تو اضع وحسن معاشرت

تو اضع وحسن معاشرت

Advertisement

باوجود علو مر تبت کے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے بڑھ کر متواضع تھے۔ آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ بار گاہ الٰہی سے ایک فرشتے نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پر وردگار ارشاد فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو پیغمبر ی کے ساتھ بند گی وفقراختیار کریں اور اگر چاہیں تو نبوت کے ساتھ بادشاہت اور امیر ی لے لیں ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیغمبر ی کے ساتھ بند گی کو پسند فرمایا۔ اس کے بعد حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتکیہ لگا کر کھانانہ کھاتے اور فرماتے: ’’ میں کھانا کھاتا ہوں جیسے بند ہ کھایا کر تا ہے اور بیٹھتا ہوں جیسے بند ہ بیٹھا کر تا ہے۔ ‘‘ (3 )
حضرت ابو اُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عصاپر ٹیک لگائے نکلے ہم آپ کے لئے کھڑے ہوگئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم کھڑے مت ہو جیسا کہ عجمی ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ (1 )
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کر تے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی نے ایک دوسرے کو دُشنا م دی (2 ) مسلمان نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا۔ یہودی نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ (عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلام) کو تمام جہان والوں پر بر گز یدہ کیا۔اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے ایک تھپڑ مارا یہودی جناب پیغمبر خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس گیااوراپنااور مسلمان کا حال بیان کیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (مسلمان سے) فرمایاکہ تم مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دوکیونکہ لوگ (قیامت کے دن) بیہوش ہوکر گر پڑیں گے میں سب سے پہلے ہو ش میں آؤں گا ناگاہ موسیٰ عرش کی ایک طرف کو پکڑ ے ہو ئے ہوں گے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ ان میں سے ہوں گے جو بے ہوش ہوئے اور پھر ہوش میں آئے یا ان میں سے ہوں گے جو بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ رہے۔ (3 )
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کر تے ہیں کہ ایک شخص رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا: ’’ یَا خَیْرَ الْبَرِ یَّۃِ ‘‘ اے بہترین خلق! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ’’ خَیْرَ الْبَرِ یَّۃِ ‘‘ تو ابر اہیم (عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلام) ہیں ۔ (4 )
حضرت عبداللّٰہبنالشِّخِّیْربیان کر تے ہیں کہ میں بنو عامر کے وفد میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، ہم نے کہا: آپ ہمارے آقا ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ آقا

خدا ہے۔ ‘‘ پس ہم نے کہا کہ آپ فضل وکرم میں ہم سب سے افضل و اعظم ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تم یہ کہو یا اس سے بھی کم کہو، دیکھنا ! شیطان تمہیں اپنا وکیل نہ بنا لے۔ (1 )
عدی بن حاتم طائی پہلے عیسا ئی تھے جو اپنی قوم کے سردار تھے اور غنیمت میں سے حسب قاعدۂ جاہلیت چوتھا حصہ لیا کر تے تھے جب ان کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت کی خبر پہنچی تو وہ بھاگ کر ملک شام کو چلے گئے۔ ان کی بہن پیچھے رہ گئی اور گر فتار ہو کر بار گاہ رسالت میں آئی اس نے عرض کیا کہ آپ مجھ پر احسان کیجئے خدا تعالٰی آپ پر احسان کر ے گا۔ چنانچہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے خور اک وپو شاک اور سواری دے کر اس کی قوم کے ایک قافلہ کے ساتھ روانہ فرما دیا وہ شام میں اپنے بھائی کے پاس پہنچ گئی۔ عدی کو شک تھا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بادشاہ ہیں یا پیغمبربہن نے مشورہ دیا کہ تم خود حاضر خدمت ہوکر دیکھ آؤ۔ چنانچہ عدی یوں بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں تشریف رکھتے تھے میں نے سلام عرض کیا آپ نے پو چھا کہ تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں عدی بن حاتم طائی ہوں ۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے چلے ۔نا گاہ ایک مسکین بڑھیاکسی حاجت کے لئے حاضر خدمت ہو ئی وہ کہنے لگی : ٹھہرئیے! چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے اور وہ دیر تک کچھ عرض کر تی رہی یہ دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بادشاہ نہیں ہیں پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے اپنے گھر لے گئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک تکیہ جو کھجور کی چھال سے بھر اہوا تھامیری طرف پھینکااور فرمایا کہ اس پر بیٹھ جاؤ! میں نے کہا: نہیں آپ اس پر تشریف رکھئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ہی اس پر بیٹھو۔ چنانچہ حسب الارشاد میں اس پر بیٹھ گیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزمین پر بیٹھ گئے یہ دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ باد شاہ کا یہ حال نہیں ہوا کر تا۔ پھر آپ نے فرمایا: عدی بن حاتم! کیا تم رَکو سی ( 2) نہیں ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔پھر فرمایا: کیا تم غنیمت کا چوتھا حصہ نہیں لیتے؟ میں نے

عرض کیا کہ ہاں ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ یہ تمہارے دین میں جائز نہیں ۔ میں اس سے پہچان گیا کہ آپ پیغمبر مر سل ہیں اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ عدی ! شاید تم اس لئے دین اسلام میں داخل نہیں ہو تے کہ مسلمان غریب اور تعداد میں تھوڑے ہیں اور ان کے دشمن بہت اور صاحب ملک وسلطنت ہیں ، مگر عنقریب مسلمانوں میں مال کی وہ کثرت ہو گی کہ کوئی صدقہ لینے والا نہ ملے گا اور تم عنقریب سن لو گے کہ ایک عورت اونٹ پر سوار ہو کر قادسیہ سے مکہ میں پہنچ کر بیت اللّٰہ کا حج کیا کرے گی اور اسے کسی کا ڈر نہ ہو گااور تم عنقریب سر زمین بابل میں سفید محلات پر مسلمانوں کے قبضہ کی خبر سن لو گے۔ یہ سن کر میں اسلام لا یا۔ حضرت عدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کر تے تھے کہ ان تین پیشگو ئیوں میں سے دوسری اور تیسری پوری ہو چکی ہے اور پہلی پوری ہو کر رہے گی۔ (1 )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحاب کو مَدْح میں مبالغہ کرنے سے روکتے اور فرماتے: میری مَدْح میں تم مبالغہ نہ کروجیسا کہ نصاریٰ نے ابن مر یم کی مدح میں کیا، میں اللّٰہ کا بند ہ ہوں ، مجھے اللّٰہ کا بند ہ اور اللّٰہ کا رسول کہا کرو۔ ( 2)
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اَہل خانہ وخد ام اور اَصحاب سے نہایت تو اضع سے پیش آیا کرتے، اپنے دولت خانہ میں اہل خانہ کے کا روبار کیا کر تے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کھانے کو عیب نہ لگایا، خواہش ہو تی توکھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ حضرت اَنس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دس سال تک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کی اس عرصہ میں آپ نے کبھی ان کواُ ف نہ کہا اور نہ یوں فرمایا کہ فلاں کا م کیوں کیا اور فلاں کیوں نہ کیا۔ ( 3)
جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز فجر سے (4 ) فارغ ہو تے تو اہل مدینہ کے خادم پانی کے برتن لے

کر حاضرہو تے۔ آپ ان میں اپنا دست مبارک ڈبو دیتے (1 ) تا کہ ان کو شفاء اور بر کت ہو۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلتے اور ان کی حاجت بر آری فرماتے۔ ( 2) اہل مدینہ ( 3) کی لونڈیاں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہاتھ مبارک پکڑ تیں اور اپنے کاموں کے لئے جہاں چاہتیں لے جاتیں ۔ (4 )
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیماروں کی عیادت فرماتے، جنازے کے پیچھے چلتے، غلاموں کی دعوت قبول فرماتے، دراز گوش پر سوار ہوتے اور اپنے پیچھے اَور وں کو بٹھا لیتے۔ چنانچہ بنی قُرَیظہ کی لڑائی کے دن آپ در از گوش پر سوار تھے جس کی مہار اور پالان پوست (5 ) خرماکا تھا۔ (6 ) حجۃ الوداع میں جس کجاوے پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوار تھے ( 7) جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہر میں داخل ہوئے تو ازروئے تواضع سر مبارک کو اس قدر جھکا لیا کہ کجاوے سے آلگا۔ ( 8)
غزوۂ بد رمیں تین تین مجاہدوں کے لئے ایک ایک اونٹ تھا۔ ( 9) چنانچہ حضرت علی مرتضیٰ وابولبابہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عدیل (10 ) تھے جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اتر نے کی باری آتی تو دونوں عرض کرتے کہ آپ نہ اتریں ہم آپ کے بدلے پید ل چلتے ہیں مگر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے کہ تم مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور میں تمہاری نسبت اجروثواب سے زیادہ بے نیاز نہیں ہوں ۔ (1 )
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے نعل مبارک کو آپ پیوند لگا لیتے اپنے کپڑے آپ سی لیتے اپنی بکری کا دودھ دوہ لیتے جب کوئی آپ سے ملنے آتا تو اس کا اِکرام ( 2) کر تے یہاں تک کہ بعض وقت اپنی چادر مبارک اس کے لئے بچھا دیتے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سے ملتے تو پہلے سلام کر تے جب مصافحہ کرتے تو اپنا ہاتھ نہ ہٹا تے جب تک دوسرا شخص نہ ہٹاتا اور اس سے اپنا روئے مبارک نہ پھیرتے یہاں تک کہ وہ پھیر لیتا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے زانو اپنے ہم نشین سے آگے بڑھا کرنہ بیٹھا کر تے۔ (3 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بیان ہے کہ ایک شخص اجازت لے کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس اندر آیا آپ نے اسے درواز ے میں دیکھتے ہی فرمایا کہ قبیلے کا یہ شخص بُراہے۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے سامنے کشادہ رُوئی اور اِنبسا ط (4 ) ظاہر کیاجب وہ چلا گیا تو حضرت صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب آپ نے اس شخص کو درواز ے میں دیکھا تو ایسا فرمایامگر اس کے روبر وتازہ رُوئی اور انبساط ظاہر کیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اے عائشہ ! تونے مجھے فاحش کب پایا، قیامت کے دن اللّٰہ کے نزدیک منزلت کے لحاظ سے سب سے بُرا وہ شخص ہوگاجس سے لوگ اس کے فحش سے بچنے کے لئے کنارہ کر تے ہیں ۔ ‘‘ (5 )
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کر تے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فحش کہنے والے

نہ تھے اور نہ کسی پر لعنت کرنے والے اور نہ گالی دینے والے تھے۔ جب آپ کسی پر عتاب فرماتے تو یوں ارشاد فرماتے: ’’ اسے کیا ہوااس کی پیشانی خاک آلود ہ ہو۔ ‘‘ ( 1)
ایک سفر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَصحاب سے فرمایا کہ کھانے کے لئے ایک بکری دُرُست کرلو ایک نے کہا: اس کا ذبح کرنا میرے ذمے ہے۔ دوسرے نے کہا: کھال اتارنا میرے ذمے ہے۔ ایک اور بولا: پکانا میرے ذمے ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: لکڑیاں چن کر لانا میرے ذمے ہے۔ صحابہ کرام رِضْوانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے عرض کیا کہ یہ کام ہم خود کر لیتے ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم کر سکتے ہو لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے تئیں (2 ) تم سے ممتاز کروں کیونکہ خدا تعالٰی اس بندے کو پسند نہیں کرتا جواپنے سا تھیوں سے ممتاز بنتا ہے۔ اس کے بعد آپ لکڑیاں جمع کر کے لائے۔ (3 )
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اصحاب کرام رِضْوانَُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی دل جوئی اور تعہد (4) میں کوئی دَقیقہ فرو گزاشت نہ فرماتے۔ ( 5) ایک روز ایک شخص آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آیا اور اپنی حاجت عرض کی وہ آپ کی ہیبت سے کا نپنے لگا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا گھبر اؤمت میں بادشاہ نہیں ہوں میں ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گو شت کھایا کر تی تھی۔ (6 )
ایک دفعہ نجاشی شاہ حبشہ کا وَفدآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں آیا، آپ بذات خود ان کی خدمت کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔صحابہ کرام رِضْوانَُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کیا کہ ہم آپ کی طرف سے خدمت کے لئے کا فی ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ انہوں نے اپنے ملک میں ہمارے اَصحاب
کا اِکرام کیا تھا اس لئے مجھے یہی پسند ہے کہ اس اِکرام کا بد لہ میں خود دوں ۔ ( 1)
حضرت قیس بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کر تے ہیں کہ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے غریب خانہ پر تشریف لا ئے میرے والد نے آپ کی خاطر تو اضع کی۔ کھانا تنا ول فرمانے کے بعد جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس آنے لگے تو میرے والد نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے ایک در از گو ش تیار کیاجس پر کمبل کا پالان (2 ) تھاآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر سوار ہو گئے جب چلنے کو ہوئے تو والد نے مجھ سے کہا: قیس! تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جا۔ اس لئے میں ساتھ ہو لیاحضورانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تو میرے ساتھ سوار ہوجا میں نے بپاس ادب انکار کردیا مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ یا تو سوار ہوجا یا لوٹ جا۔ ‘‘ اس لئے میں واپس آگیا۔ (3 )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُمت کی دل جو ئی کے لئے کبھی کبھی خوش طبعی بھی فرمایا کر تے تھے مگر وہ متضمن دَروغ نہ ہو تی تھی۔ ( 4) چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک چھوٹا اَخیافی بھائی (5 ) تھاوہ جب حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آتا تو اس کے ہاتھ میں ایک چڑیا (ممولا) ہوتی جس سے وہ کھیلا کر تا تھااتفاقاً وہ چڑیا مرگئی اس کے بعد جب وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں آتا تو آپ خوش طبعی کے طور پر فرماتے: یَا اَ بَا عُمَیْر مَا فَعَلَ النُّغَیْر ۔ یعنی اے ابو عمیر ! وہ چڑیا کہا ں گئی۔ (6 )
ایک روز ایک شخص نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے درخواست کی کہ مجھے سواری عنا یت کیجئے تاکہ میں اس پر سوار ہو جاؤں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کر وں گا۔ وہ بولا
میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں ۔ اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اونٹنیاں ہی اونٹ جنتی ہیں ۔ (1 ) یعنی ہر ایک اونٹ اونٹنی کا بچہ ہو تا ہے اس میں تعجب کیا ہے۔
اسی طرح ایک روز ایک عورت نے جو قرآن پڑھا کر تی تھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ آپ دعا کر یں کہ میں بہشت میں داخل ہوں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا کہ کوئی بوڑھی عورت بہشت میں داخل نہ ہو گی۔اس نے اس کاسبب پو چھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دیا کیا تو قرآن نہیں پڑھتی اس میں اللّٰہ تعالٰی نے یوں فرمایا ہے:
اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ (۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ (۳۶) (واقعہ، ع ۱)
(2 ) ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر پیدا کیا اور ان کو کنواریاں بنا یا۔ (3 )
ایک بدوی صحابی زاہر نام جو بد شکل تھے جنگل کے پھل سبزی وغیرہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بطو رہد یہ لا یا کر تے تھے۔ جب وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے رخصت ہو تے تو آپ شہر کی چیزیں کپڑا وغیرہ ان کودے دیا کر تے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان سے محبت تھی اور فرمایا کر تے تھے کہ زاہر ہمارا رُوستا ئی (4 ) ہے اور ہم اس کے شہر ی ہیں ۔ ایک روز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبازار کی طرف نکلے تو دیکھا کہ زاہر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی متاع بیچ رہے ہیں ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیٹھ کی طرف سے جاکر ان کی آنکھوں پر اپنا دست مبارک رکھا اور ان کوگودمیں لے لیاوہ بو لے: کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔ انہوں نے مڑکر دیکھا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے۔ پس اپنی پیٹھ اور بھی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سینے سے (بغرض تبرک) لپٹا نے لگے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کوئی ہے جو ایسے غلام کو خرید ے۔ وہ بولے : یارسول
اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماگر آپ بیچتے ہیں تو آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ تو خدا کے نزدیک گراں قدر ہے۔ ‘‘ (1 )
حضرت محمود بن ربیع انصاری خزرجی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جو صغار صحابہ میں سے تھے۔پانچ سال کے تھے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے گھرتشریف لے گئے جس میں ایک کنواں تھا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ڈول سے پانی پیا اور پانی کی کلی (بطریق مزاح) حضرت محمود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہر ے پر ماری۔ (2 ) اس کی برکت سے ان کو وہ حافظہ حاصل ہوگیاکہ اس قصے کو یاد رکھتے تھے اسی وجہ سے صحابہ میں شمار ہوئے۔ اسی طرح حضرت زینب بنت ام سلمہ مخزومیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رَبِیْبَہ تھیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آئیں آپ غسل خانے میں تھے آپ نے ان کے چہرے پر پانی پھینک دیا اس کی برکت سے ان کے چہر ے میں شبا ب کی رونق قائم رہی یہاں تک کہ نہایت بو ڑھی ہو گئیں ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!