Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرتِ عیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمۃ الرحمن کی بخشش

حکایت نمبر:323 حضرتِ عیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمۃ الرحمن کی بخشش

حضرت سیِّدُنا عَمَّار بن رَاہِب علیہ رحمۃ اللہ الغالب سے منقول ہے کہ” حضرت سیِّدَتُنا مِسکینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا اجتماعِ ذکر میں پابندی سے شرکت کیا کرتی تھیں ۔ان کے انتقال کے بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا تو کہا : ”اے مسکینہ! مرحبا۔” مسکینہ نے کہا :”اے عمّار! تمہارا بھلا ہو، میں مسکین نہیں اب تو بہت زیادہ غِنٰی مل چکا ہے، محتاجی ختم ہو گئی اور کشادگی آ چکی ہے۔” میں نے کہا : ” اچھا! ان باتوں کو چھوڑو اپنا حال بیان کرو ، تمہیں کیا کیا نعمتیں عطا کی گئیں ؟”مسکینہ نے کہا: ”تم اُس سے سوال کررہے ہو جسے جنت اپنی کثیر نعمتوں کے ساتھ عطا کردی گئی ہے۔ اب وہ جہاں چاہے جنت کے درختوں کے سائے میں رہے۔” حضرت سیِّدُنا عَمَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یہ نیک بندی ہمارے ساتھ حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمہ اللہ المنّان کی محفلِ ذکر میں حاضرہوا کرتی تھی۔ میں نے پوچھا:” اے مسکینہ! حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن زَاذَانعلیہ رحمۃ اللہ المنّان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا ؟” یہ سن کر وہ ہنسنے لگی اوردو عربی اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے:

” انہیں خوبصورت و بیش بہا جنتی لباس پہنایا گیا ۔ جنَّتی خدَّام ہاتھوں میں آبخورے لئے ہر وقت ان کے ارد گر د موجود رہتے ہیں ۔پھر انہیں جنتی زیور سے آراستہ کیا گیا اور کہا گیا :” اے قاری!تلاوت کر، بخدا تجھے تیرے روزوں نے چھٹکارا دلا دیا۔”
راوی کہتے ہیں کہ” حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن زَا ذَان علیہ رحمۃ اللہ المنّان آخری عمر تک اس کثرت سے روزے رکھتے رہے کہ آپ کی کمر بالکل جھک گئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز بند ہوگئی ۔ ان کی یہ عبادت وریاضت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسی مقبول ہوئی کہ مغفرت وبخشش کا سبب بن گئی۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ فرائض کی ادا ئیگی کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت کابھی خوب اہتمام کرتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے ابھی حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمۃ اللہ المنّان کے بارے میں پڑھا کہ وہ کثرت سے نفلی روزے رکھا کرتے تھے ۔ ہمیں بھی چاہے کہ وقتاََ فوقتاََ نفلی روزے رکھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا طلب کریں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے، اپنی رضا والے کاموں پر گامزن فرمائے اورہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ اگر ہم چند روزہ زندگی میں تھوڑی سے مشقت برداشت کر کے فرض عبادت کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت پر بھی مواظبت (”مُوَا۔ظَ۔بَت”یعنی ہمیشگی ) اختیارکرتے رہے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں خدا ئے بزرگ وبَر تر کی طرف سے ہماری مہمانی کی جائے گی۔ جن خوش نصیبوں کے لئے” نُزُلًامِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْم”(پ۲۴،حٰمۤ السجدۃ۳۲)ترجمۂ کنز الایمان :مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔کا مژدۂ جانفزا
سنایا گیا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے ۔ ہم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید لگائے اس یومِ عید کے منتظر ہیں ۔
یااللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں جنت الفردو س میں اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پڑوس عطا فرما۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))
؎ گدا بھی منتظر ہے خُلْد میں نیکوں کی دعوت کا
خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا

error: Content is protected !!