Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اُ ڑنے والا تخت

حکایت نمبر433: اُ ڑنے والا تخت

حضرتِ سیِّدُنازیدبن اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم سے منقول ہے:بنی اسرائیل کا ایک عابد لوگوں سے الگ تھلگ پہاڑکی چوٹی پر اپنے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مشغول رہتاتھا۔لوگ قحط سالی میں پریشان ہوکراس سے مددطلب کرتے ،وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاکرتاتو رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی برسات ہونے لگتی اورلوگ خوب سیراب ہوجاتے۔
ایک مرتبہ کچھ لوگ انتہائی اہم کام کے سلسلے میں اس عابد کے پاس آئے ،وہ ایک چھڑی سے مُردوں کی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کواُلٹ پلٹ کررہاتھا۔لوگوں نے اس کے عمل میں دخل اندازی مناسب نہ سمجھی اورادب سے ایک جانب بیٹھ کراس کے فارغ ہونے کاانتظارکرنے لگے۔اچانک اس نے ایک زوردارچیخ ماری اور زمین پرگرکرتڑپنے لگا،پھرکچھ دیربعدساقط ہو گیا۔ لوگوں نے دیکھا تواس کی روح قفسِ عُنصُری سے پروازکرچکی تھی۔ سب کوبہت دکھ ہوا،جب اس کے انتقال کی خبرمشہورہوئی تو لوگ جوق درجوق جمع ہوکراس کی تجہیزوتکفین کاانتظام کرنے لگے۔جب اسے کفن پہنادیاگیاتوآسمان کے کنارے سے ایک تخت اڑتا ہوا آیا اور عابد کی میت کے پاس آکررُک گیا۔یہ دیکھ کرایک شخص کھڑا ہوااورلوگوں کومخاطب کرکے کہنے لگا:”اے لوگو ! تمام تعریفیں اس خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے نیک بندے کواپنے اس کرم کے لئے خاص کیا جوتم دیکھ رہے ہو۔”
یہ کہہ کراس نے عابد کی میت اس تخت پررکھ دی ۔تخت فوراًبلند ہوااوراڑتاہواآسمان کی طرف بڑھتاچلاگیا،لوگ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!