شراب خانہ اور صدائے حق:

شراب خانہ اور صدائے حق:

حضرت سیِّدُنا منصور بن عمارعلیہ رحمۃاللہ الغفار جو عراق کے مشہور مبلِّغ تھے، فرماتے ہیں کہ” ایک رات عالَمِ خواب میں مَیں نے آسمان میں ایک کھلاہوا دروازہ دیکھا، اس سے ایک انتہائی نورانی فرشتہ اُترا اور مجھ سے کہنے لگا: ” اے ابن عمار!خدائے جبَّار وقہَّار، دن رات کا خالق عَزَّوَجَلَّ تمہیں سلام فرماتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ کل اپنا منبر شراب خانے میں رکھ کر وہیں دل سے نصیحت بھرا بیان کرنا کہ اس میں ہمارے بہت سے راز پوشیدہ ہیں اورہم تمہیں اپنی عجیب نشانیاں دکھائیں گے۔”چنانچہ، میں گھبراکر نیند سے بیدار ہوا اور سوچا کہ یہ عجیب معاملہ ہے، شاید! میرا وہم ہو۔ میں نے ”اِنَّالِلّٰہِ وَ ِانَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ” پڑھا۔اور سوچنے لگا کہ صحیح احادیث نااہلوں کے سامنے کیسے بیان کی جائیں؟ اور شراب کے مٹکوں اور پیالوں کے درمیان کس طرح قر آنِ کریم کی تلاوت کی جائے؟ نصیحتوں اور آیاتِ مقدَّسہ کو شرابیوں کے سامنے اور وہ بھی شراب خانے میں کیسے پیش کیا جائے؟ چنانچہ،

میں نے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر دوبارہ سو گیا۔ وہی فرشتہ خواب میں دوبارہ نظر آیا اور کہنے لگا : ” اے منصور! میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے حکم سے آیا ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: تم اٹھو اور شراب خانے میں بیان کرو ،تمہاری حفاظت ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔” چنانچہ، میں نیند سے بیدار ہوا،مجھے اس معاملے سے بڑا تعجب ہوا، سوچ و بچار کے بعد میں نے دل میں کہا: ”منبر اٹھانے کے لئے کسی کو لاتا ہوں۔”
یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں نے پوچھا: ” کون ؟ ”جواب آیا: ”اے میرے محترم! میں منبر اٹھانے کے لئے حاضر ہوا ہوں، آپ چاہیں تو آپ کے لئے شراب خانے کے درمیان منبر رکھ دوں یا مٹکوں کے درمیان؟” میں نے پوچھا :” تجھ پر یہ راز کیسے منکشف (یعنی ظاہر)ہوا ؟”اس نے بتایا: ”یہ مجھ پر اُسی نے ظاہر کیا ہے جو کسی شئے کو ”کُنْ” (یعنی ہوجا) فرماتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔ حضور! جو فرشتہ آج رات آپ کے پاس آیاتھا ، وہی آپ کے بعد میرے پاس بھی آیا تھا اور مجھے حکم دیاکہ میں آپ کے لئے شراب خانے میں منبر بِچھا دوں۔” میں نے کہا:” اے میرے دوست! اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو وہی کرو جس کاتمہیں حکم دیا گیا ہے۔”جب صبح خوب روشن ہو گئی، تومیں نے حکم کی بجاآوری میں جلدی کی، میں نے دیکھا کہ تمام شرابی حلقہ بنائے انتظار میں بیٹھے ہیں، بہرحال میں منبر پربیٹھ گیا اور کچھ دیر کے لئے سر جھکالياپھرمیں نے اپنا سر اُٹھایا اورنصیحت بھرا بیان شروع کر دیا:
”اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! سب خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اپنے محبوب بندوں کے دلوں کو اپنے قرب کی لذت عطا فرمائی اور انہیں اپنے مئے خانۂ وصال میں داخل کیا اور اپنی شرابِ طہور سے سیراب کر کے اپنے غیر سے بے خبر کر دیا۔ اور محب اپنے محبوب کے علاوہ کسی شئے میں مشغول نہیں ہوتا۔ جب اس ربِّ جلیل عَزَّوَجَلَّ نے ان پر تجلِّی فرمائی تو جمالِ قدرت کے مشاہدے کے وقت ان کے ہوش اڑ گئے۔ اے خواہشات کی شراب میں بدمست ہونے والو! اگر تم محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مئے خانے میں داخل ہو جاؤاورشراب کے مٹکوں کے بجائے قرب کے گھڑوں کا مشاہدہ کرو ، بخشنے والے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں صاحب ِوقار مَردوں کو دیکھوکہ ان پر خوشی و مسرت کے جام گردش کر رہے ہیں، خالص شراب ِطہورکے پیالوں نے ان کو دنیا کی
شراب سے بے پرواہ کر دیا ہے،ان کے پیالے اُن کی خوشی و مسرت ہے۔ ان کی شراب ذِکْرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہے۔ ان کی خوشبو اُن
کا قرآن ہے۔ ان کی شمع ان کی سماعت ہے۔ ان کے نغمے توبہ و استغفار ہيں۔ جب رات تاریک ہوتی ہے اور سب لوگ سو جاتے ہیں تو رب ِکائنات عَزَّوَجَلَّ ان پر تجلِّی فرماتااورپردے اُٹھا دیتاہے، اور اس کے محبوب بندے ایسے جہاں کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس کاتصورکسی کی عقل میں ایا،نہ کسی کے ذہن میں اس کا خیال گزرا۔
اے عقل مندو!ذرا غورتوکروکہ اخروٹ اور اس کے چِھلکے کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے، دلوں کی ٹہنیوں کو حرکت دینے

والے اورحضرت سیِّدنا یعقوب و یوسف علٰی نبیناو علیہما الصلٰوۃ والسلام کو ملانے والے نے مجھے یہاں بیٹھنے کا اس لئے حکم فرمایا ہے تاکہ وہ تمہارے گناہوں اور نافرمانیوں کو بخش دے اور عفوورضا کی دولت کا تاج تمہارے سرپررکھ دے ،ماضی کے گناہوں کو مٹادے ،مجرموں سے درگزر فرمائے اوردھتکارے ہوؤں اور نافرمانوں کی توبہ قبول فرمائے۔ (ارے! غورکرو کہ) محبوب ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ موجود ہے، اُس کی رضا کی آنکھ تمہیں دیکھ رہی ہے،اور مصیبت تم سے ٹال دی گئی ہے، تو کیا تم میں توبہ کا عزمِ مصمَّم کرنے والا کوئی نہیں؟بے شک صلح کے جام تمہارے اردگرد گُھوم رہے ہیں اورتم پر سخاوت کی ہوائیں چل رہی ہیں۔”
حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ اللہ الغفارفرماتے ہیں:” میرا کلام و بیان ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ نشے میں مدہوش ومجنون ایک نوجوان ہاتھ میں شراب سے بھراپیالہ لئے میرے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: ” اے ابن عمار! بتائیے، کیااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس حالت میں بھی قبول فرما لے گا ؟ ‘ ‘ میں نے کہا: ” اے میرے دوست! کیسے نہیں قبول فرمائے گا حالانکہ وہ خود قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:

(2) وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ

ترجمہ کنزالایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ۔(پ25، الشورٰی:25)
یہ سن کر اُس نوجوان نے پیالہ اپنے ہاتھ سے پھینکا اورحیران وسرگرداں باہرنکل گیااور اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہوگیا۔
اس کے بعد نشے میں چُور ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں طنبورہ (ایک قسم کا باجا)لئے کھڑا ہو کر کہنے لگا: ” اے ابن عمار! کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی توبہ قبول فرمائے گا جس کی تمام عمر نافرمانی اور گناہوں میں ضائع ہو گئی ہے؟’ ‘ میں نے کہا: ”اے محترم! وہ کیسے نہ بخشے گا، حالانکہ وہ خود فرماتا ہے:”وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ (پ۱۶،طٰہٰ:۸۲)ترجمہ کنزالایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والا ہوں۔” اس نے توبہ کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے اوران کے لئے رحم و کرم کا دروازہ کھول دیا ہے۔”
جب اس بوڑھے نے میرا کلام سنا تو طنبورہ پھینک دیا، اور غمگین حالت میں جدھر رُخ تھا اُدھر نکل گیا۔ پھر میرے سامنے شراب سے کھیلتا ہوا ایک نوجوان کھڑا ہوا جس پر وجد اور مستی چھائی ہوئی تھی، وہ کہنے لگا: ”اے منصور! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ مجھ سے عہد لو، اب تَو عہد کا زمانہ گزر چکا ہے اوروعدہ پورا ہونے والا ہے اور مطلوب و مقصود کے حصول کا وقت آ چکا ہے ۔ ” میں نے پوچھا: ”اے نوجوان! تمہیں اس مقامِ قرب پر کس نے فائز کیا؟” اس نے جواب دیا: ” میری ہی وجہ سے خواب میں آپ کو وعظ کا حکم دیا گیا اور آپ کے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے فرشتہ آیا۔”میں نے کہا:” اے میرے دوست !یہ تو بتاؤکہ تم پر یہ راز کس نے منکشف کیا؟ ” اس نے جواب میں یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:

(3) یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ ﴿19﴾

ترجمہ کنزالایمان:اللہ جانتاہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپاہے۔(پ24،المؤمن:19)

پھر کہنے لگا:” اے منصور! جس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لطف و کرم کی خوشگوار ہوائیں چلتی ہیں وہ صاحب ِکشف بن جاتا ہے۔” میں نے پھر دریافت کیا:” اے محترم !لطف و کرم کی یہ خوشگوار ہوائیں تم پر کب چلیں؟”وہ بولا: ”آج رات، جبکہ آپ سو رہے تھے۔”پھر کہنے لگا:” اے ابن عمار!آپ میری رہنمائی اور اس کی بارگاہ میں قرب کا سبب بنے ہیں، تو کیا اس کی بارگاہ میں آپ کو کسی قسم کی کوئی حاجت ہے؟”میں نے پوچھا: ”تمہاری مراد کیا ہے؟” کہنے لگا:”اے منصور! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ قرب میں، ایسے دوستوں کے درمیان جن پر محبت و اُنس کے پیالے گردش کرتے ہیں، اور حجاب اٹھا دئيے جاتے ہیں، اگر آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں تو کل وہاں مجھ سے ملاقات کیجئے گا۔” وہ ہوا میں اُڑتا ہوا میری نگاہوں سے غائب ہو گیا، اور میں اسے دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔پھر میں نے اُسے چند اشعار پڑھتے سنا، جن کا مفہوم یہ ہے:
”میرے محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ نے مجھے پکارا ہے، اس سے وصال کی گھڑیاں قريب آگئی ہیں۔ اب اگر اس نے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے تو میں کہہ دوں گا: تیری محبت کا ایساجام کہ جس کے نشے میں عرصۂ دراز تک حیران و سرگرداں رہوں۔اے میری آنکھوں کے نور!میں تجھ کو ایسی نظرسے دیکھناچاہتا ہوں جس میں دوری کے بجائے صرف قرب ہو کہ اب اس شوق میں تو میری عقل ختم ہو چکی ہے۔ اے میرے محبوب!میری زبان پرسوائے تیرے ذکر کے کچھ نہیں۔ اور جب سے تو نے مجھے وصال کی خوشخبری دی ہے اور میں نے اس پر لَبَّیْک کہا ہے تو اس کے بعدکبھی بھی حاضر ہونے میں سستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔حالانکہ میری حالت تو یہ تھی کہ لگاتار گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا لیکن تو نے مجھ پر کرَم کیااور میرے دل کی بیماریوں کاعلاج اپنے وصال سے کیا۔مجھے اپنی بارگاہ سے دور نہ کیا۔ میں گناہوں کے گڑھے کے کنارے پرتھالیکن تو نے مجھے اس میں گرنے سے بچا لیا۔اور مجھے اس راستے کی پہچان کروا دی جو تیری بارگاہ تک پہنچانے والا ہے۔اب میں ا س پر چل کر یقینااپنا مقصود پالوں گا۔

؎ رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں پلا جام ایسا پلا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *