بادشاہ کے بیٹے کی توبہ

بادشاہ کے بیٹے کی توبہ

ايک روزحضرت سیدنا منصوربن عمار علیہ الرحمۃبصرہ کی گليوں ميں سے گزر رہے تھے۔آپ نے ايک جگہ ايک محل نما عمارت ديکھی جس کی ديواريں نقش و نگار سے مزين تھيں اور اس کے اندر خدام و حشم کا ايک ہجوم تھا جوادھر ادھر بھاگ دوڑکر مختلف کاموں کو سر انجام دينے ميں مصروف تھا ۔اس ميں بے شمار خيمے بھی لگے ہوئے تھے اور محل کے دروازے پردربان بالکل اسی طرح سے بيٹھے تھے جس طرح بادشاہ کے محل کے باہر بيٹھے ہوتے ہيں۔اس محل نما عمارت کے منقش ديوان خانے ميں سونے چاندی کا جڑا ہوا تخت رکھا ہوا تھا ۔آپ علیہ الرحمۃ نے ايک انتہائی خوبصورت نوجوان کو اس پر بيٹھے ہوئے ديکھا جس کے گرد نوکر اور خادم ہاتھ باندھے کسی اشارے کے منتظر تھے ۔
آپ فرماتے ہيں کہ ميں نے اس محل نما خوبصورت عمارت ميں داخل ہونا چاہاتو دربانوں نے مجھے ڈانٹ ديا اور اندر داخل ہونے سے منع کر ديا۔ ميں نے سوچا کہ

”اس وقت يہ نوجوان دنيا کا بادشاہ بنا بيٹھا ہے ليکن اسے بھی موت تو آنی ہے جب موت آئے گی تو اس کی بناوٹی بادشاہی کا خاتمہ ہو جائے گا جو کچھ اس کے پاس کل تک تھا وہ اگلے دن تک نہيں رہے گا لہذا مجھے ڈرنا نہيں چاہيے اور اسکے پاس جا کر حق بات کی نصیحت کرنی چاہيے شاید اللہ تعالی اس پراپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ چنانچہ ميں موقع کی تلاش ميں رہا جونہی دربان ذرا مشغول ہوئے ميں آنکھ بچا کر اندر داخل ہوگياميں نے ديکھا کہ اس نوجوان نے کسی عورت کو پکارا ۔”اے نسواں! ”اس کے بلانے پر ايک کنيز حاضر ہو گئی ۔
مجھے يوں لگا جيسے اچانک دن چڑھ آيا ہو ۔اس کے ساتھ اور بھی بہت سی کنيزيں تھیں جن کے ہاتھوں ميں خوشبودار مشروب سے بھرے ہوئے برتن تھے۔ اس مشروب کے ساتھ اس نوجوان کے دوستوں کی خدمت کی گئی ۔مشروب سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس کے تمام احباب يکے بعد ديگرے اس کو سلام کر کے رخصت ہونے لگے۔ جب وہ دروازے تک پہنچے توانہوں نے مجھے ديکھ ليا اور مجھے ڈانٹنا شروع کر ديا۔ ميں نے ان سے خوف زدہ ہونے کے بجائے پوچھا کہ ”يہ نوجوان کون ہے ؟” انہوں نے بتایا:” یہ بادشاہ کا بیٹا ہے ۔”ميں يہ سن کر تیزی سے اس نوجوان کی طرف بڑھااور اس کے سامنے جا کر رک گيا ۔جب بادشاہ کے بيٹے نے مجھ جيسے فقير کو بالکل اپنے سامنے کھڑا پايا تو سخت غصے ميں آ گيا اور کہنے لگا :”ارے پاگل ! تو کون ہے؟ تجھے کس نے اندر داخل ہونے ديا ؟ اور تو ميری اجازت کے بغير يہاں کيسے آيا ؟”
ميں نے کہا : ”اے شہزادے !ذراٹھہر جائيے اور ميری لاعلمی کو اپنے حلم اورميری خطا کو اپنے کرم سے درگزر کیجئے،ميں ايک طبيب ہوں۔ ميرے اتنا کہنے سے

اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ گيا اورکہنے لگا:” ٹھيک ہے، ذرا ہميں بھی بتائيے کہ آپ کيسے طبيب ہيں؟” ميں نے کہا : ”ميں گناہوں کے درد اور نافرمانيوں کے زخموں کا علاج کرتا ہوں۔” اس نے کہا:” اپنا علاج بيان کرو۔”ميں نے کہا :”اے شہزادے !تو اپنے گھر ميں آرام سے تخت پر تکيہ لگائے بيٹھا ہے اور لہو ولعب ميں مصروف جبکہ تيرے کارندے باہر لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہيں ،کيا تجھے اللہ سے خوف نہيں آتا اس کے دردناک عذاب کا تجھے کوئی ڈر نہيں ؟تجھے اس دن کا کوئی لحاظ نہيں جس دن تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کوان کی بادشاہيوں اور حکمرانيوں سے معزول کر ديا جائے گااور تمام سرکش ظالموں کے ہاتھ باندھ دئيے جائيں گے، ياد کر اس اندھيری رات کو جو یومِ قيامت کے بعد آنے والی ہے اور جہنم کی وہ آگ جو غصے کی وجہ سے پھٹنے والی ہے اور غیظ وغضب سے چنگھاڑ رہی ہے ،سب لوگ اس کے خوف سے حواس باختہ ہو جاتے ہيں۔ عقل مند آدمی کو دنيا کی فانی نعمتوں،چھن جانے والی حکومتوں اور عورتوں کے ان خوبصورت بدنوں سے دھوکا نہيں کھانا چاہيے جو مرنے کے بعد صرف تين دن ميں خون پیپ اور بدبودار لوتھڑوں ميں تبديل ہو جاتے ہيں بلکہ عقل مند آدمی تو جنت کی ان عورتوں (یعنی حوروں) کا طالب ہوتا ہے جن کا خمير کستوری عنبر اور کافور سے اٹھايا گيا ہے ، جو اتنی حسين و جميل ہيں کہ آج تک کسی نے ان جيسی حسين و جميل عورت نہ ديکھی ہے اور نہ ہی سنی ہے۔ اللہ تعالی نے انہيں کے متعلق فرمايا ہے :

فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَآنٌّ ﴿ۚ۵۶﴾فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۷﴾کَاَنَّـہُنَّ الْیَاقُوۡتُ وَ الْمَرْجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾

ترجمہ کنزالایمان :ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں
نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے ،تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤگے،گویاوہ لعل اور یاقوت اور مونگاہیں۔(پ۲۷،الرحمن :۵۶۔۵۸)
لہذا! دانا وہی ہے جو جنت کی نعمتوں کی خواہش رکھے او عذاب جہنم سے بچنے کی کوشش کرے۔ ”
ميری يہ باتيں سن کربادشاہ کے بيٹے نے ايک ٹھنڈی آہ بھری اورکہنے لگا : ”اے طبيب ! تو نے تو کسی اسلحے کے بغير ہی مجھے قتل کر ڈالا ہے ، مجھے بتاؤکيا ہمارا رب عزوجل اپنے نافرمان بھگوڑے بندوں کو قبول کر ليتا ہے کيا وہ مجھ جيسے گنہگار کی توبہ قبول فرمائے گا؟” میں نے کہا :”کیوں نہیں ! وہ بڑا غفورو رحیم اور کریم ہے ۔” میرایہ کہنا تھا کہ اس نے اپنی قیمتی عباء چاک کرڈالی اور محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ چند سالوں بعد جب میں حج کے لئے بیت اللہ شریف گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک نوجوان طواف ِ کعبہ میں مصروف ہے ۔اس نے مجھے سلام کیا اور کہنے لگا:”آپ نے مجھے پہچانا نہیں ،میں وہی بادشاہ کا بیٹا ہوں جس نے آپ کی باتیں سن کر توبہ کی تھی ۔”(حکایات الصالحین ،ص۷۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *