فرق ہے عورت کی فطرت میں داڑھی نہیں رکھی گئی اور مردکی فطرت میں داڑھی ہے مگر بتکلف خواہ اس خیال سے کے عورتوں کے ساتھ مشابہت ہو یا اور کسی وجہ سے وہ نکال دی گئی مگر دنوں تصور کے وقت اس بات میں برابر ہیں ،یعنی جس طرح عورت کے تصور کے وقت داڑھی خیال میں نہیں آتی اسی طرح مرد ریش تراش کے تصور کے وقت بھی داڑھی خیال میں نہ آئے گی ،کیونکہ عادت کی وجہ سے اس کی داڑھی کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا ،ہرچند اس کے چہرہ میں اس امر کی صلاحیت ہے کہ داڑھی نکل آئے مگر اس کی تصوری صورت میں صلاحیت داڑھی کی نہیں ہے ۔با وجود اس کے اگر اس پر یہ خیال غالب ہو جائے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خو د داڑھی رکھتے تھے اور اس کے منڈ ھوانے سے منع فرمایا اور یہ بھی فرمایاکہ :جو شخص کسی قسم کی مشا بہت پیدا کرے وہ اسی قوم میں ہوگا جس کے ساتھ اس نے مشابہت پیدا کی ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے افعال پر مطلع ہو تے ہیں اور بحسب اعتقاد اہل سنت ہمیں دیکھتے ہیں ،جب حضرت ؐ ہماری صورتوں کومخالفین اسلام کی طرح بے داڑھی دیکھتے ہو ںگے تو کس قدر رنج ہو تا ہوگا کہ اپنی امت کے لوگ مخالفین میں شمار کئے جائیں !!اور قیامت میں حضرت ؐ کو کیا منھ بتائیں گے ۔ غرضکہ اس قسم کے خیالات سے اگر وہ شحص داڑھی رکھ لے تو لوگوں کو تعجب ضرور ہوگا ،اورکوئی رو دارشخص ہو تواس کے احباب متحیر ہ وکر دیکھنے آئیں گے ،ان میں دیندار لوگ مبارکباد دیں گے ،اورجن کو دین سے چنداں تعلق نہیں وہ نفریں کریں گے ،فرشتے جو مسلمانو ں کے خیر خواہ ہیں خوش ہو ں گے اور شیاطین ناخوش اور غمگین ۔غرضکہ ترک عادت کی وجہ سے حیرت ضرور ہوگی ،مگر یہ نہ سمجھا جائے گاکہ اس شخص کی داڑھی غیر ممکن تھی ،وہ تو مرد ہے بعض عورتوں کو بھی داڑھی نکلتی ہے ،چنانچہ خود میں نے ایک داڑھی والی عورت دیکھی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی مقتدرشخص کسی بات کی عادت کرلے تو یہ لازم نہیں آتا کہ اس عادت کو ترک کر نے پر وہ قادر نہ ہو ۔ جس طرح شخص ریش تراش ترک عادت پر قادر ہے ۔
اسی طرح خداے تعالیٰ نے جن جن اشیاء میں ایک ایک عادت خاص طورپر رکھی ہے اس عادت کو ترک کرنے پر قادر ہے ،اسی کو خرق عادت کہتے ہیں ۔لوگو ںنے خرق عادات ایک بڑی بات بنا رکھی ہے مگر دراصل خدا ے تعالیٰ کے نزدیک عادت اور خرق عادت دونوں برابر ہیں ،کیونکہ جب یہ امرمسلم ہے کہ خدا ے تعالیٰ نے پانی میں پانی میں سردی اور آگ میں گرمی اپنے ارادے اور اختیار سے پیدا کی ہے تواگر پانی میں گرمی اور آگ میں سردی پیدا کرے تو کونسی بڑی با ت ہے ؛نفس تخلیق دونوں کی برابر ہے ،یہ ہر گز ثابت نہ ہوسکے گا کہ پانی کی صورت نوعیہ کی سردی کے ساتھ کوئی خصوصیت ہے ،اگر ایسا ہوتا تو وہ گرم کبھی نہ ہوتا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں گرمی اس قدر پیدا ہو سکتی ہے کہ آگ کی طرح وہ بھی جلا دیتا ہے ۔غرضکہ پانی کی سردی اور آگ کی گرمی صرف عادت کی وجہ سے خیال میں آتی ہے ،اس کو صورت نوعیہ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ۔
اس تقریر کے بعدمیری دانست میں یہ سمجھنا بہت آسان ہو جائے گا کہ ’’جن‘‘ کی تخلیق خاص طورپر جدا گانہ ہے ۔ کوئی ضروری نہیں کہ آدمی کے پورے لوازم و اوصاف ان میں بھی پائے جائیں ،اور آدمی پر ان کی قیاس کرکے ان کی خصوصیات سے انکار کر دیا جائے۔
آکام المر جان میں لکھا ہے کہ حارث محاسبی ؒ کا قول ہے کہ : مسلمانون جن و انس جب جنت میں داخل ہوں گے تو آدمی جنوں کو دیکھیں گے اور جن آدمیوں کو نہ دیکھ سکیں گے ۔دیکھئے اس مقام کے لوازم وآثار ہی جدا ہوگئے کہ انسان کی بصارت میں ایسی صلاحیت دی جائے گی کہ جنوں کو دیکھ سکیں گے۔ کیو ں نہ ہو جب خداے تعالیٰ کی رئویت کی صلاحیت ان کے آنکھوں میں دی جائے گی توجن کا دیکھنا کونسی بڑی بات ہے !حق تعالیٰ فرماتا ہے وجوہ مو مئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ جس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا ے تعالیٰ کی رئویت جنت میں ہو گی ۔اور احادیث میں اس امر کی تصریح ہے کہ وہاں حق تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جیسے کوئی چودھویں رات کے چاند کو دیکھتا ہے ۔ آکام المرجان میں ابن عبدالسلام کا قول نقل کیا ہے کہ رئو یت الٰہی صرف اور صرف مسلمان اور مؤ منوں کو ہو گی ،ان کے سوانہ جن کو ہوگی نہ ملائکہ کو۔معلوم ہو تا ہے کہ یہ شرف خاص انسان ہی کے واسطے ہے ،کیونکہ وہ خلیفۃ اللہ ہے،جن کو دنیا میں بہت سی با توں میں انسان پر فوقیت تھی اس کا معاوضہ آخرت میں اسی وجہ سے دیا گیا کہ ا ن تمام فضیلتوں سے جو وہاں دی جائیں گی ابدالآباد متصف رہے ۔
درازیِ عمرِ جن :
جنو ںکی عمریں بہت دراز ہو تی ہیں ،چنانچہ آکام المرجان میں لکھا ہے کہ عمر بن عبد العزیز کسی جنگل میں جا رہے تھے کہ ایک سانپ پران کی نظر پڑی جو مرگیا تھا،انہو ںنے اس کو کفن پہناکر دفن کر دیا ،غیب سے آواز آئی کہ :اے سرق میں گواہی دیتا ہوں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود میں نے سنا ہے کہ تمہیں فرما رہے تھے کہ ’’تم ایک جنگل میں مرو گے اور ایک مرد صالح جو اس زمانہ میں بہترین اہل ارض سے ہوگا تمہیں کفن پہنا کر دفن کر ے گا ،!عمر بن عبدالعزیز نے اس کہنے والے سے پوچھا کہ خدا تم پر رحم کرے تم کون ہو؟ کہا میں ایک جن ہوں ان جنوں میں سے جنہوں نے قرآن شریف رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا ،ان لوگوں میں سے سواے میرے اور سرق کے اب کوئی باقی نہیں ،اور سرق یہی ہے جس کو آپ نے کفن پہنا کر دفن کر دیا۔
دائرۃ المعارف میں معلم بطرس بستانی نے لکھا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا جب حضرت ؐ مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے گزر گئے توایک بوڑھے کو دیکھا لکڑی ٹیکتا ہوا آرہا ہے آنحضرت ؐ نے اس سے فرمایا کہ یہ چال اور آواز جن کی ہے ! اس نے کہا درست ہے،آپ نے فرمایا کہ :جن کے کس قبیلہ سے ہو؟کہا : صاصہ بن الہیم بن لاقیس بن ابلیس ،فرمایا اس سے تو معلوم ہو اکہ تجھ میں اور اس میں دوہی پشت ہیں ! کہا : جی ہاں، فرمایا :کتنی مدت تجھ پر گزری ؟کہا تقریباً ساری دنیا کو کھا گیا ،جس زمانے میں قابیل نے ہا بیل کو قتل کیا تھا اس وقت میں ٹیلو ںپر چڑھ کر دیکھتا ہوں اور لوگوں کو درغلایا کر تا تھا ،فرمایا یہ ابر کام ہے !کہا یا رسول اللہ عتاب نہ فرئیے میں ان لوگوں میں سے ہوں جن نوح علیہ السلام پرایمان لائے میں نے ان کے ہاتھ توبہ کی اور ہود علیہ السلام سے ملااور ان پر ایمان لائے میں نے ان کے ہاتھ پر توبہ کی ،اور ہو دعلیہ السلام سے ملا اوران پر ایمان لایا ،او رابراہیم علیہ السلام سے ملا اور آگ میں ان کے ساتھ تھا،اورجب یوسف علیہ السلام کنویں میں ڈالے گئے میں ان کے ہمراہ تھا ،اور شعیب اور موسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کی ،اور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے ملاقات سے شرف ہوا انہوں نے مجھ سے کہا کہ : اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوتو سلام ان پر پہونچانا ،چنانچہ یہ پیام میں نے آپ کو پہونچا دیا اور آپ پر ایمان لا یا ۔حضرت نے فرمایا :اب تم کیا چہا تے ہو ؟کہا موسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کی اور عیسیٰ علیہ اسلام نے انجیل کی مجھے تعلیم دی ہے اب میں چاہتا ہوں کے آپ قرآن کی تعلیم فرمائیں !چنانچہ حضور ؐ نے قرآن کی ان کو تعلیم دی ۔ تاثیر اسماء وغیرہ درجن :
آکام المرجان میں ابن عقیل کی ’’کتاب الفنون ‘‘ سے نقل کیا ہے کہ ہمارے بغدا د کے محلہ ظفریہ میں ایک گھر تھا ،جس میں کوئی رہ نہیں سکتا تھا ،بہت سے لوگ رات کو رہے اور صبح کومردہ پائے گئے ، ایک شخص نے وہ مکان کرایہ پر لیا ہر چند لوگوںنے منع کیا مگر نہ مانا اور اس میں اتر پڑا ،لوگ صبح ہوتے ہی اس کی حالت دریافت کرنے گئے تووہ صبح سالم تھا ، اور ایک مدت تک اس میں رہا ،لوگوں نے کیفیت دریافت کی توکہا کہ :میں نے جب عشاء کی نماز اس گھر میں پڑھی اور تھوڑا سا قرآن پڑھا تو ایک جوان کنویں میں سے نکلا اور مجھے سلام کیا ،میں سخت پریشان ہوا ، اس نے کہا کہ ڈرومت میں چا ہتا ہو ںکے تم سے قرآن پڑھو ں !چنانچہ میںنے پڑھانا شروع کیا،ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ اس گھر کے واقعات جو لوگ بیان کر تے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کہا کہ ہم لوگ مسلمان جن ہیں نماز قرآن پڑھتے ہیں ، اس گھر کو اکثر فساق کرا یہ پر لے کر اس میں شراب خوری کیا کر تے تھے اس وجہ سے ہم ان کو مار ڈالتے تھے !میں نے کہا کہ مجھے رات کو آپ سے خوف ہو تا ہے بہتر ہوگا کہ دن کو تشریف لایا کریں !کہا اچھا ۔او رہر روز دن کو کنویں سے نکل کر میرے پاس آیا کر تا ، ایک روز وہ پڑھ رہا تھا کہ راستہ میں کسی نے کہا کہ کیا کسی کو بد نظری اور جن کا علاج کر انا ہے ؟مجھ سے اس نے پوچھا یہ کیا ہے ؟میں نے کہا یہ عامل ہے جن کو اتار تا ہے ،کہا اس کو بلالو !جب میں نے اس کو بلا یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ غائب ہے اور ایک بڑا سانپ چھت پرجا رہا ہے اس عامل نے کچھ پڑھنا شروع کیا جس سے وہ سانپ لٹکنے لگا تھوڑی دیر میں وہ اس رومال میں گر پڑا جسے عامل نے پہلے سے ہی بچھا رکھا تھا ، وہ اٹھا اور اسے زنبیل میں داخل کرنا چاہا تو میں نے منع کیا ، اس نے کہا کیا مجھے اپنے شکار کو لے جانے یس روکتے ہو ؟ !میںنے ایک دینار دے کر اسے رخصت کیا ،سانپ حرکت کر کے اپنی شکل سابقہ پر ہو گیا مگراس کی حالت نہایت متغیر تھی ،میں نے کہا تمہاری کیا حالت ہے ؟کہا اس شخص نے چند اسماء پڑھ کر مجھے مار ڈالا ، مجھے امید نہیںکہ میں جانبز ہو سکوں ،تم اس کنویں کی طرف کان لگائے رکھواگر اس میں سے چیخ کی آواز آئے تو یہاں سے فوراً بھاگ جانا !چنانچہ رات کومیں نے آواز سنی اور فوراً بھا گ گیا ۔ابن عقیل نے لکھا ہے کہ اس کے بعد ا س مکان میں پھر کوئی نہ رہا ۔اس سے ظاہر ہے کہ اسماء ان میں ایسی تاثیر کر تے ہیں جسیے زہر انسان میں ۔اور آکام المرجان میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ایماندار اپنے شیطان کو ایسا دبلا کرتا ہے جیسے کوئی سفر میں اونٹ کو ۔
قیس بن حجاج کہتے ہیں کہ :میرے شیطان نے ایک روز مجھ سے کہا کہ جب میں تم میں داخل ہوا تھا تو اونٹ کے جیسا تھا اور آج میری یہ حالت ہے کہ چڑیا کے مثل ہو گیا ہوں !میں نے کہا یہ کیوں ؟کہا کہ : تم قرآن پڑھ کر مجھے گلا تے رہتے ہو۔یہ ان شیاطین کا حال ہے جو ہر انسان کے ساتھ ہو تے ہیں جس کو ’’قرین ‘‘کہتے ہیں ۔متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ ہر انسان کا ایک قرین جن سے ہو تا ہے جو کافر ہو تا ہے ،صحابہ ؓنے پوچھا کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟فرمایا :ہاں مگر میرا قرین مسلمان ہو گیا ۔
اورایک روایت ہے کہ فرما یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : آدم علیہ السلام پرمجھے دو باتوں میں فضیلت حاصل ہے ، ایک یہ کہ میرا شیطان کافر تھا حق تعالیٰ نے میری مدد کی یہاں تک کہ وہ شیطان ہو گیا ،اور میری بیویاں میری مدد کیا کر تی ہیں ، بخلاف آدم علیہ السلام کے کہ ان کا شیطان کافر تھا اور ان کی بیوی نے خطا پر ان کی مدد کر کے انہیں ضرر پہنونچا یا ۔ الحاصل جن خواہ قرین ہو یا نہ ہو اس کے جسم پر اسماء کی تاثیر ہو تی ہے ،بخلاف دوسرے انواع واجناس کے ۔
آکام المرجان میں روایت ہے کہ زبیر ؓ ابن العوام کہتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ہمراہ لے کر جنگل کی طرف چلے ، جب بہت دور نکل گئے تو ایک میدان نظر آیا جس میں بہت اونچے اونچے لوگ تھے جن کا قد بھا لے بھالے برابر تھا، جب میں نے اس کو دیکھا تو مارے خوف کے لرزنے لگا یہاں تک کہ میرے پائوں میرے جسم کو تھام نہیں سکتے تھے ،حضرت ؐ نے اپنے پائوں کے انگوٹھے سے ایک لکیر کھینچ کر مجھے فرمایا کہ اس کے اندر بیٹھ جائو ! جب میںاس میں بیٹھ گیا تو وہ خوف میرے دل سے جا تا رہا ،پھر حضرتؐ نے ان کو تعلیم و تلقین فرماکر واپس تشریف لائے ۔ اس قسم کے واقعات متعد ہوئے ہیں ،سب میں یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن صحابیوں ؓ کو ہمراہ لے جا تے تھے ان کو لکیر کے حصار میں بٹھا تے تھے ،یہ لکھیر دیکھنے کو لکھر تھی مگر دارصل ایک مضبوط قلعہ تھا کہ تمام روئے زمین کے جن اس کو توڑنا چاہتے تو نہ توڑ سکتے ۔ حالانکہ جنوں کی قوت مشہور ہے ،چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے ایک جن نے کہا کہ :اگر آپ فر ماتے ہیں تو تخت بلقیس کو میں آپ کا دربار برخواست ہونے سے پہلے اٹھا لاتا ہوں !حالانکہ وہ تخت بہت ہی بڑا اور سینکڑوں میل دور تھا ۔ اتنی قوت پر بھی اس لکیر حصار کو جنات توڑنہ سکے ۔
آکام المرجان میں ہے کہ ابن مسعودؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ساتھ لے گئے ، وہ کہتے ہیں کہ : جب حضرت مجھے لکیر کے اندر بیٹھا کرتشریف لے گئے تو میں نے دیکھا کہ دور سے ایک سیاہ عبار اٹھا جس سے مجھے خوف ہوا کہ قبیلہ ہوازن نے مکر کرکے قتل کے ارادہ سے حضرت ؐ کو یہا ں بلایا ہے اور اب وہ آن پہنچے!اس خیال کے تحت باہر نکلنا چاہاتھا کہ حضرتؐ کا ارشاد یاد آگیا جو تاکید سے فرما تھا کہ:اس مقام سے علحدہ نہ ہونا ! میں وہیں بیٹھا رہا ،جب حضرتؐ تشریف لائے اور میں نے اپنا قصہ بیان کیا توفرما یا کہ :اگر تم اس لکیر سے نکلتے تو تمہیں کوئی جن اڑالے جاتا ۔اس سے ظاہر ہے کہ اس لکیر دائرہ کہ اندر داخل ہونا ان کی قدرت سے باہر تھا ۔اسی وجہ سے عامل لوگ کچھ پڑھ کر لکیری حصار کر دیتے ہیں خواہ بذریعہ خط یا بذریعہ اشارہ ،اور ہر چند جن عاملوں کے دشمن ہو تے ہیں مگر جب تک عامل حصار میں ہو تا ہے وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔
شیخ اکبر قدس سرہ نے فتوحات کے باب مقام معرفت محبت میں لکھا ہے کہ : اشبیلیہ میں ایک عارفہ تھیں جن کانام فاطمہ بن مثنیٰ تھا ،ان کی حالت بیان کر کے لکھا ہے کہ : ایک روز انہوں نے کہا کہ ’’میرے حبیب نے مجھے سورۂ فاتحہ دی ہے جو میری خدمت کر تی ہے اس نے مجھے خدا کی جانب سے دوسری طرف مشغول نہ کیا ‘‘ میں اس تقریر سے ان کامقام سمجھ گیا ، ایک روز ہم بیٹھے تھے کہ ایک عورت آئی اور مجھ سے کہا : اے بھائی میرا شوہر شریش شذونہ میں ہے میںنے سنا ہے کہ اس نے وہاں نکاح کر لیا ہے اب کیا کرنا چاہئے ؟ میںنے کہا تم چاہتی ہو کہ وہ تم سے ملے ؟ کہا :ہاں ،میں نے حضرت فاطمہ ؓ بنت مثنیٰ سے کہا کہ اے اماں یہ عورت جو کہہ رہی ہے کیا تم نے نہیں سنا ؟ کہا : اے لڑکے تم کیا چا ہتے ہو ؟میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت اس کی حاجت روائی ہو اوراس کا شوہر اس کے پاس آجائے !کہا بہت اچھا میں اس کی طرف فاتحتہ الکتاب کو بھیج کر کہتی ہوں کہ اس کے شوہر کو ابھی لے آئے !اور سورۂ فاتحہ پڑھنا شروع کیا ،اور میں بھی ان کے ساتھ پڑھنے لگا ، ان کے پڑھنے میں ایک صورت ہوائیہ متجسد ہو تی تھی ،یہاں تک کہ جب وہ سورۃ ختم ہوئی تو ایک صورت ہوائی مکمل ہوگئی انہو ںنے اس سے کہا کہ :اے فا تحتہ الکتاب شریش شذونہ کو جاکر اس کے شوہر کو لے آ،ہر گز اس کو نہ چھوڑنا اس کے بعد صرف اتنا وقت گزرا کہ آدمی وہاں سے آجائے ،اس کا شوہر آکر اپنے اہل سے ملا ۔
غوث الثقلین ؓ کی سلطنت :
دائر ۃ المعارف میں معلم بطرس بستانی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ : ایک شخص نے حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : میر ی ایک لڑکی گھر کے چھت پر چڑھی تھی وہاں سے وہ غائب ہوگئی !آء نے فرمایا کہ آج رات کو تم محلہ کر خ کے ویرانہ میں جائو اور پانچویں ٹیلہ کے پاس بیٹھو او رزمین پر یہ کہتے ہوئے ایک دائرہ اپنے اطراف کھینچ لو کہ ’’ بسم اللہ علیٰ نیت عبدالقادر ‘‘ جب اندھیرا ہو جائے گا تو جن کی ٹکڑیاں مختلف صورتوں میں تم پر کزریں گی ان کی ہیبت ناک صورتوں کو دیکھ کر ڈرنا نہیں، صبح کے قریب ان کا بادشاہ ایک بڑے لشکر میں آئے گا اور تم سے پوچھے گا کہ تمہاری کیا حابت ہے ؟ تو کہہ دینا کہ :مجھے عبدالقادر ؓ نے بھیجا ہے !اس وقت لڑکی کا واقعہ بھی بیان کردو ۔ اس شخص نے اس مقام پر جاکر حکم کی تعمیل کی اور کُل واقعات وقوع میں آئے ، جب بادشاہ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے شیخ عبد القادر ؓ نے بھیجا ہے !یہ سنتے ہی وہ گھوڑے سے اترپڑا اورزمین بوسی کر کے دائرہ کے باہر بٹھ گیا اور اس کی حاجت دریافت کی ؟ جب اس نے اپنی لڑکی کا واقعہ بیا ن کیا تو اپنے ہمراہیوں سے کہا کہ جس نے یہ کام کیا ہے فوراً اسے پکڑ کے لائو!چنانچہ ایک سرکش جن لایا گیا جس کے ساتھ میر ی لڑکی بھی تھی ، حکم دیا کہ اس سرکش کی گردن ماردی جائے ،او ر لڑکی کو میرے حوالہ کر کے رخصت ہو گیا۔
اس سے جنوں کے علم کا بھی حال معلوم ہو تا ہے کہ دائرہ تو کرخ میں کھینچا گیا او رمسا فت بعیدہ پر بادشاہ کو خبر ہوگئی ، کیونکہ رات بھر چل کر قریب صبح اس دائرہ کے پاس پہنونچا جوصرف حضرت شیخ کی نیت پر کھینچا گیا تھا ۔ اور اس سے حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے تصرف کا حال بھی معلوم ہو گیا کہ جنوں پر آپ کا کیا اثر تھا کہ صرف لکیر جو آپ کی نیت پر کھینچی گئی تھی وہاں پادشاہ بذات خود حاضر ہوا اور زمین بوسی کی ۔غرض کہ لکیرکی تاثیر خاص طورپر ہوتی ہے ۔
او ر اسی قسم کی تا ثیرات اور بھی ہیں ۔چنانچہ ’’آکام المرجان فی احکام الجان ‘‘میں لکھا ہے کہ جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ :جب تسترفتح ہوا تو میں نے کسی موقع پرلاحول ولا قوۃ الا باللہ کہا کسی ہر بذ (خادم آتشکدہ مغان ) نے سن کر کہا جب سے میں نے یہ کلام آسمان پر سنا تھا اس کے بعد سے اب تک کسی سے نہیں سنا !میں نے کہا یہ کیا بات ہے ؟ کہا میں اکثر کسریٰ و قیصر کے پاس بطور وفد جایا کر تا تھا ایک بار کسریٰ کے پاس گیا تھا جب واپس گھر آیا تو اپنی بیوی کو دیکھا کہ جس طرح میرے آنے پرہمیشہ وہ خوش ہوتی تھی جیسے کہ عورتوں کی عادت ہے کہ مرد کے سفر سے واپس ہونے پر خوش ہوا کرتی ہیں اس بار خو ش نہیں ہوئی ، میںنے سبب دریافت کیا ؟اس نے کہا : تم تو سفر پرگئے ہی نہیں روز گھر میں آیا جا یا کر تے تھے ! اس کے بعد وہ شخص ظاہر ہوا اور کہا میں تیری صورت میں اس عورت کے پاس آیا کر تا تھا اگر چاہتا ہے تو اب باری مقرر کر دی جائے ایک روز تو اس کے پاس رہے اور ایک روز میں ! میں نے قبول کیا ، ایک روز وہ میرے پا س آیا او رکمال اخلاص سے کہاکہ ہم لوگ نوبت بنوبت آسمان کی طرف اس غرض سے جاتے ہیں کہ وہاں کی خبریں چرالائیں آج میری باری ہے اگر خواہش ہے کہ تو میرے ساتھ چل !میں نے کہا اچھا ۔ جب رات ہوئی تو وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ مجھ پر سوار ہوجا ! میں اس کی پیٹھ پر سوار ہوا دیکھا کہ خزیر کے سے اس کی گردن پر بال ہیں ، اس نے کہا خبردار اچھی طرح بیٹھنا !اقسام کے خوفناک امور نظر آئیں گے اگر مجھ سے جدا ہوگا تو سمجھ لینا کہ ہلاکت ہے !یہ کہہ کر وہ اوپر کی جانب چلا یہاں تک کہ آسمان کے قریب پہونچا اور وہاں میں نے سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے لا حول ولاقوۃ الا باللہ ما شاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن یہ سنتے ہیں جتنے جن وہاں تک پہونچے تھے ان کی عجب حالت ہوئی کوئی کہیں گرا کوئی کہیں ،غرض کہ وہ کلمات میںنے یاد رکھ لئے جب صبح ہوئی میںاپنے گھر آیا ، اس کے بعد جب وہ آتا میں وہ کلمات کہتا اور وہ بے قرار ہو کر بھاگ جا تا ،چنانچہ چند روز کے بعد اس نے آنا موقوف کر دیا ۔ یہ تاثیر صرف الفاظ کی ہے ۔
غرض کہ جس طرح ہمارے اجسام میں سموم وغیرہ کی تاثیرات ہو تی ہیں جنوں کے اجسام میںلطیف چیزوں کی تا ثیرات ہو تی ہیں ۔حضرت غوـث الثقلین ؓ کی سلطنت معنوی کا جو حال لکھا گیا ہے اسی مناسبت سے ایک واقعہ لکھا جاتا ہے جو خالی از دلچسپی نہیں وہ یہ ہے :
میرے ایک دوست ہیں ، جن کو میں چالیس سال سے جانتا ہوں کہ نہایت متقی محتاط اور باخد اشحض ہیں ، جن کے تقدس پر صد ہا شخص گواہی دیتے ہیں ، اور ن کے فرزند جن کی نشو نما صلاح و تقویٰ میں ہوئی ۔ان دونوں سے خود میںنے سنا ہے اور میں یقینا کہتا ہوں کہ ان کی صدق بیانی میں مجھے ذرا بھی شک نہیں ، ان کانام کسی مصلحت سے میں ظاہر نہیں کر سکتا ۔ ان دونوں صاحبوں کا بیان ہے کہ صاحب مرقوم الصدر نے اپنے چھوٹے لڑکے کی شادی کی اس کے ساتھ ہی دولھا بیمار ہوا ،چونکہ صاحب موصوف بھی عامل ہیں انہوں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ جن مسلط ہوگیا،بہت کچھ تعویذ فلیتے کئے کچھ فائدہ نہ ہوا ،آخر لوگو ں کی نشاندہی پر حضرت میراں داتار قدس سرہ کی خدمت میں مع بیمار حاضر ہوائے جن کا مزار نائوہ شریف اسٹیشن علاقہ اونجا صوبہء گجرات میں واقع ہے ،جب وقتِ مقررہ پر مرزا شریف کے قریب بیمار بغرض علاج لا یا گیا تو اس پر بیہوشی طاری ہو ئی اور تھوڑی دیر کے بعدوہ کہنے لگا کہ : تم نے مجھے بلا کر قید کردیا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس بیمار کے واسطے بالا تے ہو تو میں کبھی نہ آتا ! بیمار کی حالت او ردیکھنے کی ھیئت گواہی دے رہی تھی کہ وہ صاحب قبر کو دیکھتا ہے اور خاص ان سے سوال و جواب کر رہا ہے ،اثنا ئے گفتگو میں کچھ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتا جا تا تھا جیسے کوئی عامل مخاطب پر اثر ڈالنے کے لئے پھو نکتا ہے ،بیمار کی تقریر سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ حضرت نے ہماری طرف سے اسے کچھ فرمایا جس کا وہ جواب دے رہا ہے ، اس نے کہا کہ میں جومسلط ہوا ہواں اس میں میرا کوئی قصور نہیں میں نے ان سے کئی بار مختلف طریقوں سے کہہ دیا تھا کہ اس لڑکی سے نکاح مت کرو مگر انہوں نے نہیںمانا آخر میں نے اس کی اطلاع میر محمود صاحب کو دی جن کا مزار حیدآباد کے مغرب میں ایک پہاڑی پر ہے ،جس خاندان کی یہ لڑکی ہے وہ لوگ میرا حق اداء کیا کر تے تھے ،یعنی نرسو کے نام پرکچھ نکالتے تھے ۔ حضرت ؒ نے فرمایا یہ لوگ مسلما ن ہیں ان سے کوئی توقع مت رکھ یہ تجھے کچھ نہ دیں گے کہا اگر نہ دیں تو لڑکی میرے حوالے کر دیں ۔حضرت ؒ کی جانب سے کسی قسم کی تہدید ہوئی تو اس نے کہا تم میر اکچھ نہیں بگاڑ سکتے ،جیسے تم ایک عہد ہ دار ہو میں بھی عہدہ دار ہوں اور میرا ماموں محمکہ ء صفائی کاافسر اور صاحب فوج و لشکر ہے ۔چنانچہ اس کاماموں آیا اور یہ بات قرار پائی کہ آج مقدمہ ملتوی کر دیا جائے کل ایک کمیٹی ہ وجس کے چھ اراکین ہوں جن میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ میر مجلس اور اراکین : حضرت بابا شرف الدین صاحب بر ہماوی ،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی ، حضرت ابو سعید بغدادی ،حضرت بابا شرف الدین صاحب بھی شریک ہو ں جن کا کا مزار حیدرآباد کے جنوب پہاڑی پرہے ۔چنانچہ مجلس بر خواست ہوئی اور بیمار کو ہوش آگیا ۔ دوسرے روز وقتِ مقررہ پرجب بیمار مزار شریف کے پاس لایا گیاتو تھوڑی دیر میں بے ہوش ہوگیا اور اراکین کی آمد شروع ہوئی ،ہر ایک کو وہ مثل ہنود کے اس صفائی سے ڈنڈوت کر رہا تھا جیسے مہذب ہنود کیا کر تے تھے حالانکہ ا س لڑنے نے عمر بھر ڈنڈوت نہیں کیا ۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی ، اس لب و لہجہ سے وہ گفتگو کرنے لگا جیسے کوئی اعلیٰ درجہ کا بیر سٹر کر تا ہے ، اور عبارت ایسی شستہ تھی جیسے ناولوں کی ہو تی ہے جس کے سننے ک وجی چاہتا تھا ، اثنا ئے گفتگو میں مڑکر حکم دیتا تھا کہ فلاں فوج کو آراستہ کر کے لائو ،اور فلاں فوج کو یہ حکم دو ! منجملہ اور دلائل کے ایک دلیل اس نے یہ بھی پیش کی کہ میں نے ان کو کئی بار مختلف قرائن سے کبھی خواب میں کبھی دوسرے طریقوں سے منع کیا اور انہوں نے نہ ما نا تو میں نے میر محمود صاحب کو باضا بطہ اس کی اطلاع دے دی ،اگرشبہ ہو تو اس کی مِسل ان سے طلب کر لی جائے !چنانچہ ایک سوار مِسل لانے کو روانہ ہوااور بیمار خاموش ہو گیا تھوڑی دیر کے بعدمِسَل آئی اور گفتگو شروع ہوئی اور ایسے دلائل اس نے قائم کئے کہ جن کا جواب نہیں ہو سکتا تھا ۔اس کے بعدہر چند اہل کمیٹی نے اس پر زور دیا کہ آئندہ کوئی کسی قسم کا تعارض بیمار سے نہ کرے !مگر اس نے نہیں مانا اور کہاکہ میں اس کمیٹی کے حکم سے راضی نہیں ہوں شہنشاہ کے پاس ا س مقدمہ کی مسل روانہ کر دی جائے !چنانچہ بغداد شریف کو مِسَل روانہ کردی گئی اور مجلس برخاست ہوئی ۔ تیسرے روز جب اجلاس ہوا تو حضرت غوث الثقلین ؓ کا فرمان صادر ہوا جس میں یہ حکم تھا کہ : تو کیا سمجھتا ہے اگرمیں چاہوں تو تجھے جلاکر خاکِ سیاہ کر دوں ،مگر تو نے جب ان کو اطلاع کر دی تھی تو معاف کیا گیا ،مگر ہمارے لوگوں کی شان میں تو نے جو بے ادبی کی ہے اس کی پاداش میں یہ سزا دی جاتی ہے کہ پابہ زنجیر کر کے اجمیر کے فلاں پہاڑ پر پانچ سال با مشقت مجوس رکھا جائے گا ،اور روشن علی صاحب داروغہ ء مجلس کو حکم دیا گیا کہ دو دفعہ مشقت لی جائے ،اور طرف ثانی پرایک ہزار روپیہ جرمانہ کیا گیا ، اس کے بعد بیڑیاں اور ہتھکڑیاں لائی گئیں اور بیمار کے دونوں ہاتھ مل گئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں اور اس کے بعد بڑیاں پہنا دی گئیں ،اورساتھ ہی بیمار کو ہوش آگیا ۔ اور اس وقت سے اب تک جس کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا بیمار پرکسی قسم کا اثر نہیں۔دیکھئے ہتھکڑیاں بیڑیاں پہننا ایک قسم کا مشاہدہ ہوگیا اور اس کے آثار بھی مرتب ہو ئے کہ بیمار کو صحت ہوگئی ۔اب وہ بیڑیاں وغیرہ معلوم نہیں کہ لوہے کی تھیں یا اور کسی چیز کی ؟ مگر اتنا تو ضرور ثابت ہوا کہ وہ ایسی مضبوط تھیں کہ جن ان کو نہ توڑ سکیں ۔ہر چند یہ واقعہ عقل کے معیار پرقابل تصدق نہیں ، مگر کئی صاحبوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ حضرت میراں داتار ؒ کی قبرپر ہمیشہ آسیب زدہ آتے ہیں اور صحت پاکر جا تے ہیں،روز انہ اس قسم کے صد ہا واقعات کا مشاہدہ ہو تا رہتا ہے ۔
قطعی نظر اس کے میں نے دیکھا ہے کہ آج کل دنیا ے فلسفہء جدیدہ میں ایک ہل چل مچی ہوئی ہے او رلا کھوں فلا سفر ایسے امور کے قائل ہو تے جا تے ہیں جس کو عقل ہرگز قبول نہیں کرتی ۔جیسے ہوشیار آدمی کے جسم میں سے کل اعضاء آدھے آدھے چرا لے جا نا وغیرہ ۔چنانچہ فاضل فرید وجدی نے لکھا ہے کہ یورپ و امریکہ میں ماہانہ بیں (۲۰) رسالہ ان مسائل سے متعلق نکلتے ہیں جو ایسے واقعات عجیبہ و غریبہ سے بھرے ہو تے ہیں ۔اس لئے میں نے اس بیان پرجرأت کی ہے ۔
اس واقعات سے ظاہر ہے کہ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کو اس وقت بھی وہی سلطنت حاصل ہے جو زندگی میں تھی ۔جنوں کو چونکہ بو جہ لطافت رو حا نیت سے مناسبت ہے اس لئے وہ اس عالم کے حالات کو مشاہدہ کر تے ہیں اور انسان نہیں کر سکتے ۔ مگر حضرتِ انسان کو بھی ایک ایسی قوت دی گئی ہے کہ اگر اس میں کمال حاصل کریں تو علاوہ اس عالم کے مشاہد ہ کے ایسے ایسے کرشمے بتائیں کہ ’’جن ‘‘ بھی حیران ہو جائیں ۔وہ قوت یہی خیال ہے ، جب وہ پختہ کیا جا تا ہے تو خیال منفصل کا جو عالم ہے اس میں تصرفات کر نے لگتا ہے چنانچہ اپنی صورت کو خیال منفصل میں قائم کر دیتا ہے ۔ قضیب البان ؒ وغیرہ کو یہی بات حاصل تھی ۔ اس کا حال حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ؒ نے فتوحات مکیہ میں خوب تفصیل سے لکھا ہے ۔اولیاء اللہ اس وجہ سے کہ خداے تعالیٰ کے وہ محبوب ہیں ان کو جو قدرت دی جا تی ہے اس کا تو یہ بیان نہیں ہو سکتا،مگرظاہراً اس عالم میں ان کو تصرف ا س غرض سے دیا جا تا ہے کہ ان کی کرامت ظاہر ہو ۔
کرامات اولیاء اللہ :
بات یہ ہے کہ مسلمان شخص خدا اور رسول کی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے تووہ خدا ے تعالیٰ کے نزدیک مکرم یعنی صاحب کرامت ہو تا ہے چنانچہ ارشادہے ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم یعنی : خداے تعالیٰ کے نزدیک تم میں کا وہی شخص زیادہ کرامت والاہے جو زیادہ تر متقی ہو ۔ جب تویٰ کی وجہ سے کوئی شخص خدا ے تعالیٰ کے نزدیک با کرامت ہو جائے تو بحسب مقتضائے وقت و صلاحیت اس کو تصرف کی اجازت دی جا تی ہے ، جس سے لوگوں کو بھی معلوم ہو جا تا ہے کہ یہ حاصت کرامت ہے ۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ کرامت اس فعل کانام نہیں ہے جو دلی سے بطور خرق عادت صادر ہو تا ہے بلکہ وہ فعل اس امر پر قرینہ ہے کہ وہ شخص عند اللہ مکرم و با کرا مت ہے ، جو فعل بالذات کرامت پر دال ہے وہ تقویٰ ہے ۔ اگر خداے تعالیٰ نے کسی کو صفت تقویٰ عنایت کی ہے تو یقینا سمجھا جائے گا کہ وہ عند اللہ مکرم یعنی با کرامت ہے اور دوسرے افعال و خوراق عادات بالواسطہ اور با التبع کرامت سمجھے جائیں گے،یعنی تقویٰ کی وجہ سے وہ تصرفات ہو ں گے ۔
شیخ الا سلام سبکیؒ ؒ نے طبقات شافعیہ میں لکھاہے کہ ابوعلی رو دبار ی کہتے ہیں کہ ابو العباس رقی سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ : میں ایک بار میں ابو تراب نخشبی ؒ کا ہم سفر تھا،مکہ معظمہ کے راستہ میں مجھ پر تشنگی غالب ہوئی ،شیخ سے عرض کی انہوں نے زمین پر پائو ںمارا جس سے نہایت سرد و شیریں پانی کا چشمہ جا ری ہو گیا ،میں نے کہا میرا جی چاہتا ہے کہ ایسا لطیف پانی عمدہ پیالہ میں پیوں ! آپ نے زمین پر ہا تھ مارا نہایت شفاف بلو رین پیالہ بر آمد ہوا ،چنانچہ مکہ معظمہ تک وہ پیالہ ہما رے ساتھ رہا ،ایک روز انہوں نے مجھے سے فرمایا کہ : تمہارے اصحاب ایسے امورمیں کیا کہتے ہیں ؟ میںنے کہا : میں نے تو کسی کو کرامتوں کا انکا ر کر تے نہیں دیکھا ! فرمایا یہ سچ ہے کہ کرامت کا منکر کافر ہے ، مگر میں نے جو تم سے پوچھا مقصود ا س سے یہ تھا کہ جس کایہ حال ہوا اس کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟ میںنے کہا :میرے خیا ل میں اس وقت ا ن کا کوئی قول نہیں ، فرمایا :تمہارے اصحاب کا یہ قول ہے کہ جس کو یہ تصرف دیا جا تا ہے وہ خدا ے تعالیٰ کی جانب سے اس کے حق میں خدا ع ہے !مگر یہ قول عموماً درست نہیں ،البتہ خداع اس کے حق ہے جس کا مقصود ِاصلی صرف خوراق عادات کا اظہار ہو ،اورجس کا یہ خیال نہ ہوتو وہ ربا نیین میں سے ہے ۔ امام ابن تقی الدین سبکیؒ نے ا س کے بعد مسئلہ کرامت میں نہایت مبسوط بحث کی ہے اس میں سے بحسب ضروریات یہاں لکھا جاتا ہے :
بعض علماء نے کرامت کا بالکل ہی انکار کر دیا ، اور بعض کہتے ہیں کہ کرامت حد خرق عادت تک نہیں پہونچ سکتی ورنہ معجزہ کی مشابہ ہوجائے گی اور نبی اور ولی میں اشتباہ ہو جا ئے گا ۔قدریہ کرامت کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں ،ان کے شبہات یہ ہیں کہ اگر کرامت جائز رکھی جائے تو سفسطہ کی نوبت پہونچ جائے گی اور یہ کہنا پڑے گا کہ ممکن ہے کہ پہاڑ سو نا ہو،اور سمندر خون ہو جائے ،اور گھر کے برتن بڑے بڑے فاضل امام ہو جائیں ،اورنیز وہ معجزہ کے مشابہ ہوگی جس سے معجزہ کی دلالت جو نبوت پر ہوتی ہے فوت ہوجائے گی ،اور نیز اگر ولی سے خوراق عادات صادر ہو تی ہیں او رکوئی نبی اس وقت مبعوث ہوتو چونکہ ولی کے حق میں خوراق عادات عادی امور ہوگئے ہیں اس لئے اس کے نزدیک نبی کی نبوت کو تصدیق کرنے کے لئے کوئی دلیل نہ ہوگی۔اور ایک شبہ یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص صالح کے لئے کرامت جائز ہ وتو ممکن ہے کہ صالح بہت سے ہوں اورجب یہ سب خواراق عادات ظاہر کریں تووہ عادت ہوگی،اس کے بعد خوراق عادات نبوت پردلیل نہیں ہو سکتیں ۔اور ان کا یہ بھی استدلال ہے کہ اگر کرامت کسی کو دی جائے تو صحابہ ؓ زیادہ تراس کے مسحتق تھے حالانکہ ان کے ہاتھ پر کبھی کرامت ظاہر نہ ہوئی ۔
یہ قدر یہ کہ شبہات ہیں ۔ اس کے جوابات امام موصوف نے نہایت تفصیل سے دئے ہیں جن کاذکر موجب تطویل ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ان شبہات میں اکثر کا مدار امکان پرہے ، مگر یہ دیکھا جائے کہ ایسا امکان بھی مضر ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ہر ایماندار اس کی تصدیق کر تا ہے کہ خدا ے تعالیٰ نے ازل ہی میں فیصلہ فرما دیا کہ عالم میں کس قسم کی کتنی چیزیں پیدا کی جائیں گی ،اور ان کے تفصیلی حالات کیاہوں گے ،اور ہر ہر آن میں جو عوارض ہر چیز پرآنے والے ہیں سب متعین ہوگئے ، جس زمانے میں جس چیز پر جو حالت ہوتی ہے وہ ازل میں حق تعالیٰ کے پیش نظر ہوچکی اور ابد تک علم ایک حالت پرہے ، ارشاد ہے ما یبد ل القول الدی مثلاً اگر زید کو ازل میں عالم کیا ہے تو کوئی اس کو جاہل بنا نہیں سکتا ،اور اگر جاہل کیا ہے تو کوئی اس کو عالم بنا نہیں سکتا ۔ تقدیر کے مسئلہ کو تو ہم نے بفضلہ تعالیٰ مقاصد الاسلام کے حصہ ء سوم میں حکمت جدیدہ کے طریقہ سے بھی ثابت کیا ہے ۔
غرضکہ جب ازل سے ابد تک موجود ہونے والی ہر چیز خدے تعالیٰ کے علم میں اس طورپر ممتاز و مشخص ہے کہ ہر آن میںوہ کن اوصاف سے متصف ہوگی تو یہ احتمال ہی نہ رہا کہ ان معلومات الٰہیہ کے سوا کوئی چیز وجود میں آئے گی یا ان میں کسی قسم کا تغیر و تبدل ہو گا ۔ اس صورت میں جو چیز وجود میں آتی ہے ، وہ ضرور ’’واجب الوجود ‘‘ ہو گی ،لیکن وجوب ذاتی نہ ہوگا بلکہ لغیرہ ہوگا ، اب اگر اس کو ممکن کہیں توصرف اس کے مر تبہ ذات کا امکان مردا ہوگا ۔پھر قبیل وجود بھی اگر دیکھا جائے توچونکہ علم الٰہی میں اس کے تمام حالات و کیفیات معین ہوچکے ہیں کہ فلاں چیز جب وجود میں آئے گی تو وہ اس طورپر ہوگی تو ہاں بھی ایک جانب کی ترجیح ہو گی ، او رممکن کی جو دو (۲) جانب ہوتی ہیں اس میں دوسری جانب مرجوح ہو گئی جس کی ترجیح محال ہے تواس صورت میں جانب مرجوح کا محال ہونا ثابت ہے ، جس کامطلب یہ ہوا کہ عالم میں دوہی چیزیں ہیں : واجب ،یا ممتنع ۔ممکن کوئی چیز نہیں ۔
اب جو کہا جا تا ہے کہ ممکن ہے کہ کرامت سے ظروف فاضل بن جائیں ،اور یہ ہو ،اوروہ ہو ،تو یہ صرف احتمال ہی احتمال ہے ۔ممکن کوئی چیز نہیں ۔ خدا ے تعالیٰ نے جس ولی کے ہاتھ سے جو کام ہونا ازل میں معین فرما دیا ہے ا س کا وجود واجب ہے ، اور جو اس کے خلاف ہے اس کاوجود ممتنع ۔ ولی کا ارادہ ایسی چیز سے متعلق ہو ہی نہیں سکتا جو خلاف مشیت الٰہی ہو ۔
حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم ان قلوبنا و نوا صینا و جوارحنا بیدک لم تملکنا منہا شیئاً یعنی :یا اللہ ہمارے دل اور پیشانی کے بال اور کل جوراح تیرے ہاتھ میں ہیں تونے ان میں سے کسی چیز کا ہمیں مالک نہیں بنایا ۔اس صورت میں امکانی احتمالات سب باطل ہوگئے ۔ اور اگر پہاڑ کا سونا کسی کی کرامت سے ہونا علم الٰہی میں ہے تو وہ ضرور ہوگا ،کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ خدا ے تعالیٰ پہاڑ کو سونا نہیں بنا سکتا ؟ ہر گز نہیں !پھر کرامت سے پہاڑ سونا بن جائے تو کیاتعجب ہے ، اگر اسی کا نام سفسطہ ہے تو روزانہ لاکھوں سفسطے وجود میں آتے ہیں ۔دیکھئے نبا تات کا انسان اور امام و فاضل بننا روزانہ برابر دیکھا جا تا ہے جس کاحال ہم نے کتاب العقل میں تفصیل سے لکھا ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ نبی اور ولی میں فرق نہ رہے گا ،تو اس کا منشا یہ ہے کہ معترض نے ولی کو فاسق سمجھا ہے کہ وہ کرامتیں دکھلا کر لوگوں کو نبی کی طرف سے اشتباہ میں ڈال دے گا تاکہ نبی کی نبوت ثابت نہ ہو نے پائے !! اگر ایسا ولی فرض کیا جائے تو وہ واقع میں ولی نہیں ہو سکتا ،اس کے حسب حال یہ شعر ہے :
کار شیطان می کند نامش ولی
گر ولی اینست لعنت بر ولی
اور اگر ولی ایسا شخص ہیں جو سرموخداے تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہ کرے تو اور اگر نبی کے ساتھ رہ کر بھی کرا متیں ظاہر کر ے تو اس سے نبی کی نبوت کی تائید ہو گی کیونکہ وہ لوگوں سے صاف کہا کرے گا میں ان کا ایک ادنیٰ غلام ہو ںاور ان ہی کی اتباع کی بدولت مجھے یہ مرتبہ حاصل ہوا ۔اس سے تو بجائے اس کے کہ نبوت میں اشتباہ واقع ہو لو گوں کو ایمان لانے کی ترغیب ہو گی ۔
او ر یہ کہاجاتا ہے کہ معجزہ او رکرامت میں فرق نہ ہوگا ،یہ درست ہے ، کیونکہ خرق عادت خواہ نبی سے صادر ہو یا ولی سے بغیر اجاز ت الٰہی ممکن نہیں ، مگرجس کے ہاتھ پر خرق عادت ظاہر ہوئی وہ نبی تھے تو کہہ دیتے تھے کہ ہم نبی ہیںاور اس پر ہمیں یہ نشانی دی گئی ہے اگر تمہیں شک ہو تو مقابل ہ وکر یہی کام کر دکھا ئو ۔اس دعوے او ردلیل کے بعد اہل انصاف ان کی نبوت کوتسلیم کر تے گئے ۔ او راگر وہ یعنی صاحب خرق عادت ولی ہوں تو کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کر سکتے ،اگربفرض محال نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر نے والا یقینا کافرہے اور وہ کا فروں میں بھی اعلی درجہ کا ۔اسی کو دیکھ لیجئے کہ اگر بادشاہ کسی کو اپنی طرف سے کسی ملک کا حاکم بنا دے اوراس کے ساتھ ایسی نشانی مثل پروانہ دے کہ کوئی دوسرا وہ نشانی نہیں لا سکتا تووہ حاکم بادشاہ کا مورد عنایات سمجھا جائے گا ،بخلاف اس کے اگر ایک شخص اسی قسم کی نشانی کسی ملک میں لے جا کر یہ دعویٰ کرے کہ بادشاہ نے مجھے حاکم بنا دیا ہے اور ایک جعلی نشانی بھی پیش کردے تو کیا ایسا شخص مور دعنایات شاہی ہو سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں !بلکہ اس جرم کی پاداش میں ایسی سخت سزا تجویز کی جا ئے گی جو معمولی جرائم کی سزاسے بد ر جہا زائد ہو ۔
اب غور کیجئے کہ نبوت سے بڑھ کر خدا ے تعالیٰ کے یہاں کو ئی مرتبہ اور عہدہ نہیں ۔ اگر کوئی شخص اپنی نام آوری یا متاع دنیوی حاصل کر نے کی غرض سے دعواے نبوت کرے اور اس پرجعلی نشا نیاں بھی پیش کرے تو کیا ایسا شخص خدا ے تعالیٰ کے نزدیک معمولی کافروں میں ہوگا ؟ میری دانست میں تووہ فرعون و شداد سے بھی بدتر ہوگا ،کیونکہ ان کو خدا ے تعالیٰ نے بادشاہت دی تھی اس لئے انہوںنے اپنی وجاہت ظاہری رکھنے کی غرض سے نبیوں کا مقابلہ کیا ،بخلاف مدعیان نبوت کے کہ وجاہت پیدا کرنے وار دنیا حاصل کرنے کی غرض سے انہوں نے جھوٹ کہی اور جھوٹ بھی کیسی کہ خدا ے تعالیٰ پر تہمت لگا ئی کہ اس نے ہمیں بھیجا ہے ،اور اس جھوٹ کو باوقعت بنا نے کی غرض سے جعلی نشا نیاں بنائیں ،لوگوں کو فریب دے کر ان کا مال کھا یا ،پہلے سے جس نبی کی سلطنت قائم تھی بغا وت کرکے اس کو درہم و برہم کر دیا ، نبی ؐ اور اولیاء اللہ کو ایذائیں پونچا ئیںحق تعا لیٰ فرماتاہے ان الذین یؤذو ن اللہ و رسولہ العنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ و أ عد لہم عذاباً مہیناًیعنی : جو لوگ خدا و رسول کو ایذ دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اوران کے لئے خدا ے تعالیٰ نے عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔اس کے علاوہ مدعیان نبوت کو کیسی کیسی جعل سازیاں اور اقسام کے جرائم کر نے کی ضرورت ہو تی ہے !!
ہم نے ’’مفا تیح الاعلام ‘‘ میں مرزا صاحب قا دیانی کے تھوڑے سے حالات لکھے ہیں اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مدعیان نبوت کو کیسی کیسی مصیبتوں میں مبتلاہونے کی ضرورت ہو تی ہے اور کیا کیا پاپڑ بیلنے پرتے ہیں ۔
او ریہ جو کہا گیا کہ اولیاء سے خوراق صادر ہو ں تووہ بوجہ عادت معجزہ کو معجزہ نہ سمجھیں گے ۔ اس موقعہ پر بھی ’’ولی‘‘ ایک معمولی شخص خیال کرلیا گیا کہ وہ کرامتوں میں ایسا مشعول ہو جاتا ہے کہ نہ اسے خدا سے کام نہ رسول سے !کیا ایسا شخص ممکن ہے کہ ولی ہو سکے ؟ اوراس کی کرامتیں بحال رہیں؟ ہرگز نہیں ! ولی تو وہ شخص ہوتا ہے کہ ہر آن میں اس کی توجہ خدا ے تعالیٰ کی طرف رہتی ہے ،بذریعہ الہام یا کشف یا رئو یائے صالحہ سے انہیں اطلاح ہوجا تی تھی کہ ’’فلاں نبی ہیں ان کی اتباع کرو ‘‘۔
پھر خوراق عادات کا امور عادیہ ہو جا نا جو خیال کیا گیا ہے وہ بھی بے اصل محض ہے ،کیونکہ اس کا کوئی قائل نہیں کہ جو کام اولیاء اللہ کر تے ہیں سب خوراق عادات ہو تے ہیں اس لئے خوراق کی ان کو عادت ہو جا تی ہے ۔ غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوکہ معاملہ بالعکس ہے ،اس لئے کہ ہرکام میں اولیاء اللہ کی نظر اس پررہتی ہے کہ معمولی کام جن کو ہرشخص اپنے اختیار ی سمجھتا ہے وہ بھی ہم سے وجود میں آتے ہیں یا نہیں ؟کیونکہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پرتو پورا ایمان ہے کہ اللہمان قلوبنا ونواصینا و جوارحنا بیدک لم تملکنامنہا شیئاً اگر کوئی اچھا کام ان سے صادر ہوگیا تو خدا ے تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ الٰہی اس کام کو صرف اپنے فضل وکرم سے تونے انجام دیا ورنہ ممکن نہ تھا کہ ہم اپنی ذاتی قوت سے اس کو پورا کر سکتے جیسا کہ ارشاد ہے لا حول ولا قوہ الا با للہ اب کہئے جولوگ معمولی کام کو بمنزلہ خرق عادت سمجھتے ہوں توخرق عادت کی ان کے نزدیک کیسی وقعت ہو گی۔غرض کہ یہ ممکن نہیں کہ نبی کا معجزہ ان کی نظروں میں بے وقعت ہو سکے ۔ اس تقریر کے بعد اہل انصاف غور فرما سکتے ہیں کہ جو دلائل عدم جو از خرق عادت پرقائم کئے گئے ہیں وہ کس درجہ کی ہیں ۔
اب رہی یہ بات کہ صحابہ ؓ سے کرامت کا صدور نہ ہوا ،سو وہ غلط ہے ،علامہ سبکی ؒ نے صحابہ کی کرامات کی ایک فہرست ہی لکھی ہے جس کو ہم بالاختصار نقل کر تے ہیں :
صدیق اکبر ؓ نے عائشہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا کہ : بیس وسق کھجور اس سال کے بارسے لے لینا !چند روز کے بعد فرمایا : اگر کھجور یں لے لی ہوںتو خیر ورنہ اب اس مال سے وارثوں کا تعلق ہو گیا ،اور صرف تمہارے دو بھائی ہیں اور دو بہنیں ۔ انہو ںنے کہا کہ میری بہن تو اسماء ایک ہی ہے! فرمایا دوسری حمل میں ہیں !چنانچہ وہ تولد ہوئیں۔دیکھئے حق تعالیٰ فرما تا ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث ویعلم ما فی الا رحام ۔آیت شریف میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے جن کو خدا ے تعالیٰ ہی جانتا ہے ، منجملہ ان کے ایک ہے کہ حمل لڑکے کا ہے یا لڑکی کا ؟صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا تکلف خبر دے دی کہ حمل میں لڑکی ہے اور وہ خبر صحیح ہی نکلی ،یہی کرامت ہے کہ خدا ے تعالیٰ ان کو و ہ علم دیا جو خو د اس کے ساتھ مختص تھا اور ابوبکر ؓ نیاپنی موت کی خبر دے دی کہ بہت قریب ہے یہاں تک کہ ورثہ کا حق مال سے متلعق کردیا !! ایسے موقعہ پر بعض لوگ ڈھٹائی سے کہ دیتے ہیںکہ اس قسم کے واقعات نص قرآن کے خلاف ہیں اس لئے ایسی روایات کو موضوع سمجھنا چاہئے ۔ ایسی جرأت کامنشا عدم غور و تدبیر اورلا علمی ہو کر تا ہے ان سے پوچھا جا ئے کہ خدا ے تعالیٰ نے یہ کب فرمایا کہ ان چیزوں کا علم میں کسی کو دیتا ہی نہیں ہوں !بے شک وہ جانتاہے ، اور اگر حق تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو یہ علم عطاء فرمادے تو علم الٰہی میںکوئی نقصان لازم نہیں آتا ، کیونکہ دوسروں کا جاننا علم الٰہی کے منافی نہیں ۔ پھر اگر کسی کو علم ہو تا بھی ہے تو وہ صرف عطاء الٰہی ہے جس میں اہلیت اورلیاقت دیکھتا ہے اسے عطاء فرما تا ہے۔ارشاد ہے وماکان عطاء ربک محظورا ً غرضکہ ایسی روایتوں کو موضوع قراردینا کوئی علمی بات نہیں ۔
ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے یہاں دو شخصوں کا کھانا ہو تو اہل صفہ میں سے ایک شخص کو ، اور جس کے یہاں چار شخصوں کا کھانا ہو توپانچویں کو ساتھ لیجا کر کھانا کھلائیں !ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین شخصوں کو ساتھ لے گئے جب وہ ایک لقمہ اٹھاتے تو اتنا ہی کھا نا نیچے سے بڑھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب فارغ ہوئے تو کھانا جتنا رکھا گیا تھا اس سے سہ (۳) چند زیادہ ہو گیا ،چنانچہ سب گھر والوں نے سیر ہو کر کھایا اور حصے بانٹے ۔
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملک فارس پر کچھ لشکر ساریہ بن زنیم کے ہمراہ بھیجا،جب وہ شہر نہاو ند کے دروازہ پر پہونچے اور اس کا محاصرہ کرنا چاہا کفار کا لشکر کثیر آگیا اور سخت لڑائی ہوئی ،یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسلمانوںکو ہزیمت ہوجائے ۔اس اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں جمعہ کا خطبہ پڑھ رہے تھے عین خطبہ میں با ٓواز بلند کہا یا سا ریۃ الجبل !یا سا ریۃ الجبل ! من استر عیٰ الذئب الغنم ففد ظلم یعنی اے ساریہ پہاڑ !اے ساریہ پہاڑ ! جو شخص بھیڑیے سے بکریاں چرانے کا کام لے اس نے ظلم کیا ۔اس کلام کوکل لشکر اسلام نے سنا او رکہنے لگے یہ تو امیر المؤ منین کی آواز ہے !غرضکہ فوراً پہاڑ کی پناہ میں چلے گئے اور اس کے بعد ان کی فتح ہو گئی ۔علی کرم اللہ وجہ بھی عمررضی اللہ عنہ کا خطبہ سن رہے تھے ،لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین نے کیسی بات کہی !ہم کہا ں اور ساریہ کہاں ؟! علی ؓ نے فرمایا : عمر ؓ کے معاملہ میں دخل نہ دو، وہ جس کا م میں داخل ہو تے ہیں اس کو پورا کر تے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب لشکر کے لوگ واپس آئے تو وہ واقعہ بیان کیا کہ ہم لوگ امیر المؤمنین کی آواز سنتے ہی فوراً پہاڑ کی پناہ میں آگئے ۔اس سے ثابت ہوا کہ عمر ؓ کا وہ کلام بیکار نہ تھا ،بلکہ اس کی وجہ سے لشکر اسلام صرف تلف ہونے ہی سے نہیں بچا بلکہ اس کو فتح بھی نصیب ہوئی ۔ دیکھئے اس وقت نہا وند اور اس کے مضافات عمرؓ کے پیش نظر تھے اورکوئی حالت وہاں کی مخفی نہ تھی ،جس طرح افسر اعلیٰ مواقع جنگ کو دیکھ سمجھ کر فوج کو لڑا تے ہیں ،عمر ؓ نے بھی یہی کام کیا ۔اور نادربات یہ کہ ہزار ہا کوس پر آواز فوراً پہونچ گئی !
اگر صحابہ ؓ نفس کرامت کے قائل نہ ہو تے تو ضرور کہتے کہ آواز تو عمر ؓ کی ہے مگر یہ تو ممکن نہیں کہ ان کویہاں کے حالات پراطلاع ہو کیونکہ علم غیب خدا ے تعالیٰ کا خاصہ ہے اورا س کے خلاف خیال کرنا شرک فی العلم ہے ،پھر اپنی آواز کو ہزارہا کوس سے یہاں پہونچا نا شرک فی التصرف ہے ،اگر عمر ؓ کا یہ کام سمجھا جائے تو ایمان جانے کی بات ہے اس لئے اس میں شک نہیں کہ شیطان نے ہمیں تباہ کر نے کی خاطر یہ جعل سازی کی ہے اس وقت ہمیں چاہئے کہ شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لئے پہاڑ سے بہت دور ہٹ جائیں ۔اگر اس قسم کے ’’موحدانہ خیال ‘‘ ان کو آجا تے تو سب غارت ہو گئے تھے ۔
زمانہء جاہلیت میں جب نیل کے جاری ہونے کا وقت آتا تو باکرہ لڑکی کو لباس فاخرہ او رزیورسے آراستہ و پیراستہ کر کے نیل میں ڈال دیتے ،جب عمر ؓ کے وقت میں مصر فتح ہوا تو لوگوں نے عمر ؓ و بن عاص سے جو وہاں کے حاکم تھے حسب عادت لڑکی کو نیل میں ڈالنے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ اسلام ایسے عادتوں کو ہدم کر دیتا ہے ۔تین مہینے تک نیل جا ری نہ ہوا ، یہاں تک کہ لوگوں نے قحط کی وجہ سے جلا وطن ہونے کا قصد کرلیا ۔عمر ؓ وبن عاص نے عمرؓ کو اس واقعہ کی اطلاع کی !آپ نے لکھا ہے کہ : تم نے بہت اچھا کیا کہ اجازت نہ دی ! اسلام پہلی باتوں کو ہدم کر دیتا ہے ۔پھر امیر اممؤ منین عمر ؓ نے ایک چٹھی نیل کے نام لکھی جس کا مطلب یہ تھا کہ : اے نیل اگر تو اپنی طرف سے جاری ہو ا کرتا ہے تو مت جا ری ہو ،اور اگر اللہ القھار تجھے جا ری کر تا ہے تو ہم اس سے درخواست کرتے ہیں کہ تجھے جا ری کردے !اور فرمایا کہ یہ چٹھی نیل میںڈال دو،چنانچہ ڈال دی گئی ،لوگوں نے جب صبح کو دیکھا تو سولہ (۱۶)ہاتھ بلند پانی اس میں جا ری تھا ۔
ایک شخص امیر المؤ منین عثمان ؓ کے پاس آرہا تھا ،راستہ میں ایک عورت پراس کی نظر پڑی خوب غور سے اس کو دیکھا ،جب حاضر خدمت ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا بعض لوگ ایسے بھی یہاں آتے ہیں جن کی آنکھوں میں زنا کا اثر رہتا ہے! اس شخص نے کہا : کیا رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وحی اترا کر تی ہے ؟ فرمایا نہیں ،فراست سے ایسی باتیں معلوم ہوا کرتی ہیں ۔ یہ آپ کا ارشاد اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ اتقو افرسۃ المؤ من فانہ ینظر بنو راللہ یعنی ایماندار اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔جب مؤمن کامل اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہو تو اس سے کونسی شیز چھپ سکتی ہے۔ہمارے نور نظر کا جب یہ حال ہے کہ آسمان تک پہونچتا ہے تو خدا ے تعالیٰ کے نور کا کیا حا ل ہو ؟ اب غورکیجئے کہ جس کی رؤیت کا ایسا ذریعہ ہو تو کیا بعد و کثافت ایسے شخص کی رؤیت کے مانع ہو سکتی ہے ۔
ایک رات علی کرم اللہ وجہ اور دونوں صاحب زادے اپنے مکان میں تشریف رکھتے تھے کہ دوپہر رات کے بعد یہ اشعار آپ کو سنائی دیے :
یا من یجیب دعاء المضطرفی الظلم
یا کاشف الضر والبلویٰ مع السقم
قدنام و فد ک حول الیبت و انتبھوا
و عین جودک یا قیوم لم تنم
ھل لی بجو دک فضل العفو عن زللی
یا من الیہ رجاء الخلق فے الحرم
ان کان عفو ک لا یرجوہ ذوخطا ء
فمن یجود علیٰ العالمین بالنعم
اپنے صاحبزادے ؓ سے فرمایا : دیکھو یہ کون پڑھ رہاہے اور اس کو بلا لائو !وہ تشریف لے گئے اواس سے فرمایا کہ امیرالمؤمنین تمہیں بلاتے ہیں !وہ شخص اٹھا اوراپنی ایک جانب کو گھسیٹتا ہوا آیا ، آپ نے فرمایا میںنے اشعار سنے ، بیان کرو کہ واقعہ کیا ہے ؟کہا کہ میری حالت یہ تھی کہ ہمیشہ لہو لعب اور معصیت میں مشغول رہتا تھا اورمیرے والد مجھے وعظ ونصیحت کرتے تھے کہ دیکھو خدا ے تعالیٰ کو بڑی سطوت ہے اور وہ انتقام لینے والا ہے وہ ظالموں سے دور نہیں ! جب وہ حد سے زیادہ نصیحت کر نے لگے تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے انہیں مار پیٹا ! انہو ںنے ساتھ ہی قسم کھا ئی کہ : میں مکہ معظمہ کو جاکر بارگاہ کبریانی میں اس باب میں فریاد کروں گا !چنانچہ وہ وہاں گئے اوردعاء شروع کی ،ہنوز ودعاء پوری نہیں ہوئی تھی کہ میرا ایک بازو سوکھ گیا ،جب مجھے یہ معلوم ہوا تو سخت ندامت ہوئی،اور میںنے ان کو خوشامد کرکے انہیں راضی کرلیا ،چنانچہ انہوںنے وعدہ کیا کہ : اب میں تیری صحت کے لئے اسی مقام میں دعاء کروں گا جہاں بدعاء کی تھی !چنانچہ میںنے ان کے لے اونٹنی کا انتطام کر دیا اور وہ سورا ہوئے ،قسمت وہ سے اونٹنی ان کو لے کر بھاگی اوروہ اس پر سے گر کرمر گئے ۔علی ؓنے پوچھا کہ : کیا فی الحقیقت وہ تجھ سے راضی ہوگئے تھے ؟کہا خدا کی قسم وہ راضی ہوگئے تھے !آپ یہ سن کر اٹھے اور چند رکعت نماز پڑھ کر آہستہ آہستہ بارگاہ کبریانی میںکچھ عرض کیا اس کے بعدفرمایا :اے مبارک اٹھ !وہ شخص اٹھ کر چلنے لگا اوروہ شکایت بالکل رفع ہوگئی۔پھر فرمایا : اگرتم اپنے باپ کے راضی ہونے پرقسم نہ کھا تے تو میں دعاء نہ کرتا ۔
اس واقعہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دو کر امتیں ثابت ہوئیں ،ایک یہ کہ حق تعالیٰ کے نزدیک آپ ایسے مکرم تھے کہ عرض کر نے کی دیر تھی کہ اس کی پذیر ارئی ہو گئی اور وہ اعضاء جو کہ مردہ ہو چکے تھے ان میں جان آگئی ۔دوسری کرامت یہ ہے کہ باوجود یکہ آپ ؓ کو عرب و عجم سلطنت حاصل تھی مگر حالت یہ کہ ایوان شاہی میں ایک بھی خدمت گا رنہ تھا ،چنانچہ دوپہر رات کے بعد جب آپ کو اس شخص کے بلانے کی ضرورت ہوئی تو اپنے صاحبزادے کو بھیجنا پڑا !اس ترک و تجرید سے بڑھ کر اورکیا کرامت ہوسکتی ہے ۔ ادنیٰ ادنیٰ حکام کے دو وازوں پرخدم و حشم ہوتے ہیں اور خلیفہِ رسول اللہ کی یہ حالت کہ نوکر تو درکنا ر ،وقت پر کھانا پیٹ بھر کر ملنا دشورا تھا ۔ جس کا حال ہم نے مقاصد الاسلام کے حصہء ششم میں لکھا ہے ۔
ظاہر بین لوگ ا س حالت کو کرامت نہیں سمجھ سکتے ،کیونکہ ان کے خیال میں تو جو کچھ وقعت ہے دنیا ہی کی ہے ،وہ فقر اختیاری کے مدارج کو کیا جانیں !اور دولت فقرا اختیاری ہرکسی کو نصیب نہیں ہو سکتی ہے ،یہ تو انہیں حضرات کے حصہ میں آتی ہے جو خداے تعالیٰ کے نزدیک مکرم ہیں ،قال اللہ تعالیٰ ان أکرمکم عند اللہ أتقا کم۔ اگر کرامت کے معنی خرق عادت کے لئے جائیں تووہ بھی فقرا اخیاری میں صادق آتے ہیں ۔ دیکھئے صرف اس خیال سے کہ ہر حالت میں خدا ے تعالیٰ اضطراری طورپر یا د آتے رہے ،تمام اسباب راحت و معیشت کو ترک کر دینا کیا ہر کسی کا کام ہے !!شاید لاکھوں میں کوئی ایک ہو جو خالصاً اللہ ایسا فقر اختیار کرے ۔
عموماً دیکھا جا تا ہے کہ اسباب معیشت فراہم کرنے کی فکر میں لوگ لگے رہتے ہیں ،اور اگر کوئی فقیر ہو بھی گیا تواس میں بھی یہی مقصود ہو تا ہے کہ بذریعہء فقر دنیا حاصل ہو ۔ اور اگر اس سے مال مقصود نہ بھی ہو تو جاہ مقصود ہو تی ہے ،چنانچہ جب کوئی معتقد بغرض استفادہ حاضر ہو تو دنیاسے اپنی بے تعلقی بیان ہو گی اور یہ چند حکایات نقل محفل ہوں گے کہ فلاں باشاہ یا امیر یا تجر و غیرہ نے ہمیں یہ دینا چاہا مگر ہم نے نہ لیا ہمیں دنیا داروں کی کچھ پروا نہیں ، ہم کو تو خاص خدا ے تعالیٰ سے تعلق ہے،ہمارے نزدیک بادشاہ اور غریب دونوں یکساں ہیں۔ پھر مرید وں میں ان حکایات کے چرچے ہو تے ہیں جس سے عام شہر ت ہو تی ہے ،اور ندر و نیاز کا بازار گرم ہو جاتاہے ۔
اب فقر اختیاری کا حال بھی تھوڑا سن لیجئے : فتوحات مکیہ کے ایک سو اٹھاونوی (۱۵۸)باب میں لکھا ہے کہ : اولیاء اللہ لذت کی چیزوں کو جن میں چکنا ئی اور طوبت ہو تی ہے چھوڑ دیتے ہیں ، اس وجہ سے کہ ان کے حبیب یعنی خدا ے تعالیٰ نے انہیں اس امر کی تکلیف دی ہے کہ راتوں کو اس کے روبرو کھڑے رہیں اور مناجات کریں ایسے وقت میں کہ لوگ نیند کی راحت میں ہوں ۔ انہوں نے دیکھا جب رطوبا ت جسم میں ہو تی ہیں توان کے بخارت دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جن سے حواس میں تخدر اور سستی پیدا ہوکر نیند غالب ہو جا تی ہے جو مانع قیام لیل اور مناجات ہے ۔ پھر ان بخارات سے جسم میں قوت پیدا ہوتا ہے ،او وہ قوت اعضاء کو فضول کا موں میں لگا تی ہے جن سے ان کے محبوب نے انہیں روکا ہے ۔اس لئے وہ کھانا پانی چھوڑ دیتے ہیں،اور کھا تے ہیں تو اس اندازے سے کہ صرف ہلا کت سے بچ سکیں ۔ اس وجہ سے رطوبت ان کے بد ن میں کم ہو تی جا تی ہے اور تازگی و رونق نام کو نہیں رہتی ، او رجسم لاغر اور اعضاء میں استر خا ء ہو جا تا ہے اور نیند جا تی رہتی ہے اور بیداری قوت پا تی ہے جس سے ان کا مقصود جو قیام لیل ہے حاصل ہو تا ہے ۔اور ان کے اوصاف میں لکھا ہے کہ ان کی وحشت کا مونس اور ان کی بیما ریوں کا طبیب خدا ے تعالیٰ ہی ہوتا ہے ،ان کے ابد ان متوضع ،اوران کے ہاتھ اسی کی طرف دراز ،ان کے دل اسی کی طرف مائل و مشتاق رہتے ہیں ، اگرا نست ہے تو اسی سے ، اوراگر خوف ہے تو اسی کا ۔ راحت ان سے مایوس ہے اور غفلت ان سے دور ، ہمیشہ وہ تضرع میں رہتے ہیں ،اور اپنی خطائوں سے معا فی مانگا کر تے ہیں ۔ اب کہئے کہ جن کی یہ حالت ہو ان کو تعلی اور خود ستائی سیکیا تعلق !! یہ بات ممکن ہے کہ أما بنعمۃ رب فحد ث کے لحاظ سے اظہار تشکر کر تے ہوں ، اگر فی الواقع یہی ہوتواس میں کسی کو کلام نہیں ،یہ معاملہ ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے ۔
مگر قابل غور یہ امر ہے کہ جس وقت کوئی ایسا شخص جس کی وقعت لوگوں کے درمیان ہو اس نے ان کی تعظیم و توقیر میں فرق کیا تو غصہ کی حالت میںاپنے استغناء کی حکا یتیں بیان کی جا تی ہیں ، اور دنیا داروں کی ذلت ایسے طورپر بیان کی جا تی ہے کہ وہ شرمندہوکر جبری تعظیم پر مجبور ہو تا ہے ،اور جب اچھی طر ح آئو بگھت کرنے لگے تو زمرہ معتقد ین میں شریک ہو کر ہر طرح اس کی حوصلہ افزائی ہو تی ہے ۔
الحاصل ’’فقر اختیاری ‘‘جن لوگوں کو حاصل ہے آج کل وہ بہت ہی شاذ و نادر ہیں ،باقی ان کے طفیلی ہیں ، لیکن کسی سے بد گمانی کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں :
ہر کرا جامہ پار سا بینی
پارسا دان و نیک مرد نگار
یہ کرامتِ فقر اختیاری کامل طورپر حضرت امام اولیاء علی کرم اللہ وجہہ کو حاصل تھی ۔
عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سخت قحط سالی ہوئی ، آپ حضرت عبا س ؓ کولے کر جنگل میںگئے اور بارگاہِ اِلٰہی میںدعاء کی کہ : الٰہی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی برکت سے پانی برسا !ہنوز لوگ دعاء سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ابر نمو دار ہوا اور پانی برسنے لگا ،اور اتنا برسا کہ گھروں کو واپس ہونا مشکل ہوگیا ۔یہ حضرت عباس ؓ کی کرامت خدا ے تعالیٰ کے نزدیک تھی کہ ان کے وسیلہ سے دعاء کی گئی فوراً مقبول ہوگئی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بارگاہِ کبریانی میں عرض کی تھی کہ سعد بن ابی وقاس کا تیر نشانہ پر لگا کرے او ر ان کی دعاء مقبول ہوا کرے ! اس کے بعدجو دعاء وہ کرتے قبول ہو جا تی ۔چنانچہ جنگ قادسیہ میں دمل کی وجہ سے وہ شریک نہ ہو سکے اوراپنے گھر کی چھت پر سے لڑائی کی حالت دیکھا کر تے ، کسی نے اس باب میں کچھ گفتگو کی اور وہ خبر آپؓ کو پہونچی ، آپ نے کہا : الٰہی اس کی زبان او رہاتھ سے ہمیں بچا ! فوراً وہ گونگا اور اس کا ہاتھ شل ہوگیا ۔
عمر ؓ نے کہا تھا کہ جس حاکم کی کوئی شکایت کرے میں اسے معزول کردوں گا!سعد بن ابی وقاص ؓ کی شکایت ہوئی ،آپ نے انہیں معزول کرکے عمار بن یاسر کو ان کی جگہ بھیجا اورایک شخص کو روانہ کیا کہ اہل کوفہ سے ان کا حال دریافت کریں!چنانچہ انہوں نے کوفہ کی کل مساجد کے مصلیوں سے دریافت کیا ؟ سب نے ان کی تعریف و توصیف کی ،مگر مسجد نبوی عبس میں جب گئے اورلوگوں سے پوچھا کہنے لگا کہ : سعد ؓ لشکر کے ساتھ نہیں جا تے تھے او رتقسیم برابر نہیں کر تے تھے ،اوف فصل قضا یا میںعدل نہیں کرتے تھے ۔سعد ؓنے فرمایا :میں بھی تین دعائیں کر تا ہوں کہ الٰہی اگریہ شخص جھوٹا ہے تواس کی عمر دراز کر ،اور اس کے فقر و احتیاج کر دراز کر ،اور اس کو فتنوں میں مبتلاء کر ۔راوی حدیث کہتے ہیں کہ :میں نے اس کو دیکھا ہے کہ اتنا بوڑھا ہواکہ اس کی بھؤ ں کے بال آنکھوں پر گر تے تھے اور لونڈ یوں کو راستوں میں چھیڑ تا،اورجب اس سے پوچھا جا تا تو کہتا کہ یہ ایک فتنہ وا بتلاء ہے جو سعد ؓ کی بد عاء کا اثر ہے ۔
ابن عمر ؓ سفرمیں تھے کہ یکایک شور ہواکہ راستہ میں شیر بیٹھا ہے !جس کے خوف سے راستہ بند ہو گیا تھا ، آپ نے نزدیک جاکر اس سے کہا کہ : راستہ سے ہٹ جا !یہ سنتے ہی وہ دم ہلا کر چلا گیا ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء ابن الحضرمی ؓ کو لشکر دے کر بھیجا ،سمندر بیچ میں حائل تھا ، مگر وہ دعاء کرتے ہوئے اس کے پانی پر سے گزر گئے۔
خالدؓ نے زہر پی لیا مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا …یہ چند کرامات صحابہ کی تھیں،اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ صحابہ سے کرامات صادرہو تی تھیں ۔ اب رہی یہ بات کہ جس طرح ما بعد کے اولیاء اللہ کی کرامتیں بکثرت ہیں اتنی صحابہؓ کی نہیں ،تو اس کے اسباب امام سبکی ؒ نے لکھے ہیں ۔چونکہ یہاں صرف اثبات کرامات کا ذکر ہے اس لئے اسی پر اکتفاء کیا جا تا ہے ۔
اس تمام بحث کا ماحصل یہ ہے کہ خواہ معجزہ ہو، یا کرامت ،یا امور عادیہ ،سب کا وجود اسی طرح ہو تا ہے جیسا کہ خدا ے تعالیٰ چاہتا ہے ، مگر بعض اشیاء میں کسی قسم کی عادت ہے اور بعض میں کسی قسم کی ، عادت کے خلاف کوئی چیز دیکھی جا تی ہے تو خرق عدات سمجھی جا تی ہے اور لوگ تعجب کی نظر سے اس کودیکھتے ہیں ،حالانکہ وہی چیز بعض کے یہاں عادی ہو تی ہے ۔مثلاً آدمی سامنے رہ کر نظروں سے غائب ہو جا ئے تو خرق عادت سمجھی جائے گی ۔اور جن ہمیشہ نظروں سے غائب رہتے ہیں اور کبھی نظربھی نہیں آجا تے ہیں اور ان کے یہاں یہ امر قابل تعجب نہیں ،چنانچہ آکام المرجان میںاعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بجیل کے ایک شخص نے مجھ سے کہاکہ ایک لڑکی ہمارے یہاں تھی اس سے جن کو تعلق پیدا ہوا ، اس نے کہا کہ میں مکروہ سمجھتا ہوں کہ ناجائز تعلق اس سے رکھوں اس لئے اس کے ساتھ نکاح کر دیا جائے !چنانچہ نکاح کر دیا گیا ۔ ہم نے پوچھا کہ تم لوگوں کوکو نسا کھا نا اچھا معلوم ہو تا ہے ؟کہا : چاول ہم نے چاول پکا کر اس کی دعوت کی ،جب رکھا گیا تو صرف لقمے اٹھتے ہوئے نظر آتے تھے اورکوئی شخص نظر نہیں آتا تھا ۔ ایک روز وہ ظاہر ہوا ، ہم نے کہاکہ تم کس قسم کے لوگ ہو؟کہا : تم جیسی ہی ایک امت اور گروہ ہیں ، جس طرح تم میں قبائل ہوا کر تے ہیں ہم میں بھی ہیں ۔ ہم نے کہا: کیا اہل ہوا بھی تم میں ہیں ؟کہا :ہاں ہر فرقہ کے لوگ یعنی قدریہ ،شیعہ ،مرجیہ ، ہیں ۔ ہم نے پوچھا : تم کس فرقہ کے ہو ؟ کہا مرجیہ ،کہا : را فضیوں کو تم لوگ کیسے سمجھتے ہوں ؟کہا :سب سے بد تر ۔
اس سے کئی امور معلوم ہوئے : ان کا اشکال بدلنا ،اور صلاح و تقویٰ اور مذاہب کی پا بندی ، او رنگاہوں سے غائب رہنا، اور جب جی چاہے نظر آجانا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ا ن کا شکل بدلنا ایسا ہی ہے جیسے ہم لباس بلدتے ہیں ،مگرفرق اتنا ہے کہ لباس جزو بد ن نہیں بلکہ ہماری ذات سے منفک ہے ،اور ا ن کا جسم ان سے منفک نہیں ،اس صورت میںتشکل با شکال ان کی ماہیت کا خاصہ ،ذاتی ہوگا یا خاصہ ء لازمی۔جس طرح ہمارے لئے ’’ناطق ‘‘ہے ناطق کو ’’فصل ‘‘ قرارا دینے کی ضرورت اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ جتنے انواع حیوانیت میں شریک ہیںسب سے انسان کو امتیاز ہوجائے ،اور فی الحقیقت ہر اعتبار سے یہی لفظ ممتاز کر نے والاتھا ۔اگر بات کرنے کی صفت لی جائے تو کسی جانور میں نہیں ۔اور اگر دریا بندگی معقولات خیال کی جائے تو یہ صفت بھی جس طرح آدمی میں ہے جانور میں نہیں ۔ آدمیوں کے افکار و خیالات سے کروڑ ہا کتابیں اور دفاتر بھرے ہوئے ہیں ،او رجانور کو ادراک ہے بھی تو محدود جو ان کی بسر بر داوقات کے لئے ہی کافی ہو سکے ۔
یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جنوں کی بھی تصانیف ہیں یا نہیں ؟ مگر امام شعرانی ؒ کے ایک رسالہ سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں ۔چنانچہ ا س میں لکھتے ہیں کہ : میرے پاس ایک کاغذ پہونچا جس میں لکھا تھا کہ ’’ہم لو گ بعض امور میں آپ لوگوں کے محتاج ہو تے ہیں اس لئے یہ چند سؤ الات جو لکھے گئے ہیں ان کے جوابات لکھ کر فلاں مقام میں رکھ دو ،اور جواب اگر نظم میں ہوتو مناسب ہے کیونکہ ہم لوگوں کوشعر کے ساتھ بالطبع مناسبت ہے ‘‘ چنانچہ امامؒ نے ایک رسالہ نظم میں لکھ کر رکھ دیا جس کو ایک بلی لے گئی ۔
آکام المرجان میں لکھا ہے کہ ابی ابن کعب ؓ سے روایت ہے کہ ایک قوم با رادۂ مکہ معظمہ نکلی ، کسی جنگل میں سب نے راستہ بھول کر اس قدر پریشانی اٹھائی کہ موت کی صورت آنکھوں میں پھر گئی اور کفن پہن کر لیٹ گئے ،ایک شخص جھاڑی میں سے نکلا اورکہا ، میں اُن جنوں میں سے ہوں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا تھا اور میں نے حضرت ؐ سے یہ بھی سنا ہے کہ المؤ من أ خو المؤ من و دلیلہ لا یخذ لہ یعنی ایک ایماندار دوسر ے ایماندار کا بھائی اور اس کو راہ دکھانے والا ہے برے وقت میں اس کو مخذول نہ کرے یعنی اس کی مدد کر نی چاہئے ۔اس کے بعدکہا کہ : پانی قریب ہے ! چنانچہ ان کو ہمرہ لے کر پانی پر پہونچا دیا ۔
اسی طرح او رکئی واقعات نقل کئے ہیں جن میں احا دیث شریفہ کا بیان کرنا اوران پر عمل کرنا مذکور ہے ۔غرضکہ اتنا ثابت ہے کہ جن میں علماء بھی ہوتے ہیں ،اور ’’قوت ِ فکر یہ ‘‘بھی ان کو دی گئی ہے ،اس صورت میں ان کو حیوان ناطق کہنے میںکوئی تامل نہیں ۔
حکماء نے دیکھا کہ اگر واقع میں جن کا وجود ہو بھی جیساکہ اکثر فلاسفہ اس کے قائل ہیں ، تو چونکہ وہ نظر نہیں آتے ان کی حقیقت او رماہیت کو نظر اندارز کر دیا ،ورنہ انسان کی ماہیت حیوان ناطق کبھی قررا نہ دیتے ۔ حکمت میں چونکہ امورِواقعیہ سے بقدر ِطاقت بشری بحث ہو تی ہے اور ’’جن‘‘ کا وجود خارجی ہے اور مشاہدات سے ثابت ہے جس کے علمائے یورپ بھی قائل ہو چکے اور ہوتے جا رہے ہیں اس لئے اب انسان کی ماہیت حیوان ناطق نہیں ہوسکتی ۔اب تک جو فصل کہی جا تی تھی یعنی ’’ناطق‘‘ وہ عرض عام ہوگئی ۔اور اب کوئی دوسر فصل مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ فلسفہ تلا حق افکار سے کتنا ہی مستحکم بنا یا جائے قابل اعتماد نہیں ہوسکتا۔اور عقلاء نے جو حقائق اشیاء قررادیے ہیں وہ قطعی نہیں ہو سکتے ، ہر چیز کی حقیقت وہی جانتا ہے جس نے ان کو پیدا کیا ۔ اسی وجہ سے بزرگان دین کی دعاء ہے اللہم أرنا حقائق الا شیاء کما ہی ۔
آکام المرجان میں لکھا ہے کہ علامہ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن ابی بکر حنبلی نے لکھا ہے کہ :مکہ معظمہ میں جو نہر جا ری کی گئی ہے ا س کا واقعہ یہ ہے جس کی خبر مجھے امام حنا بلہ نے دی جن کے ہاتھ پرنہر کا کام انجام پا یا ، انہوں نے کہا : جب ایک خاص مقام تک نہر کھودی گئی تونہر کھودنے والا بے ہوش ہوگیا اور وہ کچھ بات نہیں کر سکتا تھا ، بہت دیر تک وہ اسی حالت میں پڑ ا رہا ، پھر غیب سے ایک آواز آئی کہ ’’اے مسلمانو ! تم کو حلال نہیں کہ ہم پرظلم کریں ‘‘،میںنے کہا : ہم نے کیا ظلم کیا ؟کہا : ہم یہاں کے رہنے والے ہیں ، خداکی قسم سوائے میرے یہاں کوئی مسلمان نہیں ،میںنے سب کفار کو زنجیروں میں جکڑ دیا ہے ورنہ وہ تمہیںسخت صدمہ پہونچا تے انہوں نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس زمین میں سے ہم تمہیں پانی ہرگز لے جانے نہ دیں گے جب تک کہ تم ہمارا حق نہ دو ۔ میں نے کہا :تمہا را حق کیا ہے؟ ایک بیل لو اور اس کو اعلیٰ درجہ کی زینت سے آراستہ کرکے مکہ میں سے اس کا جلوس نکال کر اس مقام تک پہونچا دو پھر ا س کو ذبح کر کے اس کا سراپا یہ اور خون برٔ عبدالصمد میں ڈال دو اور باقی کے تم مختار ہو ، اگر ایسانہ کر وگے تو ہم اس نہر کو کبھی جا ری ہونے نہ دیں گے ۔میں نے قبول کیا ،یہ کہتے ہی اس شخص کو جو بے ہوش پڑا تھا افاقہ ہو گیا ، دوسرے روز جب میں صبح کی نماز کے لئے مسجد کو جانے کی غرض سے اترا تو دیکھا کہ ایک شخص دروازہ پر کھڑا ہے اس نے مجھ سے کہا کہ : میںنے آج خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑے بیل کو اقسام کے زیور و لباس سے آراستہ و پیر استہ کر کے شان و شوکت سے خلیفہ کے گھر پرلے گئے اور وہ اس کو ہانکتا ہوا تجمل کے ساتھ مکہ معظمہ کے باہر لے گیا اور کس ذبح کرکے اس کا سر اور پائے کسی کنویں میںڈال دیے مجھے اس خواب سے تعجب ہوا ، اہل مکہ کے روادار لوگوںسے بیان کیا ،چنانچہ سب نے ایک بیل خرید کر اسے زینت ولباس سے آراستہ کیا اور تجمل سے اس مقام تک لے جاکر ذبح کیا اور جس کنویں کی نشاندھی کی گئی تھی اس میں اس کا سر اور پائے اور خون ڈال دیا گیا،اس وقت تک پانی کا پتہ نہ تھا ،خون وغیرہ کنویں میں ڈالتے ہی ایسا معلوم ہو اکہ کسی شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر ایک مقام پرکھڑا کر دیا ہے اور کہہ رہا ہے ، یہا ں کھو دو!جب وہاں کھودا گیا تو پانی اس کثرت سے نکلا کہ مجیں مارنے لگا اور ایک نہر نما یاں ہوئی جس میں سوار جاسکتا تھا ، ہم نے اس کو صاف کیا ، اس کثرت سے اس میں پانی جاری ہوا کہ اس کی آواز سنی جاتی تھی ، اور چارہی روز میں نہر مکہ معظمہ میں جا ری ہو گئی علامہ شمس الدین ؒ نے لکھا ہے کہ :یہ واقعہ نظیر ا س واقعہ کی ہے کہ ایک لڑکی زیور و لباس سے آراستہ کرکے نیل میں ،ڈالی جا تی تھی عمرؓ نے اس رسم کو بالکل موقوف فرمایا ۔اس واقعہ میں بھی کوئی عمری مشرب ہوتا جس سے شیطان ڈرتے تونہر جا ری ہو جا تی او رایک چڑیا کوبھی ذبح کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ،لیکن ہر زمانہ کے لوگ جدا ہیں۔لکھا ہے کہ : اس واقعہ کو بیان کر نے والے نہایت سچے اور دیندار اور بڑے متدین شخص تھے جن کے صدق و دیانت پر تمام اہل شہر گواہی دیتے ہیں ۔
آکام المرجان میں اسی واقعہ میں لکھا ہے کہ وہب کہتے ہیں کہ :کسی خلیفہ نے چشمہ جا ری ہونے کے لئے جن کے لئے جانور ذبح کیا اور لوگوں کو کھلا یا ،جب یہ خبر ابن شہاب ؒ کو پہنو نچی تو انہو ں نے کہا کہ : یہ ذبح کرنا اس کو حلال نہ تھا اور لوگوں کو جو کھلا یا اس کا کھا نا ان کو حلال نہ تھا ۔یہاں وما اہل بہ لغیر اللہ کی بحث پیدا ہوتی ہے جو ہندستان میں ایک معرکہ آرا مسئلہ ہوگیا ہے کہ اس قسم کے ذبیحہ کو بعض حلال کہتے ہیں اور بعض حرام ،طرفین سے اس مسئلہ میں رسالے لکھے گئے ہیں، اس روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ مسئلہ اُس زمانہ میں بھی مختلف فیہ تھا ،کیونکہ علمائے مکہ معظمہ نے اس کو جائز رکھا اور ابن شہاب ؒ نے حرمت کی رائے دی ۔
بہر حال جنوں کے مختلف حالات ہیں اگر وہ سب لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب ہو جا ئے گی ،اس لئے ان ہی چند حالات پر اکتفاء کرنا مناسب سمجھا گیا ۔
من الجنۃ والناس کے معنی میں اختلاف ہے ۔ قول صحیح یہی ہے کہ وہ بیان وسواس ہے ۔یعنی وسوسہ انداز جو جن بھی ہوتے ہیں اور آدمی بھی ، ان سے میں پناہ مانگتا ہوں ۔
ابن تیمیہ ’’نے تفسیر معوذ تین میں یہ روایت نقل کی ہے کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نعوذ باللہ من شیا طین الانس و الجن ابو دردا ء ؓ نے پوچھا : کیا آدمی بھی شیا طین ہ وتے ہیں؟ حضرت ؐ نے فرما یا : ہاں شیاطین جن سے بھی وہ بدتر ہیں ۔بدتر ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ شیاطین انس دوستی کے پیرایہ ہوتے ہیں او رہم جنس ہونے کی وجہ سے آدمی ان کی طر ف مائل بھی ہو تا ہے کما قیل الجنس یمیل الی الجنس ۔شیا طین انس وہی ہو تے ہیں جن کی طبیعت برے کام اور شرو فساد کی طرف مائل ہو تی ہے ، جولوگ ان کی صحبت اختیار کر تے ہیں اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ ان کوبھی وہ اپنا ہم مشرب بنا ڈالیں ۔
پھر ہر نفس کا یہی لازمہ ہے کہ کچھ نہ کچھ وسوسے ڈالتا رہتا ہے ،جیسا کہ اس آیت شریفہ سے معلوم ہوتا ہے قولہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان ونعلم ما توسوس بہ نفسہ یعنی نفس جو وسوسہ ڈالتا ہے اس کو خدا جانتا ہے ۔ اور حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آدمی کا نفس دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن ہے ۔پہلے تو نفس ہی خود وسوسہ انداز ہے پھر جب شیاطین الانس سے صحبت اور فاقت حاصل ہو تو پھر کیا کہنا ظلمات بعضہا فوق بعض کا مضمون صادق آجا تا ہے ۔
اس لئے آدمی کو چاہئے کہ صلحاء کی صحبت اختیار کرے ،تاکہ ان کی صحبت کی برکت سے نفس کے خیالات درست ہوجائیں اور اچھے وسوسے ڈالنے لگے ۔ احادیث میںاہل بدعت و ہوا ء کی صحبت سے سخت مما نعت وارد ہے ،اس کی یہی وجہ ہے کہ جب آدمی ان کی صحبت میںبیٹھے گا تووہ ضرور برے وسوسے ڈالیں گے جس سے اس کا نفس متا ثر ہو کر ان کاہم خیال ہو جا ئے گا ۔چنانچہ یہ امر مشاھَد ہے کہ کیسا ہی بے اصل اور خلاف عقل ونقل مذہب ایجاد کیا جا تا ہے لوگ فوری اس میں داخل ہو جا تے ہیں ! اور وساوس شیاطین الانس ایسے راسخ ہوجا تے ہیں کہ قرآن و حدیث بھی ان کے روبرو پڑھے جائیں تو ان کو جنبش نہیں ہوتی ۔
مذہب سے اصلی غرض یہ ہے کہ آدمی اس کا پابند ہونے کی وجہ سے مرنے کے بعد ہمیشہ راحت وآشایش میں رہے ، اتنی بڑی دولت مفت میں حاصل نہیں ہو سکتی ، اس کے لئے بڑی کوشش درکا ر ہے ۔جب تک آدمی وساوس شیاطین جن وانس سے احتراز نہ کرے یہ دولت حاصل نہیں ہوسکتی ، ا س کا حقیقی علاج بغیر اس کے کوئی نہیں کہ آدمی پورے طورپر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائے ،جیساکہ اس سورہ میں صراحتاً ارشاد ہے ۔
نسا ل اللہ تعالیٰ التوفیق
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ وحدۃ الوجود
الحمد اللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی حبیبہ و رسولہ سیدنا محمد وآلہ و أصحابہ اجمعین ۔
یہ امر پوشیدہ نہیں ہے کہ ہر چیز پیدا ہونے سے پہلے معدوم ہو تی ہے ، او ر جس وقت پیدا ہوئی ہے یکایک محسوس ہو جا تی ہے ۔ اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کس چیز نے اسے محسوبنا دیا ہے ؟اور وہ کیا چیز ہے جس کے نہ ہونے سے وہ معدوم تھی ،اور اس کے ہونے سے محسوس ہو گئی ۔
ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ’’وجود‘‘ ہی ہے جو حالت ’’عدم ‘‘ میں اس چیز سے متعلق نہ تھا ، او ر جب دونوں میں باہمی تعلق ہوا تو وہ چیز محسوس اورموجود ہوگئی۔عقل اس پر گواہی دیتی ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ اس کے وجود سے ’’معدوم ‘‘ چیز ’’موجود ‘‘ ہوجائے وہ اعتباری نہ ہوگی بلکہ مستقل بالذات ہوگی اس سے ثابت ہو اکہ جو وجود جس کا ذکر یہاں ہو رہا ہے وہ مصدری نہیں کیونکہ ’’وجود مصدری ‘‘ ایک اعتباری اور انتزاعی چیز ہے جس کا منشا ئے انتزاع دوسری چیز ہوگی ۔
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ دوسری چیز نفسِ شئے معدوم ہے یا اور کچھ ؟ اگر نفس ِ شئے معدم ہوتو لازم آئے گا ک معدوم من حیث ہو معدوم سے وجود خیال میںآئے !جو کسی طرح درست نہیں !تو لازمی ہے کہ وہ دوسری شئے وجود مصدری کامنشا ئے انتزاع ہے ، وہ نفس وجودہوگا مگر مصدری نہ ہوگا ، بلکہ ایسا مستقل ہوگا کہ معدوم شئے کو وجود دے سکے اور اس کی موجودیت کا منشائے انتزاع بنے ۔
غرضکہ یہ وجود ،وجود مصدری کا منشاء انتزاع ہے اور خارج میں موجود ہے ۔ اس وجود کا معنیٰ ’’ہونا ‘‘ نہیں ہو سکتا جو معنا ئے مصدری ہے ،بلکہ اس کا معنی ’’ما بہ الموجودیت ‘‘ہے ۔ گواس کی حقیقت سمجھ میں نہ آئے مگر اتنا تو ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ ہر شئے معدوم کے موجود ہونے کے وقت ایک چیز ایسی اس کے ساتھ متعلق ہو تی ہے جس کی وجہ سے اس پر موجودیت کا اطلاق ہو جا تا ہے ۔
جب وجود کے دومعنے معلوم ہو ئے ، تو اب ہم جہاں ’’وجود ‘‘ کہیں گے تو اس سے مراد ’’ما بہٖ الموجودیت ‘‘لیں گے ۔
جب آپ یہ سمجھ گئے تو جو معدوم شئے وجود میں آتی ہے وہاں دوچیزیں ہو ں گی ،ایک وہ معدوم جس کو وجود مل رہا ہے ،دوسرا وجود جس کی وجہ سے وہ معدوم شئے وجود میں آرہی ہے ۔تو اب تمام موجوداتِ عالم کا حال معلوم ہو گیا کہ اگر وجود سے قطع نظر کر لیجئے تو وہ سب معدوم ہے ، اوراس کا موجود ہونا صرف وجود کی برکت سے ہے ۔
اب یہاں یہ بات معلوم کر نے کی ضرورت ہے کہ عالم میں بے انتہاء چیزیں ہم دیکھتے ہیں جو شکل و شمائل میں ایک دوسری سے ممتاز ہیں ، اس کثرت کا منشاء آیا وجود ہے یا وہ معدومات ؟اس میں شک نہیںکہ ’’وجود مصدری ‘‘ میں کثرت ضرور ہے کیونکہ اس کا منشاء ہر ایک ’’موجود‘‘ ہے جو دوسرے سے تشخص میں ممتاز ہے ،مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’وجود خارجی ‘‘ اور اصلی یعنی’’ما بہٖ الموجودیت ‘‘میں کثرت ہے ،کیونکہ اس کی خاصیت تویہ ہے کہ جس’’ معدوم ‘‘کے ساتھ ملا اس کو ’’موجود ‘‘کر دیا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ کثرت اشیائے معدومہ میں ہے ۔
یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اشیائے معدومہ تومعدوم ہیں اور ’’عدم ‘‘ میں امتیاز سمجھ میں نہیں آتا ؟ !تو اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ مثلاً زید جو ’’موجود‘‘ ہوا حالت ’’عدم ‘‘ میں ’’زید معدوم ‘‘تھا یعنی عدم محض نہ تھا ،اسی وجہ سے اس کو ’’زید معدوم ‘‘ کہنے کی ضرورت ہوئی ۔ دیکھئے جب ہم گھر بنا تے ہیں تو پہلے اس کا نقشہ ذہن میں لا تے ہیں پھر خارج میں اس کو موجود کر تے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ خارج میں معدوم گھر وجود میں آیا نہ یہ کہ مطلق معدوم یعنی عدم محض ۔مقصود یہ ہے کہ گو گھر ،خارج میں معدوم ہے مگر عدم محض نہیں ، اگر عدم محض ہو تا تو یوں کہتے کہ عدم کو ہم وجود میں لائے ،حالانکہ کہا جا تا ہے کہ معدوم گھر کو ہم نے موجودکیا ۔ پھر وہ معدوم گھر جب وجود میں آیا تو جس قدر آثارولوازم اس کے خیال کئے گئے تھے ان سب کا وجود خارج میں آگیا ۔
حاصل یہ کہ ’’موجود گھر‘‘ کے وجود سے اگرقطع نظر کیا جائے تو صرف ’’گھر‘‘ رہ جائے گا جو قبل وجود ’’معدوم‘‘ تھا اوربعد وجود ’’موجود‘‘ ہو گیا ،اسی کو اس گھر کا ’’عین ثابت ‘‘ کہیں گے ،گوکہ حالت عدم میں موجود نہیں مگر من وجہ اس کو ثبوت کا ایک درجہ حاصل ہے جس کو وجود نہیں کہہ سکتے ۔
جب ہی موجود میں دہ چیزیں پائی جاتی ہیں ،ایک ’’وجود‘‘ دوسری ’’عین ثابت‘‘۔پس معلوم ہوا کہ کثرت موجودات صرف اعین ثابتہ کی کثرت سے ہے ورنہ نفس وجود صرف ایک ہی ہے ۔ اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ تمام عالم کے اعیان ثابتہ پر وجود محیط ہے اور وجود ان پرایسا ہے جیسے چادر مختلف اشیاء پر اڑہا دی جا تی ہے ،اوران اعیان ثابتہ کا ظہور صرف وجود کی وجہ سے ہورہا ہے ۔
اب تمام عالم کو خیال کر لیجئے کہ کہیں زمین ہے کہیں پانی او رکہیں ہوا اور افلاک (کائنات )وغیرہ ،اس مجموعہ میںوجود موجود ہے جو ایک ہی ہے مگر ہر ایک چیز کا عین ثابت علیحدہ علیحدہ ہے ،جتنے آثار و لوازم ہر ایک کے ہیں وہ سب ہر ایک کے عین ثابت ہیں مندرج و مندمج ہیں ان کو وجود سے کوئی تعلق نہیں، او رتعلق ہے تواس قسم کا کہ ان کاظہور بغیر وجود کے ممکن نہیں ۔
محققین وجودہی کو’’ ذات الٰہی ‘‘کہتے ہیں جو تمام عالم کا ’’ مابہ الموجودیت ‘‘ ہے ، کیونکہ اسی سے ہرچیز کی موجود یت متعلق و وابستہ ہے ۔گو شریعت میں اس لفظ کا اطلاق ذات الٰہی پر وارد نہیں مگر معنی ضـرور صادق آتے ہیں اور عقل بھی اس کو تسلیم کر تی ہے ۔ والعبرۃ للمعنی ۔
اس صورت میں مثلاً زید بلکہ تمام عالم معدوم ہے ، اور موجود ہے تو اس وجہ سے کہ وجود کے ساتھ اس کو ایک تعلق خاص ہے ،اگر وہ تعلق اٹھ جائے تو اس کو پھر کسی طرح موجود نہیں کہہ سکتے ، اب اگر ظاہر ہے تووجود ہی ہے ، کیونکہ معدوم بحیثیت عدم ظاہر نہیںہوسکتا ،اگر ا س کو ظہور ہے تو تعلق وجود کے طفیل سے ہے ۔ا س لحاظ سے بندہ
اپنے کو فانی اور غیر موجود کہہ سکتا ہے ۔ اور اس لحاظ سے کہ وجود کے ساتھ اس کو تعلق خاص ہے اور نظر صرف وجود کی طرف کر ے تو ‘‘ہمہ اوست ‘‘ کا مضمون بھی صادق آتا ہے ۔ اسی وجہ سے بزرگان دین کے اقوال دونوں قسم کے وارد ہیں ، حضرت شیخ اکبر رضی اللہ عنہ نے متعد و مقامات میں فرمایا ہے ما انت ہوبل انت ہو ۔
اگر کوئی اس خیال سے کہ ’’وجود‘‘واحد ہے او ربزرگان دین نے ’’ہمہ اوست‘‘فرمایا ہے اپنی حقیقت جو عین ثابت ہے پیش نظر نہ رکھے او ریہ کہے کہ ہمیں عبادت کی ضـرورت نہیں ، تو حضرات صوفیہ کے نزدیک بھی وہ کافر ہے ، کیونکہ خدا ے تعالیٰ نے صاف فرما یا ہے وما خلقت الجن الانس الا لیعبدون اور جگہ جگہ عبادت کی تاکید فرمائی ہے ۔اور نصوص قطعیہ کے انکار سے حضرات صوفیہ کے پاس بھی آدمی کا فر ہو جا تا ہے اور وحدت وجود سے اس کوکوئی نفع نہ ہوگا ،کیونکہ باوجود وحدت وجود کے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ آگ برابر جلا تی ہے اور اس سے دردو مصیبت ہو تی ہے ،اسی طرح قیامت میں بھی عذاب الیم ہوگا ۔ اگر وحدت وجودکا مقتضیٰ یہ ہوتا کہ کسی کو اذیت اورضرر نہ ہوتو دنیا میں بھی اذیت نہ ہوتی ۔ اور یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وحدت الوجود کا اثر قیامت ہی میں ہوگا، کیونکہ وجوددنیا و آخرت میں ایک ہی ہے،مقتضائے ذاتی اس کا بدل نہیں ہوسکتا ۔ہاں یہ بات او رہے کہ کثرت عبادت سے کنت سمعہ و بصرہ کے مقام تک پہونچ جائے ،لیکن اس کا وحدت الوجود سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ کثرت عبادت کا ثمرہ ہے ۔
ہذا من افادۃ العالم العارف باللہ مولانا الحافظ الحاج المولوی محمد انوار اللہ مدظلہ العالی وعم فیضہ المتعالی بدام الایام و اللیا لی فی اثبات و حدۃ الوجود
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ خلق افعال
الحمد اللہ رب العالمین والصلاۃ و السلام علی حبیبہ و رسولہ
سیدنا محمد وآلہ واصحا بہ اجمعین ۔
اہل علم پرپوشیدہ نہیں کہ مسئلہ خلق افعال ایک معرکہ آرامسئلہ ہے اوراس کے سمجھنے میں بڑی بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں ،چونکہ شرع شریف میں یہ مسئلہ مہتم بالشان ہے ،اور اکثر حضرات اس میں ایسی گفتگو کر تے ہیں کہ شریعت سے دور جا پڑتے ہیں ،ا س لئے یہ چند اوراق بغرض خیر خواہی اہل اسلام لکھے جا تے ہیں،ناظرین سے توقع ہے کہ تا و قتیکہ اول سے آخر تک بنظر غامض اس کو ملا حظہ نہ فرما لیں اعتراض کی فکر میں مشغول نہ ہوں
وما علینا الا البلاغ
علماء نے لکھا ہے کہ جب ابتداء اً کسی کام کے کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کو ’’ہاجس ‘‘ کہتے ہیں ۔اور تھوڑا سا قرار و قیام ہوجانے پر اس کا نام ’’خاطر ‘‘ہو جاتا ہے ۔پھر اگر اس کام کے کرنے یا نہ کرنے میں ترددہوتو اس کو ’’حدیث نفس ‘‘ کہتے ہیں۔او راگر کرنے کی جانب کو ترجیح ہو جائے تو وہ ’’ہم ‘‘ہے ۔ او رجب پورا قصد کرکے وہ کام شروع کر دیا جائے تو اس کو ’’عزم ‘‘کہتے ہیں ۔
یہاں تک تو مدارج اس خیال کے ہوئے جو ابتداء اً دل میں پیدا ہو تا ہے۔اس کے بعد فعل جس قسم کا ہو (خواہ جوارح سے متعلق ہو یا دل سے ) شروع ہو جا تا ہے ،اورجب تک وہ کام ختم نہ ہو قصد باقی رہتا ہے ۔ اگر چہ بظاہر اس خیال ابتدائی
کے ساتھ فعل کو چنداں مناسبت نہیںمگر یہ ظاہر ہے کہ دونوں میں علم و معلوم کی نسبت ہے ، اور دونوں آدمی کے حالات ہیں ،صرف فرق یہ ہے کہ وہ کیفیت علمیہ ہے اوریہ حالتِ جوارح وغیرہ ،اوروہ بمنزلہ ء تخم ہے اور یہ بمنزلہء درخت ۔جس طرح درخت بغیر تخم کے نہیں ہوسکتا اسی فعل اختیاری بغیر اس خیال کے نہیں ہوسکتا ،اور جیسے تخم بغیر وجود شرائط کے درخت نہیں بنتا ویسے ہی وہ خیال بغیر وجود شرائط کے فعل کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا ۔ اگر چہ بظاہر تخم وشجر میں کوئی مناسبت نہیںہے ،اس لئے کہ وہ خشک ہے اور یہ تر و تازہ ،وہ جماد ہے اوریہ نامی ،اس میں رگ و ریشہ وبرگ نہیں ہے اور اِس میں سب کچھ ہے ،اوریہ بدرنگ بے رونق اور بے مزہ ہے اور یہ خوش رنگ خوش ذائقہ اور خوشبودار ہے با وجود اس کے عقل گواہی دیتی ہے کہ وہی تخم خشک بسبب وجود شرائط کے درخت ہو رہا ہے اسی طرح اگر غور کیا جائے تو وہی خیال اولیںجو درجہ ء ’’ہاجس‘‘ میں تھا بسبب وجود شرائط کے صورتیں بدلتا ہوا گویا فعل بن رہا ہے ۔
اب اس سلسلے پر غور کرنا چاہئے کہ ابتدائے وجودِ خیال سے انہائے وجودِ فعل تک آدمی کے اختیارات اورقوت کو کہاں تک دخل ہے ؟ یہ توہر شخص جانتا ہے کہ ابتداء اً جو خیال پیدا ہوتا ہے وہ اختیار سے خارج ہے ، اس لئے کہ جب کوئی نیا خیال آتا ہے تو اچانک آتا ہے ،بسااوقات آدمی چاہتا ہے کہ کوئی خیال ہی نہ آنے پائے مگر وہ آہی جا تا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ خیالات کے باب میںآدمی کس قدر مجبور ہے ۔
یہ وجدانی دلیل ہے تھی ۔ عقلاً اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ خیالِ ابتدائی قبلِ وجودممکن ہے ،یعنی نہ اس کا وجود ضروری ہے نہ عدم ۔اور یہ مسلم ہے کہ ممکن جب تک بسبب ترجیح جانب وجود کے واجب باالغیر نہیں ہوتا وجود میں نہیں آسکتا ۔پھریہ بھی بدیہی ہے کہ ممکن سے واجب صادر نہیں ہوسکتا ،کیونکہ علت کا مرتبہ معلول سے ارفع ہو تا ہے ، اسی وجہ سے ممکن نہیں کہ اس خیال کا وجود ا س شخص سے یا کسی دوسرے ممکن سے ہوسکے ۔ تولازمی ہوا کہ وہ اپنے وجود میں مثل اور ممکنات کے واجب تعالیٰ کا محتاج ہواور جب تک حق تعالیٰ اس کو وجود عطاء نہ فرمائے وہ موجود نہ ہوسکے ۔
اس واضح دلیل اس دعوے پر یہ ہے کہ اگر اس ابتدائی خیال کوآدمی اپنے اختیار سے پیدا کرتا ہو تا تو چاہئے تھا کہ پہلے ا س خیال کا خیال بھی آتا، کیونکہ جو کام اختیار سے کیا جا تا ہے اس کو پہلے سے جان لینا ضروری ہے تاکہ وہ سونچ اور سمجھ کر کیا جائے ۔ پھر وہ خیالِ خیال بھی اختیار ی ہو تا تو اس کا بھی خیال پہلے ہی سے ہونا چاہئے،علیٰ ہذاالقیاس یہ سلسلہ عیر متناہی جا ری ہو جائے گا جو باطل ہے ، کوئی عاقل یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ ایک خیال کے واسطے اتنے خیالات یاچند ہی خیالات پہلے ہی سے موجود ہوجا تے ہوں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو خیال آتا ہے وہ بلا اختیار آتا ہے ۔
غرض ان دلائل سے ثابت ہوا کہ ’’ہاجس ‘‘ محض بخلق ِ خالق ہے ۔ علامہ صدر الدین شیرازی نے اسفار اربعہ میں محققین حکماء کا قول نقل کیا ہے کہ قو ل المحققین منہم ان المؤ ثر فی الجمیع ہو اللہ بالحقیقۃ ۔ پھر اس کا ثابت وباقی رکھنا بھی خدا ے تعالیٰ ہی کا کام ہے ،کیونکہ آدمی کسی چیز کو معدوم محض نہیں کر سکتا ،البتہ کسی چیز کی صورت بدل سکتا ہے ۔جب اِعدام پرآدمی کی قدرت نہ ہوئی تووجود اس کا بحفظِ الٰہی اپنی حالت اصلی پر باقی رہے گا جب تک خدائے تعالیٰ ا س کو خود معدوم نہ کرے ۔اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر وقت کے ہوا جس صرف خدا ئے تعالیٰ کی خلق سے ہیں تو ممکن تھا کہ جب تک حدیث نفس کی نوبت پہنونچے کوئی دوسرا ہا جس پیدا ہو جا تا جس سے وہا ںتک کی نوبت ہی نہ پہونچتی ۔ اس ہاجس کو اس درجہ تک نشو نما دینا بھی خدا ہی کا کام ہوا ۔ ا سکے بعد جب تردد کی نوبت پہونچتی ہے جو حدیث نفس ہے ،اس کی کیفیت یہ ہے کہ کبھی تو فعل کی جانب راحج ہو جا تی ہے اور کبھی ترک کی۔اگر چہ یہ دونوں کیفیتوں کے مجموعے کا نام ’’حدیث نفس ‘‘ ہے مگر علیحدہ علیحدہ دونوں جانبوں کو دیکھئے تو وہاں بھی وہی ہاجس کی سی کیفیت ہے کہ یکایک کبھی فعل کی ترجیح ہو جا تی ہے ،پھر ترک کی ،پھر فعل کی ۔ہر ایک کیفیت کا حدوث بلا اختیار ہو تا ہے جس کی خلق بحسب دلائل سابقہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے ۔ گومنشاء اس کا ہر جانب کے منافع و مضار کا خیال ہو تا ہے مگر اس خیال کی بھی وہی کیفیت ہے جو ہاجس کی تھی ، کیونکہ جب منافع و مضار دونوں اس میں ہو ںتوپہلے دونوں میں سے کسی ایک کے لے مرجح چاہئے اور وہ آدمی نہیں ہوسکتا ورنہ تسلسل لازم آئے گا ،جس کاحال اوپر گزرا ۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ خیال نفع یا ضرر جو حدیث نفس میں پہلے آیا وہ بھی مثل ہاجس کے بہ خلق الٰہی ہوگا ،اس طرح دوسرا خیاسل پھر اس کے بعدہم و عزم پیدا ہو تے ہیں وہ بھی ان ہی دلائل سے مخلوق خالق ہیں کیونکہ ان کاوجود بھی حادث ہے ۔ الحاصل یہ تمام سلسلہ عزم و قصد تک بخلق خالق ہونا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہے ۔
پھر عزم کے متصل فعل شروع ہوتا ہے ، اس کی کیفیت حکماء کے پاس اس طرح ہے جیسا کہ شیخ نے قانون میں لکھا ہے :
حرکت اردای جو اعضاء سے متعلق ہے اس کی تکمیل ا س وقت
سے ہو تی ہے جو دماغ سے بواسطۂ اعصاب اعضاء میں پہو نچتی ہے
اس کی صورت یہ ہے کہ عضلات جو اعصاب اور ربا طات وغیرہ
پر مشتمل ہیں جب سمٹ جا تے ہیں تو وتر( جو رباط وعصب سے
ملتمٔ او راعضاء میں نفود کیے ہوئے ہے ) کھنچ جا تا ہے ،جس سے
اعضاء بھی کھنچ جا تے ہیں ،اورجب عضلہ منبسط ہو تا ہے تو وتر
ڈھیلا ہو جا تا ہے اور عضو دور ہوجا تا ہے ۔
اس تقریر میں معلوم ہو اکہ نفس ادراک کے بعد کسی کام کا ارداہ کر تا ہے تو عضلات کو جو جسم آدمی میں پانچسو انتیس( ۵۲۹) ہیں کشش وغیرہ دے کر کسی عصبِ خاص کے ذریعے سے جو ستہتر (۷۷)ہیں جس عضو کو چاہتا ہے خاص حرکت دیتا ہے جس سے فعلِ مطلوب وقوع میںآتا ہے ۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ نفس کو سرسے پائوں تک جس عضو کو حرکت دینا ہو تو ضروری ہے کہ پانچسوانتیس عضلات اور ستہتر (۷۷)عصب میں سے اس عضلے اور اور اس عصب کو حرکت دینا ہوگا جو اس خاص عضو سے متعلق ہے !اور یہ ظاہر ہے کہ قبل اس کے کہ کسی عضلے او رعصب کو حرکت دیں اس کو معین کرنے کی صرورت ہے تاکہ خاص اسی کو حرکت دی جائے جس کی طرف توجہ ہے ،اور یہ معین کرنا اس بات پرموقوف ہے کہ پیشتر تمامی اعصاب و عضلات کو با لتفصیل جان لے ۔اس کی مثال بعینہ ایسی ہوگی جیسے لکھنے کے وقت قلم کو حرکت دینے کے لئے پہلے چند انگلیوں کو معین کرتے ہیں جس سے قلم کر حرکت دینا ہوتا ہے ،پھر ان انگلیوں کو اردے اور اخیار سے حرکت دیتے ہیں جس سے قلم کو حر کت ہو گی ہے۔اس موقعہ پر ہم اہل انصاف سے درخواست کر تے ہیں کہ جس عضو کو چاہیں باربار مسلسل حرکت دے کر بغور و تعمق اپنے وجدان سے دریافت کریں کہ اس اخیاری حرکت کے وقت کوئی عضلہ یا عصب کی طرف نفس کی (اپنی )توجہ بھی ہوتی ہے یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اندر کوئی عضلہ یا عصب بھی ہے یا کسی چیز کو ہم کھینچتے ہیں جس سے وہ عضو کھنچتا ہے ،! کوئی اس کی گواہی نہیں دے سکتا کہ اندرونی کیا کیفیت ہے ؟ اور وہ عضلات و اعصاب کیونکر کھنچتے ہیں ،میری دانست میں اگر کوئی پوری پوری وجدانی حالت کی ایمان سے خبر دے تو یہی کہے گا کہ اعصاب و عضلات کو میں تو نہیں کھینچتا ،ہاں اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم فلاں عضو کو حرکت دینا چاہتے ہیں ۔پھر ہو تا یہ ہے کہ اِدھر توجہ ہوئی اور اُدھر اس کو حرکت ہوگئی !
یہاں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ عصب و عضلے کو حرکت دینا بھی ہمارے اختیار سے خارج ہے ،کیونکہ اختیار ی حرکت ہو تی تو اس کا علم اور ارادہ بھی ضرور ہوتا ، اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ حرکت کا ارادہ بعنیہ عصب و عضلے کی حرکت کا ارادہ ہے ،ا س لئے کہ جب ہمارے وجدان ہی میں نہیںکہ عصب کوئی چیز بھی ہے تو پھر یہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حرکت کا ارادہ ہوا ! پھرجب تحقیق حکماء اطباء سے یہ ثابت ہے کہ بغیر عضلات و اعصاب کی حرکت کے کوئی عضو حرکت نہیں کرسکتا ،توضروری ہوا کہ وہی ملتفت الیہ بالذات ہوں گو مقصود بالذات ان کی حرکت نہ ہو ۔
یہ ہا تھ پائوں کے افعال سے متعلق بحث تھی ۔ اب آنکھوں کے فعل کا حال سنئے کہ دیکھنے کے وقت حدقوں (پتیلوں ) کو ایک منا سبت کے ساتھ گھمانے کی ضرورت ہو تی ہے ،اس وجہ سے کہ جب تک دونوں آنکھوں کے خطوط شعاعی مرئی پر نہ ڈالے جائیں وہ شئے ایک نظر نہ آئے گی ،کیونکہ ہر ایک آنکھ مستقل دیکھتی ہے ۔اسی وجہ سے احوال (ترچھا ) دو دو دیکھتا ہے ۔ پھر وہ زاویہ پیداہوتا ہے ،یہ زاویہ جس قدر کشادہ ہو گا مرئی بھی اس قدربڑا نظر آئے گا ، اور جس قدر تنگ ہوگا اسی قدر چھوٹا نظر آئے گا ۔اسی وجہ سے کسی چیز کو نزدیک سے دیکھیں تو بڑی اور دور سے دیکھیں تو چھوٹی نظر آتی ہے ۔اس کی تفصیل ہم نے کتاب العقل میں کس قدر شرح و بسط سے لکھی ہے یہاں صرف اسی قدر بیان کر نے کی ضرورت ہے کہ : جب مرئی کے ایک نظر آنے کا مدار دونوں خطوط شعاعی کے ملنے پر ہے تو مرئیات جس قدر دور یا نزدیک ہو تے جائیں گے حدقوں کی وضع (پوزیشن ) بھی بدلتی جائے گی ،یہاں تک کہ اگر مرئی بہت ہی نزدیک ہو جائے گا تو حد قے بھی بالکل ناک کی جانب ہو جائیں گے ،اورجب وہ بہت دور ہو جا ئے گا تو وہ کان کی جانب مائل ہو جائیں گے ۔ اب ہم دکھنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ ایک گز یا ہاتھ کے فاصلہ پر حدقے کو کس قدر مائل کر نے کی ضرورت ہے ؟اس کو اپنے وجدان سے بیان کریں اور اگر وجدان ساتھ نہیں دیتا تو کسی حکیم ہی کے قول سے ثابت کر دیں کہ اس قدر فاصلے پر کوئی چیز ہوتو حدقوں کو اس وضع پر رہنا چاہئے ،اور اس قدر فاصلے پر ہوتو اتنی حرکت دینا چاہئے !!حالانکہ ہم جب کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہیں تو بغیر ا س کے کہ ہم کو اس کا طریقہ معلوم ہو یہ سب کچھ ہو جا تاہے،اِدھر ہماری توجہ ہوئی اُدھر آنکھوں نے اپنے موقع پرشست باندھ لی اورنفس ناطقہ کو خبر بھی نہیں کہ یہ کام کس نے کیا ۔
علیٰ ہذاالقیاس بات کرنے اور پڑھنے کے وقت حلق و زبان وغیرہ کے عضلات و اعصاب کوکھینچنا اور ڈھیلے چھوڑنا اور ہرہر مخرج پرلگانا بغیر اس علم کہ کہاں کونسا عضلہ ؟اورکہاں کونسا عصب ہے ؟ دلیل واضح ہے اس پرکہ ہمارے اختیار کو اس میں کوئی دخل نہیں ۔
اگر کہا جا ئے کہ یہ فعل طبیعت سے صادر ہو تا ہے ،توہم کہیں گے کہ حکماء نے
تصریح کر دی ہے کہ طبعیت بے شعور محض! ہے پھر اس کوکیونکر خیر ہوئی کہ نفس فلاں چیز کو دیکھنا چاہتا ہے اور چیز اس قدر فاصلے پر ہے ؟اور نفس نے فلاں عبارت پڑھنی چاہی!اگر نفس طبیعت کو یہ سب بتا دیتا ہے تو یہ خلاف بداہت و وجدان ہے ۔ او بالفرض اگر تسلیم بھی کیا جائے تو خلافِ تحقیق حکماء ہے ، اس لئے کہ نفس ان کے وہاں اور ادراکات ِجزئیہ مادیہ نہیں کرسکتا ،اور جتنی عضلات او راعصاب میں سب جزئیات مادیہ ہیں پھر نفس کو ان جزئیات کا ادراک کیونکر ہو سکتا ہے ۔
اگر کہا جا ئے کہ قدرت یہ سب کام کر تی ہے جو نفس کی صفت ہے ،تو ہم کہیں گے کہ قدرت ارادے کی تابع اور ارادہ علم کے تابع ہے ،جب تک کسی چیز کا علم نہ ہو اس کا ارادہ نہیں ہوسکتا ،اور جب تک ارادہ نہ ہو قدرت کچھ نہیں کر سکتی ، کیونکہ بغیر ارادے کے اگر قدرت یہ کام کر لے جب کہ آدمی میں ہرکام کی قدرت ہر وقت رہتی ہے تو چاہئے کہ ہر کام ہروقت ہونے لگے !جس سے دم بھر کی فرصت ملنی مشکل ہواور آدمی دیوانہ مشہور ہوجا ئے ۔پھر ارادہ بغیر علم کے نہیں ہوتا ،ورنہ طلب مجہول مطلق کی لازم آجائے گی جو محال ہے
اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تحریک عضلات وغیرہ میں صرف قدرت بیکار ہے۔حاصل یہ ہے کہ فعل کے وقت تحریک عضلات وغیرہ جو ہوتا ہے وہ یا خود بخود ہوتا ہے یا ہمارے ارادے سے یا حق تعالیٰ کے خلق سے ۔چونکہ یہ مسلم ہے کہ کسی چیز کا وجود بغیر موجد کے نہیں ہوسکتا ، اس لئے خود بخود تحریک عضلات ہونا باطل ہے ۔اور تقریر سابق سے ثابت ہوا کہ حرکت ہمارے ارادے سے بھی نہیں ہوتی ،تو اب وہی تیسری صورت باقی رہ گئی کہ حق تعالیٰ حرکت کو اعصاب وغیرہ میں پیدا کر دیتا ہے، اوریہ ہونا بھی چاہئے ،اس لئے کہ حرکت ممکن ہے اور ممکن کے احد الجانبین کو ترجیح دینا اوراس کو واجب بالغیر بنانا حق تعالیٰ ہی کا کام ہے ۔
الحاصل فعل کے سلسلے میں ہاجس سے و قوع فعل تک کوئی درجہ ایسا نہیں کہ حق تعالیٰ کا مخلوق نہ ہو ۔ اس سے ثابت ہے کہ جس طرح آدمی کی ذات صفات مخلوق الٰہی ہیں اسی طرح اس کے جملہ حرکات و سکنات او رافعال بھی مخلوق الٰہی ہیں ۔اس تقریر کے بعد امید ہے کہ معتزلہ کے کل شبہات بشرط انصاف حل ہو جائیں گے ۔ کیونکہ جب بدلائل عقلیہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ کل افعال مخلوقِ الٰہی ہیں تو پھر کوئی شبہ قابل التقات نہ ہوگا ۔
جبریہ کہتے ہیں کہ بندے میں کسی طرح کی قدرت نہیں بلکہ وہ مثل جماد ہے۔اور اشاعرہ کا مذہب ہے کہ قدرت تو ہے مگر موہوم جس کا اثر فعل میں نہیں ہو سکتا،اور وہ فعل کے ساتھ ہی ہے مگر موہوم ۔حنفیہ کا قول ہے کہ قدرت توبخلقِ خالق موجودہے لیکن وہ فعل میں اثرنہیں کرسکتی بلکہ فعل کو اللہ تعالیٰ ہی پید کر تا ہے ۔ معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ بندے میں قدرت موجود ہے اور ایسی قدرت سے بندہ اپنے افعال پیدا کر تا ہے اور وہ قدرت قبل صدور فعل بھی موجود ہے ۔
اس مسئلہ میں معتزلہ اور قدریہ نے صرف عقل ہی سے کام لیا ہے ، وہ کہتے ہیںکہ ہر شخص جانتا ہے جس پراس کا وجدان بھی گوا ہی دیتا ہے کہ اپنے میں کام کرنے کے وقت قدرت ہے ۔ بلندی پر چڑھنے میں اور اوپر سے گرنے میں ہر عاقل فرق کر سکتا ہے کہ ایک اختیار سے ہے اور دوسرا بلا اختیار ،اس وجہ سے انھوں نے کہہ دیا کہ فعل بندے ہی کا مخلوق ہے ۔
جبریہ نے دیکھا کہ نصوصِ قطعیہ تصریح کر رہی ہیں کہ کُل افعال مخلوقِ باری تعالیٰ ہیں کما قال اللہ تعالیٰ واللہ خلقکم و ما تعملون توانھو ں نے بندے کو مجبور محض اور مثل جما د قرار دے دیا ۔
اہل سنت نے دیکھا ہے کہ اس میں جزاء و سزاکا معاملہ درہم برہم ہوا جا تا ہے اس لئے انھوں نے کسب پر جزاء وسزا کو مبنی کیا جس پر آیت شریفہ لھا کسبت وعلیہا ماکتسبت دال ہے ۔مقصود ان حضرات کا یہ ہے کہ راہِ توسط اختیار کی جائے ،یعنی افعال مخلوقِ الٰہی ہوں ،اور جزاء و سزا کسب سے متعلق ہو ۔
حضرات صوفیہ کا مسلک بھی اس مسئلے میں ظاہر اً جبریہ کا سا معلوم ہو تا ہے،چنانچہ ان کی تصریحات سے یہ امر ظاہر ہے ،مگر چونکہ ان کا مسلک ہے کہ حتی الامکان آیات میں تاویل نہ کریں ،اس لئے بلحاظ ان آیات کے جن میں عمل کی تاکید ہے اعلیٰ درجے کا عمل میں اہتمام کیا اور اس قدر عمل میں مشغول ہو ئے کہ معتزلہ اورقدریہ با وجود ا س اعتقاد کے جو مقتضیٰ کمال ِاہتمام عمل ہے اس قدر عمل نہیں کرسکتے۔چنانچہ یہ بات ان کے حالات اور تذکروں سے ظاہر ہے ۔ اور اعتقا د میں و ہ بالکل جبریہ کا سا اعتقاد رکھتے ہیں بلکہ ایک حیثیت سے ان پر بھی فائق ہیں ، ان کے مسلک پر بھی بندے میں کسی قسم کی قدرت نہیں بلکہ ہر طرح کی قدرت خدائے تعالیٰ ہی کے لئے مسلم ہے اور مختار وہی ہے ،بندے کے اختیار کو کوئی دخل نہیں ،چنانچہ ارشاد ہے و ربک بخلق ما یشاء و یختارOماکان لہم الخیرۃO سبحا نہ و تعالیٰ عما یشرکون ۔
یہ تو با تفاق اہل سنت و جماعت ثابت ہے کہ قدرت اور افعال دونوں حق تعالیٰ ہی کے مخلوق ہیں ۔ اب رہ گیا کسب یعنی قدرت کو صرف کرنا ، اس کو بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو آخر و ہ بھی فعل قلبی ہے ،مثل حدیث نفس و توکل و ایمان وغیرہ ،اور وہ واللہ خلقکم وما تعملون میں داخل ہے ۔ اس تقدیر پر کوئی فعل بندہ کا مخلوق و اختیار ی نہیں ہو سکتا،بلکہ بندہ مع جمیع افعال مخلوقِ الٰہی ہے ۔
اس مقام پر اعتراز کیا جا تا ہے کہ اگر بندے کو کچھ اختیار نہ ہو اور ارادہ وغیرہ بھی خدا ہی پیدا کرے تو جبراور خلاف عدل لازم آنے گا!!اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اعتراض چنداں قابل التقات نہیں ،اس جو لوگ مادر ذاد اندھے ،بہرے ،گونگے ، اپاہج اور ضعیف پیدا ہو تے ہیں اور ہمیشہ بیمار رہتے ہیں جب ہم جنسوں کو نعمتوں اور صحت میں دیکھتے ہوں گے توان کے دل کی کیا کیفیت ہو تی ہوگی ؟کیا اس کو عذاب نہ سمجھتے ہو ںگے ؟اگر بغیر فعل کے عذاب خلاف عدل ہے تو اس خلق کو بھی خلاف عدل کہنا چاہئے !! حالانکہ کوئی اس کا قائل نہیں ہے ۔
رہا یہ کہ یہ عذاب اس عالم میں افعال سے متعلق نہیں ، اورجو عذاب اس عالم میں ہوگا وہ افعال سے متعلق ہے !سو یہ بحث دوسری ہے ،یہاں کلام صرف عدل میں ہے ۔ ایک بندے کو بلا سبب عذاب میں رکھنا اور دوسرے کو نعمتیں دینا ان کے عقیدے کے مطابق خلاف انصاف ہے ۔
الغرض حق تعالیٰ نے جس طرح بعض بندوں کو اقسام کی نعمتیں عطاء فرما ئیں اس طرح بعضوں کو توفیق بھی عطاء فرمائی یعنی خیالات بھی ان میں اچھے پیدا کر دیے،اور اس کے موافق ان میں افعال بھی پیدا کر دیے ،جس سے وہ قابل تقرب ہو جائیں ۔ اور کسی دوسرے کو اس قابل نہ بنائے تو خلاف عدل کیونکر ہوگا ؟ مالک مختار نے جس کو جو چاہا دیا کوئی اس سے یہ نہیں پوچھ سکتا اور نہ پوچھنا جائز ہوگا کہ اپنی ملک میں یہ کیوں کیا ؟قال اللہ تعالیٰ لایسئل عما یفعل و ہم یسئلون ۔اسی وجہ سے صاف ارشادفرمایا ولقد ذرأنا لجہنم کثیراً من الجن والانس جب جہنم ہی کے لئے بہت سے لوگوں کو پیدا فرمایا تو ا ن کے کسب کا اختیار ی ہونا کس کام آئے گا !! اس لئے کہ جو شخص قبل عمل بلکہ قبل پیدائش دوزخی ٹھہر جائے تو وہ اختیار سے کیا نفع اٹھا سکتا ہے ۔
حکمت جدید ہ والوں کو اس کا یقین ہے کہ آدمی جس چیز کو دیکھتا ہے الٹی دیکھتا ہے ،چنانچہ آدمی کا سرنیچے اور پائوں اوپر نظر آتا ہے ،مگر قوت لامسہ اور قرائن سے مدد لے کرسراوراورپائوں نیچے سمجھنے کی عادت ہو گئی ۔یہ خیال ایسا متمکن ہوگیاہے کہ تمام عالم کا مشاہدہ ایک طرف ہے اور وہ ایک طرف ،اس خیال کا ان کا ایسا وثوق ہے کہ تعلیم و تعلم میں اس مسئلہ کو داخل کر دیا ۔ اسی طرح ہنود کے عقائد اپنے دیوتائوں کے ساتھ ایسے ہیں کہ کوئی عاقل ان کی تصدیق نہیں کرسکتا ۔ علی ہذا اور دوسری اقوام اپنے اپنے عقائد مخصوصہ کی تصدیق پوری پوری کر تے ہیں اور کچھ خیال نہیں کرتے کہ وہ خلاف مشاہدہ اور مخالفِ بداہت عقل ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ اہل اسلام با وجود دعواے اسلام کے حق تعالیٰ کے قول کی تصدیق نہیں کرتے اور اپنی عقل کے مطابق بنا نے کے لئے آیات قرآنی میںتا ویلیں کر تے ہیں ۔ چونکہ معتزلہ وغیرہ کا استدلال وجدان قدرت پر ہے اس لئے اس کا بھی حال کچھ معلوم کر لینا چاہئے :
وجدان اس علم کانام ہے جو آدمی اپنے میں پاتا ہے ۔چونکہ حواس کو بقول حکماء شعور نہیں اس لئے ان کو وجدان بھی نہ ہوگا ۔ بلکہ بواسطہ ء حواس نفس کو ادراک اور اس کاوجدان ہو تا ہے ،مثلاً کوئی عضو جلے یا سرد ہوتو بواسطہء قوت لامسہ نفس کو گرمی اور سردی کا احساس اور وجدان ہوتا ہے ۔ اسی طرح جملہ حواس اور قواے متخیلہ و واہمہ وغیرہ نفس کے ادراک کے لئے آلات ہیں نفس کو ان تمام ادراکات کا وجدان ہے ،جیسے خوشی اور غمی اور بھوک اور پیاس وغیرہ کیفیات کا وجدان ہے ۔ چونکہ سلسلہء فعل ہی میں قدرت بھی قائم کی گئی ہے اس لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ جس طرح ہم کو ھاجس سے عزم تک جمیع مدارج کا وجدان ہے ایسا ہی قدرت کا بھی وجدان ہے یا نہیں ؟ جب کسی کام کا خطور ہم میں ہوتا ہے کہ کوئی نئی بات ہم میں پیدا ہوگئی ہے جو پہلے نہ تھی ،یہی وجدان ’’ہاجس‘‘ہے اسی طرح ’’ عزم ‘‘تک نفس کو ہر درجے کا وجدان ہوتا ہے اور ہر مرتبہ کے مناسب آثار نفس میںبلکہ خارج میں نما یاں ہوتے ہیں ۔بخلاف قدرت کے ،اس لئے کہ اس سلسلے میںکوئی نئی چیز ایسی پیدا نہیں ہوتی جس کا نام قدرت رکھا جائے ۔
اگرکہا جائے کہ ہر شخص کوکام کرنے کے وقت اس امر کا وجدان ہوتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں!اس وجہ سے اسی کام کا ارادہ کرے گا جس کے سکنے کا وجدان ہوتا ہے اسی کانام ’’وجدان قدرت ‘‘ ہے ۔ تو جواب اس کایہ ہے کہ :ہر قدرت کا وجدان نہیں بلکہ اس کام کے علم کاوجدان ہے ،اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے دیوار کو دیکھنے سے ایک وجدانی کیفیت آدمی اپنے میں پا تا ہے جس کو دیوار کا وجدان نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اس کے علم کا وجدان ہے ،ا س لئے کہ دیوار کا علم حصولی ہے اور وجدان علم خضوری میں ہوا کرتا ہے ،اور علم کا وجدان اس وجہ سے کیا جا تا ہے کہ وہ نفس کی کیفیت ہے جس کا علم حضوری ہو تا ہے ک۔اسی طرح کام کرنے کا علم جو قبل فعل ہوتا ہے وہ بھی علم حصولی ہے ا س لئے کہ ابھی کام کا وجود ہی نہیں ،اور ہوگا بھی تو جوراح سے ہوگا ،پھر اس کا علم حضوری کیونکر ہوگا ؟ البتہ اس کے علم کا علم حضوری ہے ۔
فعل کا علم ایسا ہے جیسے طبیب حاذق کو بعد ملاحظہء قرائن اسباب اس مر کا علم ہو تا ہے کہ بیمار مرجائے گا یا صحت پائے گا ، اور وہ اس کو امر وجدانی سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا وجدان اس پر گواہی دیتا ہے ۔اسی طرح ہر شخص کا وجدان قرائن کی وجہ سے گواہی دیتا ہے کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں ۔ مثلاً جو شخص گھوڑے کی سواری نہ جانے اورلوگوں کو گرتے دیکھے تو یہ کہے گا کہ میں سواری نہیں کرسکتا ،اورجب کئی بار سوار ہوا اور نہ گرے تو اس قرینے سے کہے گا کے کہ میں سواری کر سکتا ہوں !اگر چہ بظاہر اپنے وجدان کو خبر دیتا ہے کہ مجھ میں سواری کی قدرت ہے مگر دراصل وہ علم استدلالی ہے جو بنظر قرائن حاصل ہوا ہے ۔اسی طرح بیمار جب چلتا ہے اور بہ سبب ضعف کے چل نہ سکے تواس پر قیاس کرکے خبر دیتا ہے کہ مجھ میں چلنے کی قدرت نہیں، پھر جب چند با ر چلے اور نہ گرے تو یہ کہتا ہے کہ میں اپنے میں چلنے کی قدرت پا تا ہوں ۔ اگر چہ یہ بھی وجدان ہی کی خبر دیتا ہے مگر وہ وجدان سے متعلق نہیںبلکہ قیاس او رعلم استدلالی ہے ، اور یہ وجدان بعینہٖ ایسا ہے جیسے طبیب کا وجدان بیمار کی صحت یا موت پرہوتا ہے ۔
بات یہ ہے کہ جب قرائن سے کسی کام کے کرنے کاعلم ہوجا تا ہے تو اس علم کا وجدان بھی ہوجا تا ہے اور آدمی اس کو سمجھتا ہے کہ وہ قدرت کا وجدان ہے ،حالانکہ وہ وقوع فعل کے علم کا وجدان ہے ،اسی وجہ سے اس میں خطا بھی ہوتی ہے اور وہ علم خلاف واقعہ ثابت ہوتا ہے ۔مثلاً بسا اوقات آدمی دعویٰ کر تا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں اور اس پر اس کو اس قدر وثوق و اعتماد ہو تا ہے کہ شرط تک باندھ لیتا ہے ،پھر با وجود اس کے نہیں کر سکتا ۔اگر اس کو شرط باندھنے کے وقت اس قدرت کا وجدان ہو تا جو اس کا م کے لئے کافی ہے تووہ کام ضرور کر سکتا ،پھر جب نہ کرسکا تو معلوم ہواکہ اس کام کی قدرت کا وجدان ہی نہ تھا ۔
اگرکہا جائے کہ :بھوک کے وقت ایک ایسی حالت کا وجدان ہو تا ہے جس سے آدمی سمجھتا ہے کہ میں کام نہیں کرسکتا ،پھر کھانا کھانے کے بعدایسی حالت پیدا ہو تی ہے کہ اس سے اپنے میں کام کر نے کی قوت پا تا ہے ، اور یہ وجدان ایسا ہے کہ کوئی اس کاانکار نہیں کرسکتا ہم اسی قوت کا نام ’’قدرت‘‘ رکھ سکتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ:کھانا کھانے کے بعد جو حالت طراوت وتازگی پیدا ہو تی ہے وہ نباتات میں بھی ہو تی ہے ۔دیکھ لیجئے چھوٹے چھوٹے درختوں کو سینچنے میں دیر ہو توپثر مردہ اور مضمحل ہو جا تے ہیں مگر جب ان میںپانی سیرایت کر تا ہے تو فوراً ان میں تازگی شروع ہو جا تی ہے اور کمزور مر جھا ئے ہوئے پتوں میں طاقت آجا تی ہے جس سے وہ کھڑے ہو جا تے ہیں !حالانکہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ درختوں میںقدرت ہے ۔ اسی سے معلوم ہوا کہ طراوت اور تازگی کا نام قدرت نہیں ہوسکتا ۔
با ت یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ کو اعضاء سے کام لینا منظور ہوتا ہے تو ان میں مناسب رطوبت ورنہ یبوست مفرطہ پیدا فرما دیتا ہے ۔ مثلاً جب نسیان پیدا کرنا منظور ہو تو خواہ بوجہ پیری یا اور کسی سبب سے دماغ میں یبوست مفرطہ پیدا فرما دیتا ہے جس سے نفس ناطقہ نسیا ن پر مجبور ہو تا ہے ۔اور قوت حافظہ پیدا کرنا ہوتو رطوبت مناسبہ پیدا فرما دیتا ہے ،اسی طرح تمام اعضاء میں رطوبت مناسبہ پیدا ہو تی ہے ،اس کے بعد بحسب وجود شرائط فعل پیدا ہو تا ہے ،مگر چونکہ اس کی عدات ہوگئی ہے اس لئے آدمی اسی وجدان طراوت کوقدرت سمجھتا ہے !حالانکہ فعل کی تکمیل جس میں قدرت موثر سمجھی جا تی ہے صرف رطوبت اعضاء سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں کشش اعصاب و عضلاب کوبھی دخلِ تام ہے ۔ او اس کاحال ابھی معلوم ہو اکہ نفس اس میں لایعلم محض ہے ۔
بادی الرائے میں جو وجدان قدرت معلوم ہوتا ہے وہ قدرت کا وجدان نہیں بلکہ ا س کا اشتباہ ہے، کیونکہ وجدان کے سمجھنے میں اکثر غلطی ہوتی ہے ،جس کی کئی نظریں ہیں :
۱۔ جھولا جھولنے اور چکر گھومنے کے بعد وجدان ہوتاہے کہ تمام چیزیں گھوم رہی ہیں حالانکہ وہ وجدان غلط ہے ۔
۲۔ ریل کے بازو سے دوسری ریل گزے تواُس ریل پر سوار مسافرین کو وجدان ہوتا ہے کہ ہم ساکن ہیں اور دوسری ریل متحرک ہے ۔
۳۔ بہت سے لوگ اپنے میںقدرت پاکر بصرف زر کثیر نکاح کرتے ہیں پھر مقصود میں کامیاب نہیں ہوتے حالانکہ قوت کافیہ کا وجدان جو تھا غلط ثابت ہوا ۔
۴۔ افیمی کی افیم نہ ملنے کے سبب جو ردی حالت ہو جا تی ہے اس وقت کوئی چیز مشابہ افیون کے دی جائے گواس میںنشہ نہ ہو تب بھی وہ افیون کا نشہ اپنے میں پا تا ہے،حالانکہ یہ وجدان بھی غلط ہے ،اس لئے کہ وہ چیز نشہ آور نہ تھی ۔
جب وجدان میں غلطی ہونا مسلّم ہے تو بالفرض اگر ہم قوت کو وجدانی مان بھی لیں تو ضروری نہیں کہ منشاء اس کا واقعی ہوا ، بلکہ جائز ہے کہ جس چیز کاوجدان ہو رہا ہے وہی یعنی قوت ہی سرے سے معدوم ہو ، جیسے افیونی کی مثال مذکورہ سے ظاہر ہے ۔ الحاصل وجدانِ قدرت سے قدرت کا وجود اور فعل کا اختیار ی ہونا ثابت ہو سکتا ۔
اب یہاں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ جب دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے ثابت ہے کہ بندے کی قدرت و اختیار کو اس کے فعل میں کوئی دخل نہیں تو کسب کے کیا معنی ہوں گے جو لہا ما کسبت میں ارشادہے ؟ او رجزاء و سزا کس چیز پر مبنی ہے ؟!
اصل کسب کے معنیٰ کے ہیں ،اور اس کا استعمال طلب مال و رزق وغیرہ میں ہوا کرتا ہے ،چنانچہ کہتے ہیں ’’کسبت المال و الرزق ‘‘ ۔مطلب یہ ہوا کہ کسی موجود چیز کو حاصل اور جمع کرنے کانام ’’کسب‘‘ ہے ۔ اس صورت میں افعال کا کسب ایسا ہو گا جیسے مال کا کسب ،یعنی جسیے مال کے وجود ذاتی میں ہم کوکچھ دخل نہیں ویسے ہی افعال کے وجود میں بھی ہمیں کچھ دخل نہیں بلکہ ان کو صرف اپنے میںجمع کرلینے کانام کسب ہے جیسا کہ مال کے جمع کرنے میں ہوتاہے ،ہاں فرق اتنا ہے کہ مال کے حاصل کرنے میں مال پہلے سے موجود ہو تا ہے ،اور افعال کا وجود ان کے کرنے کے وقت ہی ہوتا ہے ،او ر بندہ ان افعال کا ظرف ہوتا ہے اگرچہ اس اعتبار سے بندہ کو افعال قبیحہ کے ارتکاب پر معذور سمجھا جا نا چاہئے !مگر جس طرح ظرف جب محلِ نجاست ہوجا تا ہے تو اس قابل نہیں رہ سکتا کہ اس کو دسترخوان پرجگہ ملے بلکہ ا س کی جگہ مزبلہ پایا ئخانہ ہو تی ہے جہاں نجاست کا مقام ہے ، گو ظرف کے فعل کو وجود نجاست میںکوئی دخل نہیں ۔اسی طرح بندے کو وجود معاصی میں دخل نہیں ،لیکن جب محل نجاست معیوب بن جائے تو قابل تقرب نہیں رہتا ،جب تک کہ گناہوں سے پاک وصاف نہ ہوجا ئے۔اگرچہ یہ دونوں ظرف ہیں لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ آدمی ایسا ظرف ہے کہ اس کو سمجھ بھی ہے اور سمجھ ایسی چیز ہے کہ مدح و ذم کا مداراسی پر ہے ۔اسی وجہ سے لڑکے اور سکران اور دیوانے کے افعال قابل مؤاخدہ نہیں سمجھے جاسکتے ۔قائل شرعاً بھی قابل مؤاخذہ ہے با وجود یکہ نقص قطعی سے ثابت ہے کہ مقتول کی عمر میں قاتل کے فعل سے کچھ کمی نہیں ہوتی ،مگر چونکہ اس کی دانست اور زعم میں ما رڈالنا ہوتا ہے اس لئے وہ قابل مؤاخذہ ٹھہرا ۔
اگر کوئی شخص اشتباہ قبلہ کے وقت تحری کرکے نماز پڑھ لے تو نماز اس کی صحیح ہو جائے گی گواس نے خلاف جانب قبلہ نماز پڑھی ہو ، کیونکہ اس کی دانست میں قبلہ وہی ہے ۔ قانون سرکاری باب مستنشیات عامہ میں مصرح ہے کہ نیک نیتی سے کوئی فعل ضرر رساں صادر ہو توجرم نہیں ،کیونکہ اس کی دانست میں ضرر پہونچانا مقصود نہیں ۔ بہت کم بیمار مرتے ہوں گے جو کسی طبیب کے زیر علاج نہ ہوں یا علاج میں بد عنوانی نہ ہوتی ہو،مگر چونکہ اس کی دانست یا ارادہ میں ضرر رسانی نہیں ہوتی اس لئے ورثہ بھی اس کو قابل مؤاخذہ نہیں سمجھتے ۔
الغرض صدہا مثالیں مل سکتی ہیں کہ دانست گو خلاف واقعہ ہومگر مواخذہ اسی سے متعلق ہے ۔ او جوکام آدمی سمجھ کر کر تا ہے اس کے آثار اس کی طبیعت میں موجودہو تے ہیں ،مثلاًکسی دوست کو دشمن سمجھ کر مار ڈالے تو مارنے کے وقت جو کیفیت دشمن پرغالب ہونے کے وقت ہوتی ہے یعنی تعلی وغیرہ وہ سب اپنے میں پا ئے ئے گا اور اس پرافتخار کرے گا ، پھرجب ظاہر ہو جائے کہ وہ دوست تھا تو اس فعل پر ندامت ہوگی،یہ دونوں آثار صرف اس دانست و علم سے متعلق ہیں جو دونوں وقت اس میں پائے گئے۔ اب دیکھئے کہ ہر آدمی کی دانست میںیہ بات کس قدر راسخ اور مستحکم ہے کہ جو کچھ کرتے ہیں ہم اپنے اختیار سے کر تے ہیں اورکسی کام کے وقت یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ فعل حق تعالیٰ ہم میں پیدا کر رہا ہے ،گویہ دانست خلاف واقعہ ہو مگر ثواب و عقاب اسی سے متعلق ہیں ۔ پھر اگر کوئی اس پرایمان بھی لایا تو خود اس کی حالتِ قلبی اس کی تکذیب کر تی ہے ، الا ماشاء اللہ بہت کم لوگ ایسے نکلیں گے کہ کوئی شخص ان پر تعدی کرے اور ان کی حالت ِقلبی نہ بدلے ،حالانکہ مقتضیٰ اس ایمان کا یہ تھا کہ جو کچھ ایذاء کسی سے پہونچے وہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھی جائے اور تعدی کرن ے والے کا خیال بھی نہ ہو ۔
اگرچہ عقلاً و نقلاً یہ مسئلہ مدلل ہے کہ کل افعال مخلوق اِلٰہی ہیں ،مگر لڑکپن سے و عادت ہوگئی ہے کہ ارادے کے ساتھ فعل موجود ہوتا ہے ، تو اس عادت کی وجہ سے جو بجائے خود طبیعت بن جا تی ہے وجدان گواہی دیتا ہے کہ ہم میں قدرت ہے اور اعتقاد مغلوب ہوجا تا ہے ،جیسے قوت واہمہ سے عقل مغلوب ہو جا تی ہے ۔مثلاً بلندی پر کم عرض جگہ میں چلنا مشکل ہو تا ہے ،حالانکہ تجربہ و مشاہدہ اور عقل گواہی دیتے ہیں کہ اس سے کم عرض جگہ میںآدمی ہمیشہ چلتا ہے ۔
پھرجب فعل کے وقت وجدان قوتِ ایمان پرغالب ہو جائے تو اس حالت میں ایمان سابق کا وجود کالعدم ہے ، جس طرح قوت واہمہ کے وقت عقل و تجربہ کا وجود بیکار ہے ۔ اس دانست وجودان کے اعتبار سے مؤاخذہ خلاف عدل و انصاف ثابت نہیں ہوسکتا ،جس طرح قتل شرعاً قابل مؤاخذہ ہے اور عرفاً وقانوناً دشنام دہی جرم ہے۔حالانکہ جس فعل کی وہ تصریح کر تا ہے نہ اس کا وقوع زمانہء ماضی میں ہوتا ہے نہ استقبال میں بلکہ صرف اس کے اس خیال قبیح پرقابل مؤاخذہ سمجھا جا تا ہے ۔اگر کہا جائے کہ دشنام دہی خود فعل ہے جس کاوجود جوارح یعنی زبان سے متعلق ہے یہ جرم فعل کا ہوگا نہ کہ خیال کا !!تو جواب اس کا یہ ہے کہ : اگرقابل مؤاخذہ ہے تووہ فعل ہے جس پرالفاظ دلالت کر تے ہیں ،اور الفاظ اِخبار ہوں یا اِنشاء کسی طرح قابل مؤاخذہ نہیں ہیں جب تک کہ وہ کسی خیال سے ظاہر نہ ہوئے ہوں ،اسی وجہ سے اگر کسی خاص شخص کے نام سے گالی دیوار پر لکھی ہوتواس کا لکھنے مجرم اور قابل مؤاخذۃ ہوگا۔پھر اگر ثابت ہوجائے کہ گالی دینے والا نشہ کی حالت میں تھا تو معذور سمجھا جا تاہے ،حالانکہ زبان کا فعل وہاں بھی موجود ہے مگر چونکہ وہ بے خود ی اس کی تسلیم کی جاتی ہے اس لئے اس فعل کو غالباً قابل مؤاخذہ نہیں سمجھا جا تا ۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ عرفاً فاًوعقلاً بھی قابل مؤاخذہ دانست ہی ہے گو خلاف واقعہ ہو ۔

٭٭٭
برقی روشنی
الحمد اللہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علیٰ رسولہٖ وحبیبہٖ سیدنا محمد و آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین
ہم جن چیزوں کو روزمرہ دیکھ رہے ہیں ، اگر غور اور تدبیر کی نگاہ سے دیکھیں تو بہت سارے لایخل عقدے حل ہو سکتے ہیں ۔دیکھئے ہم آج کل مشاہدہ کر رہے ہیں کہ یورپ کے عقلمند وںنے برقی روشنی ایک عجیب چیز ایجادی کی ہے جس کے کرشمے ایک عالم کو حیران کر رہے ہیں ۔ کیا یہ بات عالم کو محو حیرت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ صدہا اور ہزارہا چراغ ایک ادنیٰ حرکت سے روشن ہو جا تے ہیں !اور پھر ایسی صنعت سے کہ کوئی سفید ہے کوئی سبز اور کہیں سرخ ہے توکہیں زرد بیسوں رنگ کے چراغ آن واحد میں جلوہ گر ہو جا تے ہیں ،او رہر ایک چراغ دوسرے سے کامل ممتاز نظر آرہا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ کہیں پھول کی شکل ہے تو کہیں پتے وغیرہ کی ،کہیں چاند کی ، کہیں ستا روں کی !ایسی صنعت میں جدت طرا زیوں کو دیکھتے ہوئے کیا بعید ہے کہ ائندہ حیوانات اور انسانوں کی شکلیں بھی بنائی جا ئیں اور و ہ سب ممتاز حیثیت میںنور کے پتلے بن کر اپنے دیکھنے والوں کو محوتماشا بنا دیں ۔
اس برقی روشنی کا ایک خاص منبع ہو تا ہے جس پر اس عالم نورانی کا دار ومدار ہے ، وہاں ایک ایسا بٹن بنا ہوتا ہے جس کوایک ذرہ سی حرکت دینے سے تیرہ و تار مقامات بقعہء نور بن جا تے ہیں اور ایسا دلچسپ سماں نظر آتا ہے کہ دیکھنے والے اس کی دلچسپی میں محو حیرت ہوجا تے ہیں ۔
اگرپہلے پہل کسی دیہاتی شخص کے روبرو جس نے کبھی اپنی عمر میں برقی نہیں دیکھی ہو یہ سماں دکھلا یا جائے تو جس قدر اس کوحیرانی ہوگی اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا !پھر اگر یہی کام ہر روز اس کے روبرو کیا جائے اور وہ ان روشنیوں کا عادی ہو جائے تو اس کی ابتدائی کیفیت باقی نہیں رہے گی ،اوراب اگراس سے پوچھا جائے کہ بھائی یہ عمدہ عمدہ صنعتیں جوتم ہر روز دیکھ رہے ہو ان کی کیا حقیقت ہے ؟ اوران کا بنانے والا کس درجہ کا صنّاع ہے ؟تو بے ساختہ اس کے منہ سے یہی نکلے گا کہ ہماری سمجھ میں توکوئی بات نہیں آتی اور نہ ہمیں اس کے سمجھنے کی کوئی ضرورت ہے ۔یہ توایک عامی اور سادہ لوح شخص کی حالت تھی ، اگرکوئی عقلمند شخص ہوتووہ اسی فکر میں لگا رہے گا کہ آخر ا س کی لِم کیا ہے ؟ اور فعتاً اس قدر چراغ کیونکر روشن ہو جا تے ہیں ؟بالآخر ایسے لوگوں کوجدوجہد کا شمرہ مل ہی جا تا ہے اور وہ اپنے اپنے حوصلے کے موافق کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لیتے ہیں ۔
اب عقلمند وں کو اسی پر قیاس کرنا چاہئے کہ عالَم پہلے تیرہ و تار تھا بلکہ یو ں کہئے کہ عالم کچھ بھی نہ تھا صرف ہر صرف عدم کی تاریکی ہی تاریکی تھی ، پھرحق تعالیٰ نے ایک ادنیٰ حرکت ’’کن ‘‘ سے تمام عالم کو روشنیِ وجود سے منور کردیا ،گویا اس تاریکی میں قسم قسم کے چراغ روشن ہوگئے ،کیونکہ موجود بھی ایک چراغ ہے جس سے نور وجود ظاہر ہو رہا ہے ،اور چراغ جس طرح اس تاریکی میں ممتاز ہوکر نظر آتا ہے اسی طرح ہر موجود ممتاز نظر آرہا ہے ۔
ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ چراغ میں بھی نور ِ وجود نہ ہوتو بالکل نظرنہ آئے گا ،اس لئے کہ وہی چراغ جب تک عدم میں تھا نمایاں نہ تھا ،صرف وجود کی وجہ سے نمایاں ہو گیا ،اور قبل وجود اس کا کہیں پتہ نہ تھا ،البتہ روشن کرنے والے کے علم میں اس قدر ضرور تھا کہ اس مقام میں فلاں قسم کا چراغ ہو اور اس مقام میںفلاں قسم کا ، اسی طرح حق تعالیٰ کے علم میں ہرچیز کا وجودتھا ۔اس وجود علمی کے سوا ان چراغوں میں یہ بات بھی ضروری تھی کہ منور کرنے والے نے ہر ایک چراغ کو ایک ایک مقام میں معین کر دیا تھا کہ فلاں مقام میں فلاں قسم کا چراغ ہو !اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک چراغ کے لئے ایک ذات تھی جس کا وجودبمجرد روشنی کے خارج میں آگیا ۔پس اُس ذات معدومہ کواِس چراغ کی عین ثابتہ کہہ سکتے ہیں ،کیونکہ ہنوز اس کا وجود نہیں ہوا بلکہ صرف اس کو ایک قسم کا ثبوت ہے جووجود کے پہلے کا درجہ ہے ۔ اسی طرح موجودات عالم کے اعیان ثابتہ سے پہلے تھیں جو نور وجود کے ساتھ ہی باہم ممتاز ہوکر وجود میں آگئیں ۔
یہ امر مسلم ہے کہ آدمی کسی چیز کو موجود نہیں کر سکتا یعنی کسی معدوم کووجود میںلانے پرہرگز قادر نہیں ہے ،صرف انتا ہی کر سکتا ہے کہ موجود ہ اشیاء میں ایک خاص قسم کی ترکیب دے کر چیز بنا دیتاہے ۔مثلاً مٹی ،پتھر، لکڑی وغیرہ کو ایک خاص قسم کی ترکیب دے کر گھر بنا لیا ،اگر پیشترسے گھر کے اجزاء موجود نہ ہوتے تو انسان ہرگز گھر نہ بنا سکتا ۔ اسی طرح برق جو ایک موجود چیز ہے اس میں تصرف کرکے روشن کر دیتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ وہ نہ تو برق کی ذات کو وجود میںلا سکتاہے اور نہ روشنی کو، بلکہ صرف اپنی تدبیر سے موجود برقی قوت کو یا یوں کہئے کہ مادۂ برقی کو جمع کر دیتا ہے اورایک ایسی خاص قسم کی حرکت دیتا ہے جس سے اس میں اشتعال پیدا ہو جا تا ہے اور یہ مادۂ برق یا اصلی قوت جس میں انسان نے تصرف کرکے مشتعل کر دیا ہے حق تعالیٰ کا پیداکیا ہوا ہے ،اس کی ایجاد انسان کی قدرت سے بالکل خارج ہے ۔
اسی طرح انسان کا ہر ایک عمل صرف تصرف او راشتعال ہے ۔ اشیائے موجودہ میں آدمی جن اعیان ثابتہ کو موجود کر تا ہے وہ موجودات کی ایک خاص قسم کی حالت ہوتی ہے ،مثلاًمکان کی عین ثابتہ لکڑی ، پتھر وغیرہ کی ایک خاص ہیٔت تھی جس کا نقشہ بنا نے والے اپنے ذہن میں ٹھہر ا یا تھا ڈپھر ان موجودہ اشیاء میں تصرف کرکے اور ایک قسم کی ترکیب دے کر مکان کی عین ثابتہ کو موجود کردیا ،اگرچہ مکان کایہ وجودِخارجی پہلے نہ تھا مگر وہ اشیاء جن کویہ ہیٔت عارض ہوئی ہے پہلے سے موجود تھیں۔بخلاف خدا وند تعالیٰ کے کہ اُن اعیان ثابتہ کو وجود دیتا ہے جن کا کوئی مادہ خارج میں ہی ہوتا ،ایسا وجود دنیا خاص حق تعالیٰ ہی کاکام ہے ۔اگر خدا وند تعالیٰ کی تخلیق کے لئے بھی پیشتر مادہ کی ضرورت ہوتووہ بھی مثل انسان کے محتاج مادہ ہو جا ئے گا کہ جب تک مادہ نہ ہو کچھ پیدا ہی نہ کر سکے ! حالانکہ خدا ے تعالیٰ کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ کسی چیز کا محتاج ہو ۔
اور اگر مادۂ علم پہلے ہی سے موجود ہواور کسی کا بنایا ہوا نہ ہوتو اس کو ہی خدا کہنا پڑے گا ،کیونکہ خدا کے معنی ہی یہ ہیں کہ خود بخود جود ہو گیا ہو کسی نے اس کو پیدا نہ کیا ہو ، جیسا کہ ’’خدا‘‘لفظی ترکیب بھی یہی بتا رہی ہے کہ خدا کی اصل ’’خودآ ‘‘تھی ۔اب اگر یہ مان لیا جائے کہ مادہ قدیم ہے اور وہ ہی خدا ہے تو پھر ذات باری تعالیٰ کے ماننے کی ضرورت ہی نہ رہے گی کیونکہ عالم کے لئے ایک خدا کا فی ہے ۔
چنانچہ مادہ پرست دہریے یہی کہتے ہیں کہ تخلیق عالم کے لئے مادہ کافی ہے خدا کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ خیال ان کو اس لئے پیدا ہوا کہ ہم جس چیزکو بنا تے ہیں اس کاکچھ نہ کچھ مادہ ضرور ہو تا ہے ،ایک ہانڈی بنا ئی جا تی ہے تواس کے لئے پیشتر سے مٹی کی صرورت ہوتی ہے ، اور ایک صندوق بنا یا جا ئے توپہلے لکڑی کی ضرورت ہو تی ہے،غرض ہماری مصنوعات میں کوئی چیز ایسی نہیں مل سکتی جس کا کچھ نہ کچھ مادہ موجود ہو ،جب ہمیں کچھ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے توپہلے مادہ کو فراہم کر نے کا خیال ہو تا ہے ،اس سے انھو ںنے یہ خیال گھڑا لیا کہ جو چیز پیدا ہوگی اس کا کچھ نہ کچھ مادہ ضرور ہوگا !مگر افسوس انھیں یہ نہ سوجھا کہ آخر مادہ بھی ایک چیزہے اس کاکیا مادہ ہوگا ؟!اگر اس خیال کو وہ مستحکم کرتے اور خوب غور کر تے تو ضرور ان کو ماننا پڑتا کہ ہر چیز کو مادہ کی ضرورت نہیں ہے ، صرف مادیات محتاج مادہ ہیں ۔
بہر حال اپنی مصنوعات پرقیاس کرکے یہ حکم لگادینا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو بغیرہ مادہ کے بنی ہے اس لئے عالم کا ایک مادۂ اولیٰ ہونا ضروری ہے ، ایک بے اصل حکم اور قیاس مع الفارق ہے ۔اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ وہ مادہ کیا چیز ہے ؟اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تونہ اس کی حقیقت بتلا سکتے ہیں نہ کوئی چیز دکھلا سکتے ہیں ،بجز اس کے کہ ایک فرض کردہ خیالی چیز کی تعریف کردیں ،اور کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ چنانچہ کوئی کہتاہے کہ وہ ایک جوہر بسیط ہے جو اپنے ظہور میں صورت کا محتاج ہے ،او ر کسی کا قول ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے سخت اجزاء ہیں جو ٹوٹتے پھوٹتے نہیں ۔
اب یہاں غور کیجئے کہ ابتدائی تقریر ایسی چیز سے شروع ہو ئی تھی جو محسوس ہے ، مثلاً ہانڈی کے لئے مٹی اور صندوق کے لئے لکڑی ،اور انتہا ء اس چیزپرہوئی جو کسی طرح محسوس ہی نہیں ہوسکتی اور خود ماد یین اس کے محسوس کر وانے سے عاجز ہیں،اورپھر باہم ان میں ا س کے متلعق ایسی نزاع واقع ہو ئی ہے کہ کوئی فرقہ اپنے دعویٰ کو ثابت نہ کرسکا جس سے دوسرا فرقہ ساکت ہو جائے ۔ با وجود ا س کے ہمارے بعض احباب ان کے اقوال کی ایسی تصدیق کر تے ہیں کہ گویا ایمان لا تے ہیں !اور ان خیالی باتوں کے مقابلہ میں خدا و رسول کے فرمان واجب الاذعان کو کہ حق تعالیٰ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے ا س کو ’’کن ‘‘ سے مخاطب کرتا ہے اور وہ چیز فوراً بلا تاخیر وجود میں آجا تی ہے ، ہرگز پرواہ نہیں کرتے !اور ان مادییٖن کی تقلید سے ایک ایسی چیز کے قائل ہو رہے ہیں جس کو نہ دیکھا ہے اورنہ دکھلا سکتے ہیں ۔ جب مسلمان کہلا تے ہیں تو تم ازکم اتنا تو ہوتا کہ مادیین کی ان باتوں کو جن کا ثبوت خودان کے نزدیک نہیں ہے نہ مانتے اور خدا کی بات کوجس کے صادق القول ہونے پر بوجہ مسلمان کہلانے کے ایمان رکھنا چاہئے مان لیتے !مگر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان کے نزدیک اتنی بھی وقعت نہیں ہے کہ اس کی بات کو ان بے اصل مخدوش اور خیالی باتوں پرترجیح دیں !!
نییجریہ یعنی فرقہ دہر یہ پر مسئلہ کادہ کا اس قدر اثر ہو ا کہ اس مسئلہ کی ابتداء جہاں سے ہوئی تھی اس کو وہ سرے بھول ہی گئے ،اس لئے کہ ابتداء تویوں ہوئی تھی کہ اگرہم کسی چیز کو بنانا چاہتے ہیں توپہلے مادہ کی ہمیں ضرورت پڑتی ہے ،جب مادہ مل جا تا ہے تو اپنی فکر و تدبیر سے اس میں تصرف کرکے ایک نئی چیز بنا لیتے ہیں جو پہلے نہ تھی ۔ یہاں سے یہ بات اچھی طرح واضع ہوجا تی ہے کہ مادہ نہ اپنی ذات سے کوئی کام کر سکتا ہے نہ اس کو عقل و شعور ہے ،با وجود اس کے انھوں نے یہ مان لیا کہ بنا نے والے کی کوئی ضرورت نہیں صرف مادہ ہی سب کچھ کر لیتا ہے ،مادہ جمع ہوکر زمین بن گئی ،پانی بن گیا ، ہو ا ہوگئی ، آگ بن گئی ، جما دات حیوانات اور تمام کائنات خودبخود بن گئی،اورہزاروں سینکڑوں چیزیں بنتی جا تی ہیں !!اگر اہل اسلام قرآن و حدیث کی کوئی بات ان سے کہتے ہیں جو ان کی معمولی عقلوں میں نہیں آتی تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم جب تک مشاہدہ کر لیں گے ایسی باتوں پر ایمان نہ لائیںگے۔ اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اس عالم کی روز مرہ کی وہ چیزیں جن کوہم استعمال کر تے ہیں اور اپنی قوت صنعت وحرفت سے نئی نئی وضع کی تیار کرتے ہیں آیا خوبخود بن جا تی ہیں ؟ او رکوئی مصنوع ایسا بھی ممکن ہے جو بغیر کسی کے بنائے بن جا تا ہو ؟ ایسا ہر گز ہو نہیں سکتا ۔
جب ادنیٰ ادنی ٰ چیزوں کا یہ حال ہے تو کائنات کی بڑی مخلوقات کیونکر خود بخود بن گئی ہوں گی ؟ !مشاہدہ کے خلاف ان کی عقلوں نے کس طرح تسلیم کرلیا کہ تمام عالم خودبخود بغیر کسی خالق علیم و حکیم کے بن گیا ہے ؟! اس کی مثال بعینم ایسی ہے جیسے دیہاتی بیوقوف نے برقی روشنی کے ہزار چراغوں کو خود بخود روشن ہو تے دیکھا اور روشن کرنے والا اس کو نظر نہ آیا تواس کے سادہ ذہن نے یہ نتیجہ نکالا کہ جب رات ہوتی ہے تو یہ سب چراغ خودبخود روشن ہو جا تے ہیں !اب اس سے ہزار کہئے کہ بھائی یہ برق روشنی ہے تم برق کی قوتوں او کرشموں سے ناواقف ہو یہ سب چراغ برقی قوت سے روشن ہو تے ہیں اور ایک شخص ان کو روشن کرنے والا ہوتا ہے جوایک خفیف سی حرکت سے سب کو آن واحد میں روشن کر دیتا ہے ،مگر اس سادہ لوح کے دہن میں یہ بات نہ آئے گی اور وہ ہرگز با ور نہ کرے گا بلکہ یہی کہے جا گا کہ : اگریہ بجلی ہے تو اس کی گرج کہاں ہے ،ہم نے توکبھی نہیں دیکھا کہ بجلی چمکے او راس کی گرج نہ ہو !اگر دوری کی وجہ سے اس کی آواز نہ سنی جا ئے تویہ بات اورہے مگر جہاں چمکتی ہے وہاں تو آواز ضرور ہو تی ہے ،پھر اگر یہ بجلی ہے تواس کی روشنی پورے تار میں کیوں نہیں ہوتی اوروہ تار گرم کیوں نہیں ہوتا ؟ اور چراغ کی طرح وہ بھی روشن کیوں نہیں نظر آتا ؟ اورجن لکڑیوں سے وہ متعلق ہے وہ کیوں نہیں جل جا تیں ؟۔ کیا اس احمق کی یہ دلائل عقلمند وں کے نزدیک قابل القات ہوسکتی ہیں !! ہر گز نہیں عقل والے یہی سمجھیں گے کہ وہ بے وقوف معذور ہے ، اس کی کمزوری عقل اس قابل نہیں کہ مسئلہ برق سمجھ سکے ۔مگر عقلاء فوراً مان جائیں گے اور بحسب مدارج عقل برق کی طاقتوں اور کرشموں کے قائل ہو جائیں گے،اور کم ازکم اتنا تو ضرور کہیں گے کہ :گو ہمیں اس کی حقیقت معلوم نہ ہو اور کس قسم کی حرکت سے وہ روشنی ہو تی ہے اس حرکت میں او رروشنی میں کیا مناسبت ہے گوہم نہ سمجھ سکتے ہوں ،مگرہم یہ ضرور کہیں گے کہ کوئی شخص ضرور ہے جو ایک خاص قسم کی صنعت اورحرکت سے ان تمام چراغوں کو روشن کیا کر تا ہے ۔یعنی مُحرِّک اور منور کے وجود کے وہ ضرور قائل ہو جائیں گے ۔
اہل ایمان بھی سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس جنگلی کی سمجھ قاصر ہے اور سمجھ نہیں سکتا کہ صرف ایک حرکت سے ہزاروں چراغ کیونکر روشن ہوجا تے ہیں ؟اسی طرح ہماری سمجھ اس بات سے قاصر ہے کہ خدا وند تعالیٰ ایک لفظ ’’کن‘‘ سے تمام مخلوقات کو کیونکر پیدا کر دیتا ہے ،اور جس طرح عقلاء تسلیم کرلیتے ہیں کہ ایک ادنیٰ حرکت سے ہزاروں چراغو ںکا آن واحد میں روشن ہو جا نا کوئی خلاف عقل با ت نہیں ،اسی طرح وہ عقلاء جن کودین کی عقل ہے اورہمیشہ قرآن و حدیث کے مضامین میں غور وفکر کر تے رہتے ہیں ان کو صاف طورپر معلوم ہوجا تا ہے کہ بیشک جس چیز کو حق تعالیٰ پیدا کر نا چاہتا ہے ایک امر ’’کن‘‘سے پیدا کر دیتا ہے ،یعنی اس کو ارشاد ہو تا ہے کہ ’’ہوجا ‘‘ وہ فوراً ہو جا تی ہے ۔ان کواس بات کا عقل سے بھی یقین حاصل ہو تا ہے کہ جس طرح خدا وند تعالیٰ کاوجود کسی کا محتاج نہیں خودبخود اس کا وجود ہے ۔ اسی طرح وہ اپنے افعال میں بھی کسی کامحتاج نہیں ہے ،اس کو نہ مادہ کی ضرورت ہے نہ آلات واوزار سے مدلینے کی ۔
اگر ایسا نہ ہوتو پھر بندہ اور خالق میں فرق ہی کیا ہوا ؟!بندہ بھی خیر مادہ کے کوئی چیز بنانہیں سکتا اور خالق بھی بغیر مادہ کے نہ بنا سکا !خالق کے افعال کو بندوں کے افعال پر قیاس کرنا خالق کی بے قدری کرنی ہے ، وما قدر وا اللہ حق قدرہ ۔
اگربرقی روشنی میں کامل طورپر فکر کی جائے توبہت سے دینی مسائل کا کامل ثبوت مل سکتا ہے ،بشرطیکہ ایمانی نظر سے دیکھیں ۔
اگر حق تعالیٰ توفیق دے تو کسی مقام میں اس سے متعلق اور بھی کچھ لکھا جائے گا ۔حق تعالیٰ ہمیں ایمانی نظر عطاء فرمائے تاکہ ہر چیز سے فائدہ ٔاخر وی اور دنیوی حاصل کرسکیں ۔
نسأ ل اللّٰہ التوفیق

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!