Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جھوٹی گواہی دینا

جھوٹی گواہی دینا

کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، اس کی مذمت کرتے ہوئے سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد تین مرتبہ فرمایا: ”جھوٹی گواہی ، شرک کے برابر ہے،پھر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوۡا قَوْلَ الزُّوۡرِ ﴿ۙ۳۰﴾

ترجمۂ کنزالایمان : تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اوربچو جھوٹی بات سے۔
(پ ۱۷،الحج:۳۰)
ایک مقام پر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:”سن لو ! تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتاہوں۔ (۱)شرک(۲)والدین کی نافرمانی (۳)جھوٹی گواہی ”

(صحیح البخاری ، کتاب الادب ، رقم :۵۹۷۶،ج۴،ص۹۵)

لہذا! جب بھی کسی معاملے میں گواہی دینے کی ضرورت پیش آئے تو سچی گواہی ہی دینی چاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!