دسواں سال   نبوت

دسواں سال   نبوت

Advertisement

اس سال ماہِ رمضان میں ابو طالب نے وفات پائی اور اس کے تین روز بعد خد یجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی انتقال فرماگئیں ۔اب کفار قریش رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایذار سانی پر اور دلیر ہوگئے۔ ایک روز ایک نابکار نے راہ میں آپ کے سر مبارک پر خاک ڈال دی آپ اسی حالت میں گھر تشریف لے گئے آپ کی صاحبزادی نے دیکھا تو پانی لے کر سر مبارک کو دھونے لگیں اور روتی جاتی تھیں ، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ جانِ پد ر! اللّٰہ تعالٰی تیرے باپ کو بچالے گا۔ ‘‘ (4)
آخر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تنگ آکر اس خیال سے کہ اگر ثَقِیْف ایمان لے آئے تو قریش کے بر خلاف میری مدد کریں گے طائف کا قصد کیا، زیدبن حارثہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہاں پہنچ کر اشرافِ ثَقِیْف یعنی عبد یالیل اور اس کے بھائی مسعود و حبیب (5) کو دعوتِ اسلام دی۔مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا بری طرح جو اب (6) دیا ایک بو لا: ’’ اگر تجھے خدا نے پیغمبر بنایا ہے تووہ کعبہ کا پردہ چاک

کررہا ہے۔ ‘‘ دوسرے نے کہا: ’’ کیاخدا کو پیغمبر ی کے لئے تیرے سوا کوئی اور نہ ملا؟ ‘‘ تیسرے نے کہا: ’’ میں ہرگز تجھ سے کلام نہیں کر سکتا، اگر تو پیغمبر ی کے دعویٰ میں سچاہے تو تجھ سے گفتگو کر نا خلاف ادب ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل خطاب نہیں ۔ ‘‘ جب آپ مایوس ہو کر واپس ہوئے تو انہوں نے کمینے لوگوں اور غلاموں کو آپ پر ابھارا جو آپ کو گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے تھے، اتنے میں لوگ جمع ہوگئے وہ آپ کے راستہ میں دَو رویہ (1) صف باندھ کر کھڑے ہوگئے جب آپ درمیان سے گزرے تو قدم اٹھاتے وقت آپ کے پاؤں پر پتھر بر سانے لگے یہاں تک کہ نعلین مبارک خون سے بھر گئے، جب آپ کو پتھروں کا صدمہ پہنچتا تو بیٹھ جاتے، مگر وہ بازوتھا م کر کھڑا کر دیتے جب پھر چلنے لگتے تو پتھر بر ساتے اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے۔اس طرح انہوں نے عتبہ اور شیبہ پسر انِ ربیعہ کے باغ تک آپ کا تعاقب کیا، آپ نے باغ میں ایک انگور کی شاخ کے سایہ میں پناہ لی۔ عتبہ اور شیبہ اگرچہ آپ کے سخت دشمن تھے مگر آپ کی اس حالت پر ان کو بھی رحم آگیا، انہوں نے اپنے نصر انی غلام عَدَّاس سے کہا کہ انگور کا ایک خوشہ تھال میں رکھ کر ان کے پاس لے جااور کہہ دے کہ کھا لیں ۔ آپ نے بسم اللّٰہ کہہ کر کھایا، عَدَّاس متعجب ہو کر کہنے لگا کہ ان شہروں کے لوگ ایسا نہیں کہتے۔ آپ نے پوچھا: تو کہاں سے ہے ؟ اس نے کہا: نینویٰ سے۔آپ نے فرمایا کہ وہ نیک بندے یونس بن متیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا شہر ہے۔ پھر اس نے آپ سے یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا حال پو چھا۔ آپ نے فرمایاکہ وہ بھی میری طرح پیغمبر تھے۔ یہ سن کر وہ آپ کے ہاتھ پاؤں چو منے لگا (2) اور اسلام لایا۔
اسی سفر میں مقام نَخلہ میں جو مکہ مشرفہ سے ایک رات کا راستہ ہے۔شہر نَصِیبِین (3) کے جن حاضر ہو ئے۔ آپ رات کو نماز میں قرآن مجید پـڑ ھ رہے تھے وہ سن کر ایمان لائے۔ وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّالآیہ (4) میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (5) نخلہ میں چند روزقیام رہا، وہاں سے آپ حرامیں تشریف لائے اور مُطْعِم بن عَدِی کو پیغام بھیجا کہ کیا تم مجھے اپنی پناہ وامان میں لے سکتے ہو ؟ مطعم نے قبول کیا۔آپ رات کو مطعم کے ہاں رہے جب صبح ہوئی تو مطعم اور اس کے
بیٹوں نے ہتھیار لگا ئے اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا کہ آپ طواف کیجئے اور خود تلواریں لگا ئے ہوئے مطاف میں مو جود رہے جب حضرت طواف سے فارغ ہوئے تو اسی ہیئت میں آپ کے دولت خانہ تک آپ کے ساتھ آئے۔
اس سفر طائف کے مدتوں بعد ایک روز عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا آپ پر کوئی ایسا دن آیا ہے جو احد کے دن سے سخت ہو؟ فرمایا: بے شک میں نے تیری قوم سے دیکھا جو دیکھا اور جو میں نے ان سے دیکھاا س میں سب سے سخت عقبہ کا دن تھاجب کہ میں نے اپنے آپ کو عبد یالیل بن کلال پر پیش کیا، اس نے دعوت اسلام کو قبول نہ کیا، پس میں غم کی حالت میں گر دن جھکا ئے چلا، مجھے ہو ش نہ آیا مگر قرن الثعالب (1) میں سراٹھایاتو کیا دیکھتاہوں کہ ایک بادل نے مجھے سایہ کیا ہوا ہے۔ میں نے نظر اٹھا ئی تو اس بادل میں حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام دکھائی دیئے۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے آواز دی او ر کہا: بیشک اللّٰہ تعالٰی نے آپ کی قوم کا قول سن لیاہے اور انہوں نے جو آپ کو جواب دیا وہ بھی سن لیا ہے، آپ کی طرف پہاڑ وں کا فرشتہ بھیجا گیا ہے تاکہ آپ اسے حکم دیں جو کچھ آپ اپنی قوم میں چاہتے ہیں ۔حضور کا بیان ہے کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کے بعد کہا: اے محمد ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیشک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کا قول سن لیا ہے۔میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ، مجھ کو آپ کے رب نے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اَخْشَبَیْن (2) کوان پر اُلٹ دوں ؟ (تواُلٹ دیتا ہوں ) آپ نے جواب دیا: ’’ نہیں بلکہ میں امید کر تا ہوں کہ اللّٰہ تعالٰی ان کی پشتوں سے ایسے بندے پیدا کرے گا جو صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلََّ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ ‘‘ (3)

________________________________
1 – دونوں طرف۔
2 – السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،سعی الرسول الی ثقیف یطلب النصرۃ،ص۱۶۶۔۱۶۷ملتقطاً۔ علمیہ
3 – یہ مقام موصل سے چھ دن کا راستہ ہے اور موصل سے شام کو قافلہ کا راستہ ہے اس پر واقع ہے۔۱۲منہ
4 – ترجمۂکنز الایمان: اور جب کہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے۔(پ ۲۶،الاحقاف:۲۹) علمیہ
5 – السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،سعی الرسول الی ثقیف یطلب النصرۃ،ص۱۶۸۔ علمیہ

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!