اسلام

مکریا خداع کے معنی اور ان کی پہچان

    الف: ”مکر ”یا ”خداع” کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتو اس کے معنے دھوکہ یا فریب نہ ہوں گے کیونکہ یہ عیب ہیں بلکہ اس کے معنی ہوں گے دھوکے کی سزا دینا یا خفیہ تدبیر کرنا ۔
    ب:جب اس کی نسبت بندوں کی طر ف ہو تو مکر کے معنی دھوکہ ، مکاری ، دغا بازی اور خداع کے معنی فریب ہوں گے ۔ ان دونوں کی مثالیں یہ ہیں ۔
(1) یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ
وہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں او ررب انہیں سزادے گا (پ5،النسآء:142) یا رب ان پر خفیہ تدبیر فرمائے گا ۔
(2) یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا یَخْدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ
منافقین دھوکہ دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور مسلمانوں کو اور نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنی جانوں کو۔(پ1،البقرۃ:9)
(3) وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾
اور منافقوں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے خلاف خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ تمام تدبیر یں کرنے والوں میں بہتر ہے ۔(پ3،ال عمرٰن:54)
ان تمام آیتوں میں جہاں مکر یا خدا ع کا فاعل کفار ہیں ۔ اس سے مراد دھوکا فریب ہے او رجہاں اس کا فاعل رب تعالیٰ ہے وہاں مراد یا تو مکر کی سز اہے یا خفیہ تدبیر۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!