Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا

نماز کی چوتھی شرط کا بیان:

اِستقبال قبلہ کا بیان

نماز کی چوتھی شرط استقبال قبلہ ہے یعنی کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا۔
مسئلہ۱: نماز اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی کے لیے پڑھی جائے اور اُسی کے لیے سجدہ کیا جائے،نہ کہ کعبہ کو، اگر مَعَاذَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کسی نے کعبہ کے لیے سجدہ کیا تو حرام و گناہ کبیرہ کیا اور اگر کعبہ کی عبادت کی نیت کی، جب تو کھلا کافر ہے اس لیے کہ خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کفر ہے۔ (د رمختار واِفادات ِرضویہ)

کن صورتوں میں نماز غیر قبلہ کی طرف ہوسکتی ہے ؟

مسئلہ۲: جو شخص قبلہ کی طرف منہ کرنے سے مجبور ہو تو وہ جس رُخ نماز پڑھ سکے پڑھ لے اور بعد میں نماز دُہرانے کی ضرورت نہیں ۔ (منیہ)
مسئلہ۳: بیمار میں اِتنی طاقت نہیں کہ منہ کعبہ شریف کی طر ف کرسکے اور وہاں کوئی ایسا نہیں جو اُس کا منہ کعبہ کی طرف کرادے تو جس رُخ پڑھے نماز ہوجائے گی۔

مسئلہ۴: کسی کے پاس اپنایا اَمانت کا مال ہے اور جانتا ہے کہ قبلہ رُو ہونے میں چوری ہوجائے گی تو جس طرف چاہے پڑھے۔
مسئلہ۵: شریر جانور پر سوار ہے کہ اُترنے نہیں دیتا یا اُتر تو جائے گا مگر بے مددگار کے سوار نہ ہونے دے گا یا یہ بوڑھا ہے کہ پھر خود سوار نہ ہوسکے گا اور اگر ایسا نہیں جو سوار کرادے توجس رُخ بھی نماز پڑھے ہوجائے گی۔
مسئلہ۶: اگر سواری روکنے پر قادِر ہے تو روک کر پڑھے اور ممکن ہو تو قبلہ کو منہ کرے ورنہ جیسے بھی ہوسکے پڑھے، اگر سواری روکنے میں قافلہ نظر سے چھپ جائے گا تو سواری ٹھہرانا بھی ضروری نہیں چلتے ہی پڑھے۔ (ردالمحتار)
مسئلہ۷: چلتی کشتی میں نماز پڑھے تو تحریمہ (1 ) کے وقت قبلہ کو منہ کرے اور جیسے جیسے کشتی گھومتی جائے خود بھی قبلہ کو منہ پھیرتا رہے چاہے فرض نماز ہو یا نفل۔ (غنیہ)

اگر قبلہ معلوم نہ ہو

مسئلہ۸: اگر قبلہ نہ معلوم ہواور کوئی بتانے والابھی نہ ہو تو سوچے جدھر قبلہ ہونے پر دل جمے اُسی طرف نماز پڑھے اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔ (منیہ)
مسئلہ۹: تحری کرکے یعنی سوچ کر نماز پڑھی بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھی تو دُہرانے کی ضرورت نہیں ، یہ نماز ہوگئی۔ (منیہ)
مسئلہ۱۰: تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور درمیان میں اگرچہ سجدہ سہو میں ہو، رائے بدل گئی یا غلطی معلوم ہوئی تو فرض ہے کہ فوراً گھوم جائے اور پہلے جتنی پڑھ چکا ہے اُس میں خرابی

نہ آئے گی۔ اِسی طرح اگر چار رکعتیں چار طرف میں پڑھی، جائز ہے اور اگر فوراً نہ گھوما اور تین بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کہنے کے برابر دیر کی تو نماز نہ ہوئی۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱۱: نماز ی نے قبلہ سے بلا عذر قصدا ًسینہ پھیر دیا اگر چہ فوراً ہی قبلہ کی طرف ہوگیا نماز جاتی رہی اور اگر بلا قصد پھر گیا اور تین تسبیح کا وقفہ نہ ہوا تو نماز ہوگئی۔ ( منیہ وبحر)
مسئلہ۱۲: اگر صرف منہ قبلہ سے پھرا تو واجب ہے کہ فوراً قبلہ کی طرف کرلے نماز نہ جائے گی مگر بلا عذر پھیرنا مکروہ ہے۔ (منیہ)

________________________________
1 – یعنی تکبیر ِتحریمہ

error: Content is protected !!