بچے کی آنکھ ضائع ہو گئی

سبق آموز واقعہ

بچے کی آنکھ ضائع ہو گئی

اطلاعات کے مطابق ایک تین سالہ بچے کے والد کا دوست ان کے گھر آیا اور موبائل فون کے کیمرے سے بچے کی تصویر بنانے لگا۔تصویر بنانے سے پہلے وہ کیمرے کی فلیش لائٹ بند کرنا بھول گیااور دس انچ کے فاصلے سے بچے کی تصویر بنائی۔ آدھے گھنٹے بعد بچے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور والدین نے محسوس کیا کہ بچے کو دیکھنے میں دشواری ہورہی ہے۔بچے کو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جس نے معائنے کے بعد بتایا کہ کیمرے کی تیز فلیش لائٹ کے باعث ان کا بیٹا ایک آنکھ سے نابینا ہوچکا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چار سال کی عمر تک بچے کی آنکھ میں قریب سے کیمرے کی فلیش لائٹ پڑنے سے آنکھ کے ریٹینا میں موجود میکیولا (MACULA) شدید متاثر ہوتا ہے جس کے سبب بینائی ضائع ہونے کا بہت زیادہ خدشہ ہوتا ہے اور یہ ایک ناقابلِ علاج مسئلہ ہے۔اس عمر تک بچے کی آنکھ میں میکیولا پوری طرح نشوونما نہیں پاتا اس لئے یہ اس قدر تیز روشنی برداشت نہیں کرسکتا۔ڈاکٹروں نے لوگوں کوہدایت کی ہے کہ چار سال کی عمر سے قبل بچے کی تصاویر بنانے سے پہلے پوری طرح یقین کرلیں کہ ان کے کیمرے کی فلیش لائٹ بند ہے ورنہ ان کا بچہ عمر بھر کے لئے نابینا بھی ہوسکتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!موبائل فون کے پیدا کردہ مسائل میں سے ایک موقع بے موقع تصویر بنانے کا شوق بھی ہے۔آج کل چونکہ کم وبیش ہر شخص کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے لہٰذا جسے جہاں موقع ملتا ہے وہ کسی کی بھی تصویر یا وڈیو بنالیتا ہے چاہے سامنے والا اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔یہ شوق اس وقت غیر انسانی روپ دھار لیتا ہے جب کہیں بم دھماکہ،ایکسیڈنٹ یا کوئی اور سانحہ رونما ہو اور موقع پر موجود افراد ہلاک ہونے والوں کی منتقلی اور زخمیوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کی تصویر یا وڈیو بنانے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک سنگدلانہ عمل ہے۔ ایسا کرنے والے اگر خدانخواستہ خود کسی ایسے سانحے کا شکار ہوں اور موقع پر موجود افراد ان کی مدد کے بجائے ان لمحات کو محفوظ کرنے میں مصروف رہیں تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔
موبائل فون سے تصویر سازی کے شوق کا ایک اور نقصان مختلف جسمانی عوارض(بیماریوں) کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ مثلاًپیدائش کے فوراً بعد والدین یا دوست احباب کا بچوں کی تصاویر بناکر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ (Upload) کرنا ایک عام سی بات بنتی جارہی ہے۔ بظاہر تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتالیکن مذکورہ واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا بسا اوقات بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، بالخصوص اگر کیمرے کی فلیش لائٹ آن ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *