رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ماں کی محبت سے بڑھ کر ہے :

رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ماں کی محبت سے بڑھ کر ہے :

حضرت سيِّدُنا کعبُ الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں: ” بروزِ قیامت جب عدن کے سمندر کی گہرائی سے آگ نکلے گی تو تمام لوگ میدانِ محشر کی طرف ہانکے جائیں گے۔میدانِ قیامت کی ہولناکیوں سے لوگ متحیَّر، پیاسے، مدہوش اور کانپتے ہوں گے کہ اسی دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ تجلِّی فرمائے گا تو اس کے نورسے زمین روشن ہوجائے گی اور مخلوق ایک دوسرے کو دیکھ لے گی اور ماں اپنے بیٹے کو دیکھے گی جس سے دنیا میں وہ بہت محبت کرتی تھی۔ وہ اسے پہچان کرکہے گی: ”اے میرے بیٹے ! کیامیراپیٹ تیری پناہ گاہ نہ تھا؟کیامیری گودتیرے لئے نرم بسترنہ تھی؟کیامیرادودھ تیرے لئے سیرابی کا باعث نہ تھا؟”توبیٹا پوچھے گا: ”اے میری ماں!توکیاچاہتی ہے؟” وہ کہے گی: ” میرے گناہ مجھ پر بھاری ہوگئے ہیں توان میں سے صرف ایک گناہ اٹھا لے۔” تو وہ کہے گا:”یہ بات ناممکن ہے! آج ہر جان اپنے عملوں میں گروی (یعنی رِہن) ہے۔ اے میری ماں! اگر میں تیرا بوجھ اٹھالوں تو میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟”اسی دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے ایک منادی اعلان کرے گا: ”اے فلاں بن فلاں! آؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہو جاؤ۔”یہ اعلان سنتے ہی اس شخص کارنگ متغیرہوجائے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کے سبب اس کے اعضاء بے چین ہوجائیں گے۔ جب ماں اپنے بیٹے کی گھبراہٹ ملاحظہ کرے گی تو پوچھے گی:”اے میرے بیٹے! کیا ہوا؟” وہ جواب میں کہے گا:”اے میری ماں!مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں پیش ہونے کے لئے بلایاگیاہے، اب میں اس سے بھاگ کر کہاں چھپوں یا میرا چھٹکارا کیسے ہو؟” اسی دوران دوفرشتے اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے پکڑ کر گھسیٹنا شروع کردیں گے۔ جب اس کی ماں دیکھے گی تو اُسے سینے کی طرف کھینچے گی اوراپنے بالوں سے چھپائے گی اور اپنی پوری طاقت سے فرشتوں کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرے گی لیکن دور نہ کرسکے گی۔ جب دیکھے گی کہ وہ ان سے اپنا بیٹا نہیں لے سکتی

توروتے ہوئے فرشتوں سے کہے گی:”اس ذات کی قسم جس نے مجھے میری قبرسے اٹھایا ہے! اگرمیرے بس میں ہوتاتومیں تم دونوں کو اپنا بیٹانہ لے جانے دیتی۔”پھروہ اسے روتے ہوئے الوداع کرے گی اور کہے گی:”اے میرے بیٹے!میں تجھے اس ذات کی قسم دیتی ہوں جس نے اپنی بارگاہ میں پیشی اور حساب کتاب کے لئے تجھے بلایا! اگرتجھے نجات ملے تو مجھے مت بھولنا۔ میں بہت دیرسے کھڑی ہوں، بہت حسرت زدہ ہوں اور میری تکلیف اور پیاس بہت شدَّت اختیار کر گئی ہے۔”
حضرت سيِّدُنا کعبُ الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”پھر دو فرشتے اس کے بیٹے کو”سِدْرَۃُ المُنْتَہٰی” پرمقررفرشتے کے سپرد کردیں گے۔” وہ پوچھے گا: ”تمہارا تعلق کس اُمَّت سے ہے؟” تو لڑکاجواب میں کہے گا: ” میں حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا اُمَّتی ہوں۔” فرشتہ کہے گا: ”خوشخبری ہے تیرے لئے اور امتِ محمدیہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام کے لئے ۔ ” پھر وہ فرشتہ اسے نور میں داخل کردے گا۔کوئی اندازے سے نہیں جان سکتا کہ وہ کہاں جائے گا،دائیں یابائیں،آگے یا پیچھے۔ (وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ) اچانک اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک آوازسنائی دے گی: ”ٹھہر جا! میں تیرا رب ہوں،اپنے اعضاء کو پُرسکون رہنے دے اور اپنے دل کواطمینان دے۔میرے عزت وجلال کی قسم! تجھے تیری ماں اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور اپنے سینے سے چمٹا رہی تھی تو میں تجھ پراس سے بھی بڑھ کر شفیق ہوں۔”پھرارشادہوگا:”اے میرے بندے !اپنانامۂ اعمال پڑھ۔” تو وہ اسے پڑھے گالیکن جب کوئی گناہ پائے گا تو آوازآہستہ کرلے گااورجب کوئی نیکی پائے گا تو آواز بلندکرلے گا۔ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:”اے میرے بندے!اپنی نیکی کوبلندآوازسے اوربرائی کوپست آوازسے کیوں پڑھتا ہے؟” تو وہ روتے ہوئے عرض کریگا:”یااللہ عَزَّوَجَلَّ!مجھے معلوم ہے کہ تواچھائی کو ظاہر کرتاہے اور برائی کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔”
پھراللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:”اے میرے بندے! میں نے تیرے گناہوں اور عیبوں کو مخلوق سے کیسے پوشیدہ رکھاجبکہ تو نے ان کے ذریعے میرا مقابلہ کیا۔کیاتجھے معلوم نہ تھاکہ میں تجھ سے باخبر تھا اور تجھے دیکھ رہاتھا؟”وہ عرض کریگا: ”اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! مجھ میں تیری ڈانٹ ڈپٹ سننے کی طاقت نہیں تو مجھے جہنم میں جانے کا حکم دے دے۔” اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ”اگرمیں تجھے جہنم میں جانے کا حکم دے دوں تومیراجودوکرم اور عفو ودرگزر کس کے لئے ہو گا؟ (پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائیگا) اے فرشتو! میرے بندے کومیرے فضل ورحمت سے جنت میں لے جاؤ۔”وہ پھرعرض کریگا:”اے میرے معبود ومالک عَزَّوَجَلَّ! میری والدہ دنیامیں مجھے بہت چاہتی تھی اور مجھ پربہت شفقت کرتی تھی اورآج اس نے مجھے دیکھاتومجھ سے مددمانگی اور چاہا کہ میں اس کی مددکروں۔ اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اگر تونے مجھے معاف کردیاہے تومیرا ٹھکانا میرے بجائے میری والدہ کو بخش دے، اب وہ جس عذاب میں ہے اس سے برداشت نہیں ہورہا۔” تواللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا:”میرے عزت وجلال کی

قسم! میں تم دونوں کوایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا بلکہ میں تم پر رحم کر چکا ہوں۔”(پھر فرمائے گا:) ”اے میرے فرشتو!ان دونوں کو میری جنت میں لے جاؤ اور میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والاہوں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *