Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بچوں کی فریاد اور بوڑھے کا توکل

حکایت نمبر 411: بچوں کی فریاد اور بوڑھے کا توکل

حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کی خدمتِ بابرکت میں حاضر تھا۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُناابوحَفْص نَیْشَاپُورِی علیہ رحمۃ اللہ القوی تشریف لائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے پُرتَپاک طریقے سے استقبال کرتے ہوئے گلے ملے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوحَفْص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے جنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! بتاؤ! کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیزہے جو مجھے کھلا سکو ؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” آپ جو حکم فرمائیں گے وہی چیز پکا دی جائے گی۔” یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے ابن زِیْرِی ! تم نے شیخ کی بات سُنی ہے، اب جلدی سے کھانے کا انتظام کرو۔حکم پاتے ہی ابن زِیْرِی چلے گئے اور کچھ دیر بعد مطلوبہ اشیاء خوردو نوش لے کر حاضر ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوحَفْص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا:” جو چیز یں آپ نے طلب کی تھیں وہ حاضرِ خدمت ہیں۔” فرمایا:” اے میرے بھائی! میں چاہتا ہوں کہ یہ سارا کھانا ایثار کردوں تم اس معاملے میں میری مدد کرو۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”جو آپ کی پسند وہی میر ی پسند ۔”اے ابن زِیْرِی! تم نے شیخ کا کلام تو سن ہی لیا ہے۔ جاؤ! یہ کھانا کسی مستحق فقیر کو دے آؤ۔”
ابن زِیْرِی نے مزدور سے سامان اٹھوایا اور کہا:” میرے ساتھ ساتھ چلو، جہاں تھک جاؤ وہیں رُک جانا، مزدور سامان اٹھا کرچل دیا اورکچھ دور دو گھروں کے قریب رُک گیا۔ ابن زِیْرِی نے قریبی مکان پر دستک دی۔ اندر سے آوازآئی:” اگر تمہارے پاس کھانے کی فلاں فلاں چیز یں موجود ہیں تو اندر آجاؤ۔” یہ کہہ کر اس نے ان تمام اشیاء کا نام گِنوادیا جو ہم لے کر آئے تھے۔ جب بتایا گیا کہ تمہاری بتائی ہوئی ہر ہر شئے ہمارے پاس موجود ہے تو دروازہ کھل گیا۔دروازے پر بوری سے بنا ہوا پردہ تھا اور سامنے ایک بوڑھا موجود تھا۔ ابن زِیْرِی کہتے ہیں کہ ”میں نے آگے بڑھ کرسامان اتروایا اورمزدور کو اجرت دے کر روانہ کردیا ۔بوڑھے نے مجھ سے کہا :”ا س پردے کے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں ہیں ، جنہیں اسی کھانے کی حاجت ہے جو تم لے کرآئے ہو۔” میں نے کہا :” اے بزرگ! میں اُس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک آپ حقیقت سے آگاہ نہ کردیں۔”کہا:”میرے یہ بچے عرصۂ دراز سے کھانے کی چیزیں مانگ رہے ہیں لیکن میرا ضمیر اس معاملے میں دعا کرنے کے لئے میری موافقت نہ کرتا تھا۔ لہٰذا میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ان اشیاء کا سوال نہیں کیا۔ آج رات میرا دل اس کھانے کی دعا کرنے پر راضی ہوگیا، میں نے جان لیا کہ میرے دل کی موافقت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر میں دعا کروں تو ضرور قبول ہوگی۔لہٰذا امیدِ واثق کے ساتھ میں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کردی۔ جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو میں سمجھ گیاکہ میری دعا

قبول ہوگئی ہے اور ہمیں وہی چیزیں ملیں گی جن کی خواہش میرے بچے کررہے تھے ۔ اسی لئے دروازہ کھولنے سے پہلے میں نے ان چیزوں کا نام گنوایا تھاجو تم لے کر آئے ہو ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!