غَزَوۂ اَحزاب

غَزَوۂ اَحزاب

ماہ ذی قعدہ میں غز وۂ احزاب یا غزوۂ خند ق واقع ہوا۔ بنو نَضِیر جِلاو طن ہو کر خیبر میں آرہے تھے، انہوں نے مکہ میں جا کر قریش کو مسلمانوں سے لڑ نے پر اُبھا رااور دیگر قبائل عرب (غَطَفان، بنو سُلَیم، بنومُرَّہ، اشجع، بنو اسد وغیرہ ) کو بھی اپنے ساتھ متفق کر لیا۔ بنو قریظہ پہلے شامل نہ تھے مگر حُیَیْ بن اَخطب نے آخر کا ران کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ غرض قریش و یہود وقبائل عرب بار ہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے۔ چو نکہ اس غز وہ میں تمام قبائل عرب و یہود شامل تھے اس واسطے اس غز وہ کو غزَ وۂ اَحزاب (حِز ْب بمعنی طائفہ ) کہتے ہیں ۔ کفار کی تیاری کی خبر سن کررسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ کھلے میدان میں لڑنا مصلحت نہیں ، مدینہ اور دشمن کے درمیان ایک خند ق کھود کر مقابلہ کر نا چاہیے۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مستورات (2 ) اور بچو ں کو شہر کے محفوظ قلعوں میں بھیج دیا اور بذات شریف تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ شہر سے نکلے اور سامی طرف میں (3 ) سَلْع کی پہاڑی کو پس پشت رکھ کر خندق کھودی۔ اس واسطے اس غز َوہ کو غز وۂ خندق بھی کہتے ہیں ۔ خندق کھودنے میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی بغر ض ترغیب شامل تھے۔ کفار نے ایک ماہ محاصرہ قائم رکھا۔ وہ خندق کو عبورنہ کر سکتے تھے۔ اس لئے دور سے تیر اور پتھر بر ساتے تھے۔ ایک روز قریش کے کچھ سوار عَمر وبن عبد وغیرہ ایک جگہ سے جہاں سے اتفاقاً عرض ( 4) کم رہ گیا تھا، خندق کو عبور کر گئے۔ عمر ومذکور نے مبارز (5 )
طلب کیا۔ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور تلوار سے اس کا فیصلہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر باقی ہمراہی بھاگ گئے۔ آخر کا ر قریظہ وقریش میں پھوٹ پڑگئی اور (1 ) باوجود سر دی کے موسم کے ایک رات بادِ صَرصَر (2 ) کا ایسا طوفان آیا کہ خیموں کی طنا بیں (3 ) اُکھڑ گئیں اور گھوڑ ے چھوٹ گئے۔ کھانے کے دیگچے چو لہوں پر اُلٹ اُلٹ جاتے تھے۔ اِمتِدادِ مُحَاصَرہ کے سبب سے (4 ) سامانِ رَسد (5 ) بھی ختم ہو چکا تھا ، اس لئے قریش ودیگر قبائل محاصر ہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے اور بنو قریظہ اپنے قلعوں میں چلے آئے اس غز َوہ میں شد ت قتال کے وقت عصر ومغرب اور بقول بعض ظہر بھی قضا ہو گئی تھی۔ شہداء کی تعداد چھ تھی جن میں اَوس کے سر دار حضرت سَعَد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے ان کی رگِ اَکحل (6 ) تیر لگنے سے کٹ گئی۔ مسجد میں رُفَیْدَ ہ انصار یہ کا خیمہ تھا جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو علاج کے لئے اسی خیمہ میں بھیج دیامگر وہ اس زخم سے جانبر نہ ہو ئے اور ایک ماہ کے بعد انتقال فرماگئے۔ اس غز وہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے متعدد معجزے ظہور میں آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *