ٹوکریوں والانوجوان

ٹوکریوں والانوجوان

حضرت سیدناابوعبداللہ بلخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:” بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی پاکباز حسین وجمیل نوجوان تھا جس کے حسن کی مثال نہ تھی، وہ ٹوکر یاں بنا کر بیچا کرتا۔ اسی طرح اس کی گزر بسر ہو رہی تھی ۔ ایک روز وہ ٹوکریاں بیچتا ہوا شاہی محل کے قریب سے گزرا۔ ایک خادمہ کی اس نوجوان پر نظر پڑی تو وہ فوراً شہزادی کے پاس گئی اور اسے بتایا کہ باہر ایک نوجوان ٹوکریاں بیچ رہا ہے، وہ اِتنا خوبصورت ہے کہ میں نے آج تک ایسا خوبصورت نوجوان نہیں دیکھا۔ یہ سن کر شہزادی نے کہا:” اسے میرے پاس بلا لاؤ۔”خادمہ باہر گئی اور نوجوان سے کہا:”اندرآجاؤ۔”
(نوجوان سمجھا شایدانہیں ٹوکریاں چاہیں ) پس وہ اس کے ساتھ محل میں داخل ہوگیا ۔ وہ اسے ایک کمرے میں لے گئی جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا اس خادمہ نے دروازہ بند کردیا ، پھر اسے دوسرے کمرے میں لے گئی اور اسی طر ح اس کا دروازہ بھی بند کردیا۔ جب وہ تیسرے کمرے میں پہنچا تو اس کے سامنے ایک خوبصورت نوجوان شہزادی موجود تھی، اس نے اپنا نقاب اُٹھایا ہوا تھا اور سینہ بھی عریا ں تھا ۔ جب نوجوان نے شہزادی کو اس حالت میں دیکھا تو کہنے لگا: ”جو چیزتم نے خرید نی ہے جلدی سے خرید لو۔” شہزادی کہنے لگی:” میں نے تجھے کوئی چیز خریدنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ مَیں تو تجھ سے قُرب چاہتی ہوں اور اپنی خواہش کی تسکین چاہتی ہوں ،آؤ اور میری شہوت کو تسکین دو۔” اس پاکباز نوجوان نے کہا :” اے شہزادی !تُو اللہ عزوجل سے ڈر۔” اس نیک نوجوان نے شہزادی کو بہت سمجھا یا لیکن وہ نہ مانی او ربار بار بُرائی کا مطالبہ کرتی رہی۔ پھراس نوجوان سے کہنے لگی :” اگر تُو نے میری با ت نہ مانی تو بادشاہ کو شکایت کردو ں گی کہ یہ نوجوان برائی کے اِرادے سے محل میں گھس آیا ہے پھر تجھے بہت سخت سزا دی جائے گی، تیری بہتری اسی میں ہے کہ تُو میری بات مان لے اور میری خواہش پوری کر دے ۔” نوجوان نے پھر اِنکار کیا اور اسے نصیحت کرنے لگا بالا ۤخر جب وہ باز نہ آئی تو اس عظیم نوجوان نے کہا :” میں وضو کرنا چاہتا ہو ں، میرے لئے وضو کا انتظام کر دو۔” یہ

سن کر شہزادی بولی :” کیا تُو مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے۔ پھر اس نے خادمہ سے کہا:” اس کے لئے محل کی چھت پر وضو کا برتن لے جاؤ تا کہ یہ فرار نہ ہوسکے ۔”
چنانچہ اس نوجوان کو چھت پرلے جایا گیا۔ محل کی چھت سطح زمین سے تقریباً 40گز اونچی تھی جس سے چھلانگ لگانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جب نوجوان چھت پر پہنچ گیا تو اس نے اپنے پاک پرورد گار عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: ”اے اللہ عزوجل !مجھے تیری نافرمانی پر مجبور کیا جارہاہے اورمَیں اس برائی سے بچنا چاہتا ہوں ، مجھے یہ تو منظور ہے کہ اپنے آپ کو اس بلند و بالا چھت سے نیچے گرا دوں لیکن یہ پسند نہیں کہ میں تیری نافرمانی کر وں۔”
چنانچہ اس نے بِسْمِ اللہِ شریف پڑھ کر چھت سے چھلانگ لگادی ۔ اللہ عزوجل نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے اس نوجوان کو بازو سے پکڑا او رزمین پر بڑے سکون سے اُتا ر دیا اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہوئی نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:” اے میرے پاک پرور دگار عزوجل !اگر تُوچاہے تومجھے ان ٹوکریوں کی تجارت کے بغیر بھی رزق عطا فرماسکتا ہے۔ اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے اس تجارت سے بے نیاز کر دے ۔” جب اس نے یہ دعا کی تو اللہ ربُّ العزَّت نے اس کی طرف ایک بوری بھیجی جو سونے سے بھری ہوئی تھی ۔ اس نے بوری سے سونا بھرنا شرو ع کردیا یہا ں تک کہ اس کی چادر بھر گئی ۔پھر اس عظیم نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:” اے اللہ عزوجل !اگر یہ اسی رزق کا حصہ ہے جو مجھے دنیا میں ملنا تھا تو اس میں برکت عطا فرما او راگر یہ اس اَجر کا حصہ ہے جو مجھے آخرت میں ملنا ہے اور اس کی وجہ سے میرے آخرت کے اَجر میں کمی ہوگی تو مجھے یہ دولت نہیں چاہے۔”
جب اس نوجوان نے یہ کہا تو اسے ایک آواز سنائی دی :” یہ جو سونا تجھے عطا کیا گیا ہے یہ اس اَجر کا پچیسواں حصہ ہے جو تجھے اس گناہ سے صبر کرنے پر ملا ہے ۔”تو اس عظیم نوجوان نے کہا:” اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے ایسے مال کی حاجت نہیں جو میرے آخرت کے خزانے میں کمی کا با عث بنے۔” جب نوجوان نے یہ بات کہی تو وہ سارا سونا غائب ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!