اسلامواقعات

میں کب وفات پاؤں گا؟

میں کب وفات پاؤں گا؟

حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماارشادفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع” میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ”جہینہ”کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لئے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن

کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ مجھے تلوار مار کرمیری پیشانی اورداڑھی کو خون سے رنگین نہ کردیا جائے۔ (1) (ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۲۷۳)

تبصرہ

چنانچہ ایسا ہی ہواکہ بدبخت عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی نے آپ کی مقدس پیشانی پر تلوار چلادی، جو آپ کی پیشانی کو کاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ اس وقت آپکی زبان مبارک سے یہ جملہ ادا ہوا: فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ(یعنی کعبہ کے رب کی قسم! کہ میں کامیاب ہوگیا)اس زخم میں آپ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئے اور آپ نے حضرت ابوفضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ینبع میں جو فرمایا تھا وہ حرف بحرف صحیح ہوکررہا۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!