اسلام

ایک اور دیوانۂ شوق

ایک اور دیوانۂ شوق

اسی طرح ایک اور واقعہ حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں امام نیشاپوری نے نقل کیا ہے ۔ بات یہاں سے چلی ہے کہ اپنے وقت کے ایک عظیم محدث حضرت عمرو بن ابی سلمہ، امام الحدیث حضرت امام اوزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں چار سال رہے اور طویل عرصے میں انہوں نے صرف تیس حدیثیں ان سے سماعت فرمائیں ایک دن وہ حضرت امام اوزاعی سے بڑی حسرت کے ساتھ کہنے لگے :
’’ أَنَا اَلْزَمُکَ مُنْذُ أَرْبَعَۃِ سَنَوَاتٍ وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْکَ إِلَّا ثَلاثِیْنَ حَدِیْثاً‘‘۔
آپ کی خدمت میں رہتے ہوئے مجھے چار سال ہوگئے لیکن اس طویل عرصے میںصرف تیس حدیثیں میں آپ سے حاصل کرسکا۔
امام اوزاعی نے جواب میں ارشاد فرمایا:
’’ وَتَسْتَقِلُّ ثَلاَثِیْنَ حَدِیْثاً فِیْ أَرْبَعَۃِ سَنَوَاتٍ وَلَقَدْ سَارَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ إِلَی مِصْرَ وَاشْتَرَی
چار سال کی مدت میں تیس حدیثوں کا ذخیرہ تم کم سمجھ رہے ہو، حالانکہ حضرت جابر بن عبداللہ نے صرف

رَاحِلَۃً فَرَکِبَھَا حَتّی سَألَ عُقْبَۃَ بْن عَامِرٍ عَنْ حَدِیْثٍ وَاحِدٍ وَانْصَرَفَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ‘‘۔ (1) (معرفۃ علوم الحدیث ص۹)
ایک حدیث کے لیے مصر کا سفر کیا ، سواری خریدی اور اس پر سوار ہو کر مصر گئے اور حضرت عقبہ بن عامر سے ملاقات کرکے مدینہ واپس لوٹ گئے ۔
مطلب یہ ہے کہ چار سال کی مدت میں تیس احادیث کی سماعت کو بھی غنیمت جانو کہ ایک عظیم نعمت تمہیں کم سے کم مدت میں حاصل ہوگئی ورنہ عہد ِصحابہ میں تو صرف ایک حدیث کے لیے لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کرتے تھے پس ایک حدیث پر دو مہینے کی مدت بھی اگر صرف ہوتی تو آپ حساب لگا لو کہ تیس حدیث کے لیے کتنی مدت چاہیے تھی۔ بلکہ حافظ نیشاپوری کی تصریح کے مطابق عہد ِصحابہ میں طلبِ حدیث کے لیے سفر اتنا لازم تھا کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا فرمایا کرتے تھے :
’’ لِطَالِبِ الْعِلْمِ یَتَّخِذُ نَعْلَیْنِ مِنْ حَدِیْدٍ‘‘۔ (2) (معرفۃ علوم الحدیث ص۹)
طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے لوہے کے جوتے تیار کرائے ۔
تاکہ بغیر کسی زیر باری کے ساری عمر وہ طلبِ حدیث میں سفر کرتا رہے ۔
٭…٭…٭…٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!