سال بھر کی نیکیاں برباد

سال بھر کی نیکیاں برباد

Advertisement
حضرتِ سیَّدُنا عبدُ اللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہُماسے َمروی ہے کہ نبیوں کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سردارِ دو جہان، محبوبِ رحمن عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے،” بے شک جنّت ماہِ رَمَضان کیلئے ایک سال سے دوسرے سال تک سجائی جاتی ہے،پس جب ماہِ رَمَضان آتا ہے تو جنّت کہتی ہے،” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے اِس مہینے میں اپنے بندوں میں سے (میرے اندر ) رہنے والے عطا فرمادے۔”اور حُورِعین کہتی ہیں، ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اِس مہینے میں ہمیں اپنے بندوں میں سے شوہر عطا فرما۔”پھر سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا، ”جس نے اِس ماہ میں اپنے نفْس کی حِفاظت کی کہ نہ تو کوئی نَشہ آور شَے پی اور نہ ہی کسی مؤمِن پر بُہتان لگایا اور نہ ہی اِس ماہ میں کوئی گُناہ کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ ہررات کے بدلے اِسکا سوحُوروں سے نکاح فرمائے گااور اسکے لئے جنّت میں سونے،چاندی،یاقُوت اور زَبَرجَد کا ایسا مَحَل بنائے گا کہ اگر ساری دُنیا جَمْع
ہوجائے اور اِس مَحَل میں آجائے تو اس مَحَل کی اُتنی ہی جگہ گھیرے گی جتنا بکریوں کا ایک باڑہ دُنیا کی جگہ گھیرتا ہے،اور جس نے اِس ماہ میں کوئی نَشہ آور شَے پی یا کسی مؤمِن پر بُہتان باندھا یا اِس ماہ میں کوئی گُناہ کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ اسکے ایک سال کے اَعمال برباد فرما دے گا۔ پس تم ماہِ رَمَضان (کے حق) میں کوتاہی کرنے سے ڈرو کیونکہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے گیارہ مہینے کردئیے کہ ان میں نِعمتوں سے لُطف اندوز ہو اور تَلَذُّذ (لذّ ت) حاصِل کرو اور اپنے لئے ایک مہینہ خاص کرلیا ہے۔ پس تم ماہِ رَمَضان کے مُعاملے میں ڈرو۔” ( المعجم الاوسط ج۲ص۴۱۴حدیث۳۶۸۸)
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا جہاں ماہِ رَمَضانُ المبارَک کی تعظیم کرنے والوں کیلئے اُ خْروی اِنعامات وکرامات کی بِشارَات ہیں وہاں اِس مبارَک مہینے کی ناقَدْری کرتے ہوئے اِس میں گناہ کرنے والوں کیلئے وَعید ات بھی ہیں۔ اِس حدیثِ پاک میں نَشہ آور چیز پینے اور مؤمِن پر بُہتان باندھنے کا خُصُوصیّت کے ساتھ تذکِرہ ہے یاد رکھئے ! شراب اُمُّ الْخَبائِث (یعنی بُرائیوں کی ماں ہے) اِس کا پینا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔حضرت سَیِّدُنا جابِررضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے ،سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، ”جو چیز زیادہ مِقدار میں نَشہ لائے تو اُس کی تھوڑی سی مِقدار بھی حرام ہے۔”
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!