فقہِ اِسلامی میں دَلائلِ شرعیہ کی اَقسام

فقہِ اِسلامی میں دَلائلِ شرعیہ کی اَقسام

[۱]: دَلائلِ قطعیہ: اِس سے مراد تین قسم کے دلائل ہیں۔
(۱) : قرآن حکیم (۲): سنت متواترہ (۳) : اِجماعِ اُمت
نوٹ: اِجماعِ اُمت سے مراد اُمت کے فقہاء اور مجتہدین کا اِجماع ہے نہ کہ عام لوگوں کا ۔
یہ تینوں قوی دلائل ہیں ،اَلبتہ پہلی دوقسموں میں سے کسی ایک کا بھی اِنکار کرنے والا بالاتفاق کافر ہے اور اِجماع کی چار اَقسام ہیں ۔
(۱) : جس میں تمام صحابہ کرام نے صراحۃً اِتفاق کیا ہو ،یہ اِجماع قرآن کے قائم مقام ہے ۔
(۲) : جس میں بعض صحابہ کرام نے اِتفاق کیا ہو اور بعض صحابہ کرام نے خاموشی اِختیار کی ہو ،یہ اِجماع حدیثِ متواتر کے قائم مقام ہے ۔
(۳) : تابعین اور دیگر فقہاء کا ایسی بات میں اِجماع کرنا جس بارے کسی صحابی کا قول منقول نہ ہو ،یہ اِجماع حدیثِ مشہور کے قائم مقام ہے ۔
(۴) : سلف صالحین کے کسی ایک قول پر فقہاء ومجتہدین کا اِجماع کرنا ،یہ اِجماع خبر واحد کے قائم مقام ہے ،اَب اِن میں سے پہلی دو قسموںکا اِنکار کرنے والا کافر ہے جبکہ بقیہ دو قسموں کا اِنکار کرنے والا بددین اور گمراہ ہے ۔
[۲]: دَلائلِ ظنیہ: اِس سے مراد اَحادیث میں سے اَخبارِ آحاد اور قیاس ہے ۔
جس نے اِ ن دلائل کا اِنکار کیا، وہ بد دین اور گمراہ ہے ۔

} {3 : فقہ کا موضوع

مُکلّفین کے اَفعال [ مُکلّفین سے مراد وہ لوگ جو عاقل ،بالغ اورسلامت حواس(اَعضاء) والے ہوں اور جن تک اَمر نہی اور اِباحت کی دعوت پہنچی ہو]
اور اَب ہم اَمر،نہی اور اِباحت (جائز ہونے )کی ایک ایک مثال پیش کرتے ہیں۔
1 ۔ اَمر۔ جیسے : { وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ } [ البقرہ: ۴۳]
’’ اور نماز قائم کرو ۔‘‘
2۔ نہی ۔ جیسے: { وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [ الحجرات :۱۲]
’’اور تم میں سے بعض دوسرے بعض کی غیبت نہ کریں۔‘‘
3۔ اِباحت۔ جیسے : { وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا } [ الاعراف : ۲۱]
’’ اور کھائو اور پیو۔‘‘

} {4: فقہ سے متعلق اَہم اِصطلاحات

1۔ فرض :

جو قطعی الثبوت دلیل سے ثابت ہو اور جسے جزم کے صیغہ کے ساتھ طلب کیا گیا ہو۔
تعریفِ فرض کی وضاحت
فرض وہ ہے جو ایسی دلیل سے ثابت ہو جو قطعی اور یقینی ہو اور شریعت کی طرف سے جس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہو ۔

فرض کی مثال

جیسے نماز، اِسلئے کہ اَللہ تعالیٰ نے اِس کو اَدا کرنے کا حکم دیا ہے،پس نماز ایسا فرض ہے جس کی اَدائیگی لازم ہے،اِرشاد باری تعالیٰ ہے ۔
{ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ }

’’اور نماز قائم کرو۔‘‘ [ البقرہ: ۴۳]

فرض کا حکم

جو شخص بھی نماز کی فرضیت کا اِنکار کرے تو وہ کافرہے اور عذاب اِلٰہی کا مستحق ہے۔
نوٹ: فرض اور رُکن ایک معنی میں ہیں،اَلبتہ رُکن فرض کے اَجزاء میں داخل ہے۔

شرط کی تعریف

شرط وہ ہے جس پر عمل کی درستگی موقوف ہو،جس طرح نماز کے لئے طہارت۔

2۔ واجب :

وہ ہے جو ظنی الثبوت دلیل سے ثابت ہو اور جسے صیغۂ جزم کے ساتھ طلب کیا گیا ہو۔

واجب کی مثال

جیسے : نمازوتر اور عیدین ۔

فرض اور واجب کے حکم میں فرق

اَصلِ ثواب اور مستحقِ عذاب ہونے میں فرض و واجب میں کوئی فرق نہیں، اَلبتہ حکم کے لحاظ سے یہ دونو ں مختلف ہیں ،پس فرض کے منکر کو کافر کہا جائے گا جبکہ واجب کے منکر کو کافرنہیں کہا جائے گا اور فرض چھوٹ جائے تو نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں، اَلبتہ واجب بھول کر چھوٹ جائے تو اِس کی کمی سجدۂ سہو سے پوری ہو جاتی ہے۔

3۔ سنت:

حضورا کے قول ، فعل یا تقریر (ایسا عمل جو حضور اکے سامنے کیا گیا اور حضور انے اُس سے منع
نہ کیا)کو سنت کہتے ہیں۔

سنت کا حکم

جس کے کرنے پر اِنسان کو ثواب دیا جائے اور چھوڑنے پر عذاب کی وعیدسنائی گئی ہو۔

سنت کی مثال

مسواک کا اِستعمال ،وضومیں تین بار کلی کرنااور ناک میں پانی چڑھانا۔

سنت کی اَقسام

سنت کی دو قسمیں ہیں : (۱): سنت مؤکدہ (۲): سنت غیر مؤکدہ

[۱]: سنت مؤکدہ

یہ وہ ہے جسے رسولُ اللہ انے ہمیشہ کیا ہو اور اِس کے فرض نہ ہونے پرتنبیہ کی ہو۔

سنت مؤکدہ کاحکم

اِ س کا کرنا ثواب اور کبھی کبھار چھوڑنا باعثِ عتاب اور چھوڑنے کی عادت بنانے والا مستحقِ عذاب ہے ۔

سنت مؤکدہ کی مثال

سنتِ اِعتکاف اور فجر کی دو سنتیں۔

[۲]: سنتِ غیر مؤکدہ

یہ وہ ہے جسے رسولُ اللہ انے ہمیشہ نہ کیا ہو۔

سنتِ غیر مؤکدہ کاحکم

اِ س کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مگر باعثِ عتاب نہیں ۔

سنتِ غیر مؤکدہ کی مثال

نمازِعصر اور عشاء کی پہلے کی چار چار رکعات۔

4۔ مستحب:

یہ سنت کی ہی قسم ہے مگر اِس کا رتبہ سنت کی دونوں قسموں سے کم ہے۔

مستحب کا حکم

اِس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا مگر چھوڑنے والے پر ملامت نہیں کی جائے گی۔

مستحب کی مثال

جو لباس حضورا نے پہنا، وہی پہننا، جو حضور انے کھایا پیا ،اُسی کو کھانا پینا۔

5۔ حرام:

یہ فرض کا متضاد ہے اور یہ وہ عمل ہے جو قطعی الثبوت دلیل سے ثابت ہو اور جس کے چھوڑنے کا شریعت نے مطالبہ کیا ہو، اِس طریقے پرکہ تم اُس پر عمل نہ کرو۔

حرام کا حکم

اِس سے بچنا فرض او رثواب ہے ،اِ س کوایک بار بھی کرنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب اور اِس کا منکر کافر ہے ۔

حرام کی مثال

اَللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا۔
{ وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِاالْحَقِّ } [ بنی اسرائیل:۳۳]
’’اور تم اُس جان کو قتل مت کرو جس (کو قتل کرنا) اَللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ۔‘‘

6۔ مکروہ:

اِس کی دو قسمیں ہیں: (۱): مکروہِ تحریمی (۲): مکروہِ تنزیہی

[۱]: مکروہِ تحریمی

جو ظنی الثبوت دلیل سے ثابت ہو اور جس کو چھوڑنے کا شارع نے مطالبہ کیا ہواوریہ واجب کا متضاد ہے ۔

مکروہِ تحریمی کا حکم

اِس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گناہگار ہے اگرچہ اِس کا گناہ حرام کے گناہ سے کم ہے ،اَلبتہ چند بار کرنے سے یہ کبیر ہ گناہ ہو جاتا ہے اور اِس کے منکر کو کافر نہیں کہیں گے ۔

مکروہِ تحریمی کی مثال

مرد کے لئے ریشم پہننا اور سونے کے زیورات اِستعمال کرنا۔

[۲]: مکروہِ تنزیہی

جس کے چھوڑنے کا شارع نے مطالبہ کیا مگرعذاب کی وعید نہ فرمائی ہو اور یہ سنتِ غیر مؤکدہ کا متضاد ہے۔

مکروہِ تنزیہی کا حکم

اِس کے چھوڑنے والے کو ثواب دیا جائے گا اور کرنے والے کی ملامت کی جائے گی۔

مکروہِ تنزیہی کی مثال

خطبہ کے دوران اِمام کا بغیر عذر کے بیٹھنا۔

7 ۔ مباح:

وہ ہے جس کا کرنا، نہ کرنادونوںمطلوب نہ ہوں بلکہ بندے کو دونوں صورتوں کا اِختیار ہو۔

مباح کا حکم

جس کے کرنے والے کو ثواب نہیں ملے گا اور نہ کرنے والے کو عذاب نہیں دیا جائے گا مگر جب وہ عمل مباح کرنے میں اَللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت کرے تو ثواب ملے گا۔
مباح کی مثال
کھانے ،پینے اور دنیاوی معاملات میں جدید اَقسام ومصنوعات کا اِستعمال کرنا۔

ٖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *