Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تین غیبی خبریں

حکایت نمبر459: تین غیبی خبریں

حضرتِ سیِّدُنا شَہْربن حَوْشَب علیہ رحمۃاللہ الرَّب سے منقول ہے :حضرتِ سیِّدُنا صَعْب بن جَثَّامَہ اور حضرتِ سیِّدُنا عَوْف بن مالک علیہما رحمۃ اللہ الخالق میں دینی تعلق کی وجہ سے بہت گہری دوستی تھی۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا: ”اے میرے بھائی !ہم میں سے جو پہلے مر جائے اسے چاہے کہ اپنے حال سے دوسرے کو آگاہ کرے کہ مرنے کے بعد اس پر کیا گزری؟”حضرتِ سیِّدُناعَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:” کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟”کہا:” ہاں! ایسا بالکل ہوسکتا ہے۔” پھر کچھ دنوں بعد حضرتِ صعب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انہیں خواب میں دیکھ کر پوچھا: ”ما فُعِلَ بِکَ یعنی آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟”فرمایا:” میری بہت سی خطائیں بخش دی گئیں۔” حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں نے ان کی گردن میں ایک سیاہ نشان دیکھ کر پوچھا :”یہ سیاہ نشان کیا ہے؟” فرمایا:”میں نے فلاں یہودی سے دس دینار قرض لے کراپنے تَرْکَش (یعنی تیر رکھنے کے تھیلے) میں رکھ دیئے تھے، تم وہ دینار اس یہودی کو واپس لوٹا دینا، یہ نشان اسی قرض کی وجہ سے ہے۔اے میرے بھائی !خوب توجہ سے سن! میرے مرنے کے بعد ہمارے اہل وعیال میں چھوٹا یا بڑا کوئی واقعہ ایسا رونمانہیں ہو ا جس کی مجھے خبر نہ ہوئی ہو، مجھے اُن کی ہر ہر بات پہنچ جاتی ہے حتیٰ کہ ابھی چند روز قبل ہماری بِلّی مَری تھی مجھے اس کا بھی پتہ چل گیاہے ۔اور سنو !میری سب سے چھوٹی بیٹی بھی چھ دن بعد انتقال کر جائے گی، تم اس سے اچھا برتاؤ کرنا۔” حضرتِ سیِّدُنا عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں بیدار ہوا تو کہا:” یہ ضرور ایک اَہَم امر ہے، میں اس کی تحقیق کروں گا۔”
پھر میں ان کے گھر پہنچا تو گھر والوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: ”اے عَوْف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! کیا بات ہے ؟صَعْب

رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے بعد آپ ایک مرتبہ بھی ہمارے پاس نہیں آئے۔’ ‘میں نے اپنی مصروفیات کا عذر بیان کرکے گھر والوں کو مطمئن کیا۔ پھر ترکش منگوایا تو اس میں دیناروں کی تھیلی موجود تھی، میں نے کہا:”فلاں یہودی کو بلا لاؤ۔” جب وہ آیا تو میں نے کہا: ”کیاحضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اوپرتمہارا کوئی مال تھا؟” یہودی نے کہا:”اللہ عَزَّوَجَلَّ صَعْب پر رحم فرمائے وہ تو امتِ محمدیہ(عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے بہترین افراد میں سے تھے،میرا ان سے کوئی مطالبہ نہیں۔” میں نے کہا: ”سچ سچ بتا!کیا انہوں نے تجھ سے کچھ قرض لیا تھا؟” یہودی بولا:” ہاں! انہوں نے مجھ سے دس (10)دینار قرض لئے تھے۔” میں نے دیناروں کی تھیلی اس کی طرف بڑھائی تو کہنے لگا:” خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ وہی دینار ہیں جو انہوں نے مجھ سے لئے تھے۔” میں نے دل میں کہا: ”حضرتِ سیِّدُناصَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بتائی ہوئی ایک بات تو بالکل سچ ثابت ہوچکی ہے۔پھر میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر والوں سے پوچھا:”کیاحضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد تمہارے ہاں کوئی نئی بات ہوئی ہے ؟”کہا:”جی ہاں۔” میں نے پوچھا:” وہ کیا ہے ؟” توانہوں نے کچھ باتیں بتائیں اور کہا کہ ہماری ایک بلی تھی جو ابھی چند روز قبل مری ہے۔” میں نے دل میں کہا:” دوسری بات بھی بالکل حق ثابت ہوگئی۔” پھر میں نے پوچھا:” میرے بھائی صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چھوٹی بچی کہاں ہے؟” انہوں نے کہا: ” وہ باہر کھیل رہی ہے ۔”میں نے اسے بلوایا اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کا جسم بخار کی وجہ سے کافی گرم ہورہا تھا۔میں نے گھروالوں سے کہا:” اس بچی کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا اور اسے خوب پیار سے رکھنا۔” پھر میں واپس چلا آیا،چھ(6) دن بعداس بچی کا انتقال ہوگیا ۔اور یوں حضرتِ سیِّدُنا صَعْب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بتائی ہوئی تینوں باتیں بالکل سچ ثابت ہوئیں۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!