Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سب سے پہلے کون ملے گی؟

سب سے پہلے کون ملے گی؟

ام المومنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے مروی ہے : میرے سرتاج ، صاحبِ معراج صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں بعض اَزواج نے عرض کی : ہم سب میں پہلے آپ سے کون ملے گی ؟ فرمایا : تم میں لمبے ہاتھ والی ، یہ سن کر انہوں نے بانس لے کر ہاتھ ناپنا شروع کردیئے تو سودہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) دراز ہاتھ نکلیں ، بعد میں معلوم ہوا کہ درازیٔ ہاتھ سے مراد صدقہ خیرات تھی ، ہم سب میں پہلے حضور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمکے پاس زینب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا)پہنچیں ، وہ صدقہ خیرات کرنا بہت پسند کرتی تھیں ۔(بخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب ای الصدقۃ افضل ، ۱/ ۴۷۹ ، حدیث : ۱۴۲۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : وہ بیبیاں یہ سمجھیں کہ ہاتھ سے یہ جسم کا ہاتھ مراد ہے ، جسم کا ہاتھ تو حضرت سودہ رضی اللّٰہ عنہا کا دراز تھا ، مگر سخاوت کا حضرت زینب بنت
جَحْش رضی اللّٰہ عنہا کا لمباتھا ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳/ ۷۸)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!