ایک خائفہ کا خوف ِخدا عَزَّوَجَلَّ :

ایک خائفہ کا خوف ِخدا عَزَّوَجَلَّ :

Advertisement

منقول ہے کہ ایک عورت کعبۃ اللہ شریف زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا کے پاس رہتی تھی، جس کا نام حکیمہ تھا۔جب کعبہ مشرَّفہ زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا کے دروازے کو کھلتا ہوا دیکھتی تو زور دار چیخ مار کر بے ہوش ہو جاتی۔ایک دن اس کی عدم موجودگی میں دروازہ کھولا گیا۔ جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا: ”اے حکیمہ! آج (تیری عدم موجودگی میں) بیت اللہ شریف کا دروازہ کھولا گیا،اگر توطواف کرنے والوں کو حالتِ احرام میں تلبیہ (لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ) کہتے ہوئے دیکھ لیتی تو تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتیں۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا دل شوق سے زخمی تھا اور وہ اپنے رب کی طرف سے رحمت و مغفرت کا انتظار کر تے ہوئے عاجزی و انکساری سے گریہ کناں تھے۔” یہ سنتے ہی اس نے ایسی چیخ ماری جس سے دِل گھبرا جائیں،اورپھر کچھ دیر تڑپتی رہی یہاں تک کہ اس افسوس میں اس نے اپنی جان قربان کردی کہ وہ اپنا مطلوب نہ پا سکی اور نیک بندوں کے گروہ میں کعبہ مشرَّفہ زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا کی زیارت نہ کر سکی اور دُنیا میں کوئی چیزاس کے لئے اس نعمت کا عوض یا بدلہ نہ بنائی گئی لہٰذا ا س نے اپنی جان قربان کر دی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!