Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مردِ قلندر کی ا یمان افروز تقریر

حکایت نمبر240: مردِ قلندر کی ا یمان افروز تقریر

حضرتِ سیِّدُناعِکْرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ” روم کی جنگ میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ صحابئ رسول حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی قید کرلیا گیا۔ رومی سردار نے تمام مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایااور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:” نصرانی ہوجاؤ، ورنہ

میں تمہیں تانبے کی دیگ میں ڈال کر جلادوں گا۔” یہ سن کر صحابئ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جرأت مندانہ جواب دیا: ” ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا، میں کبھی بھی نصرانی نہیں بنوں گا۔” ظالم سردار نے جب یہ سنا تو تانبے کی دیگ منگواکر اس میں تیل ڈلوایا، پھر اس کے نیچے آگ جلانے کا حکم دیا۔ جب تیل خوب گرم ہوکراُبلنے لگا تو ایک مسلمان قیدی کو بلاکرکہا:” نصرانی ہوجاؤ، اس مردِ مجاہدنے انکار کیا تو اسے اُبلتے ہوئے تیل میں ڈلوادیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کا سارا گوشت جل گیا اور ہڈیاں اوپر تیرنے لگیں۔”
پھر حضر ت سیِّدُنا عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا: ”عیسائی ہوجاؤ، ورنہ اس شخص کی طرح تمہیں بھی اس اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا جائے گا۔ صحابئ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صاف انکار کردیا۔ ظالم سردار نے حکم دیا کہ اسے بھی تیل کی دیگ میں ڈال دو۔ حکم پاتے ہی جلاد وں نے آپ کو پکڑااوراُبلتے ہوئے تیل میں ڈالنے کے لئے لے چلے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اچانک رونا شروع کردیا۔جلاد ،ظالم سردار کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ قیدی رو رہا ہے ۔سردار بہت خوش ہوا اور حکم دیا کہ اسے ہمارے پاس لے آؤ۔ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موت کے ڈر سے اس کی بات ماننے کے لئے تیارہو گئے ہیں ۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے سامنے آئے تو فرمایا:”کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے ہوکہ میں موت کے خوف سے رو رہا ہوں۔خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں موت کے خوف سے نہیں بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میرے جسم میں صرف ایک جان ہے جو میں دینِ اسلام کے لئے قربان کر رہاہوں ۔مجھے تو یہ پسند تھا کہ میرے جسم میں اگر سوجانیں ہوتیں توایک ایک کر کے سب کواللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر قربان کردیتا۔”
؎ یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں ترے نام پہ سب کو وارا کروں میں
سردار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ ایمان افروز تقریر سن کر بہت متعجب ہوا کہ اس مردِ قلند کے اندر اپنے دِین کی کتنی محبت ہے اوریہ خوشی سے دِین کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے ۔ سردار نے لالچ دیتے ہوئے کہا :” اگر تم نصرانی ہوجاؤ تو میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کردوں گا اور حکومت میں بھی تمہیں حصہ دوں گا۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی یہ پیش کش بھی ٹھکرا دی اورصاف انکار کردیا۔پھر اس نے کہا:”اچھا اس طرح کرو کہ تم میرے سرپر بوسہ دو اگر تم یہ کروگے تو میں تمہیں بھی آزاد کر دوں گا اورتمہارے ساتھ تمہارے اسّی(80) مسلمان قیدیوں کو بھی آزاد کردوں گا ۔”
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” اگر واقعی تم ایسا کروگے تو میں تمہارے سر کو بوسہ دینے کے لئے تیار ہوں ۔” سردار نے یقین دہانی کرائی کہ میں اپنی بات ضرور پوری کروں گا ۔ چنانچہ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر اس ظالم کے سر کا بوسہ لیا۔سردار نے حسب ِوعدہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور اسّی مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیا۔
جب یہ تمام مجاہدین امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں پہنچے تو امیر المؤمنین آپ رضی

اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کا بوسہ لیااوربہت خوش ہوئے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!