اسلام

جو خوش اِلحانی سے قراٰن نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں

جو خوش اِلحانی سے قراٰن نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں

خَاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْاٰنیعنی جوخوش اِلحانی سے قراٰن نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں۔(بخاری،کتاب التوحید،بَاب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی وَأَسِرُّوا قَوْلَکُمْ۔۔۔الخ،۴/۵۸۶،حدیث:۷۵۲۷)

خوش آواز ی قراٰن کا زیور ہے

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یَتَغَنَّ یا تو غِنَاءٌسے بنا ہے بمعنی خوش اِلحانی اور

اچھے لہجے سے پڑھنا یا غَنَاسے بنا بمعنی بے پرواہی بے نیازی یعنی جوشخص قرآن شریف خوش اِلحانی سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقہ سے خارِج ہے ۔معلوم ہوا کہ بُری آواز والا بھی بقدرِ طاقت عمدگی سے قرآن شریف پڑھے کہ خوش آواز ی قرآن کریم کا زیور ہے،جس سے تلاوت میں کشش پیدا ہوتی ہے لوگوں کے دل مائل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے یا جسے اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) قرآن کا علم دے اور وہ لوگوں سے بے نیاز نہ ہوجائے بلکہ اپنے کو ان کا محتاج سمجھے وہ ہمارے طریقہ یا ہماری جماعت سے خارِج ہے عالِم صرف اللّٰہ ورسول(عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا محتاج ہے اور باقی مخلوق عالمِ دین کی حاجت مند ہے،اس لئے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھ کر بھیک مانگنا یا علما کا مالداروں کے دروازوں پر ذِلّت سے جانا ممنوع ہے،اللّٰہ تعالٰی علمائے دین کو کفایت بھی دے قناعت بھی۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۲۶۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’وہ ہم میں سے نہیں‘‘کا مطلب

حضرت علامہ بدرالدین عینی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القَوی فرماتے ہیں:اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہماری سیرت پر عمل پیرا نہیں،ہماری دی ہوئی ہدایت پرگامزن نہیں اور ہمارے اخلاق سے آراستہ نہیں۔(شرح أبی داود للعینی،کتاب الصلاۃ،باب کیف یستحب الترسل فی القرآن،۵/۳۸۵،تحت الحدیث:۱۴۳۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس

طرح کی احادیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری اُمت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ،ہاں! جو حضرات انبیائے کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کی توہین کرے وہ اسلام سے خارِج ہے۔(مراٰ ۃ المناجیح ، ۶/۵۶۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے زینت دو

فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے : قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔
(ابن ماجہ ،کتاب الصلاۃ ،باب فی حسن الصوت بالقرآن،۲/۱۳۱، حدیث:۱۳۴۲)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی خوش اِلحانی اور بہترین لہجے غمگین آواز سے تلاوت کرو اور ہر حرف کو اس کے مَخرج سے صحیح اداکرو مگر گا کر تلاوت کرنا جس سے مَد شد میں فرق آجائے حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۲۶۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میں چھ چیزوں سے خوفزدہ ہوں

حضرت ِسیِّدُنا عوف بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا: میں چھ

چیزوں سے خوفزدہ ہوں:(۱)بیوقوفوں کی حکمرانی (۲)رشوت کے فیصلوں(۳) سپاہیوں کی کثرت(۴)قطع رحمی (۵) ایسی قوم سے جو قرآن کو موسیقی کے طرز پر پڑھے گی ، اور(۶)قتلِ ناحق ۔(مسند احمد،۹/۲۵۲حدیث:۲۴۰۲۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوش آوازی کے ساتھ قرآن پڑھنے کی احتیاطیں

میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنلکھتے ہیں:قرآنِ عظیم خوش الحانی سے پڑھنا جس میں لہجہ خوشنما دلکش پسندیدہ، دل آویز، غافل دلوں پر اثر ڈالنے والا ہو، اور مَعَاذَ اللّٰہ ٭رعایتِ اوزانِ موسیقی کے لئے ہیٔات نظمِ قرآنی کو بدلا نہ جائے ٭ مَمْدُوْد کا مقصور مقصور کا ممدود نہ بنایا جائے ٭ حروفِ مد کو کثیر فاحش کشش جسے اصطلاحِ موسیقیان میں تان کہتے ہیں نہ دی جائے ٭ زمزمہ پیدا کرنے کے لئے بے محل غُنہ ونون نہ بڑھایا جائے ،غرض طرزِ ادا میں تبدیل وتحریف راہ نہ پائے، بیشک جائز ومرغوب بلکہ شرعا محبوب ومَندوب بلکہ بتاکیدِ اکید مطلوب اعلٰی درجہ کی ہے ،زمانہ صحابہ وتابعین وائمہ دین رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْہُم اَجمعین سے آج تک اس کے جواز واِستحسان پر اِجماعِ علما ہے۔( فتاوی رضویہ،۲۳/۳۵۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جس کی آواز اچھی نہ ہو؟

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی،ایک ہی شخص اپنی آواز بُری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/۲۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عورت کا اجنبیوں کے سامنے تلاوت کرنا

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :عورتوں کو اذان دینا ،تکبیر کہنا،خوش الحانی سے اجنبیوں کے سامنے تلاوت قرآن کرنا سب ممنوع ہے عورت کی آوازبھی سترہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/۴۴۵) مفتی صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں :جو عورت قاریہ ہو وہ بھی اپنی قرأت عورتوں کو سنائے مردوں کو نہ سنائے کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ۔(مراٰۃ المناجیح،۸/۵۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن پڑھنے کا طریقہ

حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اے قرآن والو ! قرآن کو تکیہ نہ بناؤ اور دن رات اس کی تلاوت کرو جیسا کہ تلاوت کا حق ہے اور قرآن کا اعلان کرو اسے خوش آوازی سے پڑھو اس کے معنٰی میں

غور کرو تاکہ تم کامیاب ہو اور اس کا ثواب جلدی نہ مانگو کہ اس کا ثواب بہت ہے۔
( شعب الایمان،باب فی تعظیم القرآن،فصل فی ادمان تلاوتہ،۲/۳۵۰ ، حدیث:۲۰۰۷)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی قرآن شریف پر سر رکھ کر نہ لیٹو کہ یہ بے ادبی ہے قرآن سے بے فکر نہ ہوجاؤ کہ اس کی تلاوت میں سُستی کرو،اس پر عمل نہ کرو ، دوسرے معنی قوی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے ۔(’’جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:) اس جملہ میں دو حکم ہیں ہمیشہ قرآن پڑھنا اور دُرست پڑھنا،قرآن کا حق تلاوت یہ ہے کہ ا س کی تلاوت صحیح طریقہ سے کرے اور اس پر عمل کرے رضائے الٰہی کے لئے پڑھے نہ کہ محض لوگوں کو خوش کرنے کے لیے۔ رب تعالیٰ فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ)پ۲۲،فاطر:۲۹)
{ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جو اللّٰہ کی کتاب پڑھتے اور نماز قائم رکھتے ہیں۔ }
یہاں(صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ قرآن کریم پر تکیہ لگانا اس کی طرف پاؤں پھیلانا اس پر کوئی اور کتاب رکھنا اس کی طرف پیٹھ کرنا اسے پھینکنا وغیرہ سخت منع ہے ۱؎ ،
قرآن کریم کو چومنا ، سر پر رکھنا مستحب ہے ،اس سے فال نکالنا حرام ہے ۔ {مفتی صاحب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمزید لکھتے ہیں:} قرآن کریم خوش اِلحانی سے پڑھو اور قرآن کے ذریعہ لوگوں سے غنی و بے نیاز ہوجاؤ،(لفظ تَغَنُّوا) گانے کے معنی میں نہیں کہ قرآن شریف گا کر پڑھنا حرام ہے۔ تدبُّر ِقرآن علما کا اور ہے بے علم لوگوں کا کچھ اور! علما تو اس کے معنی و اَحکام میں غور کریں عوام یہ سمجھ کر پڑھیں کہ یہ و ہ الفاظ ہیں جو نبی کریم صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّماور تمام صحابہ (عَلَیْہِمُ الرِّضوَان)نے پڑھے تھے ،اللّٰہ اکبر! ہمارے کہاں نصیب کہ وہ الفاظ ہماری زبان پر بھی آئیں۔{مفتی صاحب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمزید لکھتے ہیں:} تلاوتِ قرآن،تعلیمِ قرآن،تجویدِ قرآن کا ثواب آخرت میں ملے گا جو تمہارے علم و فہم سے وَراء ہے تم صرف یہاں ہی اس کا ثواب نہ لو یعنی دنیا کو اسی کا مقصد نہ بنالو۔(مراٰ ۃ المناجیح ،۳/۲۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن کریم دُرست پڑھا جائے

میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنلکھتے ہیں:بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیحِ حروف ہوا ور غلط خوانی سے بچے فرضِ عین ہے۔(فتاویٰ رضویہ مخرجہ ،۶/۳۴۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎ :فتاویٰ امجدیہ جلد 4 صفحہ 441 پر ہے : جان بوجھ کر قراٰنِ پاک کو زمین پر پھینکنا کُفر ہے۔
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۱۹۴)

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!