ہدیہ قبول کرنے سے اجتناب:

ہدیہ قبول کرنے سے اجتناب:

حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سبزی سے سحری اور افطاری کرتے۔ اکثر اوقات روٹی کو نمک سے ملا کر تناول فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک پلیٹ بطورِ ہدیہ پیش کی، اس میں سیب اور مختلف پھل رکھے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں سے کچھ کھا ئے بغیر واپس لوٹا دیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی: ”کیا نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہدیہ قبول نہ فرماتے تھے؟” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں،لیکن رسولِ اَکرم، نورِ مجسم، شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف بھیجا ہوا ہدیہ، ہدیہ تھاجبکہ ہمارے اور ہمارے بعد والوں کے لئے رشوت ہے۔” (حلیۃ الاولیاء،عمر بن عبد العزیز، الحدیث۷۲۷۷، ج۵، ص۳۲۷)

حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے نفس کو خواہشات سے باز رکھتے اور لوگوں کو عطیات سے نوازتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا خزیمہ ابومحمد عابدعلیہ رحمۃاللہ الواحد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایاکرتے تھے:”میں کسی کو مال دیتاہوں تواسے کم خیال کرتاہوں کیونکہ مجھے حیاء آتی ہے کہ اللہ عَزَّوَّجَلَّ سے اپنے بھائی کے لئے جنت مانگوں اور خود اس پر (مالِ)دُنیا میں بُخل کروں۔”

(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الاخوان،باب فی سخاء۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۶0، ج۸، ص۱۸۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *