شب و روز کا تربیتی انداز

شب و روز کا تربیتی انداز

پیارے بیٹے ! طلوعِ فجر کے وقت جاگ جانے کی عادت
ڈالو،وہ وقت بڑا گراں مایہ ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت بطورِ خاص دنیا کی کوئی بات نہ
کرنا،کیوں کہ سلف صالحین -رحمہم اللہ- کا یہ معمول تھا کہ وہ اُس وقت (اُمورِ دینیہ
کے علاوہ) دنیا کے کسی معاملے کو زیر بحث نہیں لاتے تھے۔جب نیند سے بیدار ہو تو یہ
دعا پڑھنا نہ بھولو :
Advertisement
الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أحْیَانَا بَعْدَ مَا
أمَاتَنَا وَ إلَیْہِ النُّشُورُ(۱)،  الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ یُمْسِکُ
السَّمَا   َٔ أنْ تَقَعَ عَلَی الأرْضِ
إلاَّ بِإذْنِہٖ إنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَؤوفٌ رَّحِیْمٌ  (۲)
یعنی تمام تعریفیں اللہ جل مجدہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں
وادیِ موت میں اُتر جانے کے بعد دوبارہ زندگی بخشی اور انجام کاراسی کی طرف پلٹ کر
جانا ہے۔ ہرقسم کی حمدوثنااس مالک الملک کے لیے زیبا ہے جو آسمان (یعنی خلائی و
فضائی کروں ) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگراسی
کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے) بے شک اللہ تمام انسانوں کے ساتھ
نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے۔
پھر فطری ضرورتوں کی تکمیل کے بعد با طہارت ہو کر قلب
و باطن کے پورے جھکاؤ کے ساتھ سنت فجر اَدا کرو پھر ادائے فرض کے لیے سراپااَدب بن
کرمسجدپہنچو۔ ہوسکے توسرراہ یہ دعا پڑھ لو 
:
اللهُمَّ إنِّي أسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ
عَلَيْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ هٰذَا إنِّي لَمْ أَخْرُجْ أشَراً وَلاَ بَطَراً
ولاَرِياءً وَلاَ سُمْعَةً خَرَجْتُ اِتِّقَاءَ سَخَطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرَضَاتِکَ
أسْئَلُکَ أنْ تُجِيْرَنِي مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي إنَّه لاَ
يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ اَنتَ.
(۳)
_________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۹۴حدیث:۶۳۱۲…صحیح
مسلم:
۱۷؍۳۵۰حدیث:۷۰۶۲…سنن
ابوداؤد:
۱۴؍ ۴۰۳ حدیث:۵۰۵۱…سنن ترمذی:۱۲؍۳۳۵حدیث:۳۷۴۵…سنن
ابن ماجہ:
۱۱؍ ۴۹۳ حدیث:۴۰۱۳ …صحیح ابن حبان:۲۳؍ ۸۸حدیث:۵۶۲۳… سنن کبریٰ نسائی: ۶؍۱۹۲حدیث:۱۰۶۰۸…شعب الایمان بیہقی:۹؍۴۱۳ حدیث: ۴۲۱۳۔
(۲)      صحیح ابن حبان:۱۲؍۳۴۳ حدیث: ۵۵۳۳…مستدرک
حاکم:
۵؍۶۷حدیث:۱۹۶۹… جمع الجوامع سیوطی:۱؍۱۸۹۰حدیث:۱۵۵۳… سنن
کبریٰ نسائی:
۶؍۲۱۳ حدیث:۱۰۶۹۰۔
(۳)     سنن ابن ماجہ:۳؍۵۱حدیث: ۸۲۷… مسند
احمدبن حنبل:
۲۳؍۴۸۷حدیث: ۱۱۴۵۵۔
_________________
یعنی اے اللہ! تیری بارگاہ میں اُٹھے ہوئے منگتوں کے
ہاتھوں اور تیرے گھر کی طرف اُٹھتے ہوئے قدموں کے تصدق میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ
میرا یہ نکلنا تساہلی،  برائی اور دکھاوے
کا نکلنا ثابت نہ ہو۔تیرے غضب سے ڈرتے ہوئے تیری رضا کی تلاش میں نکل آیا ہوں۔تجھ
سے بس یہی التجا ہے کہ مجھے آتش جہنم سے آزاد فرما،میرے گناہوں کو غلط کر دے،کیوں کہ
بلا شبہ وہ تو ہی ہے جو گناہوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔
مقدور بھر کوشش کیا کرو کہ امام کے دائیں طرف نماز
پڑھنے کی سعادت نصیب ہو۔ نماز سے فارغ ہو کردس مرتبہ ’
لاَ إلٰهَ
إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَشَرِيکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ
عَلٰی کُلِّ شَيئٍ قَدِيرٌ
(۱)‘پڑھا کرو۔پھر دس مرتبہ
’’سبحان اللہ‘‘دس مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ اور دس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر آیت
الکرسی پڑھ لیا کرو، اور پھر اللہ تعالیٰ سے قبولیت نماز کی دعا مانگو۔ اگر دل جمے
تو وہیں بیٹھ کر طلوعِ آفتاب بلکہ اس کے بلند ہونے تک ذِکر الٰہی میں مشغول رہو پھر(نمازِ
اشراق کی) جتنی رکعتیں ہوسکیں اَدا کرو، آٹھ ہوں تو بہتر ہے۔
____________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۲۴۵حدیث:۶۴۰۴… معجم
کبیر طبرانی:
۴؍۲۲۳حدیث:۳۹۱۶…جمع الجوامع سیوطی:۱؍۲۳۸۱۶حدیث:
۵۹۱۴۔

____________________

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!