Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اُخروی حساب کا خوف

حکایت نمبر245: اُخروی حساب کا خوف

حضرتِ سیِّدُنامُبَارَک بن سعید علیہ رحمۃ اللہ المجید سے منقول ہے کہ ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان علیہ رحمۃ اللہ المنّان کے پاس سات سات ہزار دینار کی دو تھیلیاں لے کر حاضر ہوا۔ اس شخص کا والد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بہت گہرا دوست تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر اس کے پاس جا کرقیلولہ فرماتے اور وہ بھی اکثرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا کرتا تھا۔ دینارلانے والے نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا:” اے ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! کیا آپ کے دل میں میرے والد کی کچھ محبت ہے؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے والد کی خوب تعریف کی اور فرمایا:” اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے والد پر رحم کرے، وہ بہت اچھے انسان اوربہت سی خوبیوں کے حامل تھے۔ کہا:اے ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ مال میرے پاس کیسے آیا ؟ اب میں چاہتاہوں کہ آپ یہ تمام دینار قبول فرمالیں اور ان کے ذریعے اپنے اہل وعیال کی کفالت پر مدد حاصل کریں ۔ ”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے ساری رقم لے لی۔ جب وہ جانے لگا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا :”جاؤ اور اس کو میرے پاس بلا لاؤ ۔” میں گیا اور اسے بلالایا۔ فرمایا :” اے بھتیجے! تمھارا مال میں نے قبول کرلیا، اب میری خواہش ہے کہ یہ مال تم قبول کرلو ۔” اس نے انکار کرتے ہوئے کہا:” اے ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! کیا آپ کے دل میں اس مال کے بارے میں کوئی کھٹکا ہے ؟” فرمایا :” نہیں ، لیکن میں چاہتاہوں کہ تم یہ واپس لے لو۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسی طرح تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے مال واپس لے لیا۔
جب وہ چلا گیا تو میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا،اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہ تھا میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے کھڑا ہوااور کہا :” اے بھائی! افسوس ہے ! آپ کا دل کیسا ہے ؟کیا آپ کے اہل وعیال نہیں ، کیا آپ مجھ پررحم نہیں کریں گے؟ کیا آپ ہمارے بچوں پر رحم نہیں کریں گے؟آپ ہمارے لئے ہی وہ مال قبول کر لیتے،میں کافی دیر تک آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اسی طرح کہتا رہا بالآخر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:اگرتم چاہو تو وہ مال لے لو اور خوش دلی سے کھاؤ، میں کبھی بھی اسے قبول نہیں کروں گا،کیونکہ اگرمیں نے وہ قبول کرلیاتواس کے متعلق سوال بھی مجھ ہی سے ہوگا ، کسی اور سے نہیں ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)

error: Content is protected !!