ستَّا ر بجانے والی کی توبہ:

ستَّا ر بجانے والی کی توبہ:

حضرت سیِّدُنا صالح مری علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جوستَّار بجاتی تھی ۔ایک دن وہ کسی قاریئ قرآن کے پاس سے گزری جو اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کر رہا تھا:

(2) وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالْکٰفِرِیۡنَ ﴿49﴾

ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک جہنم گھیرے ہوئے ہے کا فر وں کو۔(پ10،التوبۃ:49)
آیتِ مبارکہ سنتے ہی اس نے ستار پھینک دیا، ایک زور دار چیخ مار ی اور بےہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔جب افاقہ ہوا تو اس نے ستار کو توڑ دیا اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئی ،یہاں تک کہ عبادت کی وجہ سے معروف و مشہور ہو گئی۔ ایک دن میں اس کے پاس گیا،اور اسے کہا :”اپنے نفس کے لئے نرمی اختیار کرو۔ ” تووہ رونے لگ گئی اور کہنے لگی : ” کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ جہنمی اپنی قبروں سے کیسے نکلیں گے؟ پل صراط کیسے عبور کریں گے؟ قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے نجات پائیں گے ؟کھولتے ہوئے گر م پانی کو کیسے گھونٹ گھونٹ کرکے پئیں گے؟ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ڈانٹ کو کیسے سن سکیں گے؟”پھر وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔جب افاقہ ہوا تو التجا کر نے لگی : ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے جوانی میں تیری نافرمانی کی اوراب کمزوری کی حالت میں تیری اطاعت کر رہی ہوں،کیا تو میری عبادت قبول فرما لے گا؟”پھر اس نے ایک آہِ سرد دِلِ پُردَردسے کھینچی اور کہا:”آہ! کل قیامت کتنے ہی لوگوں کے عیب کھول دے گی۔” پھر اس نے ایک چیخ ماری اور آہ وبکا کرنے لگی ۔مجلس کے سبھی لوگ اس کی شدَّتِ گریہ وزاری سے بے ہوش ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *