Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اِمالہ کا بیان

لغوی معنیٰ : مائل کرنا۔
اصطلاحی معنٰی: زبر کو زیر کی طرف اورالف کو یا کی طرف مائل کرکے پڑھنا۔
    روایتِ حفص میں سارے قرآن مجید میں صرف ایک جگہ لفظ مَجْرِیْھَا میں امالہ ہوا ہے یہ اصل میں مَجْرٰھَا تھا ۔الف کو یا کی طرف مائل کیاتو مَجْرَیْھَا بن گیا پھر زبر کو زیر کی طرف مائل کیا تو مَجْرِیْھَا (مَجْرٖھا ) بن گیا ۔
    مَجْرَیْھَا امالہ صغرٰی اورمَجْرِیْھَا امالہ کبرٰی ہے ۔
    روایتِ حفص میں اِمالہ کبرٰی ہی ہوتاہے ۔
نوٹ : اِمالہ کی را کو قطرے کی را کی طر ح پڑھتے ہیں ۔اِمالہ صغرٰی میں آواز کا جھکاؤ زبر اورالف کے قریب ہوتاہے اوراِمالہ کبرٰی میں آواز کا جھکاؤ زیر اوریا کے قریب ہوتاہے جو کہ ماہر اُستاد پڑھ کر فرق بتاسکتاہے۔
سوالات سبق نمبر ۱۹
۱۔    روایت حفص کے مطابق قرآن پاک میں اِمالہ کتنے مقامات پر ہے اوروہ 
    کون کون سے مقامات ہیں نشاندہی فرمائیں۔
۲۔    اِمالہ کے لغوی معنٰی اوراصطلاحی معنٰی کی مثال دے کر وضاحت فرمائیں۔
۳۔    اِمالہ صغرٰی اوراِمالہ کبرٰی سے کیا مراد ہے ؟
error: Content is protected !!