حسن معاشرت کی تاکید

حسن معاشرت کی تاکید

Advertisement

باری تعالٰی عَزَّاِسْمُہٗ کا ارشاد ہے :
وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ- (نساء، ع۳)
عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔ (2 )
اگر عورت سر کشی اختیار کرے تو مردکو اسے قتل کر نے کا اختیار نہیں بلکہ پہلے اسے سمجھائے، نہ سمجھے تو گھر میں اس سے جدا سو ئے، پھر آخر در جہ مارے بھی تو نہ ایسا کہ ضرب شدید پہنچے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے :
وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ- (نساء، ع۶)
اور جن عورتوں کی سر کشی کا تم کو ڈر ہو تم ان کو نصیحت کرو اور خواب گاہ میں ان کو جدا کر و اور ان کو مارو۔ ( 3)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے : ’’ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ ‘‘ (ترمذی ودارمی وابن ماجہ ) تم میں سب سے اچھاوہ ہے جو اپنے اہل کے لئے سب سے اچھا ہو۔ اور میں اپنے اہل کے لئے تم سب سے اچھا ہوں ۔ (4 )
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مردوں کو عورتوں کی کج خُلقی ( 5) پر صبر کی وصیت یوں فرماتے ہیں : اِسْتَوْصُوْا بِالنسآء خَیْرًا فَاِنَّ الْمَرْاَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ وَّاِنَّ اَعْوَجَ شَیْ ئٍ فِی الضِّلَعِ اَعْلَاَہُ فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُہٗ کَسَرْتَہٗ وَ اِنْ تَرَکْتَہٗ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَا ءِ ۔ (6 ) (بخاری، باب خلق آدم وذریتہٖ )
میں جو تمہیں عورتوں کے ساتھ اچھے بر تاؤ کی وصیت کر تا ہوں تم میری وصیت کو قبول کروکیونکہ عورت اُستخوانِ

پہلو ( 1) سے پیدا کی گئی ہے اور استخوانِ پہلومیں سب سے ٹیڑھی چیز اس کا حصہ بالا ئی ہے۔اگر تم اس استخوان کو سید ھا کرنے لگو گے تو اسے توڑ دو گے ا ور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی پس تم عورتوں کے بارے میں میری وصیت کو قبول کرو۔
عورتوں پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفقت اس قدر تھی کہ اگر آپ نماز کی حالت میں کسی بچہ کی آواز سنتے تو اس کی ماں کی مشقت کے خیال سے نماز میں تخفیف فرماتے۔ (2 ) ( بخاری، باب الا یجازفی الصلوٰۃ واکمالہا)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک سیاہ فام غلام انجشہ نام تھے وہ اونٹوں کے آگے حُدی (3 ) پڑھا کر تے تھے۔ ایک دفعہ سفر میں اَز واجِ مُطَہَّر ات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ساتھ تھیں اونٹ تیز چلنے لگے تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ’’ وَیْحَکَ یَا اَ نْجَشَۃُ رُوَیْدَکَ بِالْقَوَارِیْر ‘‘ (بخاری، کتاب الا دب) انجشہ ! دیکھناشیشیوں کو آہستہ لے چل۔ ( 4)
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مکہ میں حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نکاح میں آئیں ۔ حضرت زبیر کے پاس ایک گھوڑ ے اور ایک آب کش اونٹ (5 ) کے سوا کوئی مال و مملوک نہ تھااس لئے حضرت اسماء گھر کے کام کے علاوہ گھوڑے کے لئے گھاس لاتیں اور اونٹ کو کھجور کی گٹھلیاں کوٹ کر کھلاتیں ۔ چنانچہ آپ بیان فرماتی ہیں کہ میں اس زمین سے جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (ہجرت کے بعد اموالِ بنی نضیر میں سے ) حضرت زبیر کو عطا فرمائی تھی اور جو میرے مکان سے دو میل کے فاصلے پر تھی کھجور کی گٹھلیاں اپنے سر پر لا د کر لا یا کر تی تھی۔ ایک روز میں آرہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں ۔ اس حالت میں میری نظر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑی۔ آپ کے ساتھ انصارکی ایک جماعت تھی۔ آپ نے مجھے آواز دی اور اونٹ کو بٹھا دیا تاکہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر
لیں ۔ میں مردوں کے ساتھ چلنے سے شرماگئی۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک خادمہ میرے پاس بھیج دی جو گھوڑ ے کی خدمت کیا کر تی تھی۔ اس طرح صدیق اکبر نے مجھ کو گو یا غلامی سے آزاد کر دیا۔ (1 )
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں حضرت اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکابیان ہے کہ ’’ میں حضرت زبیر کے ہاں گھر کا کام کیا کرتی تھی ان کا ایک گھوڑا تھاجس کی نگہبانی میرے ذمہ تھی۔ گھوڑے کی نگہبانی سے زیادہ سخت اور کو ئی خدمت نہ تھی میں اس کے لئے گھاس لاتی، اس کی خدمت ونگہبانی کر تی۔ ‘‘ کچھ عرصہ کے بعد آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس غلام آئے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک خادمہ حضرت اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو عطا فرمائی جو گھوڑے کی خدمت کیا کر تی تھی۔ ( 2) ہر دو روایت میں وجہ تطبیق یوں ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ باندی حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاں بھیج دی تاکہ وہ حضرت اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس بھیج دیں ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!