Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

موت کیا ہے؟

موت کیا ہے؟

(۱)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ لذتوں کو ختم کردینے والی چیز ( موت) کو اکثر و بیشتر یاد کرو۔ (ترمذی، نسائی)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’باب تمنی الموت و ذکرہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:
ذکر موت کنایت ست از خوف وخشیت حق وعمل بمقتضائے آں وتوبہ واستغفار وتقدیم وترجیح نفع درآخرت والا ذکر موت و یاد داشتن آں بے عمل چیزے نیست بلکہ تواند کہ سبب قساوت قلب گردد چنانکہ ذکر حق سبحانہ و تعالی بہ غفلت ۔ (2)(اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص۶۵۳)
یعنی موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف و خشیت ہو اور اسی کے حکم کے مطابق عمل ہو نیز توبہ و استغفار کرے ۔ اور آخرت کے نفع کو ( دنیا کے نفع پر) مقدم رکھے اور ترجیح دے ۔ ورنہ بغیر عمل کے صرف موت کا چرچا کرنا اور اس کو یاد رکھنا کوئی چیز نہیں ہے بلکہ (ایسا کرنا) دل کی قساوت اور سختی کا سبب ہو سکتا ہے ۔ جیسے کہ غفلت اور بے عملی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کو( صرف زبانی طور پر) یاد کرنا ( قساوت قلبی کا سبب ہے )
(۲)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَمَنَّی أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہُ أَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَإِمَّا مُسِیئًا فَلَعَلَّہُ یَسْتَعْتِبُ‘‘ ۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ تم میں کوئی موت کی آرزو نہ کرے ( اس لیے کہ) وہ یا تو نیکو کار ہوگا تو ممکن ہے اس کے نیک عمل میں زیادتی ہوجائے اور یا بدکار
ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ آئندہ تو بہ کرکے خدائے تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرلے ۔ (بخاری شریف)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ:
آر زوئے مرگ بجہت ضرر دنیا مانند مرض یا فقر یا مانندآں مکروہ است زیرا کہ آں علامت بے صبری وبستوہ آمدن از تقدیر الہی و ناراض بودن از آں است اما از جہت محبت وشوق بلقائے الہی تعالی وخلاص از تنگنائے ایں سرائے ومحنت آن ووصول بملک آخرت ونعیم آن نشان ایمان وکمال اوست و ہمچنیں مکروہ نیست از جہت خوف ضرر دینی۔ (1)
یعنی دنیوی نقصان جیسے بیماری یا غریبی وغیرہ کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے اس لیے کہ یہ بے صبری او ر تقدیری الہٰی سے ملال وناراضگی کی نشانی ہے لیکن خدائے تعالیٰ کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا کرنا نیز اس دنیا کی تنگی اور پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور ملک آخرت اور جنت میں پہنچنے کے لئے موت کی آرزو کرنا ایمان اور اس کے کمال کی نشانی ہے ۔ اسی طرح دینی ضرر کے خوف سے موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص ۶۵۳)
(۳)’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی شَابٍّ وَہُوَ فِی الْمَوْتِ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدُکَ قَالَ أَرْجُو اللَّہَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاِنِّی أَخَافُ ذُنُوبِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَجْتَمِعَانِ فِی قَلْبِ عَبْدٍ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاہُ اللَّہُ مَا یَرْجُو وَآمَنَہُ مِمَّا یَخَافُ‘‘(2)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم ایک جوان کے پاس تشریف لے گئے جو قریب المرگ تھا۔ حضور نے اس سے فرمایا کہ تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے ؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ میں خدائے تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں حضور نے فرمایا یہ دونوں ( یعنی خوف ورجا) اس موقع پر

جس بندہ کے دل میں ہوں گے ۔ خدائے تعالیٰ اسے وہ چیز دے گا جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھے گا جس سے وہ ڈرتا ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ، مشکوۃ)
(۴)’’ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اقْرَء ُوا سُوْرَۃَ یس عَلَی مَوْتَاکُمْ‘‘۔ (1)
حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ اپنے مرنے والوں کے قریب سورہ ٔ یس شریف پڑھو۔ (احمد، ابوداود)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ :
ظاہر آنست کہ مراد مختصر باشد وعمل نیز ہم بریں ست واحتمال دارد کہ مراد بعد از موت درخانہ یا برسرِ قبر۔ (2)
یعنی ظاہر مراد یہ ہے کہ موت کے وقت سورۂ یس پڑھی جائے اور اسی پر عمل بھی ہے ۔ اور ہوسکتا ہے یہ مراد ہو کہ موت کے بعد گھر میں پڑھی جائے یا قبر کے سرہانے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص ۲۶۲)
(۵)’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ‘‘۔ (3)
حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ حضور علیہ ا لصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اپنے مرنے والوں کو کلمہ طیبہ کی تلقین کر و۔ (مسلم)
تلقین کی صورت یہ ہے کہ موت کے وقت حاضرین بلند آواز سے کلمۂ طیبہ پڑھیں لیکن مرنے والے کو اس کے پڑھنے کا حکم نہ کریں۔

٭…٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!