اونٹ آنحضرت ؐکی پناہ میں آیا

اونٹ آنحضرت ؐکی پناہ میں آیا :

Advertisement

امام منذری ؒنے ترغیب وترتیب میں ابن ماجہ سے نقل کیا ہے کہ تمیم واری ؒ کہتے ہیں کہ : ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آنحضرت ؐ کے پاس کھڑا ہوگیا ، حضرت ؐ نے فرمایا اے اونٹ بے فکر رہ!اگرتو سچاہے تو تیرا صدق تیرے کام آئے گا ،اور جھوٹا ہے تواس کا وبال تجھ پر ہے ۔ اور فرمایا مع ان اللہ قد امن عائذ نا ولیس بخائب لائذ نا یعنی : اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جو ہم سے پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے امن و امان دیتا ہے اور ہم کو پشت پناہ بنا نے والا بے نصیب نہیں ہوتا ۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ اونٹ کیا کہتا ہے ؟ فرمایا : اس کے مالک اس کو ذبح کرکے اس کا گوشت کھانا چاہتے ہیں اسی لئے اسنے بھاگ کر تمہارے نبی کی پناہ لی ۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ لوگ دوڑتے ہوئے آپہونچے ، جب اونٹ نے انہیں دیکھا آنحضرت ؐ کے سر مبارک کے قریب ہو کر پناہ میں آگیا ، اور ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے اونٹ ہے تین روزسے بھاگا ہوا ہے جو اس وقت آپ کے روبرو ملا ! حضرت ؐ نے فرمایا وہ تمہاری شکایت کرتا ہے ! انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا شکایت ہے ؟ فرمایا یہ کہتا ہے کہ کئی سال تمہارے دامن میں وہ پرورش پایا ، موسم گرما میں تم اس پر سامان لادکر ان علاقوں میں جا تے تھے جہا ں گھاس ہوتی ہے ، اور موسم سرما میں گرم مقامات میں جا تے تھے جب وہ بڑھاپے کے قریب پہونچا توتم نے اس سے اولاد کی اور بہت سے اونٹ تمہارے پاس ہوگئے ، اور جب تر وتازہ اور سرسبز سال آیا تو تم نے قصد کیا کہ اس کو ذبح کر کے اس کاگوشت کھا لیں ۔ انہوںنے عرض کی کہ یہ سب درست ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت نے فرمایا یہ مملوک صالح کی جزاء نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے عرض کی اب ہم اس کو نہ بیچیں گے نہ ذبح کریں گے ۔ آنحضرت ؐ نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو ، اس نے تم سے فریادکی اورتم نے اس کی فریاد رسی نہیں کی ، مجھے اس پر رحم کرنے کا استحقاق تم سے زیادہ ہے ، خداے تعالیٰ نے رحمت کو منافقوں کے دلوں سے

نکال دیااور مسلمانوں کے دلوں میں اس کو جگہ دی ہے ۔ پھر آنحضرت ؐ نے ان کو سو (۱۰۰) درہم دے کر وہ اونٹ ان سے خرید لیا،اور اس سے فرمایا : اے اونٹ چلا جا تجھے اللہ کے واسطے ہم نے آزاد کردیا ۔ دیکھئے پناہ لینے کا یہ طریقہ ہے ،جب اونٹ نے دیکھا کہ جان کی خیر نہیں اور بغیر کسی زبردست پناہ کے ،مالکوں کے ہاتھ سے نجات نہیں مل سکتی تو ایسی زبردست پہناہ میں آگیا جو دونوں عالم کا پشت پناہ ہے ۔ اور چونکہ صدق دل سے اس نے پناہ لی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے اپنی پناہ میں لے کر نجات دلوادی ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!