Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے اور کس سے نہیں

کس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے اور کس سے نہیں

بارش، سمندر، دریا، ندی، نالے، چشمے، کنویں ، بڑے حوض اور بڑے تالاب اور بہتا ہو اپانی اولا اور برف ان سب پانیوں سے وضو اور غسل اورہر قسم کی طہارت جائز ہے۔

بہتے ہوئے پانی کی تعریف اور اَحکام

بہتا ہوا پانی وہ ہے جو تنکے کو بہالے جائے یہ پاک اور پاک کرنے والا ہے نجاست پڑنے سے ناپاک نہ ہوگا، جب تک یہ نجاست اس کے رنگ یا بو یا مزے کو نہ بدل دے اگر نجس چیز سے رنگ یا بو یا مزہ بدل گیا تو ناپاک ہوگیا اب یہ اس وقت پاک ہوگاکہ نجاست نیچے تہ میں بیٹھ جائے اور یہ تینوں باتیں ٹھیک ہوجائیں یا اتنا پاک پانی ملے کہ نجاست کو بہالے جائے، یا پانی کے رنگ، بو، مزے ٹھیک ہوجائیں اور اگر پاک چیز نے رنگ، بو، مزے کو بدل دیا تو وضو و غسل اُس سے جائز ہے جب تک چیز دیگر نہ ہوجائے۔

مسئلہ۱۰: بڑے حوض اور دہ دردہ کی تعریف اور احکام

دس ہاتھ لمبا، دس ہاتھ چوڑا،پانی جس حوض یا تالاب میں ہو وہ دَہ دَردَہ یا بڑا حوض کہلاتا ہے، یوہیں اگر بیس ہاتھ لمبا اور پانچ ہاتھ چوڑا ہو یا پچیس ہاتھ لمبا اور چار ہاتھ چوڑا ہو، غرض کل لمبائی چوڑائی کا حاصل ضرب سو ہو اور اگر گول ہو تو گولائی تقریباً ساڑھے پینتیس ہاتھ ہو اور گہرائی اِتنی کافی ہو کہ اِتنی سطح میں کہیں سے زمین کھلی نہ ہو، ایسے حوض کا پانی بہتے پانی کے حکم میں ہے، نجاست پڑنے سے ناپاک نہ ہوگا، جب تک نجاست کی وجہ
سے رنگ یا بو یا مزہ نہ بدل جائے۔
مسئلہ۱۱: بڑے حوض میں ایسی نجاست پڑی جو دکھائی نہ دے جیسے شراب پیشاب تو اس میں ہر طرف سے وضو کرسکتے ہیں اور اگر دیکھنے میں آتی ہو جیسے پاخانہ یا مرا ہوا جانور تو جس طرف وہ نجاست ہے اس طرف وضو نہ کرنا بہتر ہے دوسری طرف وضو کرے۔
مسئلہ۱۲: بڑے حوض میں ایک ساتھ بہت سے لوگ وضو کرسکتے ہیں اگرچہ وضو کا پانی اس میں گرتا ہو، لیکن ناک تھوک کھکھار کلی اس میں نہ ڈالنا چاہیے کہ نظافت (1) کے خلاف ہے۔

مَائِ مستعمل اور غسالہ کے اَحکام

جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وضو اور غسل جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۳: اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا اُنگلی یا پورا یا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہے، بقصد یا بلا قصد دَہ دَردَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے لائق نہ رہا، اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی حصہ بلا دُھلا ہوا پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حر َج نہیں ۔

مَاء مستعمل کو کام میں لانے کا حیلہ

پانی میں ہاتھ پڑ گیا اور کسی طرح مستعمل ہوگیا اب یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہوجائے تو اچھا پانی اس سے زیادہ اس میں ملادیں اور اس کا یہ طریقہ بھی ہے کہ اس میں ایک طرف سے پانی ڈالیں اور دوسری طرف سے بہہ جائے تو سب پانی کام کا ہوجائے گا۔
مسئلہ۱۴: چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں پانی ہے اور اس میں نجاست پڑنا معلوم نہیں تو اس سے وضو جائز ہے۔

پانی کے بارے میں کافر کی خبر کا حکم

کافر کی خبر کہ یہ پانی پاک ہے یا ناپاک ہے دونوں صورتوں میں پاک رہے گاکہ یہ اس کی اصلی حالت ہے۔
مسئلہ۱۵: کسی درخت یا پھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو جائز نہیں جیسے کیلے یا تربوز کا پانی اور گنے کا رس۔
مسئلہ۱۶: جس پانی میں تھوڑی سی کوئی چیز مل گئی جیسے گلاب، کیوڑہ، زعفران ، مٹی، بالو (1) تو اس سے وضو و غسل جائز ہے۔
مسئلہ۱۷: کوئی رنگ یا زعفران پانی میں پڑ گیا کہ کپڑے رنگنے کے قابل ہوگیا تو اس سے وضو و غسل جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۸: پانی میں دودھ پڑ گیا کہ دودھ کے ایسا رنگ ہوگیا تو وضو و غسل جائز نہیں ۔

________________________________
1 – نظافت :پاکیزگی ، صفائی۔ (۱۲منہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!