Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہے

بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہے

ملک العلماء حضرت علامہ علاء الدین ابوبکربن مسعود کاسانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں کہ :
’’رُوِیَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَصَلَّی بِہِمْ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً، وَلَمْ یُنْکِرْعَلَیْہِ أَحَدٌ فَیَکُونُ إجْمَاعًا مِنْہُمْ عَلَی ذَلِک‘‘(1)
یعنی مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رمضان کے مہینہ میں صحابہ کرام کو حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جمع فرمایا تو وہ روزانہ صحابہ کرام کو بیس رکعت پڑھاتے تھے اور ان میں سے کسی نے مخالفت نہیں کی تو بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہوگیا۔ (بدائع الصنائع ، جلد اول ، ص۲۸۸)
اور عمدۃ القاری شرح بخاری جلد پنجم ص:۳۵۵میں ہے :
’’ قَالَ ابْنُ عَبْدِالبرِ وَھُوَ قَوْلُ جُمْھورِ الْعُلَمَاء وَبِہِ قَالَ الْکُوْفِیُوْنَ وَالشَّافِعِیُّ وَأَکْثَر الفُقَھَائِ وَھُوَالصَّحِیْحُ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ مِنْ غَیْرِ خِلَافٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ‘‘(2)
یعنی علامہ ابن عبدالبر نے فرمایا کہ ( بیس رکعت تراویح) جمہور علماء کا قول ہے ۔ علمائے کوفہ ، امام شافعی اور اکثر فقہاء یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے ۔ ابی بن کعب سے منقول ہے اس میں صحابہ کا اختلاف نہیں۔
اور علامہ ابنِ حجر نے فرمایا ’’إِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ عَلَی أَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً‘‘ یعنی صحابۂ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے ۔ اور مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے :
وَہِیَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَۃِ۔ (3)
یعنی تراویح بیس رکعت ہے اِس لیے کہ اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے ۔

اور مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول ص:۱۷۵ میں لکھتے ہیں:
’’ ثَبَتَ اِھْتِمَامُ الصَّحَابَۃِ عَلَی عِشْرِیْنَ فِی عَھْدِ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِیٍّ فَمنْ بَعْدَھُمْ أَخْرَجَہُ مَالِکٌ وَابْنُ سَعْدٍ وَالْبَیْھَقِی وَغُیْرُھُمْ ‘‘۔ (1)
یعنی حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی صحابہ کرام کا بیس رکعت تراویح پر اہتمام ثابت ہے اس مضمون کی حدیث کو امام مالک، ابن سعد، اور امام بیہقی وغیرہم نے تخریج کی ہے ۔
اور مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی تحریر فرماتے ہیں۔ أَجْمَعَ الصَّحَابَۃُ عَلَی أَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً یعنی صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے ۔ (2) (مرقاۃ، جلد دوم، ص۱۷۵)

٭…٭…٭…٭

امام ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’ أَکْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَعُمَرَوَغَیْرِہِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیِّ و قَالَ الشَّافِعِیُّ ہَکَذَا أَدْرَکْتُ بِبَلَدِنَا بِمَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً‘‘۔ (1)
یعنی کثیر علماء کا اسی پر عمل ہے جو حضرت مولیٰ علی حضرت فاروق اعظم اور دیگر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے بیس رکعت تراویح منقول ہے ۔ اور سفیان ثوری ، ابن مبار ک اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ م بھی یہی فرماتے ہیں کہ ( تراویح بیس رکعت ہے ) اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے شہر مکہ
شریف میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھتے ہوئے پایا ہے ۔ (ترمذی، باب قیام شھر رمضان، ص ۹۵)
اور مُلّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرح نقایہ میں تحریر فرماتے ہیں:
فَصَارَ إِجْمَاعاً لِمَا رَوَی الْبَیْہَقِی بِإِسْنَادٍ صَحِیْحٍ کَانُوْا یُقِیْمُونَ عَلَی عَھْدِ عُمَرَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَعَلَی عَھْدِ عُثْمَانَ وَعَلِیٍّ۔ (2)
یعنی بیس رکعت تراویح پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔ اس لیے کہ امام بیہقی نے صحیح اسناد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم ، حضرت عثمانِ غنی اور حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقدس زمانوں میں صحابہ کرام اور تابعین عظام بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے ۔ اور طحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۲۲۴میں ہے :
’’ ثَبَتَ الْعِشْرُوْنَ بِمُوَاظَبَۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ مَاعَدَا الصدیق رضی اللہ تعالَی عنہم‘‘۔ (3)
یعنی حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے علاوہ دیگر خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مداومت سے بیس رکعت تراویح ثابت ہے ۔

اور علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں:
’’وَہِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃً ہُوَ قَوْلُ الْجُمْہُورِ وَعَلَیْہِ عَمَلُ النَّاسِ شَرْقًا وَغَرْبًا‘‘۔ (1)
یعنی تراویح بیس رکعت ہے یہی جمہور علماء کا قول ہے اور مشرق و مغرب ساری دنیا کے مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے ۔ (شامی، جلد اول، مصری ص۱۹۵)
اور شیخ زین الدین ابن نجیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں:
’’ ہُوَ قَوْلُ الْجُمْہُورِ لِمَا فِی الْمُوَطَّإِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ کَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِینَ رَکْعَۃً وَعَلَیْہِ عَمل النَّاسُ شَرْقًا وَغَرْبًا‘‘۔ (2)
یعنی بیس رکعت تراویح جمہور علماء کا قول ہے اس لیے کہ مؤطا امام مالک میں حضرت یزید بن رومان رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانہ میں صحابہ کرام تئیس رکعت پڑھتے تھے ۔ ( یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر) اور اِسی پر ساری دنیاکے مسلمانوں کا عمل ہے ۔ (بحرالرائق، جلد دوم ، ص ۶۶) اور عنایہ شرح ہدایہ میں ہے :
’’ کَانَ النَّاسُ یُصَلُّونَہَا فُرَادَی إلَی زَمَنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، فَقَالَ عُمَرُ إنِّی أَرَی أَنْ أَجْمَعَ النَّاسَ عَلَی إمَامٍ وَاحِدٍ، فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَصَلَّی بِہِمْ خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ‘‘۔ (3)
یعنی حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شروع زمانہ خلافت تک صحابہ کرام تراویح الگ الگ پڑھتے تھے بعد ہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ایک امام پر صحابۂ کرام کو جمع کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر صحابہ کرام کو جمع فرمایا۔ حضرت اُبی نے لوگوں کو پانچ ترویحہ بیس رکعت پڑھائی۔ اور کفایہ میں ہے :
’’کَانَتْ جُمْلَتُھَا عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَھَذَا عِنْدَنَا وَعِنْدَالشَّافِعی‘‘.(4)
یعنی تراویح کل بیس رکعت ہے ۔ اور یہ ہمارا مسلک ہے ۔ اور یہی مسلک امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بھی ہے ۔

اور بدائع الصنائع جلد اول ص:۲۸۸ میں ہے :
’’أَمَّا قَدْرُہَا فَعِشْرُونَ رَکْعَۃً فِی عَشْرِ تَسْلِیمَاتٍ، فِی خَمْسِ تَرْوِیحَاتٍ کُلُّ تَسْلِیمَتَیْنِ تَرْوِیحَۃٌ وَہَذَا قَوْلُ عَامَّۃِ الْعُلَمَاء‘‘(1)
یعنی تراویح کی تعداد بیس رکعت ہے ۔ پانچ ترویحہ دس سلام کے ساتھ ، ہر دو سلام ایک ترویحہ ہے ۔ اور یہی عام علماء کا قول ہے ۔
اور امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں وَھِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃً یعنی تراویح بیس رکعت ہے ۔ (2) (احیاء العلوم، جلد اول ص ۲۰۱)
اور شرح وقایہ جلد اول ص:۱۷۵میں ہے ’’ سُنَّ التَّرَاوِیْحُ عِشرُوْنَ رَکْعَۃً ‘‘ یعنی تراویح بیس رکعت مسنون ہے ۔ (3) اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص ۱۰۸ میں ہے ۔
’’وَہِیَ خَمْسُ تَرْوِیحَاتٍ کُلُّ تَرْوِیحَۃٍ أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ بِتَسْلِیمَتَیْنِ کَذَا فِی السِّرَاجِیَّۃ‘‘(4)
یعنی تراویح پانچ ترویحہ ہے ، ہر ترویحہ چار رکعت کا دو سلام کے ساتھ، ایسا ہی سراجیہ میں ہے ۔
اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں۔
’’ عَدَدُہُ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً‘‘(5) یعنی تراویح کی تعداد بیس رکعت ہے ۔ (حجۃ اللہ البالغہ ، جلد دوم، ص ۱۸)
٭…٭…٭…٭

____________

____________________
1 – ’’عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ‘‘، باب بیان سنیۃ التراویح وتعداد رکعتھا، ص۲۰۷.
2 – ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان، الحدیث: ۱۳۰۳، ج۳، ص۳۸۲.

________________________________
1 – ’’بدائع الصنائع‘‘، کتاب الصلاۃ، فصل فی مقدار التراویح، ج۱، ص۶۴۴.
2 – ’’عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘، کتاب التراویح، باب فضل من قام رمضان، ج۸، ص۲۴۶.
3 – ’’مراقی الفلاح شرح نور الایضاح‘‘، کتاب الصلاۃ، فصل فی صلاۃ التراویح، ص:۲۴۴.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!