گستاخِ صحابہ علیہم الرضوان کا عبرتناک انجام

گستاخِ صحابہ علیہم الرضوان کا عبرتناک انجام

Advertisement

حضرت سیدناخلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم فرماتے ہیں، مجھے حضرت سیدناابوالحصیب بشیر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بتایا کہ میں تجارت کیا کرتا تھا اور اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے کافی مال دار تھا۔ مجھے ہر طر ح کی آسائشیں میسر تھیں اور میں اکثر ایران کے شہروں میں رہا کرتا تھا ۔

ایک مرتبہ میرے ایک مزدور نے مجھے خبر دی کہ فلاں مسافر خانے میں ایک شخص مرگیا ہے، وہاں اس کا کوئی بھی وارث نہیں، اب اس کی لاش بے گور وکفن پڑی ہے۔” جب میں نے یہ سنا تو میں مسافر خانے پہنچا، وہاں میں نے ایک شخص کو مردہ حالت میں پایا،اس کے پیٹ پر کچی اینٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک چادر اس پر ڈال دی، اس کے پاس اس کے کچھ ساتھی بھی تھے ۔ انہوں نے مجھے بتایا:” یہ شخص بہت عبادت گزار اور نیک تھا لیکن آج اسے کفن بھی میسر نہیں اور ہمارے پاس اِتنی رقم بھی نہیں کہ اس کی تجہیز و تکفین کر سکیں ۔” جب میں نے یہ سنا تواُجرت دے کر ایک شخص کو کفن لینے کے لئے اورایک کو قبر کھودنے کے لئے بھیجا اور ہم اس کے لئے کچی اِینٹیں تیار کرنے لگے پھر میں نے پانی گرم کیا تاکہ اسے غسل دیں۔ ابھی ہم لوگ انہیں کا موں میں مشغول تھے کہ یکایک وہ مردہ اُٹھ بیٹھا، اینٹیں اس کے پیٹ سے گر گئیں پھروہ بڑی بھیانک آواز میں چیخنے لگا:ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی! جب اس کے ساتھیوں نے یہ خوفناک منظر دیکھا تو وہ وہاں سے بھاگ گئے۔ میں اس کے قریب گیااور اس کا بازو پکڑ کر ہلایا۔ پھر اس سے پوچھا: ”تُو کون ہے اور تیرا کیا معاملہ ہے؟ ”
وہ کہنے لگا:” میں کوفہ کارہائشی تھا اور بد قسمتی سے مجھے ایسے برے لوگوں کی صحبت ملی جو حضرات سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیا کرتے تھے ۔ان کی صحبتِ بد کی وجہ سے میں بھی ان کے ساتھ مل کر شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دیاکرتا او ران سے نفرت کرتا تھا ۔
سیدنا ابوالخصیب علیہ رحمۃ اللہ اللطیففرماتے ہیں، میں نے اس کی یہ بات سن کر اِستغفار پڑھا اور کہا:” اے بد بخت !پھر تو تجھے سخت سزا ملنی چا ہے اور تُومرنے کے بعد زندہ کیسے ہوگیا ؟” تو اُس نے جواب دیا: ”میرے نیک اعمال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی گستاخی کی وجہ سے مجھے مرنے کے بعد گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایاگیا اور وہاں مجھے میرا ٹھکانا دکھایا گیا،وہاں کی آگ بہت بھڑک رہی تھی۔
پھر مجھ سے کہا گیا : ”عنقریب تجھے دو بارہ زندہ کیا جائے گا تا کہ تُو اپنے بد عقیدہ ساتھیوں کو اپنے درد ناک انجام کی خبر دے اور انہیں بتائے کہ جو کوئی اللہ عزوجل کے نیک بندوں سے دشمنی رکھتا ہے اس کا آخرت میں کیسا درد ناک انجام ہوتا ہے ، جب تُو ان کو اپنے بارے میں بتا دے گا توپھر دو بارہ تجھے تیرے اصلی ٹھکا نے (یعنی جہنم ) میں ڈال دیا جائے گا۔”
یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تا کہ میری اس حالت سے گستاخانِ صحابہ کرام علیہم الرضوان عبرت حاصل کریں اور اپنی گستا خیوں سے باز آجائیں ورنہ جو کوئی ان حضرات کی شان میں گستاخی کریگا اس کا انجام بھی میری طر ح ہوگا۔”
اِتناکہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مردہ حالت میں ہوگیا ۔میں نے بھی اوردیگر لوگو ں نے بھی اس کی یہ عبرتناک باتیں

سنیں، اتنی ہی دیر میں مزدور کفن خرید لایا، میں نے وہ کفن لیا اور کہا:” میں ایسے بدنصیب شخص کی ہر گز تجہیز وتکفین نہیں کرو ں گا جو شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کاگستا خ ہو، تم اپنے ساتھی کو سنبھالو میں اس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔”
اِس کے بعد میں وہاں سے واپس چلا آیا پھر مجھے بتا یا گیا کہ اس کے بدعقیدہ ساتھیوں نے ہی اسے غسل و کفن دیا اور ان چند بندوں ہی نے اس کی نماز جنازہ پڑھی،ان کے علاوہ کسی نے بھی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی، اس کے بدعقیدہ ساتھیوں کی بدبختی دیکھو کہ وہ پھر بھی لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے ہمارے ساتھی کی نماز جنازہ میں شرکت کیوں نہیں کی؟
حضرت سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناابوالحصیب علیہ رحمۃ اللہ اللطیف سے پوچھا: ”کیا تم اس واقعے کے وقت وہاں موجود تھے ؟ ”انہوں نے جواب دیا :” جی ہاں! میں نے اپنی آنکھوں سے اس بدبخت کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا اور اپنے کانوں سے اس کی باتیں سنیں۔”
یہ سن کرحضرت سیدنا خلف بن تمیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم نے فرمایا: ”اب میں بھی اس بے ادب وگستاخ شخص کی اس بد ترین حالت کی خبر لوگو ں کو ضرور دو ں گا۔
( اللہ عزوجل ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سے محفو ظ رکھے اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سچی محبت عطا فرمائے،ان کی خوب خوب تعظیم کرنے کی تو فیق عطافرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
؎؎ محفو ظ سدا رکھنا شہا بے ادبو ں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
صحابہ کا گدا ہوں اور اہل بیت کا خادم یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم!

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!