قضائے مبرم حقیقی قضائے معلّق محض: قضائے معلق شبیہ بہ مبرم:

قضائے مبرم حقیقی:

Advertisement

وہ قضاہے کہ علمِ الہٰی میں بھی کسی چیز پر معلق نہیں۔ اس قضا کی تبدیلی ناممکن ہے اولیاء کی اس قضا تک رسائی نہیں بلکہ انبیائے کرام ورُسل عظام بھی اگر اتفاقاًاس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہیں تو انہیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب روکنے کے لیے بہت کوشش فرمائی یہاں تک کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا:
{ یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)} (پارہ ۱۲ رکوع ۷)
یعنی ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے ۔
لیکن چونکہ قوم لوط پر عذاب ہونا قضائے مبرم حقیقی تھا اس لیے حکم ہوا :
{ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)}(پارہ ۱۲ رکوع ۷)
یعنی اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو بے شک تیرے رب کا حکم آچکا اور بے شک ان پر عذاب آئے گا۔ پھیرا نہ جائے گا۔

قضائے معلّق محض:

و ہ قضا ہے کہ فرشتوں کے صحیفوں میں کسی چیز مثلاً صدقہ یا دَوا وغیرہ پر معلق ہونا ظاہر کردیا گیا ہو۔ اس قضا تک اکثر اولیائے کرام کی رسائی ہوتی ہے ان کی دعا اور توجہ سے یہ قضا ٹل جاتی ہے ۔

قضائے معلق شبیہ بہ مبرم:

وہ قضا ہے کہ علم الہٰی میں وہ کسی چیز پر معلق ہے لیکن فرشتوں کے صحیفوں میں اس کا معلق ہونا مذکور نہیں۔ اس قضا تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے ۔ حضرت سیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں قضائے مبرم کررد کردیتا ہوں اور اسی قضا کے بارے میں حدیث شریف میں ارشاد ہوا کہ:
’’ إِنَّ الدُّعَاء یَرُدُّ الْقضَاءبَعْدَ مَا أُبْرِ مَ ‘‘ یعنی بے شک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔
(۴)… قضا و قدر کے مسائل عام لوگ نہیں سمجھ سکتے اس میں زیادہ غور و فکر کرنا دین و ایمان کے تباہ ہونے کا سبب ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو پھر ہم لوگ کس گنتی میں ہیں۔ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پتھر اور دیگر جمادات کے مثل بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا بلکہ اس کو ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ بھلے بُرے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کردیئے کہ جب آدمی کوئی کام کرنا چاہتاہے تو اسی قسم کے سامان مہیا ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پر مواخذہ ہے اپنے کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔ (1) (بہار شریعت)
٭…٭…٭…٭

________________________________
1 – ’’ بہار شریعت ‘‘، ج۱، ص ۱۸.

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!