حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ان کا وطن مکہ مکرمہ ہے اور یہ خاندان قریش کے بہت ہی ممتاز اورنامور شخص ہیں۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے ۔ پھر ہجرت بھی کی ۔ نہایت ہی وجیہ بہت ہی بہادر اورجانبازصحابی ہیں ۔ ۲ھ؁ میں ساٹھ یا اسّی مہاجرین کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو ”رابغ” کی طرف جہاد کے لیے روانہ فرمایا۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں مجاہدین کا یہ لشکر سریہ عبیدہ بن الحارث کے نام سے مشہور ہے۔
۲ھ؁ جنگ بدر میں انہوں نے شیبہ بن ربیعہ سے جنگ کی جو لشکر کفار کے سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ کا بھائی تھا۔ یہ بڑی جاں بازی کے ساتھ لڑتے رہے مگر اس قدر زخمی ہوگئے کہ ان کی پنڈلی ٹوٹ کر چور چور ہوگئی اورنلی کا گودا بہنے لگا ۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کردیا اورحضر ت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کاندھے پر اٹھاکر بارگاہ رسالت میں لائے ۔ اس حالت میں حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کیا میں شہادت سے محروم رہا؟ ارشاد فرمایا: ہر گز نہیں بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ یہ سنکر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر آج ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصدا ق میں ہی ہوں ؎

وَنُسْلِمُہٗ حَتّٰی نُصَرَّعَ حَوْلَہٗ
وَنَذْھَلْ عَنْ اَبْنَا ئِنَا وَالْحَلَائِلٖ

(یعنی ہم حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اس وقت دشمنوں کے حوالہ کریں گے جب ہم ان کے گردا گرد لڑتے لڑتے خون میں لت پت ہوجائیں گے اورہم اپنے بیٹوں اور بیویوں کو

بھول جائیں گے ۔ )اسی زخم میں آپ منزل صفراء میں پہنچ کر شرف شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔(1)(ابوداود،ج۲،ص۲۶۱وزرقانی، ج۱،ص۴۱۸)

کرامت
قبر کی خوشبودورتک

عشق رسول میں بے پناہ جاں نثاریوں اورفداکاریوں کی بدولت ان کو یہ شاندار کرامت نصیب ہوئی کہ ان کی قبر اطہرسے اس قدر مشک کی تیز خوشبوآتی کہ پورا میدان ہر وقت مہکتا رہتا۔چنانچہ منقول ہے کہ ایک مدت کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ منزل صفراء میں قیام ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حیران ہوکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اس صحرا میں مشک کی اس قدر تیز خوشبو کہاں سے اورکیوں آرہی ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس میدان میں ابو معاویہ (حضرت عبید ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی قبر موجود ہوتے ہوئے تمہیں تعجب کیوں ہورہاہے کہ یہاں مشک کی خوشبو مہک رہی ہے ۔ (2)
(کتاب صدصحابہ ، ص۳۱۴مرتبہ شاہ مراد مارہروی)

اللہ اکبر ! یہ سچ ہے ؎

کمالاتِ ولی مٹی میں بھی یوں جگمگاتے ہیں کہ جیسے نور ظلمت میں کبھی پنہاں نہیں ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *