Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیطان کوکمزور کرنے والے لوگ

حکایت نمبر401: شیطان کوکمزور کرنے والے لوگ

حضرتِ سیِّدُنا حسین بن محمدسَرَّاج علیہ رحمۃ اللہ الوھاب سے منقول ہے: ” میں نے حضرتِ سیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کو یہ فرماتے سُنا: ” ایک مرتبہ میں نے خواب میں ابلیسِ لعین کو بالکل برہنہ دیکھاتو اس بے شرم سے کہا :” کیا تجھے لوگوں سے

حیاء نہیں آتی؟” شیطان نے کہا:”بخدا! یہ جو آپ کے نزدیک انسان موجود ہیں یہ انسان کہا ں؟ اگر یہ انسان ہوتے تو میں ان سے اس طرح نہ کھیلتا جس طرح بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔ انسان ایسے نہیں ہوتے ۔” میں نے کہا :”توکن لوگوں کو انسان سمجھتا ہے؟” بولا:” وہ جو مسجدِ شُونِیْزِی میں ہیں، انہوں نے میرے دل کو غم میں مبتلا کررکھا ہے اور میرے جسم کو انتہائی کمزور کر دیا ہے۔ میں جب بھی انہیں بہکانے کا ارادہ کرتا ہوں وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرتے ہیں اور میں جلنے لگتا ہوں۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میری آنکھ کھلی توابھی کافی رات باقی تھی۔ میں فوراً لباس تبدیل کرکےمسجدِ شُونِیْزِی پہنچا تو وہاں تین آدمیوں کو سر پر چادر ڈالے مسجد کے صحن میں بیٹھے دیکھا۔جب انہوں نے محسوس کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا ہوں تو ایک نے اپنا سر چادر سے باہر نکالا اور فرمایا:” اے ابوالقاسم! توو ہی ہے کہ جب بھی تجھ سے کوئی بات کہی جائے تواسے قبول کرلیتا ہے۔”
حضرتِ ابنِ جَہْضَم فرماتے ہیں :مجھے ابو عبداللہ بن جبَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے بتایا کہ تین شخص جو ”مسجدِ شُونِیْزِی” میں تھے، وہ ابو حمزہ ، ابوالحسین ثَوْرِی اور ابوبَکْردَقَّاق علیہم رحمۃاللہ الرزّاق تھے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!