Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

امیر کی سخاوت

حکایت نمبر 405: امیر کی سخاوت

حضرتِ سیِّدُنا ابوحَسَّان زِیَادِی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا بیان ہے: ایک دن میں مسجد میں تھاکہ بہت تیز بارش ہوئی اچانک مجھے وہاں ایک شخص نظر آیا جو بہت پریشان لگ رہا تھا۔جب میں نیچے دیکھتا تو وہ میری جانب دیکھنے لگ جاتا پھرجب میں اسے دیکھتا تو وہ گردن جھکا لیتا۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا۔ بالآخر میں نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا:” بھائی ! تم کون ہو ؟ ” اس نے کہا:” میں ایک مصیبت زدہ، مجبور شخص ہوں۔ شدید بارش نے میرا مکان گرا دیا ہے اب میں اسے دوبارہ بنانے کی قدرت نہیں رکھتا۔” مجبور مسافر کی درد بھری داستان سن کر میں اس کے بارے میں متفکر ہوگیا اور سوچنے لگا کہ ایسا کون ہے جو اس کی مدد کرسکے۔ اچانک میرے دل میں امیر غَسَّان بن عَبَّاد کا خيال آیا۔
چنانچہ، میں اس مجبور مسافر کو لے کر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس پہنچااور ساراماجرا کہہ سنایا۔ اس نے کہا: ”اس مسافر کے لئے میرے دل میں ہمدردی پیداہوگئی ہے۔ میرے پاس دس ہزار درہم ہیں، میں چاہتا ہوں کہ یہ رقم اسے دے دوں۔” غَسَّان بن عَبَّاد کی یہ بات سن کر میں باہر آگیا اور اس غریب و مجبورمسافر کو دس ہزار درہم ملنے کی خوشخبری سنائی تووہ سنتے ہی خوشی کے مارے بے ہوش ہوگیا۔ لوگوں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے: ”تم نے اسے ایسی کون سی تکلیف دہ خبر سنائی ہے کہ جس کی تاب نہ لا کر یہ مسافر بے ہوش ہوگیا ہے؟” میں جواب دیئے بغیر واپس غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس آیا اور مسافر کی بے ہوشی کے متعلق خبر دی۔ اس نے مسافر کو اپنے پاس بلوایا اس کے منہ پر عرقِ گلاب کے چھینٹے مارے تواسے ہوش آگیا۔ میں نے کہا :” تیرا بھلا ہو، تو بے ہوش کیوں ہوگیا تھا۔” کہا: ” خوشی کی وجہ سے۔” پھر ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ غَسَّان نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا: ”اس مسافر کے متعلق میرے دل میں بہت ہمدردی پیدا ہوگئی ہے ۔”میں نے کہا:” آپ کا کیا ارادہ ہے ؟” کہا: ” جاؤ اور ہماری طرف سے اسے سواری پیش کرو۔”
میں مسافر کے پاس آیا اور کہا: ” اے میرے بھائی! بے شک امیر غَسَّان بن عَبَّادنے تمہارے متعلق کچھ حکم صادر کیا ہے۔ اگر میں تمہیں وہ خوشخبری سناؤں تو تم مر تو نہیں جاؤ گے؟” کہا:” نہیں۔” میں نے کہا: ” تو سنو ! امیرنے تمہارے لئے ایک
گھوڑا دیا ہے ۔” مسافر نے کہا:” اللہ ربُّ العزَّت امیر کو اچھی جزا عطا فرمائے۔ ”میں پھر امیر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس آیا تو اس نے کہا: ” تُم نے اس مسافر کو میرے پاس لا کر میرے دل میں اس کے متعلق ہمدردی ڈال دی ہے، اب میں اس کے ساتھ مزید تعاون کرنا چاہتا ہوں ۔ ”میں نے کہا :” اب کیا ارادہ ہے ؟ ” کہا:” میں اس کے لئے ایک سال کے غلّے کا کفیل ہوں۔ اور عنقریب اسے سرکاری ملازمت بھی دلواؤں گا۔” میں نے امیر کی یہ بات سُنی تو اس غریب مسافر سے کہا:” امیر نے تمہارے لئے مزید کچھ اشیاء کا حکم دیا ہے۔ یہ خبر سن کر کہیں تم مر تو نہیں جاؤ گے ؟” کہا:” نہیں۔” میں نے کہا :” امیر نے عَزم کیا ہے کہ وہ تمہیں سال بھر کا غلہ دے گا اور ملازمت بھی دلوائے گا ۔”
مسافر نے کہا:” اللہ تبارک و تعالیٰ امیر کو اچھی جزا عطا فرمائے۔” پھر ہم دونوں سوار ہوئے،رقم کی تھیلیاں غلام کے حوالے کیں اور واپس آنے لگے۔ کچھ دور پہنچ کر اس مسافر نے کہا: ”یہ تھیلیاں مجھے دے دو۔” میں نے کہا :” غلام اکیلا ہی انہیں اٹھا کر چل سکتا ہے اسی کے پاس رہنے دو۔” کہا: ”اگر یہ میرے کندھے پر ہوں تو کیا حرج ہے ؟” یہ کہہ کر اس نے رقم کی تھیلیاں اپنے کندھے پر اُٹھا لیں اور شکریہ ادا کرتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔ دوسری صبح میں اس مسافر کو لے کر دوبارہ امیر غَسَّان بن عَبَّاد کے پاس گیا تو اس نے اسے بہت اچھی ملازمت دلوائی اور اپنے خاص ملازمین میں شامل کرلیا ۔ اس مسافر نے محنت و لگن سے کام کیا اور بہت ہی جلد امیر کا منظورِ نظر بن گیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!