ختم قرآن اور رِقت

ختم قرآن اور رِقت

جہاں تراویح میں ایک بار قراٰنِ پاک کی تلاوت کی جائے وہاں بہتر یہ ہے کہ ستائیویں شب کو خَتمْ کریں ۔ رقّت و سوز کے ساتھ اِختِتام ہو اور یہ اِحساس دل کو تڑپا کر رکھ دے کہ میں نے صحیح معنوں میں قراٰنِ پاک پڑھا یاسنا نہیں،کوتاہیاں بھی ہوئیں،دل جَمعْی بھی نہ رہی،اِخلاص میں بھی کمی تھی۔صد ہزار افسوس!
دُنیوی شخصیت کا کلام تو توجُّہ کے ساتھ سنا جاتا ہے مگر سب سے کے خالِق و مالِک اپنے پیارے پیا رے اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کا پاکیزہ کلام دھیان سے نہ سنا،ساتھ ہی یہ بھی غم ہو کہ افسوس ! اب ماہِ رَمَضانُ الْمُبارَک چند گھڑیوں کا مِہمان رَہ گیا ،نہ جانے آئند ہ سال اس کی تشریف آوَری کے وَقت اس کی بہاریں لوٹنے کیلئے میں زندہ رہوں گایا نہیں!اِس طرح کے تصوُّرات جما کر اپنی لا پرواہیوں پر خود کو شرمندہ کرے اور ہو سکے تو روئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی سی صورت بنائے کہ اچھّوں کی نَقْل بھی اچّھی ہے۔اگر کسی کی آنکھ سیمَحَبَّتِ قراٰن و فِراقِ رَمَضان میں ایک آدھ قطرہئ آنسو ٹپک کر مقبولِ بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہو گیا تو کیا بعید کہ اُسی کے صَدْقے خدائے غفّار عَزَّوَجَلَّ سبھی حاضِرین کو بخش دے۔
لاج رکھ لے گنہگاروں کی
نام ر حمٰن ہے تِرا یا ربّ !
        عیب میرے نہ کھول مَحشر میں
نام ستّار ہے تِرا یاربّ !
       بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل
نام غفّار ہے تِرا یاربّ !
                         تو کریم اور کریم بھی ایسا  
                       کہ نہیں جس کا دوسرا یاربّ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *