Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ مدینہ منورہ کے انصاری ہیں اورخاندان بنی خزرج سے ان کا نسبی تعلق ہے۔ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فہرست میں ان کا نام نامی بہت ہی مشہور ہے ۔ یہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے خطیب تھے اور ان کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے بہترین زندگی پھر شہادت پھر جنت کی بشارت دی تھی ۔ ۱۲ھ ؁میں جنگ یمامہ کے دن مسیلمۃ الکذاب کی فوجوں سے جنگ کرتے ہوئے شہادت سے سربلند ہوگئے۔(2)
(اکمال ،ص۵۸۸وغیرہ)

کرامت
موت کے بعد وصیت

ان کی یہ ایک کرامت ایسی بے مثل کرامت ہے کہ اس کی دوسری کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔ شہید ہوجانے کے بعد آپ نے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خواب میں یہ فرمایا کہ اے شخص!تم امیر لشکر حضرت خالد بن الولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ میں جس وقت شہید ہوا میرے جسم پر لوہے کی ایک زرہ تھی جس کو ایک مسلمان سپاہی نے میرے بدن سے اتار لیا اور اپنے گھوڑاباندھنے کی جگہ پر اس کو رکھ کر اس پر

ایک ہانڈی اوندھی کر کے اس کو چھپا رکھا ہے لہٰذا امیرلشکر میری اس زرہ کو برآمد کر کے اپنے قبضے میں لے لیں اور تم مدینہ منورہ پہنچ کر امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میرا یہ پیغام کہہ دینا کہ جو مجھ پر قرض ہے وہ اس کو ادا کردیں اورمیرا فلاں غلام آزاد ہے ۔ خواب دیکھنے والے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا خواب حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے فوراً ہی تلاشی لی اورواقعی ٹھیک اسی جگہ سے زرہ برآمد ہوئی جس جگہ کا خواب میں آپ نے نشان بتایا تھا اورجب امیر المؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خواب سنایا گیا تو آپ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت کو نافذ کرتے ہوئے انکا قرض ادا فرمادیااور انکے غلام کو آزاد قراردے دیا۔
مشہورصحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ خصوصیت ہے جو کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ایساکوئی شخص بھی میرے علم میں نہیں ہے کہ اس کے مرجانے کے بعد خواب میں کی ہوئی اس کی وصیت کو نافذ کیا گیا ہو۔ (1)(تفسیر صاوی ، ج۲،ص۱۰۸)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!