حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا عبد السمیع رامپوری

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا عبد السمیع رامپوری

Advertisement

[لطف وعنایت اورحسن اِرادت کا ایک حسین سنگم]
محمد افروز قادری چریاکوٹی

اِک مردِ قلندر وعد ووفا کی داستان چھیڑتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہہ گیا ہے کہ’ اُستادشاگرد،اور پیر مرید کے درمیان وعدے دو طرفہ ہوتے ہیں۔ اُستاد علم دینے کا وعدہ کرتا ہے اور شاگرد اَدب کرنے کا۔اگرشاگرد اَدب چھوڑ دے تو اس کا علم سے محروم ہونا اس کا اَزلی مقدر بن جاتا ہے۔ اس میں اُستاد کا اِیفاے عہد دخل ہی نہیں دے سکتا۔ یوں ہی مرید گستاخ ہوجائے تو وہ سارا نظامِ طریقت ہی ختم ہوجاتا ہے۔ پیر کی نظر اِلتفات بھی فیض نہیں دے سکتی۔ فیض اَدب کا نام ہے اور محرومی گستاخی کانام‘۔(۱)
اپنے موضوع کے اِبتدائیے کے لیے شاید اِس سے بہتر اِقتباس مجھے نہ ملتا؛ کیوں کہ اس تحقیقی کاوش میں ہمیں جہاں بات کرنی ہے کہ ایک بافیض شیخ طریقت اور حسن عقیدت سے بھرپور مرید صادق کی، وہیں اسی شیخ کے کچھ بے فیض، بے اَدب، شعور وحکمت سے خالی،خوفِ خدا وشرم نبی سے عاری، اور نفس واَنا کے پجاری مریدوں کی خبرگیری بھی کرنی ہے۔ کیونکہ اس وقت بر صغیر میں مذہبی اِنتشار اور مسلکی منافرت کی جو بظاہر کبھی نہ ختم ہونے والی ایک سرد جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور مسلمانانِ ہندوپاک اس وقت داخلی وخارجی کئی محاذوں پر جومعرکہ پیما ہیں ان میں اِن ناخلف مریدوں کا کلیدی رول ہے بلکہ یہی اس کے بانی مبانی ہیں، جس کا خود انھیں انشراحِ صدر کے ساتھ اِعتراف ہے۔
سید شاہ محمد محمد الحسینی، سجادہ نشین حضرت خواجہ گیسودراز، گلبرگہ نے پروفیسر نثار احمد فاروقی کی مرتبہ کتاب’نوادرِ امدادیہ‘ کے پیش لفظ میں اس کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ عوام وخواص سب کے لیے دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے لائق ہے، رقم طراز ہیں :
حاجی صاحب کے مریدین وخلفا میں مدرسۂ دیوبند کے بعض علما بھی شامل ہیں، مگر انھوں نے بعض فروعی مسائل کو اتنی اہمیت دی کہ انھیں اصل ایمان بتانے لگے، اور ان کے بارے میں اتنا شدید اور بے لچک رویہ اختیار کیا کہ اپنے پیرومرشد کی ہدایات کی پروا بھی نہ کی، اس سے جو اِفتراق واِنتشار اُمت مسلمہ میں پیدا ہوا وہ بڑھتا ہی گیا، اور اس گروہ کی پیروی کرنے والے آج بھی شرک، بدعت، فسق وغیرہ کے نام پر عام دین دار مسلمانوںکے دل ودماغ میں شک وریب کے کانٹے بوتے رہتے ہیں اور اسے دین اسلام کی بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔(۲)
یہ ایک تاریخی صداقت ہے کہ برصغیرہندوپاک کے مسلمان شجر سلف سے پیوستہ رہتے ہوئے ہمیشہ سے عقائد ومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند رہے، اور اسی مسلک وطریق کو صدیوں سے حرزِ جاں بنائے رکھا، مگر پھر کیا ہوا کہ مسلمانوں کی اِجتماعی قوت کا شیرازہ بکھیرنے اور اُن کی فضاے اِتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے غیر ملکی عناصر نے کچھ انڈین نام نہاد دنیا پرست علماکے ہاتھوں وہ تخریب کاری مچائی اور سوادِ اعظم کی پیٹھ پر وہ کاری ضرب لگائی کہ آج تک نہ وہ زخم مندمل ہوئے اور نہ بکھرے ہوئے پرزے اِکٹھے ہوئے۔
اہل سنت وجماعت کے نہایت قابل قدر اور نباضِ وقت عالم دین مولانا عبد السمیع بے دل رام پوری کا خدا بھلا کرے اور انھیں کل اُمت مسلمہ کی طرف سے جزاے خیر دے کہ انھوں نے اس نازک موقع پر عوام اہل سنت کے معمولات و معتقدات کے تحفظ اوربچائو کی خاطر مختلف مرحلوں سے گزار کر ’انوارِ ساطعہ‘ نامی ایک جان دار کتاب لکھ ڈالی۔ کتاب کے مارکیٹ میں آتے ہی ایک بھونچال آگیاہو، یک لخت کچھ بھویں تن گئیں، بہت سی پیشانیاں شکن آلود ہوگئیں اور انھیں اپنے خودساختہ مذہب کا شیش محل صاف زمیں بوس ہوتا نظر آنے لگا۔
ایسے عالمِ بدحواسی میں وہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ’براہین قاطعہ‘ نامی ایک رسواے زمانہ کتاب لکھ مارتے ہیں، اس اُمید پر کہ شاید ’انوارساطعہ‘ کی جلائی ہوئی شمع کی لَو کچھ مدھم ہوجائے، مگر اس شمع کو نہ بجھنا تھا نہ بجھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس کتاب نے شہرت وپذیرائی کاجو باب قائم کردیا ہے اس کے سدباب کی خوب خوب کاوشیں ہوئیں؛ مگرسب بے کاروبے اِعتبارو ناپائیدار ثابت ہوئیں۔ اور پھر نورِ آفتاب مٹھیوں میں کب قید ہوسکاہے!، اور بوے گل کو ہواکے پروں پر تیرنے سے کب کوئی روک پایا ہے!!۔
قبل اس کے کہ ہم موضوع کی تفصیل میں جائیں پہلے حضرت مولانا حاجی محمد امداد اللہ فاروقی چشتی مہاجر مکی اور مولانا حافظ عبد السمیع بے دؔل رام پوری کے مختصراَحوالِ زندگی پڑھ لیتے ہیں۔

شیخ المشایخ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ چشتی تھانوی مہاجر مکی (م۱۳۱۷ھ) :

شیخ المشائخ مولانا الحاج امداد اللہ فاروقی چشتی ،دوشنبہ کے دن ۲۲؍ صفر ۱۲۳۳ھ؍۳۱ دسمبر ۱۸۱۷ء میں اپنے ننھیال نانوتہ ضلع سہارن پور (یو۔پی۔) میں پیدا ہوئے۔ اِمداد اللہ نام تجویز ہوا۔ اور ظفراحمد آپ کا تاریخی نام ہے۔ ابھی عمر کی ساتویں بہار میں تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں پائی ، حصن حصین اور مثنوی مولانا جلال الدین رومی ، مولانا قلندر محدث جلال آبادی، شاگرد مفتی الٰہی بخش کاندھلوی سے پڑھیں، پھر سولہ سال کی عمر میں مولانا مملوک العلی کے ہمراہ دہلی گئے اور مولانا نصیر الدین شافعی کے درس میں پابندی کے ساتھ حاضر رہ کر طریقت و تصوف کی تعلیم پائی۔ ان کے انتقال کے بعد قصبہ تھانہ بھون، ضلع مظفر نگر آکر سکونت اختیار کر لی۔ پھر لوہاری آئے اور میاںجی شیخ نور محمد جھنجھانوی چشتی سے طریقت و تصوف کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور ان ہی سے بیعت ہو گئے، اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اور سلسلۂ چشتیہ صابریہ کے ایک زبردست شیخ و مرشد کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی سابق پروفیسر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی، حاجی صاحب کے بارے میں اپنی رائے یوں تحریر کرتے ہیں :
’آپ پارس کے پتھر کی سی تاثیر رکھتے تھے۔ جسے ان کی خدمت نصیب ہوگئی وہی کندن بن گیا۔ آپ کے سلسلہ طریقت سے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش ہی کے نہیں حجاز، شام، عراق، ترکی،افریقہ، مصر اور مراقش کے سینکڑوں علماومشایخ اور درویش بھی وابستہ رہے ہیں۔اُن باکمال خلفا اور مسترشدین نے علوم ظاہری اور تربیت باطنی دونوں میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کے مشرب میں اتنی وسعت تھی کہ طالب‘ خواہ کسی مدرسۂ فقہ کا مقلد ہو یا غیر مقلد ہو ان کے فیضان سے محروم نہ رہتا تھا‘۔ (۳)
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل آپ کی جانب موڑ دیے اور آپ کو قبولِ عام حاصل ہوا، عوام و خواص جوق در جوق آپ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ اور آپ کی ذات سے بر صغیر میں سلسلۂ چشتیہ صابریہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ پھر جب جنگ آزادی کے بعد ہندستان میں مسلمان شرفا کا رہنا دوبھر ہوگیا اورآپ نے یہاں کے حالات اپنے حق میں ناموافق پائے تو ۱۲۷۶ھ میں حجازِ مقدس ہجرت کر گئے، اور مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔چند سال تک جبل صفا پر اسماعیل سیٹھ کے رباط میں ایک خلوت میں معتکف رہے، پھر محلہ حارۃ الباب کے ایک مکان میں منتقل ہوگئے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں کبھی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی بھی قیام پذیر رہ چکے تھے۔ یہ زمانہ سخت عسرت اور عزلت میں گزارا، پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا آپ کے قدموں پر ڈال دی اور تنگ دستی خوش حالی میں تبدیل ہوگئی ۔ اور وہیں چوراسی سال کی عمر میں ۱۲؍ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ میں چہار شنبہ کے دن اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے، اور مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ آپ کی تصنیفات درج ذیل ہیں ۔۱: ضیاء القلوب۔ ۲:فیصلۂ ہفت مسئلہ۔ ۳:ارشادِ مرشد ۔ ۴: مثنوی تحفۃ العشاق۔ ۵:بیان وحدۃ الوجود۔ ۶: غذاے روح۔ ۷: گل زارِ معرفت۔ ۸:دردِ غمناک۔ ۹: جہادِ اکبر۔ ۱۰: نالۂ امدادِ غریب۔آپ کی ان دس کتابوں کا خوبصورت مجموعہ’کلیاتِ امدادیہ‘ کے نام سے یک جا کرکے دارالاشاعت، کراچی نے شائع کردیاہے۔
آپ پورے طور پر اہلِ سنت کے عقائد و افکار اور مشائخِ طریقت کے معمولات و مراسم پر کاربند اور عمل پیرا تھے ، جس پر آپ کی تصانیف گواہ ہیں ، خصوصاً ضیاء القلوب، فیصلۂ ہفت مسئلہ،بیان وحدۃ الوجود،کیوں کہ اوّل الذکر کتاب میں مشائخ چشتیہ، قادریہ، نقش بندیہ و سہر وردیہ کے اوراد و وظائف اور اشغال و اذکار و مراقبات کو بیان کیا ہے ، اور آخر الذکر کتاب میں نظریۂ وحدۃ الوجود کا بیان ہے اور فیصلۂ ہفت مسئلہ میں میلاد شریف، فاتحہ، عرس و سِماع، نداے غیر اللہ، جماعتِ ثانیہ، امکانِ نظیراور امکانِ کذب جیسے سات مسائل کا فیصلہ فرمایا ہے۔ اس میں خاص طور سے محفل میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں :
’اور مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولود میں شریک ہوتا ہوں ، بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں، اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں‘ ۔ (۴)
آپ کے مریدین و خلفا میں درج ذیل حضرات مشہور ہیں:(۱)استاذ العلما مولانا محمد لطف اللہ علی گڑھی (م۱۳۳۴ھ)، (۲)استاذِ زمن مولانا احمد حسن کانپوری (م۱۳۲۲ھ)، (۳)حضرت مولانا شاہ محمد حسین الٰہ آبادی (م۱۳۲۲ھ)، (۴)مولانا عبد السمیع رام پوری، سہارن پوری ، مصنفِ انوارِ ساطعہ(م۱۳۱۸ھ)، (۵)مولانا محمد انوار اللہ فاروقی حیدر آبادی (م۱۳۳۶ھ) مصنف انوار احمدی(در بیان میلاد النبی)،(۶)مولوی محمد قاسم نانوتوی(م۱۲۹۷ھ)[مصنف تحذیر الناس]، (۷) مولوی رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۲ھ)[مصنف فتاویٰ رشیدیہ ومصدقِ براہین قاطعہ]، (۸) مولوی اشرف علی تھانوی (م۱۳۶۲ھ) [مصنف حفظ الایمان]، (۹)مولوی محمد یعقوب نانوتوی(م۱۳۰۲ھ)۔(۶)

حضرت مولاناحافظ محمدعبد السمیع بیدلؔ سہارن پوری (۱۳۱۸ھ؍۱۹۰۰)

حضرت مولانا عبد السمیع اپنے وطن قصبہ رام پور منیہاران ،ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسبی رشتہ شیخ الاسلام خواجہ عبد اللہ انصاری کے واسطے سے مشہور صحابیِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔ (۷)
آپ کی تعلیم نجی طور پر ہوئی۔ کچھ استفادہ حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی (م ۱۳۰۸ھ ) سے کیا۔ پھر ۱۲۷۰ھ مطابق ۱۸۵۴ء میں موصوف نے میدانِ تعلیم کے مزید زینے طے کرنے کے لیے مرکز علم وادب دہلی کا رخ کیا ،اور علماے دہلی خصوصاً صدر الصدور حضرت مولانا امام بخش صہبائی سے فارسی اور حضرت مولانا مفتی صدر الدین آزردہؔ دہلوی سے عربی علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں۔ انہیں ایام میںشعر گوئی کے شوق نے چٹکی لی تو اُردو کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ دہلوی کی خدمت میں جاکر ان کی شاگردی اختیار کی۔
حصولِ تعلیم کے بعد ۱۲۷۷ھ میں رُڑکی ضلع سہارن پور میں ایک برہمن کے بیٹے ناہر سنگھ کی تعلیم وتربیت پر مقرر ہوئے وہ ان کی بزرگی اور سیرت کی خوبیوں سے اتنا متاثر ہوا کہ ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ خلیل الرحمن نام رکھاگیا۔ یہ وہی مولانا خلیل الرحمن ہیں جو علوم دینیہ کے ماہر ہوئے۔حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت کی، خلافت واجازت پائی۔ یہ ہجرت کرکے مکہ معظمہ میں مقیم ہوگئے تھے، وہیں انتقال ہوا اور جنۃ المعلی میں مدفون ہوئے۔(نوادراِمدادیہ:ص ۵۸،۵۹)
آپ نے اپنا تخلص بیدلؔرکھا تھا؛ شاید اس لیے کہ اُ ن کا دل‘ بسمل مدحتِ پیغمبر تھا،اور آقاے کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت و شریعت کے فروغ اور مسلک ومذہب کی ترویج واشاعت کے لیے وقف۔اسی لیے ابتدا میں طبیعت غزل کی طرف زیادہ مائل رہی؛ مگر بعد میں اس رسمی شاعری کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ مذہبی علوم ومسائل پر مرکوزومحدود کر دی۔(۸)
’حمد ِباری‘ ،’نورِ ایمان‘ اور ’سلسبیل ‘جیسے منظوم رسالے آپ کی شاعرانہ مہارت کا منہ بولتاثبوت ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک نعتیہ دیوان بھی ہے۔(۹)
مولانا رام پوری سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اپنے وقت کے مشہور مرشدِ طریقت شیخ المشائخ حضرت مولانا الحاج امداد اللہ فاروقی چشتی تھانوی مہاجر مکی علیہ الرحمہ (م ۱۳۱۷ھ) سے بیعت تھے ۔ آپ کو حضرت حاجی صاحب موصوف سے اجازت و خلافت بھی حاصل تھی،آپ ان خلفا میں تھے جنھیں حاجی صاحب نے از خود خلافت دی تھی۔ آپ نہایت محتاط ، تقویٰ شعار،پرہیز گار اور کامل الاحوال بزرگ تھے۔آپ نے پوری طرح مذہب اہلِ سنت کے عقائد و افکار اور مشربِ صوفیہ کے وظائف و معمولات میں اپنے شیخ و مرشد کی پیروی کی۔اور مشائخ کے روحانی فیوض و برکات سے بہرہ ور ہوئے۔
اور جن خلفا نے حاجی صاحب سے اختلاف کیا اور مانگی ہوئی خلافت پاکر اپنی دکان چمکانی چاہی ان میں مولوی محمدقاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)، مولوی رشید احمد گنگوہی(م۱۳۲۲ھ) اور مولوی اشرف علی تھانوی (م۱۳۶۲ھ) کے نام سرِ فہرست ہیں۔(۱۰)
بلاشبہہ آپ جماعتِ اہل سنت کے بے باک ترجمان اور ناموسِ رسالت کے عظیم محافظ تھے۔ سنّت وسنیّت کے دفاع اوربچائو کے لیے جس دور میں بریلی و بدایوں کی سرزمین سے علمی وفکری کمک فراہم کی جارہی تھی، ٹھیک اسی دور میں سہارن پور سے بھی ایک مردِ مجاہد بڑی خاموشی سے اپنا قلمی وتحقیقی تعاون پیش کررہاتھا، اورملت کے زخمی بدن پر مرہم رکھ رہا تھا۔ اس کی باتیں قصرِباطل میں لرزہ بپا کردینے والی ، تاثیر کا تیر بن کر دلوں میں اُترجانے والی، اورعاشقانِ رسول کے شگوفۂ دل کو چٹکاچٹکا دینے والی تھیں۔
مولانا رام پوری علیہ الرحمہ نے اسّی، نوّے کے درمیان عمر پائی اور میرٹھ میں ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں انتقال ہوااور وہیں قبرستان حضرت شاہ ولایت قدس سرہ میں مدفون ہوئے۔ مولانا عبد السمیع رام پوری علیہ الرحمہ نے درجِ ذیل کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں :
۱: انوارِ ساطعہ در بیان مولودوفاتحہ، ۲: نور ایمان (منظوم) ، ۳: سلسبیل فی مولد ہادی السبیل(منظوم)، ۴: راحت القلوب فی مولد المحبوب، ۵: بہارِ جنت، ۶: مظہر الحق، ۷: حمد باری، ۸: دافع الاوہام فی محفل خیرالانام، ۹: قول النبی فی تحقیق السلام علیک ایہا النبی، ۱۰: جوہر لطیف (نعتیہ مثنوی)۔ ۱۱: طرازِ سخن(مجموعہ کلام)۔ ۱۲: فیضان قدسی (فضائل آیت الکرسی)، ۱۳: وسیلہ مغفرت(مجموعۂ ادعیہ)
شیخ ومرید کے مختصر سوانحی خاکے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ شیخ کامل کی نگاہ میں مرید کی اہمیت ووقعت کتنی تھی اور مرید صادق اپنے دل میں شیخ کا کتنا اِحترام واَدب ملحوظ رکھتا تھا۔ مولاناعبد السمیع کو خیر سے اپنے کیریئر کے آغازہی میں حاجی صاحب کی صحبت ورفاقت نصیب ہوگئی تھی جس نے ظاہری علوم کے جام پلانے کے ساتھ قلب وباطن کے تزکیہ وتطہیر میں بھی کلیدی کردار اَدا کیا۔ مالک رام لکھتے ہیں :
مولوی عبد السمیع رڑکی سے نکلے تو اپنے وطن پہنچے۔ حسن اتفاق سے انھیں ایام میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ہندوستان آئے ہوئے تھے۔ اپنی تعلیم وتربیت اور اُفتادِ طبع کے زیر اَثر عبد السمیع اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حاجی صاحب نے اُن کے علم وتقویٰ سے متاثر ہوکر انھیں اپنے حلقۂ اِرادت میں شامل کرلیا۔ روایت ہے کہ عبد السمیع صاحب نے موصوف کی بیعت قصبہ جھنجھانہ(ضلع مظفرنگر) میں اُسی درخت کے نیچے کی تھی جہاں کسی زمانے میں خود حاجی صاحب نے اپنے پیر طریقت حضرت میاںنور محمد جھنجھانوی سے بیعت کی تھی۔(۱۱)
مالک رام کے مذکورہ بیان میں یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ’حسن اتفاق سے حاجی صاحب ہندوستان آئے ہوئے تھے‘ ۔ کیوں کہ ۱۹۵۹ء میں جب آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ پہنچے تو پھردوبارہ ہندستان کا رخ نہ کیااور بقیہ زندگی وہیں بسر کی، اس لیے مہاجر مکی کے لقب سے مشہور ہوئے۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ پہلے سفر حج کے بعد پیش آیا ہو۔ ویسے بھی حاجی صاحب کی یہ خوبی تھی کہ وہ غائبانہ بیعت قبول کرلیتے تھے اور پھر خطوط کے ذریعہ سلسلہ تعلیم وہدایت جاری رکھتے تھے۔
اب پیر چونکہ مکہ معظمہ کی سہانی فضائوںمیں ہے اور مرید خطہ ہند میں، تو ظاہر ہے کہ تعلیم واِفادہ کی ساری کائنات مکاتیب کے ستونوں ہی پر قائم کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اس درمیان حاجی صاحب نے مولانا عبدالسمیع کو جو خطوط بھیجے ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں مولانا کے لیے شفقت ومحبت کے کتنے چراغ روشن تھے، انھیں مولانا کی ذات پر کتنا اِعتماد تھا، اور وہ مولانا کو علم ظاہری وکمالِ روحانی کی کن اعلیٰ منازل پر فائز دیکھنا چاہتے تھے۔ان مکاتیب میں بیشتر کا تعلق انوارِ ساطعہ سے ہے، جن میں بعض تعریف و توصیف پر مشتمل ہیں، بعض میںکتاب کے اندرکچھ حذف واِضافہ کا اِعلامیہ ہے، بعض میں کثرت کے ساتھ علماے اعلامِ ہند سے تقاریظ لکھوانے کا اِظہار ہے۔ اور بعض میں جانبین سے معتدل طرزِ تخاطب اپنانے اور تحریر میں عالمانہ اندازبرتنے کا مشورہ ہے۔اس لیے ہم یہاں انوارِ ساطعہ ہی کو معیار بناکر اس کی روشنی میں کچھ حقائق کا انکشاف کریں گے۔
انوارِ ساطعہ کی تصنیف کا پس منظر وپیش منظر یہ ہے کہ ۱۳۰۲ھ/۱۸۸۵ء میں دیوبند، گنگوہ، سہارن پور وغیرہ کے بعض علما کی طرف سے یکے بعد دیگرے دو فتوے شائع ہوئے۔اور پھر مولانا کو اِن فتووں کی تردید میں یہ کتاب لکھنی پڑی۔اس کتاب کی اہمیت وعظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُس دور کے جید، مستند اور مشاہیر علماومشایخ نے اس پر تقریظیں ثبت کی ہیں۔ مثلاًمولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی(م۱۹۱۶ء) ، مولانا فیض الحسن سہارن پوری(م۱۸۸۷ء) ، مولانا غلام دستگیرہاشمی محدث قصوری (م۱۳۱۵ھ) ، مولانا اِرشاد حسین رام پوری(م۱۸۹۳ء) ، مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی(م۱۹۲۱ھ) ، مولانا عبد القادر بدایونی(م۱۹۰۱ء) ، مولانا وکیل احمد سکندر پوری (م۱۳۲۲ھ) ، مولانا محمد فاروق عباسی چریاکوٹی(م۱۹۰۸ء) ، مولاناعبدالحق حقانی(م۱۹۱۷ء)وغیرہ۔ اور کتاب کے اخیر میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی تصدیق وتائید بھی شامل ہے۔
حاجی صاحب نے انوار ساطعہ کی تائید میں محض ایک تحریر نہ لکھی بلکہ جب بھی موقع ملا اور ضرورت پڑی توانھوں نے اس کی بھرپورتائید وتوثیق فرمائی، عوام وخواص کو اس کا مطالعہ کرنے اور عالم اسلام میں اسے فروغ دینے کی پوری پوری حمایت کی۔بعض خطوط کے مضامین کچھ یوں ہیں :
۱) ’تمہاری کتاب انوارِ ساطعہ اکثر دیکھی ہے اور اکثر اس کو دیکھتا ہوں۔ فقیر کو طرزِ تحقیق وزبان فصیح وسلیس اس کی بہت پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ مقبول ومفید خاص وعام کرے۔ معلوم نہیں کہ بالفعل ہی علماے وعزیزانِ دیوبند سکوت ہیں کہ وہی رد وتردید کا مشغلہ چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خاتمہ بالخیر فرماکر اپنے صدیقین کے زمرے میں داخل فرمائے‘۔(نوادرِ امدادیہ: ص۱۹۸مکتوب ازمکہ:۳۳،مؤرخہ۷؍جمادی الاولیٰ ۱۲۷۹ھ)
۲) ’میں خود مولودشریف پڑھواتا ہوںاور قیام کرتا ہوں اور ایک روز میرا یہ حال ہو اکہ بعد قیام سب بیٹھ گئے مگر میں بے خبر کھڑا رہ گیا، بعد دیر کے مجھ کو ہوش آیاتب بیٹھا‘۔ (بنام مولوی عبد السمیع بے دل،۱۳؍ربیع الآخر۱۳۰۴ھ، بحوالہ انوار ساطعہ:ص۳۲۷)
۳) ’انوارِ ساطعہ از اول تا آخر شنیدم وبغور وتدبر نظر کردم، ہمہ تحقیق را موافق مذہب ومشربِ خود وبزرگانِ خود یافتم‘۔ (بنام مولوی عبد السمیع بے دل،۱۱؍رجب۱۳۰۴ھ)
۴) ’فی الحقیقت نفس مطلب کتاب انوارِ ساطعہ موافق مذہب ومشربِ فقیر وبزرگانِ فقیر است۔ خوب نوشتید۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء۔ اللہ تعالیٰ ما وشما وجمیع مومناں را در ذوق وشوق ومحبت خود داشتہ حسن خاتمہ نصیب کند۔ آمین‘۔ (بنام مولوی عبد السمیع بے دل،۲۲؍شوال۱۳۰۴ھ، بحوالہ انوار ساطعہ:ص۳۲۸)
۵) ’انوارِ ساطعہ کے اکثر مسائل میں فقیر دل سے متفق ہوا تو اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت التجاودعا کی، یا اللہ! اگر میں ان مسائل میں صراطِ مستقیم پر ہوں اور حق بجانب ہوں تو اس کتاب کو مقبولِ علماے دیار وامصار واہل اسلام کر۔ چنانچہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول فرمایا کہ تمام علماے حرمین شریفین وبلادِ اسلام اس کے مسائل میں متفق ہیں اور خود کتاب کو بھی پسند کرتے ہیں۔ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔‘(بنام مولوی عبد السمیع بے دل،۱۰؍رمضان، روز سہ شنبہ۱۳۰۷ھ۔۲۹؍اپریل ۱۸۹۰ء)۔(۱۲)
حاجی صاحب نے مولانا عبد السمیع کے لیے اپنے خطوط میں جو طرزِ تخاطب اپنایا ہے وہ اپنائیت سے بھرپور ہے اور قلب شیخ میں مرید کے لیے موجود مقام ومرتبہ کاآئینہ دار۔ مثلاً عزیزم مولوی عبد السمیع دام محبتہ ومعرفتہ باللہ،بخدمت سراپا فیض وبرکت عزیزی مولوی عبدالسمیع زاد اللہ فیضہ، بخدمت سراپا اِخلاص ومحبت عزیزم حاجی مولوی عبدالسمیع سلمہ اللہ تعالیٰ، بخدمت فیض درجت سراپا خیروبرکت عزیزم مولوی عبد السمیع زاد اللہ عرفانہ ومحبتہ، بخدمت عزیز باتمیز سعید کونین عزیزم مولوی عبد السمیع دام محبتہ، بخدمت سراپا اختصاص وسراسر اخلاص عزیزم مکرم جناب مولوی عبد االسمیع زید عرفانہ،بخدمت فیض درجت سراپا عنایت ومحبت عزیزم مولوی عبد السمیع صاحب متع اللہ المسلمین بطول حیاتہ ودمر اعدائـہ،برادرِ عزیز القدر محقق دقائق عارف حقائق مولوی محمد عبد السمیع زاد اللہ عرفانہ آمین، محب صادق مخلص واثق عزیزی وحبیبی مولوی محمد عبد السمیع صاحب نور اللہ قلوبہ بانوار العارفین۔وغیرہ وغیرہ۔ان القاب واوصاف کے ساتھ اکثر خطوط میں دعائیہ کلمات سے نوازا ہے:مثلاً اللہ تعالیٰ آپ کو گزند وآسیب ظاہر وباطن سے محفوظ رکھ کر اپنی محبت ورضا عنایت کرے اور آپ کی ذات وصفات کو خلائق کی اصلاح دارین وفلاح کونین کا ذریعہ بنائے۔آمین۔
حاجی صاحب نے مولانا کو ہمیشہ تلخ کلامی سے بچنے اور معتدل طرزِ تحریر اپنا نے کی نصیحت کی،جس کا مولانا نے ہرگام لحاظ رکھا۔ اس کا اعتراف خود حاجی صاحب کو ہے فرماتے ہیں :
’آپ نے جو میری صلاح وتحریر کے موافق تحریر جوابات ورد وکد سے سکوت اختیار کی ہے اور اخلاق وصدق سے تحقیق مسائل کا اِرادہ کرلیا ہے میں آپ کے اس نیک اِرادہ وحسن نیت سے بہت راضی وخوش ہوں، اور آپ کی محبت واِرادت کا شکرگزار۔‘(۱۳)
۱۱؍ ربیع الثانی ۱۳۰۹ھ کو مرسلہ ایک خط میں مندرجہ بالا مضمون کو حاجی صاحب مزید وضاحت وتاکیدکے ساتھ یوں تحریر فرماتے ہیں:
’انوارِ ساطعہ کو خود بعض بعض مقام سے مطالعہ کیا ہے اور اکثر مقامات سے پڑھواکر سنا ہے، ماشاء اللہ بہ نسبت سابق کے اس دفعہ تقریر بھی عالمانہ وطرز بھی محققانہ نہایت مدلل وتحقیق سے لکھاگیا ہے اور عبارت بھی دلچسپ اور زبان بھی دلکش ہے۔ آپ نے فقیر کے مشورہ کے موافق جو ترمیم واصلاح فرماکر نرمی ولینت سے لکھا ہے اور جو مضمون کہ سختی وتیزی سے لکھے گئے تھے ان کو نکال دیے ہیں فقیر آپ کی اس محبت وعنایت کا بہت مشکور ہوا اور آپ کے حلم وحسن خلق آپ کا اور فقیر کے ساتھ جو محبت واِرادت ہے وہ ظاہر ہوئی، اس وجہ سے فقیر کے دل میں بھی محبت آپ کی اور زیاددہ مستحکم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دارین میں اس کے برکات عطا فرمادیں کیوں کہ اس زمانے کے طلبہ وعلما اپنی بات کی پچ میں اپنے پیشوا واکابر کی نہیں سنتے تو مجھ فقیر عزلت گزین کی کون سنتا ہے! فقیر آپ کی منصف مزاجی وانصاف پسندی وحق نیوشی سے بہت خوش ہوا ومحظوظ ہوا……اللہ تعالیٰ آپ کی ذات بابرکات کو اسلام ومسلمانوں کی اِمدادوہدایت واستفاضہ کا وسیلہ وواسطہ بنادے، آمین۔پس ہماری یہی رائے اس باب میں ہے جو ظاہر کی گئی۔ اگر کوئی شخص اس کے خلاف یا اسے کچھ بڑھا وگھٹا کر آپ سے بیان کرے یا کوئی تحریر دکھاوے تو آپ اُس کو نہ ماننا۔‘(۱۴)
حاجی صاحب چونکہ شریعت وطریقت کا سنگم اور حقیقت ومعرفت کابحر زخار تھے۔ بساطِ تصوف میں لپٹی ہوئی صوفیہ کی زندگی بڑی سادہ اور پُرکار ہوتی ہے، وہاں نہ تشدد کا کوئی گزر ہوتا ہے اور نہ انتہا پسندی کا بلکہ ہر چیزمیںاعتدال اور میانہ روی ہوتی ہے۔ حاجی صاحب کی طبیعت ابتداہی سے صلح وآشتی کا پیکر تھی، اور صوفیہ ہوتے ہی خوگر اَمن ہیں۔ آپ حنفی المذہب، صوفی المشرب، اور معمولاتِ اہل سنت وجماعت پر سختی سے کاربند ہوتے ہوئے دو عظیم گروہوں کی بیک وقت پیشوائی فرمارہے تھے اور چونکہ اجلہ اعلام آپ کے سلسلہ بیعت واِرادت سے بندھے ہوئے تھے، اس لیے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا اور دونوں کو مؤاخات کی ڈوری سے باندھے رکھنا جوے شیر لانے کے مترادف تھا، مگر پھر بھی آپ نے اس سلسلے میں اپنی سی کوشش فرمائی اور فریقین کے مابین جدل ونزاع کی آگ کو حتی الامکان ٹھنڈی کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ آپ نے نہ کبھی مذہبی اختلافات کو پسند فرمایا اور نہ تکفیری ماحول آپ کو کبھی ایک آنکھ بھایا۔ مولانا عبد السمیع کے نام لکھے ہوئے آپ کے ایک مرسلہ خط کے اقتباس سے آپ کے جبلی رنگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، لکھتے ہیں:
’الحمدللہ! فقیر کو دنیا کے کسی اُمور کا غم نہیں ہے، لیکن آپ لوگوں کے آپس کے اختلاف کا ایسا سخت غم ورنج ہے کہ ہمیشہ اس کے باعث دل منقبض وپژمردہ رہتا ہے، اس لیے آپ لوگوں کو مناسب تھا کہ ہمارے غم والم کے دور کرنے میں بدل مستعد وآمادہ ہوجاتے، میری رضامندی وخوشنودی کو حاصل کرتے، فقیر نے حتی الوسع اپنی جماعت کی مخالفت دور کرنے کو اور مصالحت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک حسب خواہ نتیجہ نہ نکلا‘۔(۱۵)
بلکہ اس مسلکی نزاع کو فریقین کے مابین سے ختم کرنے کے سلسلے میں آپ نے عملی کوششوں کے ساتھ قلمی طور پر بھی ایک کاوش کی تھی، اور کتاب’فیصلہ ہفت مسئلہ‘ اسی مذہبی منافرت کو ختم کرنے کے لیے نہایت محتاط ومعتدل انداز میں لکھی تھی، جس میں سوادِاعظم اہل سنت وجماعت کے سات متفقہ مسائل کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا تھا، ہمارے یہاں تو اس کا خیرمقدم ہونا ہی تھا کہ وہ ہمارے ہی افکارومعتقدات کی ترجمانی کررہی تھی مگرحزبِ مخالف دیوبندیوں کی طرف سے اس کتاب کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور اس کے مسائل میں طرح طرح کے شوشے اورشگوفے کھلائے جانے لگے۔ جب حاجی صاحب کو اس کا علم ہوا تو انھوںنے مولانا کے پاس مرسلہ ایک خط میں اس کی وضاحت بدیں الفاظ کی :
’عزیزم! فیصلہ ہفت مسئلہ کی نسبت جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ اہالیانِ دیوبندوغیرہ نے نہیں مانا بلکہ بعض بعض مقامات پر خورد بُرد بھی کردیاگیا ہے، سو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، ہمیشہ سے یہ ہوتا آیا ہے۔ کسی کی بات کل جہان نے کب مانی ہے؟ خاص خاص لوگوں نے ہمیشہ تسلیم کی ہے، لیکن مخالفت وعدم مخالفت کا نتیجہ بھی فوراً ہی ظاہر ہوگیا ہے۔ خیرمیاں! تم اپنا کام کرو، کسی کے افعال پر نظر مت ڈالو، اپنا فعل ساتھ جائے گا، کسی کا کیا ہمارے کیا کام آئے گا!۔‘
مولانا عبد السمیع نے شاید حاجی صاحب سے اس کتاب فیصلہ ہفت مسئلہ کی مزید تفصیل وتشریح کی فرمایش کی تھی تواس کا جواب دیتے ہوئے خط کی اگلوں سطروں میں فرماتے ہیں :
’…لیکن تشریح طلب مقامات(کی شرح) اب مجھ سے نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ذہن نے رسائی کی جو بات جی میں آئی لکھی گئی۔ اتنی فرصت کہاں کہ میں اب اس پر حاشیہ لکھوں، اس کی شرح کی کوئی ضرورت نہیں، آپ کی کتاب(انوارِ ساطعہ) خود اس کی شرح موجود ہے۔ اور اگر آپ کو ایسی ہی ضرورت ہے کہ اس کے بعض مقامات کی شرح کی جائے تو آپ کو اجازت ہے کہ اس کو واضح کردیجیے…اللہ تعالیٰ توفیق عمل خیر دے، استقامت نصیب کرے، محبت کاملہ عطا فرمائے،اِسی میں جلائے، اِسی میں مارے۔آمین یارب العالمین۔‘(۱۶)
حاجی صاحب کو مولاناکے علم وکمال پر کیسا بھروسہ تھا اس کا اندازہ مندرجہ بالا خط کے اقتباس سے لگانا چنداں مشکل نہیں۔ یہی نہیں بلکہ مولاناکے تقویٰ وطہارت پر بھی وہ پورا پورا اِعتماد رکھتے تھے ۔ مولانا ہی کے نام مرسلہ ایک خط میں حاجی صاحب رقم طراز ہیں :
’آپ کے ہاتھ پر جو کوئی پیرانِ عظام واولیاے کرام کے مقدس سلسلہ میں داخل ہو تو آپ بلا عذر بیعت لے کر اللہ تعالیٰ کا نام مبارک وذکر وشغل بتلادو۔ ہادی ومضل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، اور پیرانِ عظام واسطہ، اورہم سب تابع احکام۔ پس بزرگوں کی تابع داری واطاعت کر دینا چاہیے آئندہ سنوارنے والا خود سنوار لے گا۔ ہم کو اپنی قابلیت ولیاقت کا کیا خیال چاہیے!۔فقط‘۔(۱۷)
غور فرمائیں کہ ایک مرید صادق کا حال تو یہ ہے کہ وہ اپنے مرشدومربی کے نقش قدم سے ایک انچ کے لیے بھی ہٹنے کو تیار نہیں اور اس کی ہر ہر بات پر آمنا صدقنا کہہ کر عملاً اس کو کرکرکے دکھارہا ہے۔ وہیں کچھ ایسے مُریدِ مَرید اور شرپسند مسترشدین بھی ہیں جن کو شیخ کی تلقین ونصیحت کا کچھ پاس لحاظ نہیں اور وہ اپنے نفس واَنا کی تسکین کے لیے دین واخلاق کی ساری حدیں پھلانگ جانے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ حاجی صاحب نے اِن حضرات کو مختلف پیرایوں سے راہِ راست پر لانے اور سوادِ اعظم کی مضبوط ڈوری سے جوڑنے کی جی توڑ کوشش کی، مگرشقاوت نصیبوں پر آپ کی باتوں کا کوئی اَثر نہیں ہوا، اور اپنے موے قلم سے نکلی ہوئی بات کو پتھر کی لکیر سمجھ کر اس سے دست بردار ہونے اور بارگاہِ الٰہی میں توبہ ورجوع کرنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔
اس سلسلے میں کی گئی کوششوں کا اندازہ ہم مولوی خلیل احمد انبیٹھوی اور مولوی محمود حسن دیوبندی کے نام مرسلہ حاجی صاحب کے ایک تفصیلی خط سے لگا سکتے ہیں ، جس کی سطر سطر سے آپ کا اخلاص،دین داری اور بے لوثی پھوٹی پڑتی ہے۔ اس کی تلخیص یہاں پیش کی جاتی ہے :
’تمام بلادوممالک ہند سے مثلا بنگال وبہار ومدراس ودکن وگجرات وبمبئی وپنجاب وراجپوتانہ ورامپور وبہاول پور وغیرہ سے متواتر اخبار حیرت انگیز وحسرت خیزاس قدر آتے ہیں کہ جن کو سن کر فقیر کی طبیعت نہایت ملول ہوتی ہے۔ اس کی علت یہی ’براہین قاطعہ‘ ودیگر(ایسی ہی) تحریرات ہیں۔ یہ آتش فتنہ ’انوارِ ساطعہ‘ کی تردید سے مشتعل ہوئی کہ تمام عالم اس کی حمایت(میں کھڑا ہوگیا)۔ فقیر نے اس کے صرف دو مسئلوں پر یعنی مجلس میلاد شریف وفاتحہ پر اتفاقِ رائے ظاہر کیاتھا(مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی مقبولیت عطا فرمائی کہ تمام ممالک کے علما ومفاتی نے ساری کتاب کو تہِ دل سے پسند فرماکر اس پر اتفاق کیا)۔آپ اس کے ہر فقرہ کی تردید کے ایسا درپے ہوئے کہ معاذ اللہ امکانِ کذب باری تعالیٰ تک کے قائل ہوگئے، اور یہ بلا ایسی عالم گیر ہوئی کہ سب قصے مولود شریف وغیرہ کے دَب گئے اور اس مسئلہ کا چرچا ہر شہر، ہرقریہ میں حتیٰ کہ حرمین شریفین -زادہمااللہ تشریفاوتکریما- ممالک غیر میں بھی پھیل گیا اور آپ کی تحریر کی بدولت علماے کبارپراشاعت کے ساتھ تکفیر ہونے لگی۔ آپ صاحبوں کو اللہ تعالیٰ نے دولت علم وفضل سے مشرف ومکرم کیا ہے، مجھ جیسے کوکچھ نصیحت ووصیت کرنی حکمت بہ لقمان آموختن کی مثل ہے، لیکن بباعث جوش محبت وبمقتضاے جذب یک جہتی اپنی ناقص عقل کے موافق بنظر خیرخواہی-الدین النصیحۃ-، ولایومن أحدکم حتیٰ لایحب لأخیہ ما یحب لنفسہ-کچھ تحریر کرنا ضرور ہوا…۔
عزیزم! یہ نہایت تعجب کی بات ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ تو اپنے کو برسرصواب وحق وہدایت کے سمجھے اور دنیا کے علما وصلحا کوجمہور وسوادِ اعظم کو خطا وناحق وضلالت پر جانے۔ کیا انسان سے خطا وغلطی نہیں ہوتی! تو یہ انصاف کی بات ہے کہ جو کچھ زبان وقلم سے نکل جائے اُس کی تائید میں عمر بھر اپنی ہمت مصروف کردی جائے! دیانت وحقانیت وعند اللہ وعند الناس بڑی قدروبڑی کمال کی یہ بات ہے کہ جب اپنے قول کی غلطی ظاہر ہوجائے تو اُس سے رجوع کیا جائے…۔
عزیزم! بہت بڑا شرک اللہ تعالیٰ اور رسول کے احکامِ مقدس میں اپنی خواہش نفس کو شریک کرنا ہے، اور اپنے نفس کے مطابق احکام شریعت کی تاویل کرنا، نفس کو شریعت کے تسلیم ومتبع کرنا سچا اسلام ہے واطاعت احکام الٰہی میں نفس کو فنا کرنا عالی مقام ہے۔ آپ علما چراغِ ہدایت ہوکہ سب لوگ آپ صاحبوں سے نور حاصل کریں بشرطیکہ دودِ نفسانیت سے اس میں ظلمت کو راہ نہ ہو۔
عزیزم! جاے غور ہے کہ جب ایک عالم معتمد علیہ ومقتداے وقت ہو اور خلق اللہ اُس کی ہدایت وفیوضِ ظاہر وباطن سے مستفیض اور ہزاروں فائدوں سے مستفید ہوتے ہوں پس ایسے عالم ہادی زماں کو ایک ایسے مسئلہ غیر ضروری کا اظہارواشاعت جس کے فہم کا عوام متحمل نہ ہوسکے اوراس کے باعث خلق میں انتشار پیدا ہوکر مخالف وبدظن وبدعقیدت ہوجائیں اور اس کے فیوض وفوائدعظیمہ وبرکاتِ ظاہر وباطن سے محروم ہوجائیں تو کتنے بڑے نقصان وضررِ عظیم کا باعث ہے اور مصلحت وقت کے خلاف ہے۔
عزیزم! اس مسئلہ خلاف عقائد علماے جمہور کو باربار لکھ کر یہاں تک بدنام کردیا کہ جن علما کا نام بڑے اَدب وعزت سے لیا جاتا تھا اور ہر قول وعمل مستند عالم تھا (ان کی) تحقیر نے تکفیر تک کی نوبت پہنچائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔اور ان وجوہ سے اب لوگ (علماے) دیوبند وغیرہ کے بھی مخالف ودشمن بن گئے اور اس کی خرابی کا منصوبہ وتدبیر کرنے لگے…۔
دیکھو ہندوستان میں سینکڑوں مذاہب کفریہ وعقائد باطلہ مخالف دین و بیخ کَنِ اسلام ظاہرہوتے جاتے ہیں اور کیسے کیسے شبہات الزام واعتراض شہادت و شبہات وشکوک مذہب اسلام پر وارد کرتے جاتے ہیں پس ایسے وقت میں آپس کے مجادلہ کی جگہ اس کی تردید کرنی چاہیے اور قرآن شریف کی خوبیاں و فضائل اور رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم-کے محامدومکارم اخلاق ومحاسن اوصاف کو ہر مقام وہرشہروقریہ میںنہایت زوروشورسے مشتہرکرناچاہیے۔ ایسے وقت میں رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم-کے محامدواوصاف و مکارم اخلاق کو مشتہرواشاعت عام کرنے کے لیے ہر مقام میں مجلس میلاد شریف کاچرچا بڑاعمدہ ذریعہ و مستحسن وسیلہ ہے…‘۔(۱۸)
جس جماعت کے بانیان کے رشحاتِ فکروقلم سے خود اُن کے سیدالطائفہ اور شیخ المشایخ کا دل آزردہ ہونے سے نہ رہ سکا، جو جیتے جی اپنے پیر ومرشد کی ہدایتوں سے بغاوت کرتے رہے، اُس کی روشِ فکرواعتقاد سے برگشتہ رہے، اور جن کی ہٹ دھرمیوں اور کہہ مکرنیوں سے شیخ کا دل سدا کڑھتا رہا بھلا اُن کے شعلہ زبان وبیان سے اَوروں کا گلشن اِعتقاد ونظر کب اور کیسے محفوظ رہ سکتا ہے!، نیز یہ کہ ایسے بدنصیب مرید‘ شیخ کے روحانی فیوض وبرکات اور توجہات کے کیوں کر حق دار بن سکتے ہیں!!۔ کیوں کہ فیض توملتا ہے اَدب کی راہ سے ، اور انھوں نے مسلک ومرضیِ شیخ کے خلاف چل کر بابِ اَدب خود اپنے اوپر بند کرلیا، نتیجتاً ازلی شقاوت وسرمدی محرومی اُن کا نصیب بن گئی۔اور مرتے دم اپنے موقف وقول سے رجوع کی توفیق اُن کے رفیق حال نہ ہوئی۔اللہ پاک ہمیں کتاب وسنت کی تعلیمات پر چلتے ہوئے اپنے اکابر واَسلاف کے نقش قدم پر جادہ پیمافرمائے، اورنفس واَناکی پیروی سے ہمیشہ محفوظ ومامون فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) دل دریا سمندر، از واصف علی واصف:۵۰۔
(۲) نوادراِمدادیہ، ازپروفیسر نثار احمد فاروقی:ص ۷مطبوعہ:حضرت سید محمد گیسو دراز تحقیقاتی اکیڈمی،گلبرگہ، کرناٹک۔
(۳) نوادراِمدادیہ، ازپروفیسر نثار احمد فاروقی:ص ۷،۱۵مطبوعہ:حضرت سید محمد گیسو دراز تحقیقاتی اکیڈمی،گلبرگہ، کرناٹک۔
(۴) فیصلہ ہفت مسئلہ، مشمولہ کلیات امدادیہ،ص۱۰۵، مکتبہ تھانوی، دیوبند۔
(۵) تفصیل کے لیے دیکھٔے (الف) انوار ساطعہ، ص۔۔۔۔۔ (ب) تقدیس الوکیل ،ص۴۴۴۔ (ج)الدر المنظم ، ص۱۴۶، ناشر صاحب زادہ محمد ابو بکر نقشبندی، شرق پور شریف، شیخو پورہ ، پاکستان۔
(۶) (الف)نزہۃ الخواطر،ج۸/ص (ب) انگریز نوازی کی حقیقت: ص۳۷، دار القلم، دہلی۔
(۷) تذکرۂ علماے اہل سنت ، مولانا محمود احمد قادری ،ص: ۱۶۷، مطبوعہ سنی دارالاشاعت ، فیصل آباد، پاکستان ، ۱۹۹۲ء ۔
(۸) مفتی صدر الدین آزردہؔ ، از عبد الرحمن پرواز اصلاحی ، ص ۱۲۹، مکتبہ جامعہ نئی دہلی طبع اول ، جولائی ۱۹۷۷ء ۔
(۹) (الف) مصدر سابق (ب) تذکرہ علماے اہل سنت از مولانا محمود احمد قادری ، ص ۱۶۸، (ج) ’’ایک مجاہد معمار ‘‘ بحوالہ بائبل سے قرآن تک ‘‘ص ۱۶۷۔
(۱۰) مفتی صدر الدین آزردہؔ، از عبد الرحمان پرواز،ص۱۲۹۔
(۱۱) تلامذۂ غالب: ۸۵-۸۶مطبوعہ ۱۹۸۴ء۔
(۱۲) نوادرِ امدادیہ:ص۶۸مقدمہ از: پروفیسرنثار احمد فاروقی۔
(۱۳) نفس مصدر:۷۶مکتوب نمبر۴۔ازمکہ معظمہ ۱۷؍ محرم ۱۳۰۷ھ۔
(۱۴) نفس مصدر: ص۱۶۲مکتوب ازمکہ:۲۲،مورخہ۱۱؍ربیع الآخر ۱۳۰۹ھ۔
(۱۵) نفس مصدر: ص۱۳۴مکتوب ازمکہ:۱۶،مورخہ ۲۲؍صفر ۱۳۰۸ھ۔
(۱۶) نفس مصدر: ص۱۸۶،مکتوب ازمکہ:۲۹۔
(۱۷) نفس مصدر: ص۱۵۴مکتوب ازمکہ:۲۰،مورخہ ۱۴؍صفر ۱۳۰۹ھ۔
(۱۸) نفس مصدر: ص۱۰۴مکتوب ازمکہ:۱۰،مورخہ ۱۳؍ذی قعدہ ۱۳۰۷ھ۔
٭ حاجی صاحب کے تذکرے کے لیے دیکھیں: نزہۃ الخواطر، ج۸/ص۱۶۰-۱۶۲۔ (ج)انوارِ ساطعہ،ص (د) تقدیس الوکیل، از مولانا غلام دستگیر قصوری، ص۴۱۵، مطبوعہ نوری بک ڈپو، لاہور۔ (ہ) انگریز نوازی کی حقیقت، از مولانا یٰسین اختر مصباحی،ص۳۸، مطبوعہ دار القلم، دہلی، ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا عبد السمیع رام پوری کے کچھ احوال مقدمہ انوار ساطعہ،مطبوعہ رضوی کتاب گھر، نئی دہلی، مرقومہ مولانا نفیس احمد مصباحی سے لیے گئے ہیں،اور اس میں حسب ضرورت بہت سے مفید اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ -قادری چریاکوٹی-
نوٹ: مضمونِ بالا اَصلاً ’نوادرِ امدادیہ‘ کے نوادر وجواہر کو آشکارا کرنے کے لیے لکھاگیا ہے۔ یہ کتاب قلمی نسخے کے عکس کے ساتھ پروفیسر نثار احمد فاروقی صاحب نے بڑے اہتمام اور ایک جان دار مقدمے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ہمارے علم میں اس کا ایک ہی ایڈیشن گل برگہ شریف سے شائع ہوا۔ ضرورت ہے کہ اس کی مکرر، سہ کرر اِشاعت ہو اور اہل علم وصاحبانِ فکر اس نادر علمی سرمایے سے اِستفادہ کریں اور جو لوگ غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اپنا اِعتقاد خراب کرچکے ہیں وہ بھی اپنے نظریات پر نظرثانی کریں۔ واللہ الموفق والہادی الی سواء الصراط۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!