Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قرض کہہ کر زکوٰۃ دینے والا

     قرض کہہ کر کسی کو زکوٰۃ دی ،ادا ہوگئی ۔پھرکچھ عرصے بعد وہی شخص اس زکوٰۃ کو حقیقۃً قرض سمجھ کر واپس کرنے آیا تودینے والا اسے واپس نہیں لے سکتا ہے اگرچہ اس وقت وہ خود بھی محتاج ہو کیونکہ زکوٰۃ دینے کے بعد واپس نہیں لی جاسکتی ،
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ”صدقہ دے کر واپس مت لو ۔”
 (صحیح البخاری ،کتاب الزکوٰۃ ،باب ھل یشتری صدقتہ ،الحدیث،۱۴۸۹، ج۱، ص۵۰۲)
(فتاویٰ امجدیہ ،حصہ اول ،ص۳۸۹)
چھوٹے بچے کو زکوٰۃ دینا
    مالک بنانے میں یہ شرط ہے کہ لینے والا اتنی عقل رکھتا ہو کہ قبضے کو جانے دھوکہ نہ کھائے ۔چنانچہ چھوٹے بچے کو زکوٰۃ دی اور وہ قبضے کو جانتا ہے پھینک نہیں دیتا تو زکوٰۃادا ہوجائے گی ورنہ نہیں یا پھر اس کی طرف سے اس کا باپ یا ولی یا کوئی عزیز وغیرہ ہو جو اس کے ساتھ ہو ،قبضہ کرے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اور اس کا مالک وہ بچہ ہوگا ۔
 (الدر المختاروردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۰۴ملخصاً)
زکوٰۃ کی نیت سے مکان کا کرایہ معاف کرنا
     اگر رہنے کے لئے مکان دیا اور کرایہ معاف کردیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ ادائیگیئ زکوٰۃ کے لئے مالِ زکوٰۃ کا مالک بناناشرط ہے جبکہ یہاں محض رہائش کے نفع کا مالک بنایا گیا ہے ،مال کا نہیں ۔
    ہاں! اگر کرائے دار زکوٰۃ کا مستحق ہے تو اسے زکوٰۃ کی رقم بہ نیتِ زکوٰۃ دے کر اسے مالک بنا دے پھر کرائے میں وصول کرلے، زکوٰۃادا ہوجائے گی ۔
 (ماخوذ از بحرالرائق،کتاب الزکوٰۃ ،ج۲،ص۳۵۳)
error: Content is protected !!