دُرود شریف کی اہمیت افادیت عظمت

دُرود شریف کی اہمیت افادیت عظمت

Advertisement

(۱)’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَاحِدَۃً صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَہُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ‘‘ ۔ (1)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا خدائے تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا اورا س کے دس گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اور دس درجے بلند فرمائے گا۔ (نسائی)
صَلَّی اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللَّہ
(۲)’’ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْلَی النَّاسِ بِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً ‘‘۔ (2)
حضرت ابنِ مسعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہے ۔ (ترمذی)
أَللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّم
(۳)’’عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أُکْثِرُ الصَّلَاۃَ عَلَیْکَ فَکَمْ أَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَاتِی فَقَالَ مَا شِئْتَ قَالَ قُلْتُ الرُّبُعَ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکََ قُلْتُ فَالثُّلُثَیْنِ قَالَ مَا شِئْتَ
حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود پڑھنا چاہتا ہوں اب اس کے لیے اپنے اوراد و وظائف کے اوقات میں سے کتنا وقت مقرر کروں؟ فرمایا جتنا تم چاہو ؟ عرض کیا چوتھائی؟فرمایا جتناتم چاہو اور اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لیے اور

فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ قُلْتُ أَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِی کُلَّہَا قَالَ إِذًا یکْفِی ہَمَّکَ وَیُکَفَّرُلَکَ ذَنْبُکَ‘‘۔ (1)
بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا نصف ؟ فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اس سے بھی زیادہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا دو تہائی؟ فرمایا جتنا تم چاہو اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لیے اور بہتر ہے میں نے عرض کیا تو پھر سارا وقت درود ہی کے لیے مقرر کرلوں؟ فرمایا ایسا ہو تو وہ تمہارے سارے اُمور کے لیے کافی ہوگا اور تمہارا گناہ معاف کردیاجائے گا۔ (ترمذی)
صَلَّی اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللَّہ
(۴)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ‘‘ ۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ۔ (ترمذی)
أَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا و َمَوْلنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ سَیِّدَنَا وَمَوْلنَا مُحَمَّدٍ
مَعْدنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَأَصْحَابِہ وَبَارِکَ وَسَلّم
(۵)’’ عَنْ عَلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَخِیلُ الَّذِی مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ‘‘ ۔ (3)
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اصل میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ۔ (ترمذی)
صَلَّی اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللَّہ

f ’’ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّ الدُّعَاءحضرت عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ
مَوْقُوفٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتَّی تُصَلِّیَ عَلَی نَبِیِّکَ‘‘ ۔ (1)
دعا آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اس میں سے کچھ اوپر نہیں چڑھتا جب تک کہ تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے ۔ (ترمذی)
أَللَّہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمِ وَبَارِکْ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وآلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ

انتباہ:

(۱)… اکثر لوگ آج کل درود شریف کے بدلے صلعم ، عم ، ص ، ع لکھتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے ۔ اور اگر معاذ اللہ استخفافِ شان کا قصد ہو تو قطعا کفر ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام اور اولیائے عظام ر ضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی جگہ رض لکھنا مکروہ و باعث محرومی ہے ۔ (2) (فتاوی افریقہ ، بہار شریعت)
(۱)…جن کے نام محمد ، احمد، علی ، حسن، حسین وغیرہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ان ناموں پر ص، ع بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے ۔ اس لیے کہ اس جگہ تو یہ شخص مر اد ہے اس پر درود کا اشارہ کیا معنی؟
٭…٭…٭…٭

دُرود گنج عاشقاں

صَلَّی اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللَّہ
جو شخص حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے سچی محبت رکھے ، تمام جہان سے زیادہ حضور کی عظمت دل میں جمائے ، حضور کی شان گھٹانے والوں سے بیزار اور ان سے دوررہے ، وہ اگر اس درود شریف کو بعد نماز جمعہ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کرکے دست بستہ کھڑے ہو کر سو بار پڑھے تو اس کے لیے بے شمار فائدے ہیں جن میں سے بعض یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ اس درود شریف کے پڑھنے والے پر خدائے تعالیٰ تین ہزار رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اس پر دو ہزار اپنا سلام بھیجے گا۔ پانچ ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا۔ اس کے مال میں ترقی دے گا۔ اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت رکھے گا۔ دشمنوں پر غلبہ دے گا۔ کسی دن خواب میں سرکار اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت سے مشرف ہوگا۔ ایمان پر خاتمہ ہوگا قیامت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شفاعت واجب ہوگی اللہ تعالیٰ اس سے ایسا راضی ہوگا کہ کبھی ناراض نہ ہوگا۔
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!